آج تقریباً ہر اخبار میں کالم، مضامین، تجزیے، اداریے اور حتیٰ کہ عام تحریریں بھی ایک عجیب یکسانیت کا شکار نظر آتی ہیں۔ موضوعات مختلف ہیں، قلم کار متعدد ہیں، مگر زبان کا آہنگ، جملوں کی ساخت، استدلال کا انداز اور اظہار کی کیفیت اکثر ایک جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے مختلف ذہن نہیں، ایک ہی مشینی ذہن مختلف ناموں سے لکھ رہا ہو۔
مصنوعی ذہانت یا AI نے تحریر کے شعبے میں بلاشبہ ایک نئی سہولت پیدا کی ہے۔ معلومات کی ترتیب، زبان کی درستی، ترجمے، مسودے کی تیاری اور وقت کی بچت جیسے کاموں میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا کوئی بری بات نہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں نہیں، بلکہ اس پر حد سے زیادہ انحصار میں ہے۔
تحریر صرف الفاظ کو خوب صورت ترتیب دینے کا نام نہیں۔ ایک اچھا کالم نگار اپنے تجربے، مشاہدے، مطالعے، احساس اور فکری کشمکش سے تحریر پیدا کرتا ہے۔ اس کے جملوں میں اس کی شخصیت بولتی ہے، اس کی زبان میں اس کا مزاج جھلکتا ہے اور اس کے استدلال میں اس کی اپنی سوچ محسوس ہوتی ہے۔ اگر یہ تمام مراحل ایک مشین کے حوالے کر دیے جائیں تو تحریر بظاہر شستہ ضرور رہ سکتی ہے، مگر اس میں وہ انسانی لمس کہاں سے آئے گا جو اسے زندہ بناتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سی تحریریں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ زبان تو درست ہے، مگر آواز اپنی نہیں۔ جملے بامعنی ہیں، مگر ان میں حیرت نہیں؛ الفاظ خوب صورت ہیں، مگر ان میں تجربے کی خوشبو نہیں؛ خیالات مرتب ہیں، مگر ان میں وہ بے ساختگی نہیں جو ایک حقیقی قلم کار کی شناخت ہوتی ہے۔
یہ صورت حال اخبارات کے لئے زیادہ سنجیدہ سوال ہے، کیونکہ اخبار محض خبریں شائع کرنے کا ادارہ نہیں بلکہ معاشرے کے فکری مزاج کی تشکیل بھی کرتا ہے۔ اگر ہر تحریر ایک ہی مشینی سانچے سے نکلنے لگے تو صحافت میں تنوع، اختلافِ رائے اور فکری تخلیق بتدریج کمزور پڑ سکتے ہیں۔
یہاں مدیر کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ ایڈیٹر کا کام صرف غلطیاں درست کرنا، سرخیاں لگانا یا تحریر کو جگہ دینا نہیں۔ اسے یہ دیکھنا بھی چاہیے کہ تحریر میں مصنف کی اپنی آواز موجود ہے یا نہیں، دلیل میں تازگی ہے یا نہیں اور مضمون محض خوب صورت جملوں کا مجموعہ تو نہیں بن گیا۔ ایک اچھا ایڈیٹر مشین سے تیار شدہ متن اور انسانی فکر سے پیدا ہونے والی تحریر کے درمیان فرق محسوس کر سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی نہیں کہ AI کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے۔ ضرورت یہ ہے کہ مشین کو معاون رکھا جائے، متبادل نہیں۔ قلم کار سوچے، مشاہدہ کرے، سوال اٹھائے، اختلاف کرے اور اپنی زبان میں لکھے؛ ٹیکنالوجی صرف اس کے کام کو آسان بنائے۔ صحافت کی اصل طاقت اس کے انسانی چہرے میں ہے۔ اگر ہم نے سہولت کی خاطر تخلیقیت قربان کر دی تو ہمارے پاس بے عیب جملے تو بہت ہوں گے، مگر یاد رہ جانے والی تحریریں کم ہوتی جائیں گی۔ اور شاید صحافت کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوگا کہ اخبار میں سب کچھ لکھا جائے گا، مگر کسی کی اپنی آواز سنائی نہیں دے گی۔
مصنوعی ذہانت معاون ہے، متبادل نہیں!
مصنوعی ذہانت معاون ہے، متبادل نہیں!
آج تقریباً ہر اخبار میں کالم، مضامین، تجزیے، اداریے اور حتیٰ کہ عام تحریریں بھی ایک عجیب یکسانیت کا شکار نظر آتی ہیں۔ موضوعات مختلف ہیں، قلم کار متعدد ہیں، مگر زبان کا آہنگ، جملوں کی ساخت، استدلال کا انداز اور اظہار کی کیفیت اکثر ایک جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے مختلف ذہن نہیں، ایک ہی مشینی ذہن مختلف ناموں سے لکھ رہا ہو۔
مصنوعی ذہانت یا AI نے تحریر کے شعبے میں بلاشبہ ایک نئی سہولت پیدا کی ہے۔ معلومات کی ترتیب، زبان کی درستی، ترجمے، مسودے کی تیاری اور وقت کی بچت جیسے کاموں میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا کوئی بری بات نہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں نہیں، بلکہ اس پر حد سے زیادہ انحصار میں ہے۔
تحریر صرف الفاظ کو خوب صورت ترتیب دینے کا نام نہیں۔ ایک اچھا کالم نگار اپنے تجربے، مشاہدے، مطالعے، احساس اور فکری کشمکش سے تحریر پیدا کرتا ہے۔ اس کے جملوں میں اس کی شخصیت بولتی ہے، اس کی زبان میں اس کا مزاج جھلکتا ہے اور اس کے استدلال میں اس کی اپنی سوچ محسوس ہوتی ہے۔ اگر یہ تمام مراحل ایک مشین کے حوالے کر دیے جائیں تو تحریر بظاہر شستہ ضرور رہ سکتی ہے، مگر اس میں وہ انسانی لمس کہاں سے آئے گا جو اسے زندہ بناتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سی تحریریں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ زبان تو درست ہے، مگر آواز اپنی نہیں۔ جملے بامعنی ہیں، مگر ان میں حیرت نہیں؛ الفاظ خوب صورت ہیں، مگر ان میں تجربے کی خوشبو نہیں؛ خیالات مرتب ہیں، مگر ان میں وہ بے ساختگی نہیں جو ایک حقیقی قلم کار کی شناخت ہوتی ہے۔
یہ صورت حال اخبارات کے لئے زیادہ سنجیدہ سوال ہے، کیونکہ اخبار محض خبریں شائع کرنے کا ادارہ نہیں بلکہ معاشرے کے فکری مزاج کی تشکیل بھی کرتا ہے۔ اگر ہر تحریر ایک ہی مشینی سانچے سے نکلنے لگے تو صحافت میں تنوع، اختلافِ رائے اور فکری تخلیق بتدریج کمزور پڑ سکتے ہیں۔
یہاں مدیر کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ ایڈیٹر کا کام صرف غلطیاں درست کرنا، سرخیاں لگانا یا تحریر کو جگہ دینا نہیں۔ اسے یہ دیکھنا بھی چاہیے کہ تحریر میں مصنف کی اپنی آواز موجود ہے یا نہیں، دلیل میں تازگی ہے یا نہیں اور مضمون محض خوب صورت جملوں کا مجموعہ تو نہیں بن گیا۔ ایک اچھا ایڈیٹر مشین سے تیار شدہ متن اور انسانی فکر سے پیدا ہونے والی تحریر کے درمیان فرق محسوس کر سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی نہیں کہ AI کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے۔ ضرورت یہ ہے کہ مشین کو معاون رکھا جائے، متبادل نہیں۔ قلم کار سوچے، مشاہدہ کرے، سوال اٹھائے، اختلاف کرے اور اپنی زبان میں لکھے؛ ٹیکنالوجی صرف اس کے کام کو آسان بنائے۔ صحافت کی اصل طاقت اس کے انسانی چہرے میں ہے۔ اگر ہم نے سہولت کی خاطر تخلیقیت قربان کر دی تو ہمارے پاس بے عیب جملے تو بہت ہوں گے، مگر یاد رہ جانے والی تحریریں کم ہوتی جائیں گی۔ اور شاید صحافت کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوگا کہ اخبار میں سب کچھ لکھا جائے گا، مگر کسی کی اپنی آواز سنائی نہیں دے گی۔


