مشـــــــاعرہ اور ســـــــامعین

قیصر محمود عراقی
ایک زمانہ تھا جب مشاعرہ ہماری تہذیبی روایات کا امین ہوا کرتا تھا، کوئی قائدہ، کوئی ضابطہ ہوتا تھا، ایک باقاعدہ ڈریس کوڈ ہوتا تھا: سر پر ٹوپی، کرتا، اس پر شیروانی، پائجامہ، سلیم شاہی آداب کا خیال رکھا جاتا تھا۔ ہوٹنگ بھی نفاست اور لطافت سے ہوتی تھی۔ لیکن اب مشاعرہ ادب کی حد پار کر کے بے ادبی میں داخل ہو گیا ہے۔ گھٹیا لطیفے، سوقیانہ جملے، کھوکھلی سیاست، لایعنی تقریریں اور وہ سب کچھ جو نہیں ہونا چاہیے۔رہی شاعری، تو بے چاری تولہ ماشہ کہیں بیچ میں آن پڑتی ہے۔ تب مہمانِ خصوصی اور صدرِ مشاعرہ ادبی شخصیات ہوتی تھیں، اب سیاسی لوگ ہوتے ہیں۔
دراصل ہم نے دو دہائی سے زیادہ مشاعراتی تجربے اور تحقیق کے دوران سامعین کے کچھ اقسام دریافت کی ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ و چنیدہ اقسام کو آپ سے متعارف کرانا مقصود ہے۔ بلا تمہید اجمالاً عرض ہے:
۱. باذوق سامعین:۔اس قسم کے سامعین شعر کو سمجھ کر داد دیتے ہیں۔ ان کی تعداد شاذ ہی ہوتی ہے، وجہ اس کی اچھے شعر کی کمیابی ہے۔
۲. بے ذوق سامعین:۔جب سب داد دے رہے ہوں تو یہ قسم اسی موقع پر داد دیتی ہے یہ سمجھ کر کہ ضرور کوئی اچھی بات ہے۔ داد دینے سے پہلے اگر کوئی احتیاطاً ادھر ادھر دیکھتا ہے تو جان لیں، یہ اسی قبیل کے ہیں۔
۳. سیاسی سامعین:۔وہ ہوتے ہیں جو نعرے کے انداز میں داد دیتے ہیں۔ ایسے سامعین ہر اس شعر پر نعرہ لگاتے ہیں جس سے انہیں سیاسی بو آتی ہے، اور اگر شعر ان کی پارٹی کے حق میں ہو تو چھت اڑنے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔
۴. ہوشیار سامعین:۔یہ وہ سامعین ہوتے ہیں جو کسی سے سن لیتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بڑا شاعر ہے اور معروف بھی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے شاعر کے اشعار پر داد نہ دی تو لوگ سخن ناشناس سمجھیں گے۔
۵. کاروباری سامعین:۔یہ سامعین ایسے شاعروں کو بے انتہا داد دیتے ہیں جن سے وہ بے انتہا پیسے لے چکے ہوتے ہیں، مشاعرے کے انتظامات یا ادبی تنظیم کے چندے کے نام پر۔
۶. مشکل پسند سامعین:۔یہ ہر اس شعر پر داد دیتے ہیں جو کسی کی بھی سمجھ میں نہ آتا ہو۔ بس اس میں مشکل مشکل الفاظ وزن و بحر میں ہونے چاہئیں، مثلاً:یارِ دیگر بے بہا، بینِ ہما یارا ہوا تھا سرخ دریا بے سمندر، اشک باراں ہوا تھا
اس نوع کے سامعین اس کو جدید شاعر کی میراث سے تعبیر کرتے ہیں۔
۷. رنگین مزاج سامعین:۔ایسے سامعین صرف اور صرف شاعرات کو داد دیتے ہیں۔ اس سے غرض نہیں کہ شعر زیادہ برا ہے یا شاعرہ۔
۸. شاعر سامعین:۔یہ قسم چونکہ خود شاعر ہوتی ہے، لہٰذا دوستوں اور شاگردوں کو ہی داد دیتی ہے۔ یہ لوگ اسٹیج پر سب سے اگلی صف میں ہوتے ہیں اور *”من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو”* کے قابل ہوتے ہیں۔
۹. استاد سامعین:۔یہ کہنہ مشق (اپنی دانست میں) اور عمر رسیدہ (ہماری دانست )میں ہوتے ہیں۔ میر و غالب بھی غزل سرا ہوں تو منڈی ہلا دیتے ہیں، بہت ہوا تو ایک ہلکی سی "ہوں” پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ عموماً فی مشاعرہ ایک دو ہی ہوتے ہیں کیونکہ ایسوں کی زیادہ تعداد برداشت سے باہر ہو سکتی ہے۔ یہ بھی اسٹیج پر آگے براجمان ہوتے ہیں۔
۰۱. متَرَنّم سامعین:۔یہ قسم ہر غزل اور گیت ترنم سے سننا چاہتی ہے۔ یہ فیض و اقبال سے بھی ترنم کی فرمائش کر ڈالتی ہے۔ اسے سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر کے ڈرامے بھی ترنم سے سنا دیں تو یہ انہیں بھی شاعری سمجھ کر سنے گی اور ٹوکرے بھر بھر کے داد دے گی۔
۱۱. مغنی سامعین:۔ان کا شاعری سے تعارف فلمی غزلوں یا نغموں کے ذریعے سے ہوا ہوتا ہے۔ یہ بس فلموں کے لئے گانے لکھنے والوں کو ہی شاعر مانتے ہیں۔ ان کو ندا فاضلی کا یہ شعر بہت پسند ہوتا ہے: میر و غالب کے شعروں نے کسی کا ساتھ نبھایاہے؟ سستے گیتوں کو لکھ لکھ کر ہم نے گھر بنوایا ہے!
۱۲۔مجبور سامعین:۔یہ سامعین عموماً شاعر اور شاعرات کے زوجین اور بچے ہوتے ہیں۔ شاعر کی بیوی اور شاعرہ کا شوہر اکثر اس لئے ساتھ ہوتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوں تو نہ تصویریں کھنچیں اور نہ ویڈیو بنے، اور اگر تصویریں اور ویڈیو نہ ہوں گے تو فیس بک پہ کیا لگے گا؟ اور اگر فیس بک پر کچھ نہ لگا تو خاندان والے لائک کیا کریں گے؟ اگر لائک نہیں کریں گے تو ان کی ’’مشہور ی ‘‘کیسے ہوگی؟ اور مشہوری نہ ہوئی تو…
۱۳۔چھچھورے سامعین:۔یہ سامعین کا ایک فریش برانڈ ہے۔ ہاٹ ڈاگ کی طرح گرما گرم! یہ صرف خصوصی الفاظ پر داد دیتے ہیں، مثلاً: ساس، جورو، گھر داماد، گنجا، موٹا، کالی پڑوسن، لنگڑا، لولا، چھٹن، چھکن یا ان سے ملتا جلتا کوئی بازاری لفظ یا انسانی اعضا کا ذکر یا کسی پوچ استعارے کے استعمال پر۔ بقول کسی شاعر کے پسندیدہ اشعار کا ایک شائستہ ترین نمونہ کچھ یوں ہے: وہ سہاگ رات جہیز میں سگ پالتو بھی لے آئی تھی     جو سحر ہوئی تو پتہ چلا، یہاں تیسرا کوئی اور ہے!
اس قسم کے سامعین زیادہ تر ہمارے ٹی وی مزاحیہ مشاعروں یا پڑوسی ملک کے عوامی مزاحیہ مشاعروں میں پائے جاتے ہیں۔ میں نے اس قسم کے مشاعرے میں سیٹی بجاتے بھی سنا ہے۔
۱۴۔نثری سامعین:۔یہ لوگ ادبی گھرانوں سے ہوتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ سیدھا سادا مافی الضمیر مشکل سے مشکل الفاظ میں ادا کیا جائے۔ انہیں سن کر بے اختیار انور مقصود کے ڈرامے ’آنگن ٹیڑھا‘ میں درددانہ بٹ کا وہ بے ساختہ مکالمہ یاد آ جاتا ہے: "محبوب صاحب! زبان پر عبور دیکھیے۔”یہ جب نثری نظم پر داد دیتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ ان کو داد دی جائے۔ ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ داد جملے کے اختتام پر دیں، مصرعے کے اختتام پر یا پھر شاعری کے اختتام پر۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

کشمیر میں بجلی کے نقصانات ملک میں سب سے زیادہ

جنگ نیوز ڈیسک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی...

تازہ ترین خبریں

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

کشمیر میں بجلی کے نقصانات ملک میں سب سے زیادہ

جنگ نیوز ڈیسک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی...

مشـــــــاعرہ اور ســـــــامعین

قیصر محمود عراقی
ایک زمانہ تھا جب مشاعرہ ہماری تہذیبی روایات کا امین ہوا کرتا تھا، کوئی قائدہ، کوئی ضابطہ ہوتا تھا، ایک باقاعدہ ڈریس کوڈ ہوتا تھا: سر پر ٹوپی، کرتا، اس پر شیروانی، پائجامہ، سلیم شاہی آداب کا خیال رکھا جاتا تھا۔ ہوٹنگ بھی نفاست اور لطافت سے ہوتی تھی۔ لیکن اب مشاعرہ ادب کی حد پار کر کے بے ادبی میں داخل ہو گیا ہے۔ گھٹیا لطیفے، سوقیانہ جملے، کھوکھلی سیاست، لایعنی تقریریں اور وہ سب کچھ جو نہیں ہونا چاہیے۔رہی شاعری، تو بے چاری تولہ ماشہ کہیں بیچ میں آن پڑتی ہے۔ تب مہمانِ خصوصی اور صدرِ مشاعرہ ادبی شخصیات ہوتی تھیں، اب سیاسی لوگ ہوتے ہیں۔
دراصل ہم نے دو دہائی سے زیادہ مشاعراتی تجربے اور تحقیق کے دوران سامعین کے کچھ اقسام دریافت کی ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ و چنیدہ اقسام کو آپ سے متعارف کرانا مقصود ہے۔ بلا تمہید اجمالاً عرض ہے:
۱. باذوق سامعین:۔اس قسم کے سامعین شعر کو سمجھ کر داد دیتے ہیں۔ ان کی تعداد شاذ ہی ہوتی ہے، وجہ اس کی اچھے شعر کی کمیابی ہے۔
۲. بے ذوق سامعین:۔جب سب داد دے رہے ہوں تو یہ قسم اسی موقع پر داد دیتی ہے یہ سمجھ کر کہ ضرور کوئی اچھی بات ہے۔ داد دینے سے پہلے اگر کوئی احتیاطاً ادھر ادھر دیکھتا ہے تو جان لیں، یہ اسی قبیل کے ہیں۔
۳. سیاسی سامعین:۔وہ ہوتے ہیں جو نعرے کے انداز میں داد دیتے ہیں۔ ایسے سامعین ہر اس شعر پر نعرہ لگاتے ہیں جس سے انہیں سیاسی بو آتی ہے، اور اگر شعر ان کی پارٹی کے حق میں ہو تو چھت اڑنے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔
۴. ہوشیار سامعین:۔یہ وہ سامعین ہوتے ہیں جو کسی سے سن لیتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بڑا شاعر ہے اور معروف بھی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے شاعر کے اشعار پر داد نہ دی تو لوگ سخن ناشناس سمجھیں گے۔
۵. کاروباری سامعین:۔یہ سامعین ایسے شاعروں کو بے انتہا داد دیتے ہیں جن سے وہ بے انتہا پیسے لے چکے ہوتے ہیں، مشاعرے کے انتظامات یا ادبی تنظیم کے چندے کے نام پر۔
۶. مشکل پسند سامعین:۔یہ ہر اس شعر پر داد دیتے ہیں جو کسی کی بھی سمجھ میں نہ آتا ہو۔ بس اس میں مشکل مشکل الفاظ وزن و بحر میں ہونے چاہئیں، مثلاً:یارِ دیگر بے بہا، بینِ ہما یارا ہوا تھا سرخ دریا بے سمندر، اشک باراں ہوا تھا
اس نوع کے سامعین اس کو جدید شاعر کی میراث سے تعبیر کرتے ہیں۔
۷. رنگین مزاج سامعین:۔ایسے سامعین صرف اور صرف شاعرات کو داد دیتے ہیں۔ اس سے غرض نہیں کہ شعر زیادہ برا ہے یا شاعرہ۔
۸. شاعر سامعین:۔یہ قسم چونکہ خود شاعر ہوتی ہے، لہٰذا دوستوں اور شاگردوں کو ہی داد دیتی ہے۔ یہ لوگ اسٹیج پر سب سے اگلی صف میں ہوتے ہیں اور *”من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو”* کے قابل ہوتے ہیں۔
۹. استاد سامعین:۔یہ کہنہ مشق (اپنی دانست میں) اور عمر رسیدہ (ہماری دانست )میں ہوتے ہیں۔ میر و غالب بھی غزل سرا ہوں تو منڈی ہلا دیتے ہیں، بہت ہوا تو ایک ہلکی سی "ہوں” پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ عموماً فی مشاعرہ ایک دو ہی ہوتے ہیں کیونکہ ایسوں کی زیادہ تعداد برداشت سے باہر ہو سکتی ہے۔ یہ بھی اسٹیج پر آگے براجمان ہوتے ہیں۔
۰۱. متَرَنّم سامعین:۔یہ قسم ہر غزل اور گیت ترنم سے سننا چاہتی ہے۔ یہ فیض و اقبال سے بھی ترنم کی فرمائش کر ڈالتی ہے۔ اسے سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر کے ڈرامے بھی ترنم سے سنا دیں تو یہ انہیں بھی شاعری سمجھ کر سنے گی اور ٹوکرے بھر بھر کے داد دے گی۔
۱۱. مغنی سامعین:۔ان کا شاعری سے تعارف فلمی غزلوں یا نغموں کے ذریعے سے ہوا ہوتا ہے۔ یہ بس فلموں کے لئے گانے لکھنے والوں کو ہی شاعر مانتے ہیں۔ ان کو ندا فاضلی کا یہ شعر بہت پسند ہوتا ہے: میر و غالب کے شعروں نے کسی کا ساتھ نبھایاہے؟ سستے گیتوں کو لکھ لکھ کر ہم نے گھر بنوایا ہے!
۱۲۔مجبور سامعین:۔یہ سامعین عموماً شاعر اور شاعرات کے زوجین اور بچے ہوتے ہیں۔ شاعر کی بیوی اور شاعرہ کا شوہر اکثر اس لئے ساتھ ہوتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوں تو نہ تصویریں کھنچیں اور نہ ویڈیو بنے، اور اگر تصویریں اور ویڈیو نہ ہوں گے تو فیس بک پہ کیا لگے گا؟ اور اگر فیس بک پر کچھ نہ لگا تو خاندان والے لائک کیا کریں گے؟ اگر لائک نہیں کریں گے تو ان کی ’’مشہور ی ‘‘کیسے ہوگی؟ اور مشہوری نہ ہوئی تو…
۱۳۔چھچھورے سامعین:۔یہ سامعین کا ایک فریش برانڈ ہے۔ ہاٹ ڈاگ کی طرح گرما گرم! یہ صرف خصوصی الفاظ پر داد دیتے ہیں، مثلاً: ساس، جورو، گھر داماد، گنجا، موٹا، کالی پڑوسن، لنگڑا، لولا، چھٹن، چھکن یا ان سے ملتا جلتا کوئی بازاری لفظ یا انسانی اعضا کا ذکر یا کسی پوچ استعارے کے استعمال پر۔ بقول کسی شاعر کے پسندیدہ اشعار کا ایک شائستہ ترین نمونہ کچھ یوں ہے: وہ سہاگ رات جہیز میں سگ پالتو بھی لے آئی تھی     جو سحر ہوئی تو پتہ چلا، یہاں تیسرا کوئی اور ہے!
اس قسم کے سامعین زیادہ تر ہمارے ٹی وی مزاحیہ مشاعروں یا پڑوسی ملک کے عوامی مزاحیہ مشاعروں میں پائے جاتے ہیں۔ میں نے اس قسم کے مشاعرے میں سیٹی بجاتے بھی سنا ہے۔
۱۴۔نثری سامعین:۔یہ لوگ ادبی گھرانوں سے ہوتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ سیدھا سادا مافی الضمیر مشکل سے مشکل الفاظ میں ادا کیا جائے۔ انہیں سن کر بے اختیار انور مقصود کے ڈرامے ’آنگن ٹیڑھا‘ میں درددانہ بٹ کا وہ بے ساختہ مکالمہ یاد آ جاتا ہے: "محبوب صاحب! زبان پر عبور دیکھیے۔”یہ جب نثری نظم پر داد دیتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ ان کو داد دی جائے۔ ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ داد جملے کے اختتام پر دیں، مصرعے کے اختتام پر یا پھر شاعری کے اختتام پر۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں