سوال، اختلاف اور وکست بھارت

وزیر اعظم نریندر مودی نے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے سفر کو 2014 سے پہلے اور بعد کے دو ادوار میں تقسیم کیا اور گزشتہ بارہ برس کی کامیابیوں کو تیز رفتاری اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں سے تعبیر کیا۔ خود انحصاری، اختراع، اسٹارٹ اَپ اور اصلاحات جیسے نعروں کو انہوں نے ’’یوا شکتی‘‘ سے جوڑا۔ ان کے مطابق نوجوان طاقت ہی ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔
یہ بات درست ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کی نوجوان نسل سے وابستہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لئے مصنوعی ذہانت کی تربیت، مسابقتی امتحانات کی مفت آن لائن کوچنگ، انوویشن فنڈ اور کھیلوں کے لئے وسائل فراہم کرنے جیسے اعلانات کیے۔ اگر یہ اقدامات شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ ہوں تو نوجوانوں کے لئے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن آج کا نوجوان صرف مواقع کا طالب نہیں بلکہ جوابدہی اور شفافیت کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ حالیہ طلبہ تحریک نے واضح کیا ہے کہ نوجوان نسل کو محض ’’وکاس‘‘ کے بیانیے کا خاموش سامع نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ تعلیم، روزگار، مسابقتی امتحانات کی شفافیت اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہے۔ جنتر منتر پر نوجوانوں کی آواز اسی بے چینی کا اظہار تھی۔
وزیر اعظم کے خطاب کا ایک پہلو تشویش پیدا کرتا ہے۔ نکسلی تشدد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ’’ہتھیاری نکسل‘‘ کے ساتھ ’’دماگی نکسل‘‘ یعنی ماؤ نواز سوچ رکھنے والوں سے بھی خبردار رہنے اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی بات کی۔ مسلح تشدد اور اختلاف رائے یا آزادانہ سوچ کو ایک ہی دائرے میں رکھنا خطرناک رجحان ہے۔ بندوق اٹھانے والے اور سوال اٹھانے والے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا جمہوری معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد صرف مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی یا تیز رفتار ترقی پر نہیں رکھی جا سکتی۔ وکست بھارت کا اصل امتحان یہ ہے کہ شہری کس حد تک آزادانہ سوچ سکتے، سوال کر سکتے اور اختلاف کے باوجود اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ نوجوان اگر حکومت سے سوال کرتا ہے تو اسے دشمن نہیں بلکہ جمہوریت کی صحت کی علامت سمجھنا چاہیے۔
’’یوا شکتی‘‘ کو قومی طاقت بنانے کے لئے نوجوانوں کو صرف اسکیموں کا مستفید نہیں بلکہ قومی مکالمے کا فعال فریق سمجھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت کی تربیت اور مفت کوچنگ کے ساتھ انہیں ایسی تعلیم بھی درکار ہے جو تنقیدی سوچ، تحقیق اور دلیل کا حوصلہ دے۔ روزگار اور امتحانات میں شفافیت بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی نئی ٹیکنالوجی۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا بہترین طریقہ ان کی آواز کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے سننا ہے۔ اختلاف کو دشمنی، سوال کو سازش اور آزاد فکر کو ’’اندرونی دشمن‘‘ سے جوڑنے کی روش نوجوانوں کو قریب لانے کے بجائے دور کر سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے درست کہا کہ نوجوان طاقت ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر کا انجن بن سکتی ہے۔ مگر یہ طاقت تب ہی پوری قوت سے سامنے آئے گی جب اسے خوف سے آزاد ماحول ملے گا۔ جو نوجوان سوال نہیں کر سکتا، وہ اختراع بھی نہیں کر سکتا؛ جو اختلاف نہیں کر سکتا، وہ نئی راہیں بھی نہیں بنا سکتا۔
اگر ’’یوا شکتی‘‘ واقعی ’’وکست بھارت‘‘ کی بنیاد ہے تو اس طاقت کو وسائل کے ساتھ سوچ کی آزادی، سوال کرنے کا حق اور اختلاف کا تحفظ بھی دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہندوستان کو معاشی ترقی کے ساتھ فکری، جمہوری اور اخلاقی اعتبار سے بھی ’’وکست‘‘ بنا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

سوال، اختلاف اور وکست بھارت

وزیر اعظم نریندر مودی نے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے سفر کو 2014 سے پہلے اور بعد کے دو ادوار میں تقسیم کیا اور گزشتہ بارہ برس کی کامیابیوں کو تیز رفتاری اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں سے تعبیر کیا۔ خود انحصاری، اختراع، اسٹارٹ اَپ اور اصلاحات جیسے نعروں کو انہوں نے ’’یوا شکتی‘‘ سے جوڑا۔ ان کے مطابق نوجوان طاقت ہی ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔
یہ بات درست ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کی نوجوان نسل سے وابستہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لئے مصنوعی ذہانت کی تربیت، مسابقتی امتحانات کی مفت آن لائن کوچنگ، انوویشن فنڈ اور کھیلوں کے لئے وسائل فراہم کرنے جیسے اعلانات کیے۔ اگر یہ اقدامات شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ ہوں تو نوجوانوں کے لئے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن آج کا نوجوان صرف مواقع کا طالب نہیں بلکہ جوابدہی اور شفافیت کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ حالیہ طلبہ تحریک نے واضح کیا ہے کہ نوجوان نسل کو محض ’’وکاس‘‘ کے بیانیے کا خاموش سامع نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ تعلیم، روزگار، مسابقتی امتحانات کی شفافیت اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہے۔ جنتر منتر پر نوجوانوں کی آواز اسی بے چینی کا اظہار تھی۔
وزیر اعظم کے خطاب کا ایک پہلو تشویش پیدا کرتا ہے۔ نکسلی تشدد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ’’ہتھیاری نکسل‘‘ کے ساتھ ’’دماگی نکسل‘‘ یعنی ماؤ نواز سوچ رکھنے والوں سے بھی خبردار رہنے اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی بات کی۔ مسلح تشدد اور اختلاف رائے یا آزادانہ سوچ کو ایک ہی دائرے میں رکھنا خطرناک رجحان ہے۔ بندوق اٹھانے والے اور سوال اٹھانے والے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا جمہوری معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد صرف مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی یا تیز رفتار ترقی پر نہیں رکھی جا سکتی۔ وکست بھارت کا اصل امتحان یہ ہے کہ شہری کس حد تک آزادانہ سوچ سکتے، سوال کر سکتے اور اختلاف کے باوجود اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ نوجوان اگر حکومت سے سوال کرتا ہے تو اسے دشمن نہیں بلکہ جمہوریت کی صحت کی علامت سمجھنا چاہیے۔
’’یوا شکتی‘‘ کو قومی طاقت بنانے کے لئے نوجوانوں کو صرف اسکیموں کا مستفید نہیں بلکہ قومی مکالمے کا فعال فریق سمجھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت کی تربیت اور مفت کوچنگ کے ساتھ انہیں ایسی تعلیم بھی درکار ہے جو تنقیدی سوچ، تحقیق اور دلیل کا حوصلہ دے۔ روزگار اور امتحانات میں شفافیت بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی نئی ٹیکنالوجی۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا بہترین طریقہ ان کی آواز کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے سننا ہے۔ اختلاف کو دشمنی، سوال کو سازش اور آزاد فکر کو ’’اندرونی دشمن‘‘ سے جوڑنے کی روش نوجوانوں کو قریب لانے کے بجائے دور کر سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے درست کہا کہ نوجوان طاقت ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر کا انجن بن سکتی ہے۔ مگر یہ طاقت تب ہی پوری قوت سے سامنے آئے گی جب اسے خوف سے آزاد ماحول ملے گا۔ جو نوجوان سوال نہیں کر سکتا، وہ اختراع بھی نہیں کر سکتا؛ جو اختلاف نہیں کر سکتا، وہ نئی راہیں بھی نہیں بنا سکتا۔
اگر ’’یوا شکتی‘‘ واقعی ’’وکست بھارت‘‘ کی بنیاد ہے تو اس طاقت کو وسائل کے ساتھ سوچ کی آزادی، سوال کرنے کا حق اور اختلاف کا تحفظ بھی دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہندوستان کو معاشی ترقی کے ساتھ فکری، جمہوری اور اخلاقی اعتبار سے بھی ’’وکست‘‘ بنا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں