جھارکھنڈ میں نوجوانوں کی بے چینی

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبہ اور سرکاری ملازمت کے امیدواروں کا احتجاج جاری ہے۔ یہ محض ایک امتحان کا تنازع نہیں بلکہ نظامِ بھرتی کی شفافیت اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے 14ویں سول سروسز مشترکہ امتحان میں مبینہ پرچہ افشا اور بے ضابطگیوں کے الزامات نے امیدواروں میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ متعدد امیدوار بھوک ہڑتال پر ہیں اور امتحان منسوخ کرکے CBI تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا، طلبہ نمائندوں سے بات چیت کی اور کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ سابق JPSC چیئرمین ایل کھیانگتے سمیت دس سے زائد افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔ تاہم، محض گرفتاریاں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اصل مسئلہ ایک امتحان سے کہیں بڑا ہے۔
رانچی کا غم و غصہ اُس نسل کی مایوسی کا اظہار ہے جس کے لئے سرکاری ملازمت معاشی تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال جھارکھنڈ اگر نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا نہیں کرتا تو محدود سرکاری آسامیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ لازماً بے چینی کو جنم دے گا۔
ریاست میں بھرتیوں کا ماضی بھی تشویش ناک ہے۔ پرچہ افشا، نتائج میں تبدیلی، انٹرویو کے نمبروں پر اعتراضات اور جوابی کلید میں غلطیوں جیسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ امتحانات میں تاخیر نے بیک لاگ پیدا کیا، جس سے مقابلہ مزید سخت ہوگیا۔حکومت کو اب ایک غیر جانب دار، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات یقینی بنانی چاہیے۔ الزامات کو شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے اور بدعنوانی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ اگر امتحان منسوخ کرنا ضروری ہو تو وجوہات واضح کرکے دوبارہ امتحان کے لئے ایسا مضبوط نظام بنایا جائے جس میں ماضی کی خامیوں کی گنجائش نہ ہو۔لیکن مستقل حل صرف سرکاری بھرتیوں میں نہیں۔ ریاست کو سرمایہ کاری، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ہنرمندی، تعلیم اور کاروبار کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ نوجوانوں کے مستقبل کو صرف ایک سرکاری امتحان سے وابستہ رکھنا کسی بھی ریاست کے لئے پائیدار راستہ نہیں۔رانچی کا احتجاج حکومت کے لئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ نوجوان صرف ملازمت نہیں چاہتے؛ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں محنت اور میرٹ کی قدر ہو اور سفارش یا بے ضابطگی ان کے مستقبل کا فیصلہ نہ کرے۔
حکومت، سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جھارکھنڈ کے نوجوانوں کو شفاف بھرتی، منصفانہ مواقع اور قابلِ اعتماد اداروں کا حق حاصل ہے۔ موجودہ بحران کا حقیقی حل اعتماد کی بحالی ہے، اور یہ صرف شفاف نظام، جواب دہ اداروں اور میرٹ پر مبنی مواقع سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

جھارکھنڈ میں نوجوانوں کی بے چینی

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبہ اور سرکاری ملازمت کے امیدواروں کا احتجاج جاری ہے۔ یہ محض ایک امتحان کا تنازع نہیں بلکہ نظامِ بھرتی کی شفافیت اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے 14ویں سول سروسز مشترکہ امتحان میں مبینہ پرچہ افشا اور بے ضابطگیوں کے الزامات نے امیدواروں میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ متعدد امیدوار بھوک ہڑتال پر ہیں اور امتحان منسوخ کرکے CBI تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا، طلبہ نمائندوں سے بات چیت کی اور کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ سابق JPSC چیئرمین ایل کھیانگتے سمیت دس سے زائد افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔ تاہم، محض گرفتاریاں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اصل مسئلہ ایک امتحان سے کہیں بڑا ہے۔
رانچی کا غم و غصہ اُس نسل کی مایوسی کا اظہار ہے جس کے لئے سرکاری ملازمت معاشی تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال جھارکھنڈ اگر نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا نہیں کرتا تو محدود سرکاری آسامیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ لازماً بے چینی کو جنم دے گا۔
ریاست میں بھرتیوں کا ماضی بھی تشویش ناک ہے۔ پرچہ افشا، نتائج میں تبدیلی، انٹرویو کے نمبروں پر اعتراضات اور جوابی کلید میں غلطیوں جیسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ امتحانات میں تاخیر نے بیک لاگ پیدا کیا، جس سے مقابلہ مزید سخت ہوگیا۔حکومت کو اب ایک غیر جانب دار، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات یقینی بنانی چاہیے۔ الزامات کو شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے اور بدعنوانی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ اگر امتحان منسوخ کرنا ضروری ہو تو وجوہات واضح کرکے دوبارہ امتحان کے لئے ایسا مضبوط نظام بنایا جائے جس میں ماضی کی خامیوں کی گنجائش نہ ہو۔لیکن مستقل حل صرف سرکاری بھرتیوں میں نہیں۔ ریاست کو سرمایہ کاری، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ہنرمندی، تعلیم اور کاروبار کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ نوجوانوں کے مستقبل کو صرف ایک سرکاری امتحان سے وابستہ رکھنا کسی بھی ریاست کے لئے پائیدار راستہ نہیں۔رانچی کا احتجاج حکومت کے لئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ نوجوان صرف ملازمت نہیں چاہتے؛ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں محنت اور میرٹ کی قدر ہو اور سفارش یا بے ضابطگی ان کے مستقبل کا فیصلہ نہ کرے۔
حکومت، سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جھارکھنڈ کے نوجوانوں کو شفاف بھرتی، منصفانہ مواقع اور قابلِ اعتماد اداروں کا حق حاصل ہے۔ موجودہ بحران کا حقیقی حل اعتماد کی بحالی ہے، اور یہ صرف شفاف نظام، جواب دہ اداروں اور میرٹ پر مبنی مواقع سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں