بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا۔ اسی کے ساتھ انسان پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا بہترین انتظام کرے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔” اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ والدین پر صرف بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنا ہی فرض نہیں بلکہ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت بھی ان کی اولین ذمہ داری ہے۔

عصرِ حاضر سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک طرف ان ترقیوں نے انسان کی زندگی کو آسان بنایا ہے تو دوسری طرف ان کے منفی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ آج کے بچے موبائل فون، ویڈیو گیمز، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ انہیں قرآنِ مجید کی تلاوت، احادیثِ نبوی ﷺ کے مطالعے اور اسلامی تعلیمات سے آشنائی کا وقت ہی نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل رفتہ رفتہ اپنی دینی شناخت، اسلامی اقدار اور اخلاقی روایات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال ہر مسلمان والدین کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
اسلام میں تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین بچے کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول دینی، اخلاقی اور محبت و احترام پر مبنی ہو تو بچے کی شخصیت مثبت انداز میں پروان چڑھتی ہے۔ اس کے برعکس اگر گھر میں نماز، قرآن، ذکرِ الٰہی اور اسلامی تعلیمات کو اہمیت نہ دی جائے تو بچے بھی انہی چیزوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ والدین خود بھی دین پر عمل کریں تاکہ ان کی عملی زندگی بچوں کے لئے بہترین نمونہ بن سکے۔
نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں والدین اپنی اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں چاہیے کہ بچپن ہی سے بچوں کو نماز کی پابندی، قرآنِ مجید کی تلاوت، سچ بولنے، امانت داری، دیانت داری، بڑوں کے احترام، چھوٹوں سے شفقت اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیں۔

بدقسمتی سے آج بہت سے والدین بچوں کی مادی ضروریات پوری کرنے کو ہی کامیاب تربیت سمجھتے ہیں۔ مہنگے موبائل فون، جدید لباس، اچھی رہائش اور اعلیٰ تعلیم پر تو توجہ دی جاتی ہے، مگر ان کی دینی تعلیم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً بچے اعلیٰ ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور کردار کی مضبوطی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی، جھوٹ، دھوکہ دہی، والدین کی نافرمانی، نشہ، جرائم اور بے حیائی اسی غفلت کا نتیجہ ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں والدین کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بچوں کو موبائل یا انٹرنیٹ دینا آسان ہے لیکن اس کے صحیح استعمال کی نگرانی کرنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اگر بچوں کو بغیر نگرانی کے سوشل میڈیا کے حوالے کر دیا جائے تو وہ ایسے مواد تک پہنچ سکتے ہیں جو ان کی دینی، اخلاقی اور ذہنی تربیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لئے اسکرین ٹائم مقرر کریں، ان کے آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت و تعمیری مواد دیکھنے کی ترغیب دیں۔

اسلامی تربیت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کا نام ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اسلام محبت، امن، عدل، مساوات، رواداری، خدمتِ خلق اور انسانیت کا مذہب ہے۔ اگر بچے ان اصولوں پر عمل کریں گے تو وہ نہ صرف اچھے مسلمان بلکہ ایک ذمہ دار شہری بھی بنیں گے۔
تعلیمی اداروں کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ اساتذہ صرف نصابی تعلیم نہ دیں بلکہ بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ سکولوں میں نماز، اخلاقی اسباق، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، ملی نغمے، تقریری مقابلے اور دینی سرگرمیوں کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ بچوں میں دینی شعور پیدا ہو۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط رابطہ بھی تربیت کے عمل کو مؤثر بناتا ہے۔
معاشرے کے دیگر ادارے، خصوصاً مساجد، علماء کرام، میڈیا اور سماجی تنظیمیں بھی اسلامی تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر میڈیا مثبت اور اخلاقی پروگرام نشر کرے، علماء نوجوانوں کی زبان میں دین کی تعلیم دیں اور مساجد بچوں کے لئے تربیتی حلقے قائم کریں تو یقیناً اس کے خوشگوار نتائج سامنے آئیں گے۔
قرآنِ کریم کی تعلیم کو ہر گھر کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ روزانہ چند آیات کی تلاوت، ان کا ترجمہ اور مختصر تشریح بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسی طرح سیرتِ نبوی ﷺ کے واقعات، صحابہ کرامؓ کی قربانیاں اور اسلامی تاریخ کے روشن ابواب بچوں میں ایمان، شجاعت، دیانت اور ایثار جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔

آج کے دور میں بچوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام، بلکہ انہیں اس کی حکمت بھی سمجھانی ہوگی۔ اگر بچوں کے سوالات کا محبت اور دلیل کے ساتھ جواب دیا جائے تو وہ دین کو خوش دلی سے قبول کریں گے۔ سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور غیر مناسب رویہ اکثر بچوں کو دین سے دور کر دیتا ہے، جبکہ محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق انہیں دین کے قریب لاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کی بہترین تربیت کے لئے والدین کو خود بھی مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے۔ اگر والدین دینی علم حاصل کریں گے، اسلامی کتابوں کا مطالعہ کریں گے اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو ان کی اولاد بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلے گی۔

آج امتِ مسلمہ کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کی بنیاد بھی بہترین اسلامی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو قرآن و سنت سے جوڑ دیں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی محبت پیدا کر دیں اور انہیں اچھے اخلاق کا پیکر بنا دیں تو آنے والی نسلیں ایک مضبوط، باکردار اور باوقار اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتی ہیں۔
بچوں کی اسلامی تربیت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ قوموں کی بقا، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو مشترکہ طور پر اس اہم ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔ اگر آج ہم نے اپنی نئی نسل کی دینی اور اخلاقی تربیت پر بھرپور توجہ دی تو کل ہمارا معاشرہ امن، محبت، انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کا گہوارہ بن جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا۔ اسی کے ساتھ انسان پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا بہترین انتظام کرے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔” اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ والدین پر صرف بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنا ہی فرض نہیں بلکہ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت بھی ان کی اولین ذمہ داری ہے۔

عصرِ حاضر سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک طرف ان ترقیوں نے انسان کی زندگی کو آسان بنایا ہے تو دوسری طرف ان کے منفی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ آج کے بچے موبائل فون، ویڈیو گیمز، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ انہیں قرآنِ مجید کی تلاوت، احادیثِ نبوی ﷺ کے مطالعے اور اسلامی تعلیمات سے آشنائی کا وقت ہی نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل رفتہ رفتہ اپنی دینی شناخت، اسلامی اقدار اور اخلاقی روایات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال ہر مسلمان والدین کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
اسلام میں تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین بچے کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول دینی، اخلاقی اور محبت و احترام پر مبنی ہو تو بچے کی شخصیت مثبت انداز میں پروان چڑھتی ہے۔ اس کے برعکس اگر گھر میں نماز، قرآن، ذکرِ الٰہی اور اسلامی تعلیمات کو اہمیت نہ دی جائے تو بچے بھی انہی چیزوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ والدین خود بھی دین پر عمل کریں تاکہ ان کی عملی زندگی بچوں کے لئے بہترین نمونہ بن سکے۔
نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں والدین اپنی اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں چاہیے کہ بچپن ہی سے بچوں کو نماز کی پابندی، قرآنِ مجید کی تلاوت، سچ بولنے، امانت داری، دیانت داری، بڑوں کے احترام، چھوٹوں سے شفقت اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیں۔

بدقسمتی سے آج بہت سے والدین بچوں کی مادی ضروریات پوری کرنے کو ہی کامیاب تربیت سمجھتے ہیں۔ مہنگے موبائل فون، جدید لباس، اچھی رہائش اور اعلیٰ تعلیم پر تو توجہ دی جاتی ہے، مگر ان کی دینی تعلیم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً بچے اعلیٰ ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور کردار کی مضبوطی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی، جھوٹ، دھوکہ دہی، والدین کی نافرمانی، نشہ، جرائم اور بے حیائی اسی غفلت کا نتیجہ ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں والدین کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بچوں کو موبائل یا انٹرنیٹ دینا آسان ہے لیکن اس کے صحیح استعمال کی نگرانی کرنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اگر بچوں کو بغیر نگرانی کے سوشل میڈیا کے حوالے کر دیا جائے تو وہ ایسے مواد تک پہنچ سکتے ہیں جو ان کی دینی، اخلاقی اور ذہنی تربیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لئے اسکرین ٹائم مقرر کریں، ان کے آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت و تعمیری مواد دیکھنے کی ترغیب دیں۔

اسلامی تربیت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کا نام ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اسلام محبت، امن، عدل، مساوات، رواداری، خدمتِ خلق اور انسانیت کا مذہب ہے۔ اگر بچے ان اصولوں پر عمل کریں گے تو وہ نہ صرف اچھے مسلمان بلکہ ایک ذمہ دار شہری بھی بنیں گے۔
تعلیمی اداروں کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ اساتذہ صرف نصابی تعلیم نہ دیں بلکہ بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ سکولوں میں نماز، اخلاقی اسباق، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، ملی نغمے، تقریری مقابلے اور دینی سرگرمیوں کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ بچوں میں دینی شعور پیدا ہو۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط رابطہ بھی تربیت کے عمل کو مؤثر بناتا ہے۔
معاشرے کے دیگر ادارے، خصوصاً مساجد، علماء کرام، میڈیا اور سماجی تنظیمیں بھی اسلامی تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر میڈیا مثبت اور اخلاقی پروگرام نشر کرے، علماء نوجوانوں کی زبان میں دین کی تعلیم دیں اور مساجد بچوں کے لئے تربیتی حلقے قائم کریں تو یقیناً اس کے خوشگوار نتائج سامنے آئیں گے۔
قرآنِ کریم کی تعلیم کو ہر گھر کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ روزانہ چند آیات کی تلاوت، ان کا ترجمہ اور مختصر تشریح بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسی طرح سیرتِ نبوی ﷺ کے واقعات، صحابہ کرامؓ کی قربانیاں اور اسلامی تاریخ کے روشن ابواب بچوں میں ایمان، شجاعت، دیانت اور ایثار جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔

آج کے دور میں بچوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام، بلکہ انہیں اس کی حکمت بھی سمجھانی ہوگی۔ اگر بچوں کے سوالات کا محبت اور دلیل کے ساتھ جواب دیا جائے تو وہ دین کو خوش دلی سے قبول کریں گے۔ سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور غیر مناسب رویہ اکثر بچوں کو دین سے دور کر دیتا ہے، جبکہ محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق انہیں دین کے قریب لاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کی بہترین تربیت کے لئے والدین کو خود بھی مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے۔ اگر والدین دینی علم حاصل کریں گے، اسلامی کتابوں کا مطالعہ کریں گے اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو ان کی اولاد بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلے گی۔

آج امتِ مسلمہ کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کی بنیاد بھی بہترین اسلامی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو قرآن و سنت سے جوڑ دیں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی محبت پیدا کر دیں اور انہیں اچھے اخلاق کا پیکر بنا دیں تو آنے والی نسلیں ایک مضبوط، باکردار اور باوقار اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتی ہیں۔
بچوں کی اسلامی تربیت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ قوموں کی بقا، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو مشترکہ طور پر اس اہم ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔ اگر آج ہم نے اپنی نئی نسل کی دینی اور اخلاقی تربیت پر بھرپور توجہ دی تو کل ہمارا معاشرہ امن، محبت، انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کا گہوارہ بن جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں