محبت رسول ﷺکا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی تصویر دیکھئے

ابونصر فاروق
۱۵؍اگست سے ربیع الاول کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔پورے ملک میں رسول اللہﷺ کا جشن ولادت منایا جائے گا۔میلاد النبی ہوگا، جلسہ سیرۃ النبی ہوگا، جلوس محمدی نکلے گا،فاتحہ خوانی ہوگی،مٹھائیاں کھائی اور کھلائی جائیں گی۔مختصر یہ کہ محبت رسول کا زبردست دکھاوا اور تماشہ ہوگا۔لیکن ان عاشقان رسولﷺکو قرآن وسنت کی نیچے لکھی باتوں کو پڑھنے سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی ذرہ برابر بھی فکر اور پروا نہیں ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو ان کے مذہبی رہنماؤں نے  نیچے لکھی باتیں بتائی ہی نہیں ہیں،نہ وہ خود ان باتوں کو جانتے ہیں، نہ مانتے ہیں،نہ جاننا اور ماننا چاہتے ہیں۔اُن کو تو مسلمانوں کو بیوقوف بنا کر اُن کی جیب پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔اور جس طرح غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں نے اُن کو کچھ مذہبی رسموں کا پیروکار بنا رکھا ہے اور سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے کہ زندگی جیسے چاہو گزارو،کوئی تم سے اس کا حساب لینے والا نہیں ہے۔اور جو عمل تم کر رہے ہو اُس کی بدولت تمہارا خدا توتم کو سورگ میں پہنچا ہی دے گا،ڈر کس کا ہے۔بالکل یہی نقشہ موجودہ مسجد کے امام صاحبان کا ہے ۔وہ شریعت کے احکام نمازیوں کو نہیں بتاتے جو گناہ اور گمراہی کی باتیں ہیں اُن پر تو وہ بولتے ہی نہیں،بس پنڈت کی طرح  وظیفے بتاتے رہتے ہیں کہ یہ کر لو تو دولت کی دیوی تمہارے گھر آ جائے گی اور تم کفر و شرک کرنے والوں کی طرح اپنی پسند کی زندگی گزارنے کے لائق بن جاؤگے۔دین اسلام کی سچائی اور اصلی تعلیمات کیا ہیں ،نیچے کی قرآن کی آیتوں میں ملاحظہ فرمائیے، جن کا انکار اہل ایمان کے لئے ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔
ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول ﷺبھیجا،جو تمھیں ہماری آیات سناتا ہے،تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے،تمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے،اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔(البقرہ : ۱۵۱)وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺکوہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاتاکہ اس کو پورے جنس دین پر غالب کر دے،اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔(الفتح:۲۸)وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔(الصف:۹)وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولﷺکو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا  ہی ناگوار ہو۔( التوبہ : ۳۳)
غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی بات کا قرآن میں چار جگہ حکم دے رہا ہے۔جب کوئی بات بار بار یاد دلائی جائے تو اُس کی اہمیت کا اندازہ ہوجانا چاہئے۔ رسولﷺ نے اپنے پیچھے چلنے والے صحابہ کی زندگی قرآن کی تعلیم کے ذریعہ سنواری،اُنہیںایسی علم و حکمت سکھائی جس کی بنیاد پر وہ تیس سال تک ایسی خلافت چلاتے رہے جو دنیا کی تاریخ میں ہر قوم کے لئے ایک شاندار نمونہ ہے۔
اے پیغمبر ﷺ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اُس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ ( المائدہ  : ۶۷)اس آیت میںنبیﷺکواللہ تعالیٰ خبردار کر رہا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہیں کیا تو رسالت کا حق ادا نہیں ہو پائے گا۔ تمہارے دشمن تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ پائیں گے، اللہ تم کو اُن کی شرارتوں سے بچانے والا ہے۔
(اے پیغمبرﷺ! )یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو،ورنہ اگر کہیں تم سخت مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گر و پیش سے چھٹ جاتے۔ ((آل عمران : ۱۵۹)دیکھو !تم لوگوں کے پاس ایک رسول ﷺآیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے،تمہارا نقصان میں پڑنا اُس پر شاق ہے،تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے،ایمان لانے والوں کے لئے وہ شفیق اور رحیم ہے۔ (التوبہ : ۱۲۸)
اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی نرم مزاجی کا ذکر کر رہا ہے کہ اگر آپ نرم مزاج نہ ہوتے ، اور سخت مزاج ہوتے تولوگ آپ کے پاس آتے ہی نہیں۔اور یہ بھی بتا رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کی بھلائی کے حد سے زیادہ فکر مند ہیں ۔تمہارا دنیا اور آخرت میں تباہ و برباد ہونا اُن کوناگوار گزرتا ہے ،وہ تمہاری مکمل کامیابی کے لئے لالچی اور حریص کی طرح فکر مند ہیں اور تمہارے لئے شفقت اور مہربانی کا جذبہ اُن کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
اے نبیﷺ،یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔(ہود : ۴۹) کہو:میرے اختیار میں تو خود اپنا نفع ونقصان بھی نہیں ہے ،سب کچھ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔(یونس : ۴۹)عاشقان رسولﷺ کا دعویٰ ہے کہ نبی ﷺ غیب کا علم رکھتے ہیں جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہے ، اُن کو جو کچھ بھی معلوم ہوتا ہے وحی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔رسولﷺ کے اختیار میں نفع اور نقصان پہنچانا نہیں ہے۔
اللہ اور اُس کے رسولﷺکی بات مانو اور باز آجائو،لیکن اگر تم نے حکم نہیں ماناتو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔(المائدہ : ۹۲)ہم نے تم کوعلم حق کے ساتھ خو ش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا،اب جو جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں اُن کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو ۔(البقرہ  : ۱۱۹)
اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں انسانوں سے کہہ رہا ہے کہ ہمارے رسولﷺ کی ذمہ داری میری بات تم تک پہنچا دینا ہے، زبردستی منوانا نہیں ہے۔جنہیں جہنم کا ڈر نہیں اور وہ اُس سے بچنا نہیں چاہتے ہیںاُن کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔
محمد ﷺاس کے سوا کچھ نہیںہیں کہ بس ایک رسول ہیں،ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں،پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ الٹے پائوں پھر جائو گے؟ (آل عمران : ۱۴۴)رسول اللہ ﷺ کو زندہ جاوید بتانے والے قرآن کی اس آیت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ پچھلے رسول اور نبی بھی دنیا سے گزر گئے اور یہ آخری نبی بھی دنیا سے چلے گئے،تو کیا رسول ﷺ نہیں ہیں تو تم اسلام سے الٹے پاؤں پلٹ جاؤ گے ؟
کیاانہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺکا مقابلہ کرتا ہے، اُس کے لئے دوزخ کی آگ ہے،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بہت بڑ ی رسوائی ہے۔(التوبہ : ۶۳)یعنی جو اللہ اور رسول کی باتیں نہیں مانتا ہے وہ اُن کا مقابلہ کررہا ہے اور اُن کی باتوں کو جھٹلا رہا ہے۔ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو کر تباہ و برباد ہوں گے اور آخر ت میں جہنم کا عذاب اُن کا انتظار کر رہا ہے۔
قرآن کی ان تمام باتوں کو سامنے رکھئے اور جائزہ لیجئے کہ اس وقت مسلمانوں کا جو مذہبی گروہ ہے اور جو مسلمانوں کا رہبر و پیشوا بنا ہوا ہے،کیا وہ مسلمانوں کو ان باتوں کی تعلیم دے رہا ہے اوراُن کو اللہ اور رسولﷺ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرا رہا ہے۔نہیں وہ غیر مسلموں کے پوجاپاٹ کی طرح مختلف وظیفوں اور اعمال میں الجھائے ہوئے ہے اور اُن کی دنیا کی زندگی اور اُس کے مسائل کو عقل و دانش اور حکمت کی بنیاد پر حل کرنے کی جگہ اللہ پر غلط قسم کے اعتقاد کی باتیں کر رہا ہے۔یعنی دنیا میں بھی اُن کی زندگی کو عذاب بنا رہا ہے اورمرنے کے بعد بھی جہنم میں بھیجنے کا انتظام کر رہا ہے۔
مسلمانوں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ دنیاوی معاملات میں تو اپنے بات کے مقابلے میں کسی کی بات نہیں مانتا ، لیکن دین اسلام کو مذہب مانتے ہوئے اپنے مذہبی رہبروں کی اندھی تقلید کر رہا ہے۔کیا ایسے لوگوں کو عقل مند اور سمجھدار مانا جا سکتا ہے۔
آخری بات یہ کہ پیارے نبی ﷺ نے جس طرح کی اور جیسی زندگی گزاری اور اپنے خاص صحابہ کو جیسی زندگی اپنانے کی تاکید کی، کیا اس دور کے مذہبی لوگ ویسی سنت رسول کی پیروی کر رہے ہیں۔نہیں یہ اپنی زندگی، طور طریقے ،چال چلن،عادات و اطوار،ذہن و فکر کے اعتبار سے نبیﷺ اورصحابہ کرام جیسی زندگی نہیں گزار رہے ہیں،بلکہ مدینہ کے منافقوں کے جیسی زندگی گزار رہے ہیں جونبیﷺکو نبی تو مانتے تھے لیکن اُن کی باتوں کو نہیں مانتے تھے۔سورہ منافقون کی ان آیتوں میں پڑھئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے متعلق کیا کہہ رہا ہے  ؟
اے نبیﷺ جب یہ منافقین تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینااللہ کے رسول ہیں۔ہاں اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اللہ کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین قطعی جھوٹے ہیں۔(۱)اُنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رُکتے ہیں اور دنیا کو روکتے ہیں۔کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔(۲)یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔(۳)انہیں دیکھو تو ان کے جُسّے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں،بولیں تو تم اُن کی باتیں سنتے رہ جاؤ۔ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ہر زور کی آواز کو سن کر یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔یہ پکے دشمن ہیں۔ ان سے بچ کر رہو۔ اللہ کی مار ان پر۔ یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔(۴)اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کارسول تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں۔(۵) اے نبیﷺ تم چاہے ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لئے برابر ہے،اللہ ہرگز اُنہیں معاف نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا۔(۶) یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کردو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں۔ حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں۔(۷)یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے پہنچ جائیں گے تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔(المنافقون:آیات:۱تا۸)
آج کل کے نامور مولاناؤں کو دیکھئے،وہ دانشور بن کر اپنے ڈرائنگ روم میں کتابوں کی الماری سجا کراسلامیات پر لکچر تو دیتے ہیں،اور جب کسی پروگرام میں بلائے جاتے ہیں تو ان پر کئی ہزار روپے غریب عوام کے خرچ کئے جاتے ہیں۔کیا ہمارے پیارے نبیﷺ اسی طرح دین کا کام کرتے تھے اور اسی طرح رہتے تھے  ؟  یہ لوگ ایسی کتابیں لکھتے ہیں جنہیں عام مسلمان نہیں پڑھ سکتا۔کیا نبی ﷺ اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے  ؟ یہ اونچے لوگ ہیں،رئیسوں، انتہا ئی دولت مندوں کے یہاں ان کا جانا آنا ہوتا ہے یہ غریب عوام کے گھر نہیں جاتے،اُن کے درمیان رہ کر اُن کواصلی اور سچے د ین کی تعلیم نہیں دیتے۔سیاسی پارٹیوں کی طرح ان کی الگ الگ تنظیمیں ہیں اور ان سبھوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سچے ہیں اور ان کے خلاف لوگ ہیں وہ جھوٹے اور مکار ہیں۔کیاان کایہ چلن مسلمانوں کو متحد کر سکے گا  ؟  سینکڑوں سال گزر گئے ،مسلمانوں پر آفتوں کا پہاڑ ٹوٹا،لیکن ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ رئیس اور امیر و کبیر بن کر اپنی آرام گاہوں میں عیش کرتے رہے۔بہت ہوا تو مسلمانوں اور دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے کوئی میٹنگ کر لی اور اُس میں کچھ قرار داد پاس کر کے ملت اور شریعت کا حق ادا کر دیا بس۔مختلف فرقے کے بڑے بڑے سرداران کبھی مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے آپسی اختلافات کو بھول کر ساتھ بیٹھے  ؟  اگر جاسوسی کا گھوڑا دوڑایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر فرقہ کے سرداروں کا کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے چولی دامن کا ساتھ ہے،اور در اصل یہ خدا اور رسول کے نہیں اُ س سیاسی پارٹی کے وفاداراور نمک خوار ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

تازہ ترین خبریں

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

محبت رسول ﷺکا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی تصویر دیکھئے

ابونصر فاروق
۱۵؍اگست سے ربیع الاول کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔پورے ملک میں رسول اللہﷺ کا جشن ولادت منایا جائے گا۔میلاد النبی ہوگا، جلسہ سیرۃ النبی ہوگا، جلوس محمدی نکلے گا،فاتحہ خوانی ہوگی،مٹھائیاں کھائی اور کھلائی جائیں گی۔مختصر یہ کہ محبت رسول کا زبردست دکھاوا اور تماشہ ہوگا۔لیکن ان عاشقان رسولﷺکو قرآن وسنت کی نیچے لکھی باتوں کو پڑھنے سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی ذرہ برابر بھی فکر اور پروا نہیں ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو ان کے مذہبی رہنماؤں نے  نیچے لکھی باتیں بتائی ہی نہیں ہیں،نہ وہ خود ان باتوں کو جانتے ہیں، نہ مانتے ہیں،نہ جاننا اور ماننا چاہتے ہیں۔اُن کو تو مسلمانوں کو بیوقوف بنا کر اُن کی جیب پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔اور جس طرح غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں نے اُن کو کچھ مذہبی رسموں کا پیروکار بنا رکھا ہے اور سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے کہ زندگی جیسے چاہو گزارو،کوئی تم سے اس کا حساب لینے والا نہیں ہے۔اور جو عمل تم کر رہے ہو اُس کی بدولت تمہارا خدا توتم کو سورگ میں پہنچا ہی دے گا،ڈر کس کا ہے۔بالکل یہی نقشہ موجودہ مسجد کے امام صاحبان کا ہے ۔وہ شریعت کے احکام نمازیوں کو نہیں بتاتے جو گناہ اور گمراہی کی باتیں ہیں اُن پر تو وہ بولتے ہی نہیں،بس پنڈت کی طرح  وظیفے بتاتے رہتے ہیں کہ یہ کر لو تو دولت کی دیوی تمہارے گھر آ جائے گی اور تم کفر و شرک کرنے والوں کی طرح اپنی پسند کی زندگی گزارنے کے لائق بن جاؤگے۔دین اسلام کی سچائی اور اصلی تعلیمات کیا ہیں ،نیچے کی قرآن کی آیتوں میں ملاحظہ فرمائیے، جن کا انکار اہل ایمان کے لئے ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔
ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول ﷺبھیجا،جو تمھیں ہماری آیات سناتا ہے،تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے،تمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے،اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔(البقرہ : ۱۵۱)وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺکوہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاتاکہ اس کو پورے جنس دین پر غالب کر دے،اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔(الفتح:۲۸)وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔(الصف:۹)وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولﷺکو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا  ہی ناگوار ہو۔( التوبہ : ۳۳)
غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی بات کا قرآن میں چار جگہ حکم دے رہا ہے۔جب کوئی بات بار بار یاد دلائی جائے تو اُس کی اہمیت کا اندازہ ہوجانا چاہئے۔ رسولﷺ نے اپنے پیچھے چلنے والے صحابہ کی زندگی قرآن کی تعلیم کے ذریعہ سنواری،اُنہیںایسی علم و حکمت سکھائی جس کی بنیاد پر وہ تیس سال تک ایسی خلافت چلاتے رہے جو دنیا کی تاریخ میں ہر قوم کے لئے ایک شاندار نمونہ ہے۔
اے پیغمبر ﷺ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اُس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ ( المائدہ  : ۶۷)اس آیت میںنبیﷺکواللہ تعالیٰ خبردار کر رہا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہیں کیا تو رسالت کا حق ادا نہیں ہو پائے گا۔ تمہارے دشمن تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ پائیں گے، اللہ تم کو اُن کی شرارتوں سے بچانے والا ہے۔
(اے پیغمبرﷺ! )یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو،ورنہ اگر کہیں تم سخت مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گر و پیش سے چھٹ جاتے۔ ((آل عمران : ۱۵۹)دیکھو !تم لوگوں کے پاس ایک رسول ﷺآیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے،تمہارا نقصان میں پڑنا اُس پر شاق ہے،تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے،ایمان لانے والوں کے لئے وہ شفیق اور رحیم ہے۔ (التوبہ : ۱۲۸)
اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی نرم مزاجی کا ذکر کر رہا ہے کہ اگر آپ نرم مزاج نہ ہوتے ، اور سخت مزاج ہوتے تولوگ آپ کے پاس آتے ہی نہیں۔اور یہ بھی بتا رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کی بھلائی کے حد سے زیادہ فکر مند ہیں ۔تمہارا دنیا اور آخرت میں تباہ و برباد ہونا اُن کوناگوار گزرتا ہے ،وہ تمہاری مکمل کامیابی کے لئے لالچی اور حریص کی طرح فکر مند ہیں اور تمہارے لئے شفقت اور مہربانی کا جذبہ اُن کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
اے نبیﷺ،یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔(ہود : ۴۹) کہو:میرے اختیار میں تو خود اپنا نفع ونقصان بھی نہیں ہے ،سب کچھ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔(یونس : ۴۹)عاشقان رسولﷺ کا دعویٰ ہے کہ نبی ﷺ غیب کا علم رکھتے ہیں جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہے ، اُن کو جو کچھ بھی معلوم ہوتا ہے وحی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔رسولﷺ کے اختیار میں نفع اور نقصان پہنچانا نہیں ہے۔
اللہ اور اُس کے رسولﷺکی بات مانو اور باز آجائو،لیکن اگر تم نے حکم نہیں ماناتو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔(المائدہ : ۹۲)ہم نے تم کوعلم حق کے ساتھ خو ش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا،اب جو جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں اُن کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو ۔(البقرہ  : ۱۱۹)
اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں انسانوں سے کہہ رہا ہے کہ ہمارے رسولﷺ کی ذمہ داری میری بات تم تک پہنچا دینا ہے، زبردستی منوانا نہیں ہے۔جنہیں جہنم کا ڈر نہیں اور وہ اُس سے بچنا نہیں چاہتے ہیںاُن کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔
محمد ﷺاس کے سوا کچھ نہیںہیں کہ بس ایک رسول ہیں،ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں،پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ الٹے پائوں پھر جائو گے؟ (آل عمران : ۱۴۴)رسول اللہ ﷺ کو زندہ جاوید بتانے والے قرآن کی اس آیت کا انکار کر رہے ہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ پچھلے رسول اور نبی بھی دنیا سے گزر گئے اور یہ آخری نبی بھی دنیا سے چلے گئے،تو کیا رسول ﷺ نہیں ہیں تو تم اسلام سے الٹے پاؤں پلٹ جاؤ گے ؟
کیاانہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺکا مقابلہ کرتا ہے، اُس کے لئے دوزخ کی آگ ہے،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بہت بڑ ی رسوائی ہے۔(التوبہ : ۶۳)یعنی جو اللہ اور رسول کی باتیں نہیں مانتا ہے وہ اُن کا مقابلہ کررہا ہے اور اُن کی باتوں کو جھٹلا رہا ہے۔ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو کر تباہ و برباد ہوں گے اور آخر ت میں جہنم کا عذاب اُن کا انتظار کر رہا ہے۔
قرآن کی ان تمام باتوں کو سامنے رکھئے اور جائزہ لیجئے کہ اس وقت مسلمانوں کا جو مذہبی گروہ ہے اور جو مسلمانوں کا رہبر و پیشوا بنا ہوا ہے،کیا وہ مسلمانوں کو ان باتوں کی تعلیم دے رہا ہے اوراُن کو اللہ اور رسولﷺ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرا رہا ہے۔نہیں وہ غیر مسلموں کے پوجاپاٹ کی طرح مختلف وظیفوں اور اعمال میں الجھائے ہوئے ہے اور اُن کی دنیا کی زندگی اور اُس کے مسائل کو عقل و دانش اور حکمت کی بنیاد پر حل کرنے کی جگہ اللہ پر غلط قسم کے اعتقاد کی باتیں کر رہا ہے۔یعنی دنیا میں بھی اُن کی زندگی کو عذاب بنا رہا ہے اورمرنے کے بعد بھی جہنم میں بھیجنے کا انتظام کر رہا ہے۔
مسلمانوں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ دنیاوی معاملات میں تو اپنے بات کے مقابلے میں کسی کی بات نہیں مانتا ، لیکن دین اسلام کو مذہب مانتے ہوئے اپنے مذہبی رہبروں کی اندھی تقلید کر رہا ہے۔کیا ایسے لوگوں کو عقل مند اور سمجھدار مانا جا سکتا ہے۔
آخری بات یہ کہ پیارے نبی ﷺ نے جس طرح کی اور جیسی زندگی گزاری اور اپنے خاص صحابہ کو جیسی زندگی اپنانے کی تاکید کی، کیا اس دور کے مذہبی لوگ ویسی سنت رسول کی پیروی کر رہے ہیں۔نہیں یہ اپنی زندگی، طور طریقے ،چال چلن،عادات و اطوار،ذہن و فکر کے اعتبار سے نبیﷺ اورصحابہ کرام جیسی زندگی نہیں گزار رہے ہیں،بلکہ مدینہ کے منافقوں کے جیسی زندگی گزار رہے ہیں جونبیﷺکو نبی تو مانتے تھے لیکن اُن کی باتوں کو نہیں مانتے تھے۔سورہ منافقون کی ان آیتوں میں پڑھئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے متعلق کیا کہہ رہا ہے  ؟
اے نبیﷺ جب یہ منافقین تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینااللہ کے رسول ہیں۔ہاں اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اللہ کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین قطعی جھوٹے ہیں۔(۱)اُنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رُکتے ہیں اور دنیا کو روکتے ہیں۔کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔(۲)یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔(۳)انہیں دیکھو تو ان کے جُسّے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں،بولیں تو تم اُن کی باتیں سنتے رہ جاؤ۔ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ہر زور کی آواز کو سن کر یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔یہ پکے دشمن ہیں۔ ان سے بچ کر رہو۔ اللہ کی مار ان پر۔ یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔(۴)اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کارسول تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں۔(۵) اے نبیﷺ تم چاہے ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لئے برابر ہے،اللہ ہرگز اُنہیں معاف نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا۔(۶) یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کردو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں۔ حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں۔(۷)یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے پہنچ جائیں گے تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔(المنافقون:آیات:۱تا۸)
آج کل کے نامور مولاناؤں کو دیکھئے،وہ دانشور بن کر اپنے ڈرائنگ روم میں کتابوں کی الماری سجا کراسلامیات پر لکچر تو دیتے ہیں،اور جب کسی پروگرام میں بلائے جاتے ہیں تو ان پر کئی ہزار روپے غریب عوام کے خرچ کئے جاتے ہیں۔کیا ہمارے پیارے نبیﷺ اسی طرح دین کا کام کرتے تھے اور اسی طرح رہتے تھے  ؟  یہ لوگ ایسی کتابیں لکھتے ہیں جنہیں عام مسلمان نہیں پڑھ سکتا۔کیا نبی ﷺ اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے  ؟ یہ اونچے لوگ ہیں،رئیسوں، انتہا ئی دولت مندوں کے یہاں ان کا جانا آنا ہوتا ہے یہ غریب عوام کے گھر نہیں جاتے،اُن کے درمیان رہ کر اُن کواصلی اور سچے د ین کی تعلیم نہیں دیتے۔سیاسی پارٹیوں کی طرح ان کی الگ الگ تنظیمیں ہیں اور ان سبھوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سچے ہیں اور ان کے خلاف لوگ ہیں وہ جھوٹے اور مکار ہیں۔کیاان کایہ چلن مسلمانوں کو متحد کر سکے گا  ؟  سینکڑوں سال گزر گئے ،مسلمانوں پر آفتوں کا پہاڑ ٹوٹا،لیکن ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ رئیس اور امیر و کبیر بن کر اپنی آرام گاہوں میں عیش کرتے رہے۔بہت ہوا تو مسلمانوں اور دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے کوئی میٹنگ کر لی اور اُس میں کچھ قرار داد پاس کر کے ملت اور شریعت کا حق ادا کر دیا بس۔مختلف فرقے کے بڑے بڑے سرداران کبھی مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے آپسی اختلافات کو بھول کر ساتھ بیٹھے  ؟  اگر جاسوسی کا گھوڑا دوڑایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر فرقہ کے سرداروں کا کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے چولی دامن کا ساتھ ہے،اور در اصل یہ خدا اور رسول کے نہیں اُ س سیاسی پارٹی کے وفاداراور نمک خوار ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں