ڈاکٹر ابوبکر سالم کا بے نظیر شاہکار: جزا و سزا

مصنف: ڈاکٹر ابوبکر سالم
صفحا ت: 90-   قیمت100: روپے.
نا شر: مرزا ورلڈ بک ہاؤس، قیصر کالونی، اورنگ آباد
مصنف: ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر
تبصرہ نگا ر: پروفیسر رفیع الدین 
انسان جب کائنات کا  ، قدرت کی نعمتوں اور انسانی معاشرے کا گہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جو تحقیق، تدبر اور فکر کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ اسی مسلسل جستجو اور علمی ریاضت کا نتیجہ ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر کی منفرد تصنیف ”جزا  و سزا   (   Reward and Punishment)”  جو اردو اور ا نگزیزی دونوں زبانوں میںہے، مختصر ہونے کے باوجود اپنے موضوع، وسعتِ مطالعہ اور فکری گہرائی کے اعتبار سے نہایت اہم کتاب ہے۔
کتابیں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ معاشروں کی فکری اور اخلاقی تعمیر کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ جب کوئی سائنس داں اپنی تحقیقی بصیرت، وسیع مطالعے اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے کو یکجا کرتا ہے تو ایک ایسی تصنیف وجود میں آتی ہے جو محض کتاب نہیں بلکہ فکر و شعور کی نئی راہیں متعین کرتی ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر کی تازہ تصنیف ”جزا  و سزا (Reward and Punishment)” اسی نوعیت کی ایک منفرد اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔
ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر اورنگ آباد کے معروف وائی بی چوہان کالج آف فارمسی  کے وائس پرنسپل، ممتاز سائنس داں اور فا ر ماکوگنوسی (Pharmacognosy) اور فائٹو کیمسٹری (Phytochemistry)کے ماہر محقق ہیں۔ گزشتہ پچیس برسوں میں انہوں نے متعدد تحقیقی منصوبوں کی تکمیل کی، پی ایچ ڈی اور ایم فارما کے طلبہ کی رہنمائی کی، سائنسی مقالات کی اشاعت اور اختراعات کے ذریعے علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ متعدد پیٹنٹس بھی حاصل کیے ہیں۔ سائنسی مصروفیات کے باوجود ان کی شخصیت کا دوسرا روشن پہلو اعلیٰ اخلاق، سادگی، دیانت اور اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ ہے، جس کی جھلک اس کتاب کے ہر باب میں محسوس ہوتی ہے۔
یہ کتاب مختلف مذاہب میں جزا  و سزا اور اعمال کی جواب دہی کے تصور کا تقابلی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ مصنف نے اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ مت  اور بدھ مت سمیت مختلف مذہبی روایات کا غیر جانب دارا نہ مطالعہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اگرچہ عقائد اور تعبیرات میں اختلافا ت موجود ہیں، لیکن تقریباً تمام مذاہب انسان کو نیکی، عدل، اخلاق اور اپنے اعمال کی جواب دہی کا درس دیتے ہیں۔کتاب کی تمہید میں مصنف اس بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ انسانی اعمال کبھی بے نتیجہ نہیں ہوتے۔ ہر عمل کا ایک انجام ہے اور اسی بنیاد پر انسان جزا یا سزا کا مستحق بنتا ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی میں ہر لمحہ اس احساس کو زندہ رکھے کہ اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے تو معاشرے سے بے شمار برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں قرآنِ مجید کی روشنی میں اسلام کے تصورِ جزا و سزا کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ مت  ا ور بدھ مت کی تعلیمات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر مذہب کے بنیادی مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے انصاف، توبہ  ، کرم، نجات، نروان اور اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات کو اختصار مگر جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
یہودیت کے باب میں توبہ کی اہمیت پر ‘تلمود’ کے حوالے سے نہایت خوبصورت اقتباس شامل کیا گیا ہے کہ ”توبہ عظیم ہے کیونکہ یہ دنیا کو شفا بخشتی ہے۔” اسی طرح ہندو مت میں کرم کے فلسفے، سکھ مت میں اعمال اور روحانی ترقی، جبکہ بدھ مت میں چار عظیم حقائق اور آٹھ گنا راستے کی وضاحت کتاب کی علمی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔مصنف نے ایک مستقل  باب میں وقت کی قدر و قیمت پر بھی انتہائی فکر انگیز گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق انسان کی زندگی محدود اور غیر یقینی ہے، اس لئے وقت کا درست استعمال ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔ اسلام سمیت دیگر مذاہب بھی وقت کو ایک عظیم امانت قرار دیتے ہیں اور اس کے ذمہ دارانہ  استعمال کی تلقین کرتے ہیں۔
کتاب کے اختتامی حصے میں ڈاکٹر سالم باوزیر جذباتی ذہانت، غصہ، خوف، نفرت،  انا، خواہشات اور انسانی کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حقیقی کامیابی دولت، شہرت یا منصب میں نہیں بلکہ حسنِ کردار، خدمتِ خلق، دیانت، صبر، عاجزی اور انسان دوستی میں مضمر ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو دنیا میں باوقار اور آخرت میں سرخرو بناتے ہیں۔
صرف 90 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنے موضوع، اسلوب اور علمی استناد کے اعتبار سے ایک وقیع تصنیف ہے۔ زبان سادہ، اندازِ  بیان دل نشیں، طباعت معیاری اور سرورق نہایت دیدہ زیب ہے۔ صرف سو روپے کی قیمت میں ایسی مفید، تحقیقی اور فکر انگیز کتاب کا دستیاب ہونا یقیناً خوش آئند امر ہے۔
ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر نے اس تصنیف کے ذریعے نہ صرف مختلف مذاہب کے درمیان ایک علمی مکالمے کو فروغ دیا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ انسان اگر اپنے اعمال کی جواب دہی کا شعور پیدا کر لے تو انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یہ کتاب اساتذہ، طلبہ، محققین، مذہبی مطالعات کے شائقین اور عام قارئین سبھی کے لئے یکساں مفید ہے اور بلاشبہ وسیع پیمانے پر پڑھے جانے کی مستحق ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

ڈاکٹر ابوبکر سالم کا بے نظیر شاہکار: جزا و سزا

مصنف: ڈاکٹر ابوبکر سالم
صفحا ت: 90-   قیمت100: روپے.
نا شر: مرزا ورلڈ بک ہاؤس، قیصر کالونی، اورنگ آباد
مصنف: ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر
تبصرہ نگا ر: پروفیسر رفیع الدین 
انسان جب کائنات کا  ، قدرت کی نعمتوں اور انسانی معاشرے کا گہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جو تحقیق، تدبر اور فکر کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ اسی مسلسل جستجو اور علمی ریاضت کا نتیجہ ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر کی منفرد تصنیف ”جزا  و سزا   (   Reward and Punishment)”  جو اردو اور ا نگزیزی دونوں زبانوں میںہے، مختصر ہونے کے باوجود اپنے موضوع، وسعتِ مطالعہ اور فکری گہرائی کے اعتبار سے نہایت اہم کتاب ہے۔
کتابیں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ معاشروں کی فکری اور اخلاقی تعمیر کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ جب کوئی سائنس داں اپنی تحقیقی بصیرت، وسیع مطالعے اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے کو یکجا کرتا ہے تو ایک ایسی تصنیف وجود میں آتی ہے جو محض کتاب نہیں بلکہ فکر و شعور کی نئی راہیں متعین کرتی ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر کی تازہ تصنیف ”جزا  و سزا (Reward and Punishment)” اسی نوعیت کی ایک منفرد اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔
ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر اورنگ آباد کے معروف وائی بی چوہان کالج آف فارمسی  کے وائس پرنسپل، ممتاز سائنس داں اور فا ر ماکوگنوسی (Pharmacognosy) اور فائٹو کیمسٹری (Phytochemistry)کے ماہر محقق ہیں۔ گزشتہ پچیس برسوں میں انہوں نے متعدد تحقیقی منصوبوں کی تکمیل کی، پی ایچ ڈی اور ایم فارما کے طلبہ کی رہنمائی کی، سائنسی مقالات کی اشاعت اور اختراعات کے ذریعے علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ متعدد پیٹنٹس بھی حاصل کیے ہیں۔ سائنسی مصروفیات کے باوجود ان کی شخصیت کا دوسرا روشن پہلو اعلیٰ اخلاق، سادگی، دیانت اور اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ ہے، جس کی جھلک اس کتاب کے ہر باب میں محسوس ہوتی ہے۔
یہ کتاب مختلف مذاہب میں جزا  و سزا اور اعمال کی جواب دہی کے تصور کا تقابلی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ مصنف نے اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ مت  اور بدھ مت سمیت مختلف مذہبی روایات کا غیر جانب دارا نہ مطالعہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اگرچہ عقائد اور تعبیرات میں اختلافا ت موجود ہیں، لیکن تقریباً تمام مذاہب انسان کو نیکی، عدل، اخلاق اور اپنے اعمال کی جواب دہی کا درس دیتے ہیں۔کتاب کی تمہید میں مصنف اس بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ انسانی اعمال کبھی بے نتیجہ نہیں ہوتے۔ ہر عمل کا ایک انجام ہے اور اسی بنیاد پر انسان جزا یا سزا کا مستحق بنتا ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی میں ہر لمحہ اس احساس کو زندہ رکھے کہ اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے تو معاشرے سے بے شمار برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں قرآنِ مجید کی روشنی میں اسلام کے تصورِ جزا و سزا کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ مت  ا ور بدھ مت کی تعلیمات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر مذہب کے بنیادی مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے انصاف، توبہ  ، کرم، نجات، نروان اور اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات کو اختصار مگر جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
یہودیت کے باب میں توبہ کی اہمیت پر ‘تلمود’ کے حوالے سے نہایت خوبصورت اقتباس شامل کیا گیا ہے کہ ”توبہ عظیم ہے کیونکہ یہ دنیا کو شفا بخشتی ہے۔” اسی طرح ہندو مت میں کرم کے فلسفے، سکھ مت میں اعمال اور روحانی ترقی، جبکہ بدھ مت میں چار عظیم حقائق اور آٹھ گنا راستے کی وضاحت کتاب کی علمی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔مصنف نے ایک مستقل  باب میں وقت کی قدر و قیمت پر بھی انتہائی فکر انگیز گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق انسان کی زندگی محدود اور غیر یقینی ہے، اس لئے وقت کا درست استعمال ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔ اسلام سمیت دیگر مذاہب بھی وقت کو ایک عظیم امانت قرار دیتے ہیں اور اس کے ذمہ دارانہ  استعمال کی تلقین کرتے ہیں۔
کتاب کے اختتامی حصے میں ڈاکٹر سالم باوزیر جذباتی ذہانت، غصہ، خوف، نفرت،  انا، خواہشات اور انسانی کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حقیقی کامیابی دولت، شہرت یا منصب میں نہیں بلکہ حسنِ کردار، خدمتِ خلق، دیانت، صبر، عاجزی اور انسان دوستی میں مضمر ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو دنیا میں باوقار اور آخرت میں سرخرو بناتے ہیں۔
صرف 90 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنے موضوع، اسلوب اور علمی استناد کے اعتبار سے ایک وقیع تصنیف ہے۔ زبان سادہ، اندازِ  بیان دل نشیں، طباعت معیاری اور سرورق نہایت دیدہ زیب ہے۔ صرف سو روپے کی قیمت میں ایسی مفید، تحقیقی اور فکر انگیز کتاب کا دستیاب ہونا یقیناً خوش آئند امر ہے۔
ڈاکٹر ابوبکر سالم باوزیر نے اس تصنیف کے ذریعے نہ صرف مختلف مذاہب کے درمیان ایک علمی مکالمے کو فروغ دیا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ انسان اگر اپنے اعمال کی جواب دہی کا شعور پیدا کر لے تو انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یہ کتاب اساتذہ، طلبہ، محققین، مذہبی مطالعات کے شائقین اور عام قارئین سبھی کے لئے یکساں مفید ہے اور بلاشبہ وسیع پیمانے پر پڑھے جانے کی مستحق ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں