سرینگر/ایک وقت تھا جب کشمیر کے مریض پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے دہلی، چندی گڑھ، ممبئی یا احمد آباد کا رخ کرتے تھے، مگر اب منظرنامہ بدل رہا ہے۔ وادی میں جدید طبی سہولیات، عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی نے نہ صرف مقامی بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے مریضوں کا بھی اعتماد حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس بدلتی ہوئی تصویر کی تازہ مثال PARAS Health Srinagar میں سامنے آئی، جہاں گجرات کے شہر احمد آباد سے تعلق رکھنے والے ایک مریض نے دل کی پیچیدہ بیماری کے علاج کے لئے سرینگر کا انتخاب کیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ کشمیر اب صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ جدید طبی خدمات کے حوالے سے بھی اپنی الگ شناخت قائم کر رہا ہے۔
مریض کو Complex Multivessel Coronary Artery Disease (CAD) لاحق تھی، جو دل کی ایک نہایت پیچیدہ بیماری تصور کی جاتی ہے۔ PARAS ہسپتال سرینگر میں ڈائریکٹر انٹروینشنل کارڈیالوجی ڈاکٹر محمد مقبول سہیل کی نگرانی میں جدید ترین تکنیک کے ذریعے پیچیدہ کورونری انٹروینشن انجام دیا گیا۔
آپریشن کامیاب رہا اور مریض کو محض 24 گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر مستحکم حالت میں اسپتال سے رخصت کر دیا گیا، جو جدید طبی مہارت اور موثر نگہداشت کا واضح ثبوت ہے۔
ڈاکٹر محمد مقبول سہیل کے مطابق پیچیدہ دل کے امراض کا علاج صرف جدید آلات سے نہیں بلکہ تجربے، باریک بینی اور ہر مریض کے لئے الگ حکمت عملی سے ممکن ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد مقبول سہیل کے مطابق پیچیدہ دل کے امراض کا علاج صرف جدید آلات سے نہیں بلکہ تجربے، باریک بینی اور ہر مریض کے لئے الگ حکمت عملی سے ممکن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اب ملک کی مختلف ریاستوں کے مریض بھی جدید کارڈیک علاج کے لئے کشمیر کا رخ کر رہے ہیں، جو یہاں کے ڈاکٹروں کی مہارت اور جدید طبی انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔
کامیاب علاج کے بعد مریض نے ڈاکٹر سہیل اور پوری طبی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ صرف بہترین طبی سہولت ملی بلکہ ڈاکٹروں کی شفقت، رہنمائی اور انسان دوستی نے ان کے علاج کے تجربے کو یادگار بنا دیا۔
مریض نے کہا کہ ڈاکٹر محمد مقبول سہیل صرف ایک بہترین کارڈیالوجسٹ ہی نہیں بلکہ ایک بااخلاق اور ہمدرد انسان بھی ہیں، جن کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مریضوں کے ساتھ رویہ قابلِ ستائش ہے۔
PARAS Health Srinagar کے ایسوسی ایٹ وائس پریزیڈنٹ اور فیسلٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مرتضیٰ حبیب نے اس کامیابی کو ادارے کی اعلیٰ طبی خدمات، جدید ٹیکنالوجی اور مریض دوست پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ان کے مطابق اسپتال نے جدید آلات، ماہر سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں اور عالمی معیار کے کلینیکل پروٹوکولز پر مسلسل سرمایہ کاری کی ہے، جس کے باعث اب گجرات جیسی دور دراز ریاستوں سے بھی مریض علاج کے لئے سرینگر آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ بھی جموں و کشمیر میں عالمی معیار کی سپر اسپیشلٹی طبی سہولیات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔
یہ کامیاب علاج صرف ایک مریض کی صحت یابی کی کہانی نہیں بلکہ کشمیر کے طبی شعبے کی ترقی کی علامت بھی ہے۔ جہاں ماضی میں کشمیری مریض بہتر علاج کی تلاش میں باہر جاتے تھے، وہیں آج ملک کے مختلف حصوں سے مریض وادی کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر جدید انفراسٹرکچر، تجربہ کار ماہرین اور معیاری طبی سہولیات یکجا ہوں تو کشمیر نہ صرف سیاحت بلکہ ہیلتھ کیئر ڈیسٹینیشن کے طور پر بھی قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
سرینگر/ایک وقت تھا جب کشمیر کے مریض پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے دہلی، چندی گڑھ، ممبئی یا احمد آباد کا رخ کرتے تھے، مگر اب منظرنامہ بدل رہا ہے۔ وادی میں جدید طبی سہولیات، عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی نے نہ صرف مقامی بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے مریضوں کا بھی اعتماد حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس بدلتی ہوئی تصویر کی تازہ مثال PARAS Health Srinagar میں سامنے آئی، جہاں گجرات کے شہر احمد آباد سے تعلق رکھنے والے ایک مریض نے دل کی پیچیدہ بیماری کے علاج کے لئے سرینگر کا انتخاب کیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ کشمیر اب صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ جدید طبی خدمات کے حوالے سے بھی اپنی الگ شناخت قائم کر رہا ہے۔
مریض کو Complex Multivessel Coronary Artery Disease (CAD) لاحق تھی، جو دل کی ایک نہایت پیچیدہ بیماری تصور کی جاتی ہے۔ PARAS ہسپتال سرینگر میں ڈائریکٹر انٹروینشنل کارڈیالوجی ڈاکٹر محمد مقبول سہیل کی نگرانی میں جدید ترین تکنیک کے ذریعے پیچیدہ کورونری انٹروینشن انجام دیا گیا۔
آپریشن کامیاب رہا اور مریض کو محض 24 گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر مستحکم حالت میں اسپتال سے رخصت کر دیا گیا، جو جدید طبی مہارت اور موثر نگہداشت کا واضح ثبوت ہے۔
ڈاکٹر محمد مقبول سہیل کے مطابق پیچیدہ دل کے امراض کا علاج صرف جدید آلات سے نہیں بلکہ تجربے، باریک بینی اور ہر مریض کے لئے الگ حکمت عملی سے ممکن ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد مقبول سہیل کے مطابق پیچیدہ دل کے امراض کا علاج صرف جدید آلات سے نہیں بلکہ تجربے، باریک بینی اور ہر مریض کے لئے الگ حکمت عملی سے ممکن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اب ملک کی مختلف ریاستوں کے مریض بھی جدید کارڈیک علاج کے لئے کشمیر کا رخ کر رہے ہیں، جو یہاں کے ڈاکٹروں کی مہارت اور جدید طبی انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔
کامیاب علاج کے بعد مریض نے ڈاکٹر سہیل اور پوری طبی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ صرف بہترین طبی سہولت ملی بلکہ ڈاکٹروں کی شفقت، رہنمائی اور انسان دوستی نے ان کے علاج کے تجربے کو یادگار بنا دیا۔
مریض نے کہا کہ ڈاکٹر محمد مقبول سہیل صرف ایک بہترین کارڈیالوجسٹ ہی نہیں بلکہ ایک بااخلاق اور ہمدرد انسان بھی ہیں، جن کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مریضوں کے ساتھ رویہ قابلِ ستائش ہے۔
PARAS Health Srinagar کے ایسوسی ایٹ وائس پریزیڈنٹ اور فیسلٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مرتضیٰ حبیب نے اس کامیابی کو ادارے کی اعلیٰ طبی خدمات، جدید ٹیکنالوجی اور مریض دوست پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ان کے مطابق اسپتال نے جدید آلات، ماہر سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں اور عالمی معیار کے کلینیکل پروٹوکولز پر مسلسل سرمایہ کاری کی ہے، جس کے باعث اب گجرات جیسی دور دراز ریاستوں سے بھی مریض علاج کے لئے سرینگر آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ بھی جموں و کشمیر میں عالمی معیار کی سپر اسپیشلٹی طبی سہولیات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔
یہ کامیاب علاج صرف ایک مریض کی صحت یابی کی کہانی نہیں بلکہ کشمیر کے طبی شعبے کی ترقی کی علامت بھی ہے۔ جہاں ماضی میں کشمیری مریض بہتر علاج کی تلاش میں باہر جاتے تھے، وہیں آج ملک کے مختلف حصوں سے مریض وادی کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر جدید انفراسٹرکچر، تجربہ کار ماہرین اور معیاری طبی سہولیات یکجا ہوں تو کشمیر نہ صرف سیاحت بلکہ ہیلتھ کیئر ڈیسٹینیشن کے طور پر بھی قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔