
ابرا ہیم آتش
آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت ہی تشویشناک حالات سے گذر رہے ہیں۔مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے وہ بلڈوزر یو پی سے نکل کر اب دوسری ریاستوں میں ستم ڈھا رہا ہے مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیت دی جا رہی ہے اور ساتھ میں معاشی طور پر برباد کیا جا رہا ہے اور خاص کر ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں۔ملک کا مسلمان ہر طرح سے ٹوٹ چکا ہے نوجوان طبقہ ان سب باتوں سے غافل ہے جیسے اسے ان سب معاملوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ماں باپ کسی طرح سے ان کی خواہشوں کو پورا کر رہے ہیںاس لئے نہ اسے حالات کا علم ہے اور نہ حالات کے بارے میں جاننا چاہتا ہے دوستوں میں موج مستی اور موبائل کی زندگی اور نئے نئے لباس زیب تن کرنا اسی مشغلوں میں مصروف ہے جب اس طرح کے نوجوان جس قوم میں ہوں گے اس قوم کے مستقبل کے بارے میں ہم کیا امید کر سکتے ہیں۔سترہ سال کی عمر میں ملکوںکو فتح کرنے والے نوجوان بھی گذرے ہیں مگر ہمارے نوجوانوں کو سگریٹ کے مرغولے ااڑنے میں مزہ آتا ہے تین چار فیصد جو مسلمان سرکاری ملازمت سے جڑے ہیں اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں مذہبی طبقہ اپنے اپنے مسلکوں میں اس قدر کھویا ہوا ہے اسے ملک کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی خبر نہیں ہے ۔دین کے کسی ایک خاص چیز پر عمل کرنے کا نام دین نہیں ہے دین اسلام مسلمانوں کو اجتماعی عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے جن اعمال کو رسول ﷺاور صحابہ ؓ نے اہمیت دی اسی پر ہم سب کو عمل کرنا ہے آج مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کی اصل وجہہ یہی ہے کہ مسلمانوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ مسلمان آپس میں متحد نہہیں ہیں نہ دینی اعتبار سے نہ سیاسی اعتبار سے ہر جگہ اپنی اپنی دکان چلا رہے ہیںجس کے دل میں جو آیا وہ کر رہا ہے جس طرح ملک میں فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے اسی طرح مسلمانوں میں مسلکی شدت پسندی بھی بڑھ رہی ہے مسلمانوں کے مختلف مساجد اپنے اپنے عقیدے کے اعتبار سے چلائے جا رہے ہیں ملک کے مسلمانوں کی اجتماعی نمائندگی ہمیں کسی مسجد سے نظر نہیں آتی اب تو مسجدوں کے باہر بورڈ لگایا جاتا ہے یہ فلاں کی مسجد ہے اس طرح کا دین مسلمانوں میں کیوں بن رہا ہے مسجدوں پر بورڈ لگا کر دوسرے مسلمانوں کو مسجد میں آنے سے روک رہے ہیںمسجد صرف اللہ کا گھر ہے اور تمام مسلمانوں کو اس مسجد میں نماز ادا کرنے لئے سہولت مہیا کرنا مسجد کی کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ اپنے آپ کو کسی مسلک سے منسلک کرنے والے افراد ہی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو ختم کر رہے ہیں سعودی عرب میں ا س طرح کی مسجدیں ہمیں نظر نہیں آتے کیا سعودی عرب والوں کو دین کے بارے میں معلومات نہیں ہیں آخرت میں سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
آج مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں ایک وجہہ یہ ہے کہ فرقہ پرست پارٹیوں کا ہندوتوا کی جانب راغب ہونا اور آج ہمیں جو ہندوتوا نظر آ رہا اس کے پیچھے سو سال کی محنت ہے اس کے باوجود 2014 تک ملک کے حالات ایسے نہیں تھے مرکزی حکومت کا اقتدار میں آنا ہی مسلمانوں پر ظلم کی ابتدا ہے آ ج جب بھی ہم کسی بی جے پی لیڈر کی تقریر سنتے ہیں تو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اور اس کا بی جے پی کو سیاسی فائدہ ہو رہا ہے ہندو متحد ہو رہے ہیں مسلمانوں کی مسلم سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بھی مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیںان مسلم سیاسی پارٹی کے لیڈروں کو یہ جان لینا چاہئے کہ مسلمانوں کی آبادی اس قدر نہیں ہے کہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کامیابی حاصل کر سکے اس طرح ہندوئوں اور مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو کامیاب ہو رہے ہیںبعض علاقوں میں سبز اور بھگوا کا مقابلہ ہو رہا ہے مالیگائوں اور ممبرا میں اس طرح دیکھنے کو ملا مگر یہ ملک کے لئے اور خاص کر مسلمانوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔
ہمیں از سرے نو ہمارے تمام کار کردگیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور تمام ٹکرائو اور مقابلے کے راستے کو بدل کر تعمیری اور د ینی امور کی طرف متوجہ ہونا ہوگا دنیا کے سامنے جاپان کی بہت بہترین مثال ہے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور نا گا ساکی پر امریکہ نے بم برسا ئے اسکے بعد فورا جنگ ختم ہوگئی وہاں کا منظر آج بھی دل کو دہلا تا ہے جاپان کے اندر امریکہ کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکنی تھی مگر ایسا نہیں ہوا جاپان نے سوچا اب وہ جنگ نہیں کر سکتے اس لئے انھوں نے تعمیری کا م میں اپنے آپ کو لگایا اور اس میدان میں اس قدر محنت کی کہ آج دنیا جاپان کی ٹکنالوجی کے بغیر چل نہیں سکتی ۔آج امریکہ بھی جاپان کا محتاج ہے جاپانی چپ کے بغیر امریکہ کا ناسا کام نہیں کر سکتا بہرے حال مسلمانوں کو اپنی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا ہوگا تعلیمی پسماندگی مسلمانوں کی سب سے بڑی وجہہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان ہر محاذ پر نا کام نظر آتے ہیں چاہے وہ حکومت کے بڑے عہدے ہوں یا معاشرے میںاہم کردار ادا کرنے والے شعبے جیسے آئی اے یس ،پولیس آفیسر، بینک مینجر،سائسندان، ڈاکٹر ،انجینئیر انڈسٹریلستٹ یہ تمام پروفیشنل اس طرح کے ہیں جس سے آپ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں جس کے ذریعہ مسلمان تمام لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے اثر رسوخ کے ذریعہ عام لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں اچھے اسکول قائم کر سکتے ہیں اچھے ہاسپٹلس قائم کر سکتے ہیںجہاں سے فارخ ہونے والے طلباء اور مریضوںکو اچھا پیغام جائے گا جس سے مسلمانوں کے متعلق اچھی رائے رکھنے کی توقع کی جا سکتی ہے آج مسلمانوں کی پہچان پنکچر بنانے والے کی بن گئی ہے اس امیج کو بدلنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے مسلمانوں کی ا ایک ہزار سا ل کی تاریخ بھی بتاتی ہے اس دور میں مسلمان تعلیم کے شعبے میں تمام قوموں سے بہت آگے تھے لوگوں کو رہنے کا سلیقہ سکھایا کھانے پینے کا طریقہ سکھایا فن تعمیر کے بے شمار عمارتیں دنیا والوں کو پیش کیں انصاف کی مثالیں قائم کیںیہ سب ایمان اور تعلیم کی وجہ سے ممکن ہوا تعلیی پسماندگی تمام برائیوں اورنا کامی کی اصل وجہ ہے اگر مسلمان تعلیم حاصل کریں گے تو مسلمانوں میں بے روزگاری ختم ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ نشہ آور عادتوں میں ملوث ہے اور تعلیم نہ حاصل کرنے کی وجہ سے دین کو سمجھنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے مذہبی علماء انھیں اپنے اپنے طریقے سے گمراہ کر رہے ہیںجب مسلمان قرآن اور حدیث کو خود پڑھے گا اسے سمجھ میں آئے گا اصل دین کیا ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہے اسے زندگی کس طرح گذارنی ہے تعلیم کے ذریعہ ایک نوجوان نہیں بدلے گاتعلیم کے ذریعہ ایک نسل بدلے گی مسلمانوں کو علم کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا ہمارے تعلیمی ادارے تجارت کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ معاشرے کو اچھے تعلیم یافتہ مسلمان دیں جس میں تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں غریبی کی وجہ سے کوئی مسلمان تعلیم ترک نہ کرے معاشرے کے ذمہ دار افراد کو اس کی فکر کرنی ہوگی۔
مسلمانوں کے مذہبی رہنمائوں کو موجودہ دور میںبہت اہم کردار ادا کرنا ہے وہ مسلک کے بجائے اجتماعی مسلمانوں کے متعلق پروگرام بنائیںموجودہ حالات میں مسلمان جس طرح کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں ان حالات سے مسلمانوں کو نکالنا ہوگا اس کے لئے مسلمانوں کو متحدہطور پر کوشش کرنی ہوگی داخلی انتشار کو ختم کریںاگر مسلمان مسلمانوں کے لئے اجتماعی کوشش نہیں کرتے ہیں توممکن ہے ملک میں کوئی مسلک بھی نہیں بچے گا موجودہ حالات میں کمزور ایمان والے مذہب اسلام چھوڑ رہے ہیں اور ان مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے وہیں پر اگر کوئی دوسرا اسلام کرے تو اس پر نئے نئے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں مسلمان سے ہندو بننے والے کو ایکس مسلم کے نام سے پکارا جا رہا ہے اور ان کے تحفظ کے لئے ہندو تنظیمیںمتحرک ہیں ہمیں اپنے اندر مسلکی اونچ نیچ کو مکمل طور سے ختم کرنا ہوگا جو جس مسلک پر عمل کر رہا ہے کرنے دو اصل مسئلہ ہے مسلمانوں کے تحفظ کا نہ کہ کسی مسلک کا اس لئے مسلمانوں کو اجتماعی طورسے مسلمانوں کی فکر کرنی ہوگی۔


