کیف، 01 اگست:
مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے شدید حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
کیف کے میئر وٹالی کلِٹشکو (Vitalii Klitschko) نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ سولومیانسکی (Solomianskyi) ڈسٹرکٹ میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت ملبہ گرنے کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے صحن میں آگ لگ گئی اور خدشہ ہے کہ لوگ اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
کلِٹشکو کے مطابق، شیوچینکیوسکی (Shevchenkivskyi) ڈسٹرکٹ کی ایک اور رہائشی عمارت کی پہلی اور دوسری منزل جزوی طور پر تباہ ہونے کے بعد وہاں بھی لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دارالحکومت کے دارنتسکی (Darnytskyi) ڈسٹرکٹ میں گودام کی عمارتوں میں بھی آگ لگ گئی۔
یہ حملہ یوکرین بھر میں روس کے ایک بڑے پیمانے پر بالسٹک میزائل اور ڈرون حملے کے ٹھیک دو دن بعد ہوا ہے، جس میں 10 عام شہری ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایک روسی میزائل پولینڈ کی فضائی حد میں بھی داخل ہو گیا تھا۔
یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی، روس کے ان میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ اور دیگر مغربی اتحادیوں سے مزید پیٹریاٹ (Patriot) اینٹی بالسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز کی فراہمی کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔


