جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے محکمہ قبائلی امور نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ جنگلاتی حقوق ایکٹ 2006 کے تحت موصول ہونے والے دعووں کی وصولی، جانچ اور یکسوئی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ اہل قبائلی برادریوں اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کے حقوق کا بروقت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سرکاری سرکلر کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ تین سطحی قانونی نظام کے تحت دعووں کی جانچ مکمل کرکے متعلقہ تصدیقی اسناد بھی جمع کرائی جائیں۔ محکمہ نے واضح کیا کہ ایکٹ کی دفعہ 4(5) کے تحت دعووں کی مکمل جانچ اور منظوری سے قبل کسی بھی اہل جنگلاتی باشندے کو زیرِ قبضہ اراضی سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ نے مزید کہا کہ گرام سبھا دعووں کی وصولی، جانچ اور سفارشات مرتب کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ ذمہ داری وارڈ کمیٹی یا بالغ شہریوں کی مقامی مجلس انجام دے گی۔ وزیر قبائلی امور جاوید احمد رانا نے کہا کہ قبائلی برادریوں کے بنیادی حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور ہر کارروائی قانون اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہی عمل میں لائی جائے گی۔


