ماحولیاتی قوانین کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی

ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) کا بنیادی اصول واضح ہے: کسی منصوبے کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ اور منظوری ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کا 29 جولائی کا فیصلہ 2021 کی بعد از تعمیر ماحولیاتی منظوری سے متعلق آفس میمورنڈم کو منسوخ کرتا ہے، لیکن مرکز کو قانونی نوٹیفکیشن کے ذریعے خلاف ورزیوں کو باقاعدہ بنانے کی گنجائش بھی دیتا ہے۔ یہی پہلو تشویش کا باعث ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں کا اکثر علم اس وقت ہوتا ہے جب شاہراہ، بندرگاہ یا صنعتی منصوبہ تقریباً مکمل ہوچکا ہوتا ہے۔ یوں ’’پہلے تعمیر، پھر منظوری‘‘ ایک استثنا کے بجائے معمول بنتا جارہا ہے۔ یہ ماحولیاتی قانون کی روح کے منافی ہے۔
جنگلات، دریاؤں، دلدلی علاقوں اور سیلابی گزرگاہوں کو جرمانہ وصول کرکے باقاعدہ نہیں کیا جاسکتا۔ ماحولیات کوئی ایسا قرض نہیں جسے نقصان پہنچانے کے بعد رقم ادا کرکے ختم کردیا جائے۔ ایک تباہ شدہ ماحولیاتی نظام ہمیشہ مالی معاوضے سے بحال نہیں ہوسکتا۔
ماحولیاتی خلاف ورزیوں کو محض مالی جرمانے تک محدود کرنا بھی خطرناک ہے۔ اگر بڑے سرمایہ داروں کے لئے قانون توڑنا صرف ’’کاروباری لاگت‘‘ بن جائے تو احتیاطی اصول بے معنی ہوجاتا ہے۔
حکومت کو اس فیصلے کو عام معافی کی راہ ہموار کرنے کے بجائے ماحولیاتی منظوری کے کمزور نظام کی اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے۔ ترقی ضروری ہے، مگر ایسی ترقی نہیں جو قدرتی نظام کو تباہ کرکے حاصل ہو۔ ماحولیاتی تحفظ میں اصل کامیابی خلاف ورزی کے بعد جرمانہ وصول کرنا نہیں، بلکہ خلاف ورزی کو ہونے سے پہلے روکنا ہے۔
ریاستی ماحولیاتی اداروں، ماہرین کی کمیٹیوں اور آلودگی کنٹرول بورڈز کی نگرانی کو مؤثر اور آزاد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑے منصوبوں کو ’’عوامی مفاد‘‘ کے نام پر ماحولیاتی ضابطوں سے مستثنیٰ قرار دینے کے بجائے شفاف اور پیشگی جانچ کا پابند بنایا جائے۔ اگر منظوری کا نظام تعمیر کے بعد حرکت میں آئے تو قانون کی بالادستی اور ماحول دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
قدرتی آفات میں شدت اور بے ہنگم تعمیرات سے ہونے والے نقصانات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ماحولیات کو نظرانداز کرنے کی قیمت بالآخر معاشرے ہی کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ سیلابی گزرگاہوں پر تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور آبی ذخائر میں مداخلت وقتی طور پر ترقی کا تاثر دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ انسانی جانوں، معیشت اور قدرتی وسائل کے لئے سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

تازہ ترین خبریں

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

ماحولیاتی قوانین کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی

ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) کا بنیادی اصول واضح ہے: کسی منصوبے کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ اور منظوری ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کا 29 جولائی کا فیصلہ 2021 کی بعد از تعمیر ماحولیاتی منظوری سے متعلق آفس میمورنڈم کو منسوخ کرتا ہے، لیکن مرکز کو قانونی نوٹیفکیشن کے ذریعے خلاف ورزیوں کو باقاعدہ بنانے کی گنجائش بھی دیتا ہے۔ یہی پہلو تشویش کا باعث ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں کا اکثر علم اس وقت ہوتا ہے جب شاہراہ، بندرگاہ یا صنعتی منصوبہ تقریباً مکمل ہوچکا ہوتا ہے۔ یوں ’’پہلے تعمیر، پھر منظوری‘‘ ایک استثنا کے بجائے معمول بنتا جارہا ہے۔ یہ ماحولیاتی قانون کی روح کے منافی ہے۔
جنگلات، دریاؤں، دلدلی علاقوں اور سیلابی گزرگاہوں کو جرمانہ وصول کرکے باقاعدہ نہیں کیا جاسکتا۔ ماحولیات کوئی ایسا قرض نہیں جسے نقصان پہنچانے کے بعد رقم ادا کرکے ختم کردیا جائے۔ ایک تباہ شدہ ماحولیاتی نظام ہمیشہ مالی معاوضے سے بحال نہیں ہوسکتا۔
ماحولیاتی خلاف ورزیوں کو محض مالی جرمانے تک محدود کرنا بھی خطرناک ہے۔ اگر بڑے سرمایہ داروں کے لئے قانون توڑنا صرف ’’کاروباری لاگت‘‘ بن جائے تو احتیاطی اصول بے معنی ہوجاتا ہے۔
حکومت کو اس فیصلے کو عام معافی کی راہ ہموار کرنے کے بجائے ماحولیاتی منظوری کے کمزور نظام کی اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے۔ ترقی ضروری ہے، مگر ایسی ترقی نہیں جو قدرتی نظام کو تباہ کرکے حاصل ہو۔ ماحولیاتی تحفظ میں اصل کامیابی خلاف ورزی کے بعد جرمانہ وصول کرنا نہیں، بلکہ خلاف ورزی کو ہونے سے پہلے روکنا ہے۔
ریاستی ماحولیاتی اداروں، ماہرین کی کمیٹیوں اور آلودگی کنٹرول بورڈز کی نگرانی کو مؤثر اور آزاد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑے منصوبوں کو ’’عوامی مفاد‘‘ کے نام پر ماحولیاتی ضابطوں سے مستثنیٰ قرار دینے کے بجائے شفاف اور پیشگی جانچ کا پابند بنایا جائے۔ اگر منظوری کا نظام تعمیر کے بعد حرکت میں آئے تو قانون کی بالادستی اور ماحول دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
قدرتی آفات میں شدت اور بے ہنگم تعمیرات سے ہونے والے نقصانات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ماحولیات کو نظرانداز کرنے کی قیمت بالآخر معاشرے ہی کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ سیلابی گزرگاہوں پر تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور آبی ذخائر میں مداخلت وقتی طور پر ترقی کا تاثر دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ انسانی جانوں، معیشت اور قدرتی وسائل کے لئے سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں