غزل: محمد ایوبؔ

 

یہ اداسی تیرے چہرے پہ اچھی نہیں لگتی
ماتھے پہ شکن، آنکھ میں نمی اچھی نہیں لگتی
ستارے نوچ لاتا ہوں تیرے غم کی راتوں میں
اندھیروں میں ترے گھر کی گلی اچھی نہیں لگتی
غمِ دوراں کے مارے ہیں اب اس زمانے میں
کسی کے بھی ہونٹوں پر برہمی اچھی نہیں لگتی
ترا دکھ بانٹ لینے دے مجھے اے جانِ تمنا
تیرے لہجے میں یہ ناآشنائی اچھی نہیں لگتی
کبھی آ کر ذرا دیکھ مرے ویران دل کو

ترے وعدوں کی طویل خاموشی اچھی نہیں لگتی
جسے تو دیکھ لے اک بار، وہ جی اٹھتا ہے ایوب
ترے چہرے پہ صورت بجھی اچھی نہیں لگتی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

غزل: محمد ایوبؔ

 

یہ اداسی تیرے چہرے پہ اچھی نہیں لگتی
ماتھے پہ شکن، آنکھ میں نمی اچھی نہیں لگتی
ستارے نوچ لاتا ہوں تیرے غم کی راتوں میں
اندھیروں میں ترے گھر کی گلی اچھی نہیں لگتی
غمِ دوراں کے مارے ہیں اب اس زمانے میں
کسی کے بھی ہونٹوں پر برہمی اچھی نہیں لگتی
ترا دکھ بانٹ لینے دے مجھے اے جانِ تمنا
تیرے لہجے میں یہ ناآشنائی اچھی نہیں لگتی
کبھی آ کر ذرا دیکھ مرے ویران دل کو

ترے وعدوں کی طویل خاموشی اچھی نہیں لگتی
جسے تو دیکھ لے اک بار، وہ جی اٹھتا ہے ایوب
ترے چہرے پہ صورت بجھی اچھی نہیں لگتی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں