سیاست میں نظریات کا مختلف ہونا اس کی خوبصورتی ہے، لیکن ایک دوسرے کے سیاسی نظریات کا احترام کرنا ہی مضبوط جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ اننت ناگ، کشمیر میں بی جے پی کارکنوں کی جانب سے خواتین کے خلاف مبینہ نازیبا نعرے بازی کا معاملہ اسی تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ بی جے پی کی جانب سے ملوث کارکنوں کو معطل کرنا ایک قابلِ تحسین قدم ہے، لیکن اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: سیاسی نعروں کی تشکیل کا اختیار آخر کن لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے؟
سیاسی نعرے محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نظریے، تہذیبی شعور، اخلاقی معیار اور معاشرتی رویّے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس لئے یہ کام محض جذباتی کارکنوں یا ایسے افراد کے سپرد نہیں کیا جانا چاہیے جو سیاسی جوش میں الفاظ کی حدود پار کر جائیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ نعروں کی تشکیل کے لئے اہل قلم، دانشوروں، ادیبوں، مفکروں، سیاسی ماہرین اور زبان و ابلاغ کے ماہرین کی خدمات حاصل کریں، تاکہ ان کے نعرے شائستہ، بامعنی، مؤثر اور جمہوری اقدار کے عکاس ہوں۔
بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں بعض اوقات مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے نعرے استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف غیر پارلیمانی زبان پر مشتمل ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بھی ہوا دیتے ہیں۔ خصوصاً خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کی توہین آمیز زبان ناقابلِ قبول ہونی چاہیے، خواہ اسے کسی بھی سیاسی جماعت یا نظریے سے وابستہ افراد استعمال کریں۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی تضحیک، کردار کشی یا صنفی توہین میں تبدیل کرنا جمہوری سیاست کو کمزور کرتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن کسی جماعت کا چہرہ ہوتے ہیں۔ ان کا لب و لہجہ اور طرزِ گفتگو عوام کے سامنے پوری جماعت کے سیاسی مزاج کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس لئے قیادت کی ذمہ داری صرف انتخابی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے کارکنوں کی سیاسی، اخلاقی اور ابلاغی تربیت کرنا بھی ہے۔ اگر کسی کارکن سے حدود پار ہوں تو کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہی نہ ہوں۔
سیاسی نعرہ معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس میں معاشرے کے خواب، ترجیحات، سیاسی شعور اور اخلاقی سطح کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ یہ آئینہ جھوٹے پروپیگنڈے، نفرت انگیزی، ذاتی حملوں اور غیر پارلیمانی زبان سے داغ دار نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعی عوامی اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں نعروں کی سطح بھی بلند کرنا ہوگی اور سیاسی گفتگو کا معیار بھی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں محض ہجوم اور جوشیلی آوازوں پر انحصار کرنے کے بجائے اہل، باشعور اور ذمہ دار افراد کو سیاسی ابلاغ کی ذمہ داری سونپیں۔ ایسے نعرے تخلیق کیے جائیں جو عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑیں، جھوٹے پروپیگنڈے کے بجائے حقیقت بیان کریں اور مخالفین کی تذلیل کے بجائے اپنے نظریے کی خوبیاں اجاگر کریں۔ یہی مہذب سیاست کی پہچان اور مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔
سیاسی نعروں کا تخلیق کار کون ؟
سیاسی نعروں کا تخلیق کار کون ؟
سیاست میں نظریات کا مختلف ہونا اس کی خوبصورتی ہے، لیکن ایک دوسرے کے سیاسی نظریات کا احترام کرنا ہی مضبوط جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ اننت ناگ، کشمیر میں بی جے پی کارکنوں کی جانب سے خواتین کے خلاف مبینہ نازیبا نعرے بازی کا معاملہ اسی تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ بی جے پی کی جانب سے ملوث کارکنوں کو معطل کرنا ایک قابلِ تحسین قدم ہے، لیکن اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: سیاسی نعروں کی تشکیل کا اختیار آخر کن لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے؟
سیاسی نعرے محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نظریے، تہذیبی شعور، اخلاقی معیار اور معاشرتی رویّے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس لئے یہ کام محض جذباتی کارکنوں یا ایسے افراد کے سپرد نہیں کیا جانا چاہیے جو سیاسی جوش میں الفاظ کی حدود پار کر جائیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ نعروں کی تشکیل کے لئے اہل قلم، دانشوروں، ادیبوں، مفکروں، سیاسی ماہرین اور زبان و ابلاغ کے ماہرین کی خدمات حاصل کریں، تاکہ ان کے نعرے شائستہ، بامعنی، مؤثر اور جمہوری اقدار کے عکاس ہوں۔
بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں بعض اوقات مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے نعرے استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف غیر پارلیمانی زبان پر مشتمل ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بھی ہوا دیتے ہیں۔ خصوصاً خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کی توہین آمیز زبان ناقابلِ قبول ہونی چاہیے، خواہ اسے کسی بھی سیاسی جماعت یا نظریے سے وابستہ افراد استعمال کریں۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی تضحیک، کردار کشی یا صنفی توہین میں تبدیل کرنا جمہوری سیاست کو کمزور کرتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن کسی جماعت کا چہرہ ہوتے ہیں۔ ان کا لب و لہجہ اور طرزِ گفتگو عوام کے سامنے پوری جماعت کے سیاسی مزاج کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس لئے قیادت کی ذمہ داری صرف انتخابی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے کارکنوں کی سیاسی، اخلاقی اور ابلاغی تربیت کرنا بھی ہے۔ اگر کسی کارکن سے حدود پار ہوں تو کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہی نہ ہوں۔
سیاسی نعرہ معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس میں معاشرے کے خواب، ترجیحات، سیاسی شعور اور اخلاقی سطح کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ یہ آئینہ جھوٹے پروپیگنڈے، نفرت انگیزی، ذاتی حملوں اور غیر پارلیمانی زبان سے داغ دار نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعی عوامی اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں نعروں کی سطح بھی بلند کرنا ہوگی اور سیاسی گفتگو کا معیار بھی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں محض ہجوم اور جوشیلی آوازوں پر انحصار کرنے کے بجائے اہل، باشعور اور ذمہ دار افراد کو سیاسی ابلاغ کی ذمہ داری سونپیں۔ ایسے نعرے تخلیق کیے جائیں جو عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑیں، جھوٹے پروپیگنڈے کے بجائے حقیقت بیان کریں اور مخالفین کی تذلیل کے بجائے اپنے نظریے کی خوبیاں اجاگر کریں۔ یہی مہذب سیاست کی پہچان اور مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔


