مطالعے کی عادت کی بحالی: گھروں میں پھر سے کتابوں کی واپسی

 

 

ارچنا شرما اوستھی
یوراج ملک

ہندوستان کے تعلیمی شعبے میں اسکولوں ، ٹیکسٹ بکس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک رسائی کو طویل عرصے سےمرکزی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ ہندوستانی تعلیم کے نئے مرحلے میں اتنا ہی فوری اور یکساں اہمیت کا حامل ضروری سوال یہ ہے جو ہمیں درپیش ہے کہ:
کیا ہم کتابوں کا مطالعہ کرنے والی نسل کی پرورش کر رہے ہیں؟
یہی سوال—جو بظاہر نہایت سادہ مگر اپنے اثرات کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے، راشٹریہ ای۔پستکالیہ (آر ای پی) یعنی نیشنل ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کا محرک بنا۔ اس پلیٹ فارم کا تصور محض ایک ڈیجیٹل ذخیرۂ کتب کے طور پر نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایسی مؤثر قومی کاوش کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کی سطح پر کتابوں کےمطالعے کے فروغ کی ثقافت کو مضبوط اور زندہ کرنا ہے۔

آج راشٹریہ ای۔پستکالیہ (آر ای پی) میں 23 زبانوں میں سات ہزار سے زائد احتیاط سے منتخب کردہ کتابیں دستیاب ہیں، جو سینکڑوں ناشرین کے اشتراک سے حاصل کی گئی ہیں اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم اس کا مقصد کبھی بھی صرف ایسا ذخیرۂ کتب بنانا نہیں تھا جو مسلسل بڑھتا ہی چلا جائے۔ اس کے برعکس، اس کی حکمت عملی نہایت سوج بوجھ پر مبنی ہے: ایسا منتخب، بامعنی اور ہمہ جہت مجموعۂ کتب برقرار رکھنا جو وقتاً فوقتاً نئی اور قارئین کی دلچسپی سے ہم آہنگ کتابوں سے تازہ ہوتا رہے، جبکہ وہ کتابیں جن میں دلچسپی کم ہو جائے، انہیں مرحلہ وار خارج کر دیا جائے۔ تعداد یقیناً اہم ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اہمیت موزونیت، معیار اور قارئین کی مستقل دلچسپی کو حاصل ہے۔
رکاوٹیں کا ازالہ، عادتوں کا بدل نہیں
ہندوستان کے بہت سارے بچوں کے لئے، خصوصاً دیہی، نیم شہری اور سہولیات سے محروم علاقوں میں رہنے والوں کے لئے، نصابی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں تک رسائی اب بھی حقیقی مسئلہ ہے۔ قریب ترین کتابوں کی دکان کئی کلومیٹر دور ہو سکتی ہے۔ اسکول کی لائبریری میں یا تو پرانی کتابیں موجود ہوتی ہیں، یا پھر وہ اسکول کے اوقات کے بعد دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں پڑھنے اور نئی دنیاؤں کو جاننے کا شوق تو ہوتا ہے، مگر اس شوق کو پورا کرنے کے لئے مناسب کتابیں میسر نہیں ہوتی ہیں۔
راشٹریہ ای۔پستکالیہ اس کمی کو دور کرتا ہے۔ اب ہر بچہ، خواہ وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو یا اس کا معاشی پس منظر کچھ بھی ہو، اپنے گھر میں موجود ڈیجیٹل آلات کے ذریعے ہزاروں کتابوں پر مشتمل کتب خانے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سے اپنی پسند کی کتابوں کامطالعہ جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے ہندی اور انگریزی کے علاوہ دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی کتابیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

لیکن یہ واضح کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ اس اقدام سے کیا مقصود نہیں ہے۔
اس اقدام کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کم عمر بچوں کو اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔ بلکہ اس کا مقصد خاندانوں کو یہ دعوت دینا ہے کہ وہ اپنے پاس پہلے سے موجود ڈیجیٹل آلات کو زیادہ بامقصد انداز میں استعمال کریں، تاکہ وہ وقت جو بصورتِ دیگر بے مقصد اسکرین دیکھنے، مسلسل غیر ضروری مواد پر نظر جمانے یا نامناسب مواد دیکھنے میں صرف ہو تا ہے، اسے خاندان کے ساتھ مل کر علم، مطالعے اور مثبت سرگرمی میں تبدیل کیا جا سکے۔
والد یا والدہ کا اپنے کم عمر بچے کو بلند آواز میں کتاب پڑھ کر سنانا۔
کسی بڑی بہن یا بھائی کا اپنی چھوٹی بہن یا بھائی کو کہانی سنانا۔
پورے خاندان کا اجتماعی مطالعے کے لئے باقاعدہ وقت مقرر کرنا۔
ایسے دور میں جب اسکرین کے باعث اکثر لوگ ایک دوسرے سے دور اور اپنی ہی دنیا میں محدود ہو تے جارہے ہیں، انہی ڈیجیٹل آلات پر پڑھی جانے والی کتابیں لوگوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لانے، انہیں باہم جوڑنے اور مشترکہ مطالعے کے لطف سے بہرہ ورکرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

کتاب کا مطالعہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے محض اسکرین پروقت گزاری کے لئے نہیں
راشٹریہ ای۔پستکالیہ کا اصل مقصد محض پلیٹ فارم کے اعداد و شمار یا اس کی کامیابی کے پیمانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم اور عظیم ہے۔ اس کا حقیقی ہدف یہ ہے کہ کتابوں کے مطالعے کو دوبارہ گھروں، بالخصوص نشست گاہوں کا لازمی اور مشترکہ معمول بنایا جائے۔
کتاب کا مطالعہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک سماجی اور جذباتی عمل بھی ہے۔ جب خاندان کے افراد یا احباب ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں تو وہ باہمی گفتگو، ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھنے اور غور و فکر کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ یہ مشترکہ توجہ اور قربت کا وہ احساس ہے جو مسلسل آنے والی اطلاعات اور روزمرہ کی مصروفیات کی باعث بٹی ہوئی زندگی میں دن بہ دن نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ تحقیقی مطالعات سےبھی اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ جن بچوں کو گھر میں کتابیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور جو اپنے اردگرد بڑوں کو مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ان میں نہ صرف پڑھنے لکھنے کی صلاحیت زیادہ مضبوط ہوتی ہے بلکہ ان کی فکری، جذباتی اور تخلیقی شخصیت بھی زیادہ بھرپور انداز میں پروان چڑھتی ہے۔
راشٹریہ ای۔پستکالیہ ایک خاموش مگر نہایت خوب صورت بین پیڑھی امکان بھی فراہم کرتا ہے۔ کم عمر قارئین اپنے دادا دادی یا نانا نانی کو کتابیں پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ نوجوان نسل مشترکہ مطالعے کے ذریعے ان کہانیوں اور تحریروں سے واقف ہو سکتے ہیں جنہیں ان کے آبا و اجداد پسند کرتے تھے۔اس طرح مطالعہ محض تنہائی میں کیا جانے والا یا صرف ذمہ داری سمجھ کر انجام دیا جانے والا عمل نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی سرگرمی بن جاتا ہے جسے ایک طرف انسان کا ذاتی وقت کہا جا سکتا ہے اور دوسری طرف یہ سب کے ساتھ گزارا جانے والا وقت بھی بن جاتا ہے۔

‘‘مطالعہ محض تنہا عمل نہیں رہتا، بلکہ بالکل نئی صورت اختیار کر لیتا ہے—اپنا ذاتی وقت سب کے ساتھ گزارا جانے والا وقت بھی بن جاتا ہے۔’’
بحیثیت معاشرہ، ہمیں اپنے آپ سے ایک سادہ مگر گہرا سوال ضرور پوچھنا چاہیے: کیا ہم اسکرین کےبے مقصد استعمال میں صرف ہونے والے وقت کے ایک حصے کو دوبارہ حاصل کر کے اسے بامقصد مطالعے کے لئے واپس لا سکتے ہیں؟ ہمیں یقین ہے کہ اس کا جواب ہاں میں ہے—بشرطیکہ ہم کتابوں کو آسانی سے دستیاب بنائیں، انہیں دلچسپ اور قابلِ رغبت انداز میں پیش کریں، اور مطالعے کو بوجھ یا مجبوری کے بجائے اپنی پسند اور خوشی کا عمل بنائیں۔
ماہرین تعلیم کے ساتھ مل کرنے کا کام: اگلا مرحلہ
راشٹریہ ای-پستکالیہ جب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے تو اس میں ماہرین تعلیم کے کردار کی اہمیت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ، کتب خانہ کے عملہ اور اسکول کے سربراہان محض تعلیم کے معاون نہیں ہوتے، بلکہ وہ مطالعے اور پڑھنے کی ثقافت کے معمار بھی ہوتے ہیں۔ بچے اسکول میں مطالعے کی جو عادتیں اپناتے ہیں، وہ اکثر زندگی بھر ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کتب خانے کے نگراں کی تجویز کردہ کتابیں کسی نوجوان کی سوچ، فہم اور مستقبل کے زاویۂ نظر کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

راشٹریہ ای-پستکالیہ کو اسکول کی زندگی کا اہم حصہ بنانے کے لئے کئی پہلوؤں میں باقاعدہ اور سوچے سمجھے اقدامات کی ضرورت ہوگی:
• کتب خانے کے اوقات کو محض زیرنگرانی خاموش مطالعے کے کمروں کے بجائے فعال تعلیمی مراکز کے طور پر ازسرِنو تشکیل دینا۔
• رہنمائی پر مبنی مطالعے اور کہانی سنانے کی نشستوں کی حوصلہ افزائی کرنا جن میں اساتذہ اپنی پسندیدہ کتابیں اور کہانیاں طلبہ کے ساتھ شیئر کریں۔
• طلبہ کی زیرِ قیادت کتابی مذاکروں اور مطالعاتی حلقوں کا اہتمام، تاکہ وہ مطالعے کی عادت کو اپنی ذمہ داری اور دلچسپی کا حصہ سمجھیں۔
• مطالعے کو اسکول کے روزمرہ معمولات میں اس طرح شامل کرنا کہ یہ صبح کے ترانے کی طرح ایک فطری اور معمول کا حصہ محسوس ہو۔
• لکھنے کے مختلف طریقوں اور اسالیب کو سمجھ کر طلبہ کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانا۔

زندہ جاوید اور مسلسل ارتقاء پذیر کتب خانہ
روایتی کتب خانے کے برعکس، جو اپنی الماریوں تک محدود ہوتے ہیں اور اپنی جسمانی وسعت کی پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں، راشٹریہ ای۔پستکالیہ کو متحرک اور مسلسل ارتقاء پذیر کتب خانے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ آپ کے ہاتھوں میں موجود کتابوں کا ایک قیمتی خزانہ ہے۔ یہ قارئین کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی رائے دیں اور تجویز کریں کہ مزید کون سی کتابیں اس میں شامل کی جانی چاہئیں۔ اس میں دستیاب کتابیں ہندوستان کی شاندار وراثت اور ثقافت سے بھی بھرپور تعلق رکھتی ہیں، جن سے نئی نسل کا واقف ہونا ضروری ہے۔
اس کی کثیر لسانی بنیاد بھی اسی قدر اہمیت رکھتی ہے۔ بچہ سب سے بہتر اور فطری انداز میں اسی زبان میں پڑھتا ہے جس زبان میں وہ سوچتا ہے۔راشٹریہ ای-پستکالیہ23 زبانوں میں کتابیں فراہم کر کےاور مزید زبانوں تک توسیع کے عزم کے ساتھ،ہندوستان کی لسانی تنوع کا احترام کرتا ہے۔ یہاں مختلف زبانوں کو کسی انتظامی مسئلے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی تخلیقی طاقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کا واقعہ جشن منایا جانا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم پر موجود ہر زبان ایک ایسے دروازے کی مانند ہے جس سے گزر کر بچہ ایک نئی دنیا میں داخل ہو سکتا ہے۔ آٹھ سال تک کی عمر کے کم عمر بچوں کے حوالہ سےیہ پلیٹ فارم والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ کہانیاں بلند آواز سے پڑھ کر سنائیں۔

اجتماعی ذمہ داری
یقیناً راشٹریہ ای-پستکالیہ کی کامیابی کا اندازہ صرف کتابیں حاصل کرنے والوں یا رجسٹرڈ صارفین کی تعداد سے نہیں لگایا جائے گا، اگرچہ یہ پیمانے اپنی جگہ اہم ہیں۔ اس کی حقیقی کامیابی اس بات سے طے ہوگی کہ کیا مطالعے کی عادت پھر سےگھروں، اسکولوں اور ہندوستان کی بے مثال متنوع برادریوں کے پرسکون گوشوں میں واپس لوٹتی ہے یا نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کسی دور دراز علاقے میں رہنے والے بچے کی آنکھوں میں اس وقت خوشی کی چمک نظر آئے جب وہ ایسی کتاب پڑھ رہا ہو جس کے بارے میں اس نے صرف سنا تھا۔
مطالعے کے لئے قومی اپیل
اس پلیٹ فارم پر موجودہ ‘راشٹریہ کاویہ اُتسو’ جیسی سرگرمیوں کا بھی مسلسل انعقاد ہوتا رہتا ہے اور شہریوں کو کہانی سنانے کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ راشٹریہ ای-پستکالیہ میں مزید بہت سی دلچسپ، تفریحی اور بامقصد سرگرمیاں بھی مستقل طور پر شامل رہیں گی۔
ہندوستان ہمیشہ سے داستانوں کی ایک عظیم تہذیب رہا ہے۔ تحریری شکل میں لفظ کے وجود میں آنے سے پہلے کی زبانی روایات سے لے کر ہندی، سنسکرت، تمل، بنگالی، مراٹھی اور درجنوں دیگر زبانوں کے عظیم ادبی ذخیرے تک، اس سرزمین پر کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی ہے۔ آج خطرہ خود کہانیوں کو نہیں، بلکہ انہیں تلاش کرنے اور ان تک پہنچنے کی عادت کو لاحق ہے—
(محترمہ ارچنا شرما اوستھی، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کی ایڈیشنل سیکریٹری ہیں۔ جناب یوراج ملک، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں۔)

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

مطالعے کی عادت کی بحالی: گھروں میں پھر سے کتابوں کی واپسی

 

 

ارچنا شرما اوستھی
یوراج ملک

ہندوستان کے تعلیمی شعبے میں اسکولوں ، ٹیکسٹ بکس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک رسائی کو طویل عرصے سےمرکزی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ ہندوستانی تعلیم کے نئے مرحلے میں اتنا ہی فوری اور یکساں اہمیت کا حامل ضروری سوال یہ ہے جو ہمیں درپیش ہے کہ:
کیا ہم کتابوں کا مطالعہ کرنے والی نسل کی پرورش کر رہے ہیں؟
یہی سوال—جو بظاہر نہایت سادہ مگر اپنے اثرات کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے، راشٹریہ ای۔پستکالیہ (آر ای پی) یعنی نیشنل ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کا محرک بنا۔ اس پلیٹ فارم کا تصور محض ایک ڈیجیٹل ذخیرۂ کتب کے طور پر نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایسی مؤثر قومی کاوش کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کی سطح پر کتابوں کےمطالعے کے فروغ کی ثقافت کو مضبوط اور زندہ کرنا ہے۔

آج راشٹریہ ای۔پستکالیہ (آر ای پی) میں 23 زبانوں میں سات ہزار سے زائد احتیاط سے منتخب کردہ کتابیں دستیاب ہیں، جو سینکڑوں ناشرین کے اشتراک سے حاصل کی گئی ہیں اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم اس کا مقصد کبھی بھی صرف ایسا ذخیرۂ کتب بنانا نہیں تھا جو مسلسل بڑھتا ہی چلا جائے۔ اس کے برعکس، اس کی حکمت عملی نہایت سوج بوجھ پر مبنی ہے: ایسا منتخب، بامعنی اور ہمہ جہت مجموعۂ کتب برقرار رکھنا جو وقتاً فوقتاً نئی اور قارئین کی دلچسپی سے ہم آہنگ کتابوں سے تازہ ہوتا رہے، جبکہ وہ کتابیں جن میں دلچسپی کم ہو جائے، انہیں مرحلہ وار خارج کر دیا جائے۔ تعداد یقیناً اہم ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اہمیت موزونیت، معیار اور قارئین کی مستقل دلچسپی کو حاصل ہے۔
رکاوٹیں کا ازالہ، عادتوں کا بدل نہیں
ہندوستان کے بہت سارے بچوں کے لئے، خصوصاً دیہی، نیم شہری اور سہولیات سے محروم علاقوں میں رہنے والوں کے لئے، نصابی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں تک رسائی اب بھی حقیقی مسئلہ ہے۔ قریب ترین کتابوں کی دکان کئی کلومیٹر دور ہو سکتی ہے۔ اسکول کی لائبریری میں یا تو پرانی کتابیں موجود ہوتی ہیں، یا پھر وہ اسکول کے اوقات کے بعد دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں پڑھنے اور نئی دنیاؤں کو جاننے کا شوق تو ہوتا ہے، مگر اس شوق کو پورا کرنے کے لئے مناسب کتابیں میسر نہیں ہوتی ہیں۔
راشٹریہ ای۔پستکالیہ اس کمی کو دور کرتا ہے۔ اب ہر بچہ، خواہ وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو یا اس کا معاشی پس منظر کچھ بھی ہو، اپنے گھر میں موجود ڈیجیٹل آلات کے ذریعے ہزاروں کتابوں پر مشتمل کتب خانے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سے اپنی پسند کی کتابوں کامطالعہ جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے ہندی اور انگریزی کے علاوہ دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی کتابیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

لیکن یہ واضح کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ اس اقدام سے کیا مقصود نہیں ہے۔
اس اقدام کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کم عمر بچوں کو اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔ بلکہ اس کا مقصد خاندانوں کو یہ دعوت دینا ہے کہ وہ اپنے پاس پہلے سے موجود ڈیجیٹل آلات کو زیادہ بامقصد انداز میں استعمال کریں، تاکہ وہ وقت جو بصورتِ دیگر بے مقصد اسکرین دیکھنے، مسلسل غیر ضروری مواد پر نظر جمانے یا نامناسب مواد دیکھنے میں صرف ہو تا ہے، اسے خاندان کے ساتھ مل کر علم، مطالعے اور مثبت سرگرمی میں تبدیل کیا جا سکے۔
والد یا والدہ کا اپنے کم عمر بچے کو بلند آواز میں کتاب پڑھ کر سنانا۔
کسی بڑی بہن یا بھائی کا اپنی چھوٹی بہن یا بھائی کو کہانی سنانا۔
پورے خاندان کا اجتماعی مطالعے کے لئے باقاعدہ وقت مقرر کرنا۔
ایسے دور میں جب اسکرین کے باعث اکثر لوگ ایک دوسرے سے دور اور اپنی ہی دنیا میں محدود ہو تے جارہے ہیں، انہی ڈیجیٹل آلات پر پڑھی جانے والی کتابیں لوگوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لانے، انہیں باہم جوڑنے اور مشترکہ مطالعے کے لطف سے بہرہ ورکرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

کتاب کا مطالعہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے محض اسکرین پروقت گزاری کے لئے نہیں
راشٹریہ ای۔پستکالیہ کا اصل مقصد محض پلیٹ فارم کے اعداد و شمار یا اس کی کامیابی کے پیمانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم اور عظیم ہے۔ اس کا حقیقی ہدف یہ ہے کہ کتابوں کے مطالعے کو دوبارہ گھروں، بالخصوص نشست گاہوں کا لازمی اور مشترکہ معمول بنایا جائے۔
کتاب کا مطالعہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک سماجی اور جذباتی عمل بھی ہے۔ جب خاندان کے افراد یا احباب ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں تو وہ باہمی گفتگو، ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھنے اور غور و فکر کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ یہ مشترکہ توجہ اور قربت کا وہ احساس ہے جو مسلسل آنے والی اطلاعات اور روزمرہ کی مصروفیات کی باعث بٹی ہوئی زندگی میں دن بہ دن نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ تحقیقی مطالعات سےبھی اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ جن بچوں کو گھر میں کتابیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور جو اپنے اردگرد بڑوں کو مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ان میں نہ صرف پڑھنے لکھنے کی صلاحیت زیادہ مضبوط ہوتی ہے بلکہ ان کی فکری، جذباتی اور تخلیقی شخصیت بھی زیادہ بھرپور انداز میں پروان چڑھتی ہے۔
راشٹریہ ای۔پستکالیہ ایک خاموش مگر نہایت خوب صورت بین پیڑھی امکان بھی فراہم کرتا ہے۔ کم عمر قارئین اپنے دادا دادی یا نانا نانی کو کتابیں پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ نوجوان نسل مشترکہ مطالعے کے ذریعے ان کہانیوں اور تحریروں سے واقف ہو سکتے ہیں جنہیں ان کے آبا و اجداد پسند کرتے تھے۔اس طرح مطالعہ محض تنہائی میں کیا جانے والا یا صرف ذمہ داری سمجھ کر انجام دیا جانے والا عمل نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی سرگرمی بن جاتا ہے جسے ایک طرف انسان کا ذاتی وقت کہا جا سکتا ہے اور دوسری طرف یہ سب کے ساتھ گزارا جانے والا وقت بھی بن جاتا ہے۔

‘‘مطالعہ محض تنہا عمل نہیں رہتا، بلکہ بالکل نئی صورت اختیار کر لیتا ہے—اپنا ذاتی وقت سب کے ساتھ گزارا جانے والا وقت بھی بن جاتا ہے۔’’
بحیثیت معاشرہ، ہمیں اپنے آپ سے ایک سادہ مگر گہرا سوال ضرور پوچھنا چاہیے: کیا ہم اسکرین کےبے مقصد استعمال میں صرف ہونے والے وقت کے ایک حصے کو دوبارہ حاصل کر کے اسے بامقصد مطالعے کے لئے واپس لا سکتے ہیں؟ ہمیں یقین ہے کہ اس کا جواب ہاں میں ہے—بشرطیکہ ہم کتابوں کو آسانی سے دستیاب بنائیں، انہیں دلچسپ اور قابلِ رغبت انداز میں پیش کریں، اور مطالعے کو بوجھ یا مجبوری کے بجائے اپنی پسند اور خوشی کا عمل بنائیں۔
ماہرین تعلیم کے ساتھ مل کرنے کا کام: اگلا مرحلہ
راشٹریہ ای-پستکالیہ جب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے تو اس میں ماہرین تعلیم کے کردار کی اہمیت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ، کتب خانہ کے عملہ اور اسکول کے سربراہان محض تعلیم کے معاون نہیں ہوتے، بلکہ وہ مطالعے اور پڑھنے کی ثقافت کے معمار بھی ہوتے ہیں۔ بچے اسکول میں مطالعے کی جو عادتیں اپناتے ہیں، وہ اکثر زندگی بھر ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کتب خانے کے نگراں کی تجویز کردہ کتابیں کسی نوجوان کی سوچ، فہم اور مستقبل کے زاویۂ نظر کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

راشٹریہ ای-پستکالیہ کو اسکول کی زندگی کا اہم حصہ بنانے کے لئے کئی پہلوؤں میں باقاعدہ اور سوچے سمجھے اقدامات کی ضرورت ہوگی:
• کتب خانے کے اوقات کو محض زیرنگرانی خاموش مطالعے کے کمروں کے بجائے فعال تعلیمی مراکز کے طور پر ازسرِنو تشکیل دینا۔
• رہنمائی پر مبنی مطالعے اور کہانی سنانے کی نشستوں کی حوصلہ افزائی کرنا جن میں اساتذہ اپنی پسندیدہ کتابیں اور کہانیاں طلبہ کے ساتھ شیئر کریں۔
• طلبہ کی زیرِ قیادت کتابی مذاکروں اور مطالعاتی حلقوں کا اہتمام، تاکہ وہ مطالعے کی عادت کو اپنی ذمہ داری اور دلچسپی کا حصہ سمجھیں۔
• مطالعے کو اسکول کے روزمرہ معمولات میں اس طرح شامل کرنا کہ یہ صبح کے ترانے کی طرح ایک فطری اور معمول کا حصہ محسوس ہو۔
• لکھنے کے مختلف طریقوں اور اسالیب کو سمجھ کر طلبہ کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانا۔

زندہ جاوید اور مسلسل ارتقاء پذیر کتب خانہ
روایتی کتب خانے کے برعکس، جو اپنی الماریوں تک محدود ہوتے ہیں اور اپنی جسمانی وسعت کی پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں، راشٹریہ ای۔پستکالیہ کو متحرک اور مسلسل ارتقاء پذیر کتب خانے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ آپ کے ہاتھوں میں موجود کتابوں کا ایک قیمتی خزانہ ہے۔ یہ قارئین کو یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی رائے دیں اور تجویز کریں کہ مزید کون سی کتابیں اس میں شامل کی جانی چاہئیں۔ اس میں دستیاب کتابیں ہندوستان کی شاندار وراثت اور ثقافت سے بھی بھرپور تعلق رکھتی ہیں، جن سے نئی نسل کا واقف ہونا ضروری ہے۔
اس کی کثیر لسانی بنیاد بھی اسی قدر اہمیت رکھتی ہے۔ بچہ سب سے بہتر اور فطری انداز میں اسی زبان میں پڑھتا ہے جس زبان میں وہ سوچتا ہے۔راشٹریہ ای-پستکالیہ23 زبانوں میں کتابیں فراہم کر کےاور مزید زبانوں تک توسیع کے عزم کے ساتھ،ہندوستان کی لسانی تنوع کا احترام کرتا ہے۔ یہاں مختلف زبانوں کو کسی انتظامی مسئلے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی تخلیقی طاقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کا واقعہ جشن منایا جانا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم پر موجود ہر زبان ایک ایسے دروازے کی مانند ہے جس سے گزر کر بچہ ایک نئی دنیا میں داخل ہو سکتا ہے۔ آٹھ سال تک کی عمر کے کم عمر بچوں کے حوالہ سےیہ پلیٹ فارم والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ کہانیاں بلند آواز سے پڑھ کر سنائیں۔

اجتماعی ذمہ داری
یقیناً راشٹریہ ای-پستکالیہ کی کامیابی کا اندازہ صرف کتابیں حاصل کرنے والوں یا رجسٹرڈ صارفین کی تعداد سے نہیں لگایا جائے گا، اگرچہ یہ پیمانے اپنی جگہ اہم ہیں۔ اس کی حقیقی کامیابی اس بات سے طے ہوگی کہ کیا مطالعے کی عادت پھر سےگھروں، اسکولوں اور ہندوستان کی بے مثال متنوع برادریوں کے پرسکون گوشوں میں واپس لوٹتی ہے یا نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کسی دور دراز علاقے میں رہنے والے بچے کی آنکھوں میں اس وقت خوشی کی چمک نظر آئے جب وہ ایسی کتاب پڑھ رہا ہو جس کے بارے میں اس نے صرف سنا تھا۔
مطالعے کے لئے قومی اپیل
اس پلیٹ فارم پر موجودہ ‘راشٹریہ کاویہ اُتسو’ جیسی سرگرمیوں کا بھی مسلسل انعقاد ہوتا رہتا ہے اور شہریوں کو کہانی سنانے کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ راشٹریہ ای-پستکالیہ میں مزید بہت سی دلچسپ، تفریحی اور بامقصد سرگرمیاں بھی مستقل طور پر شامل رہیں گی۔
ہندوستان ہمیشہ سے داستانوں کی ایک عظیم تہذیب رہا ہے۔ تحریری شکل میں لفظ کے وجود میں آنے سے پہلے کی زبانی روایات سے لے کر ہندی، سنسکرت، تمل، بنگالی، مراٹھی اور درجنوں دیگر زبانوں کے عظیم ادبی ذخیرے تک، اس سرزمین پر کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی ہے۔ آج خطرہ خود کہانیوں کو نہیں، بلکہ انہیں تلاش کرنے اور ان تک پہنچنے کی عادت کو لاحق ہے—
(محترمہ ارچنا شرما اوستھی، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کی ایڈیشنل سیکریٹری ہیں۔ جناب یوراج ملک، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں۔)

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں