
جیتن رام مانجھی
مرکزی وزیر
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بہت چھوٹے ،چھوٹےاوردرمیانہ درجے کے کاروباری ادارے کی ترقی سے متعلق (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری، تیزی سے بدلتے ہوئے کاروباری ماحول کے مطابق ایم ایس ایم ای کے لئے بھا رت کے قانونی نظام کو ہم آہنگ کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اصل ایکٹ کے نفاذ کے بعد گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لاکھوں کاروباری ادارے باقاعدہ معیشت کا حصہ بن چکے ہیں اور ایم ایس ایم ای قومی ترقی، برآمدات اور روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس ترمیم کا مقصد ایم ایس ایم ای کے نظام کو زیادہ جواب دہ اور باہمی اعتماد پر مبنی بنانا ہے۔ اس کے تحت رجسٹریشن کو آسان، درجہ بندی کو لچک دار، قرض تک رسائی اور بروقت ادائیگی کو سہل، تنازعات کے حل کو ڈیجیٹل اور تیز تر، جبکہ ضوابط کی پابندی کو سہل بنایا گیا ہے۔
ترمیم میں کاروباری اداروں کی مفت اور رضاکارانہ رجسٹریشن کے لئے ایک قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس سے رکاوٹیں دور ہوں گی اور حکومت کو فوائد زیادہ مؤثر طریقے سے فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن ایک حق ہے جس کا کاروباری ادارہ دعویٰ کر سکتا ہے، یہ کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔
ترمیم میں کاروباری اداروں کی درجہ بندی کے لئے بھی ایک واضح نظام فراہم کیا گیا ہے، جو پلانٹ اور مشینری یا آلات میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے مجموعی حجم کے مشترکہ معیار پر مبنی ہے۔ اس کے ذریعے درجہ بندی کا نظام ٹیکنالوجی، لاگت، منڈی اور کاروباری طریقۂ کار میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق زیادہ تیزی سے خود کو ڈھال سکے گا اور مرکزی حکومت کو نوٹیفکیشن کے ذریعے ان حدود کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
زیادہ تر ایم ایس ایم ای کے لئے سب سے اہم تشویش نقد رقم کی مسلسل دستیابی ہے۔ کسی چھوٹے کاروباری ادارے کی بقایا رسید کی عدم ادائیگی کے وسیع اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، خام مال کی خریداری اور اگلا آرڈر قبول کرنا۔ اس لئے ادائیگی میں تاخیر کسی کاروباری ادارے کے کام کرنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس ترمیم میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے تین مراحل اختیار کیے گئے ہیں—روک تھام، حل اور نفاذ۔
روک تھام: مرکزی سرکاری شعبے کے اداروں (سی پی ایس ایز) کے لئے ایم ایس ایم ای سے متعلق رسیدوں کی ٹی آر ای ڈی ایس کے ذریعے تصفیہ اور معلومات فراہم کرنا لازمی قرار دے کر اس میں شفافیت لائی گئی ہے۔ ریاستی حکومتیں اسی شرط کو ریاستی سرکاری شعبے کے اداروں تک بھی توسیع دے سکتی ہیں۔ بھارتی ریزرو بینک کے زیرِ نگرانی ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر ٹی آر ای ڈی ایس منظور شدہ رسید کو بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے مالی اعانت فراہم کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس کے ذریعے سپلائر کو پیشگی ادائیگی مل جاتی ہے، جبکہ خریدار مقررہ تاریخ پر بینک یا مالیاتی ادارے کو ادائیگی کرتا ہے۔ اس طرح واجب الادا رقم سپلائر کے لئے نقدی کی دستیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے، جس سے کاروباری ادارے کو اپنے روزمرہ کے کام چلانے، اپنے واجبات ادا کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کے لئے زیادہ لچک حاصل ہوتی ہے۔
حل: اس میں ایکٹ کے تحت تنازعات کے حل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاستی حکومتوں کو ثالثی اور مصالحت کے لئے اضافی مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز فیسیلی ٹیشن کونسلز قائم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مصالحت اور ثالثی کے لئے مقررہ مدت بھی متعین کی گئی ہے اور آن لائن تنازعات کے حل کو قانونی منظوری فراہم کی گئی ہے۔ اس سے مقدمات کا تیز رفتاری سے نمٹانا ممکن ہوگا اور ایسا نظام قائم ہوگا جس میں کوئی کاروباری ادارہ اپنے جائز دعوے کو طے شدہ طریقۂ کار اور مقررہ مدت کے بارے میں یقین کے ساتھ آگے بڑھا سکے گا۔
نفاذ: سہولت کاری کونسلوں کی جانب سے دیے گئے فیصلے کو اراضی کے محصول کے بقایاجات کے طور پر وصول کیا جا سکتا ہے۔ کوئی خریدار اگر اس فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو اسے عدالت میں رقم کا 75 فیصد جمع کرنا ہوگا، اور اگر یہ چیلنج چھ ماہ تک زیرِ التوا رہتا ہے تو عدالت اس جمع شدہ رقم میں سے فیصلے کی نصف رقم سپلائر کو ادا کر سکتی ہے۔ اس طرح طویل قانونی کارروائی کے باعث جائز دعوے مسترد نہیں ہوں گے اور عدالت میں گزرا ہوا وقت صرف خریدار کے حق میں نہیں رہے گا۔
ترمیم میں کاروباری اداروں کے لئے ضوابط کی پابندی کے معاملے میں زیادہ متوازن اور باہمی اعتماد پر مبنی طریقۂ کار کی جانب تبدیلی کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ اب معمولی خلاف ورزی کی صورت میں پہلی مرتبہ صرف انتباہ دیا جائے گا، جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں ہی مرحلہ وار مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ ضوابط کی پابندی کے عمل کو زیادہ پیش گوئی کے قابل اور آسان بنا کر کاروباری ادارے اب اپنی توانائیاں کاروبار کی تعمیر اور ترقی پر مرکوز کر سکیں گے۔ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی اور اعتماد پر مبنی طرزِ حکمرانی کو فروغ ملے گا۔


