جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/عوامی اتحاد پارٹی نے جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کے جائزے کے لئے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایل او سی کے ساتھ واقع آبائی علاقوں سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو نظرانداز کرکے آبادیاتی صورتحال کا جامع جائزہ ممکن نہیں۔
اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے کہا کہ کمیٹی کو آبادی کی مبینہ آمد کے ساتھ ساتھ تشدد، طویل گولہ باری اور عدم تحفظ کے باعث مقامی آبادی کے انخلا کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے جمگنڈ، مژھل، کیرن، کرناہ، گریز، اوڑی، پونچھ اور مینڈھر سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی اور بازآبادکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خالی مکانات، متروک اراضی اور بے گھر خاندان بھی آبادیاتی تبدیلی کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
انعام النبی نے کمیٹی کی جانب سے روہنگیا افراد سے مبینہ ملاقات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسے سب سے پہلے جموں و کشمیر کے ان لوگوں کی بات سننی چاہیے جنہوں نے تنازعے کے براہِ راست اثرات برداشت کیے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی واپسی و بازآبادکاری پالیسی کے تحت واپس آنے والے خاندانوں کو درپیش دستاویزاتی مشکلات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ واپس آنے والوں کی مکمل بازآبادکاری اور معاشرے میں دوبارہ انضمام یقینی بنائے۔
اے آئی پی ترجمان نے کمیٹی سے کشمیری پنڈتوں، ایل او سی سے متاثرہ خاندانوں اور دیگر بے گھر برادریوں کا زمینی جائزہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آبادیاتی تبدیلی صرف اس بات کا نام نہیں کہ کون داخل ہوا، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کون گیا، کیوں گیا اور اسے واپس لانے کے لئے کیا اقدامات کیے گئے۔


