ذکی طارق بارہ بنکوی
دوستو مدحتِ سرکار کروں یا نہ کروں
فکرِ عاجز کو گہر بار کروں یا نہ کروں
خود کو پاکیزۂ افکار کروں یا نہ کروں
میں ثنائے شہِ ابرار کروں یا نہ کروں
میری اوقات ہی کیا میری زباں ہی کیا ہے
مدحتِ احمدِ مختار کروں یا نہ کروں
میں کہ ظلمت کا پَلا نطق بھی آلودۂ عیب
ذکرِ سرچشمۂ انوار کروں یا نہ کروں
میرے یہ ہونٹ جو ناپاک رہے ہیں اب تک
ان سے سرکار کے اذکار کروں یا نہ کروں
ہاتھ میرے جو ابھی رزقِ خطا چھوتے ہیں
ان کا رخ جانبِ سرکار کروں یا نہ کروں
میری پلکیں ابھی طیبہ کی گلی بن نہ سکیں
آنکھ کو طالبِ دیدار کروں یا نہ کروں
غار میں غار نہیں لطفِ خدا کا تھا اثر
رازِ ثور اب سرِ اظہار کروں یا نہ کروں
ززز
ذکی طارق بارہ بنکوی
دوستو مدحتِ سرکار کروں یا نہ کروں
فکرِ عاجز کو گہر بار کروں یا نہ کروں
خود کو پاکیزۂ افکار کروں یا نہ کروں
میں ثنائے شہِ ابرار کروں یا نہ کروں
میری اوقات ہی کیا میری زباں ہی کیا ہے
مدحتِ احمدِ مختار کروں یا نہ کروں
میں کہ ظلمت کا پَلا نطق بھی آلودۂ عیب
ذکرِ سرچشمۂ انوار کروں یا نہ کروں
میرے یہ ہونٹ جو ناپاک رہے ہیں اب تک
ان سے سرکار کے اذکار کروں یا نہ کروں
ہاتھ میرے جو ابھی رزقِ خطا چھوتے ہیں
ان کا رخ جانبِ سرکار کروں یا نہ کروں
میری پلکیں ابھی طیبہ کی گلی بن نہ سکیں
آنکھ کو طالبِ دیدار کروں یا نہ کروں
غار میں غار نہیں لطفِ خدا کا تھا اثر
رازِ ثور اب سرِ اظہار کروں یا نہ کروں
ززز


