مصنوعی ذہانت کا جادو ریاضی میں مضمر

 

ڈاکٹر ریاض احمد

مصنوعی ذہانت ہمارے عہد کی سب سے اہم اور فیصلہ کن ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ یہ مضامین لکھتی ہے، زبانوں کا ترجمہ کرتی ہے، طبی تصاویر میں بیماریوں کے آثار تلاش کرتی ہے، قرضوں کی منظوری میں مدد دیتی ہے، ملازمت کے امیدواروں کی جانچ کرتی ہے، صارفین کے رویّوں کی پیش گوئی کرتی ہے اور موسیقی و مصوری تک تخلیق کر رہی ہے۔ لیکن دنیا بھر میں کروڑوں لوگ روزانہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کے باوجود یہ نہیں جانتے کہ اس کے پس پردہ دراصل کیا کام کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت بظاہر جادو معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کی اصل بنیاد ریاضی ہے۔
ہر چیٹ بوٹ، سفارشی نظام، چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اور بڑے لسانی ماڈل کے پیچھے خطی الجبرا، حسابان، احتمال، شماریات، اصلاحی طریقوں اور ہندسۂ مکان کی ایک پیچیدہ دنیا موجود ہے۔ ان بنیادوں کو سمجھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اتنی طاقتور کیوں ہے، یہ کبھی کبھار من گھڑت معلومات کیوں پیش کرتی ہے، اور کس طرح بظاہر غیر جانب دار نظر آنے کے باوجود معاشرتی ناانصافی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
اعصابی نیٹ ورک کا نام نہاد “بلیک باکس” مکمل طور پر پراسرار نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک نہایت پیچیدہ ریاضیاتی مشین ہے۔
چیٹ جی پی ٹی “سیکھتا” کیسے ہے؟
چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے لسانی ماڈل کسی انسانی بچے کی طرح نہیں سیکھتے۔ ان کے پاس نہ شعور ہوتا ہے، نہ ذاتی تجربہ اور نہ انسانی مفہوم میں فہم و ادراک۔ اس کے بجائے انہیں بہت بڑے متنی ذخیرے میں موجود شماریاتی نمونوں کو پہچاننے اور یہ اندازہ لگانے کی تربیت دی جاتی ہے کہ کسی لفظ یا علامتی اکائی کے بعد کون سا لفظ آنے کا زیادہ امکان ہے۔
اس پورے عمل میں پہلا اہم ریاضیاتی ستون خطی الجبرا ہے۔
کمپیوٹر “انصاف”، “ڈاکٹر”، “غربت” یا “جمہوریت” جیسے الفاظ کو براہِ راست نہیں سمجھ سکتا۔ ان الفاظ کو پہلے عددی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے ویکٹر کہا جاتا ہے۔ ویکٹر اعداد کی ایک ترتیب وار فہرست ہوتا ہے۔ جدید مصنوعی ذہانت میں ہر لفظ یا علامتی اکائی کو سینکڑوں یا ہزاروں عددی مختصات کے ذریعے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
جب زبان کو ویکٹر میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تو ماڈل میٹرکس پر بہت بڑے پیمانے پر عملیات انجام دیتا ہے۔ میٹرکس اعداد کی مستطیل ترتیب ہوتی ہے، اور میٹرکس ضرب کی مدد سے ماڈل معلومات کو ایک اعصابی تہہ سے دوسری تہہ تک تبدیل، موازنہ، یکجا اور منتقل کرتا ہے۔
ایک جدید اعصابی نیٹ ورک میں اربوں قابلِ تبدیلی عددی پیرامیٹرز ہو سکتے ہیں، جو بڑے بڑے میٹرکس میں منظم ہوتے ہیں۔ تربیت کے دوران ماڈل انہیں بار بار تبدیل کرتا ہے تاکہ اس کی پیش گوئیاں زیادہ درست ہوتی جائیں۔

یہاں حسابان، یعنی کیلکولس، اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
فرض کریں ماڈل کو جملہ دیا جائے: “سورج مشرق سے…” اور وہ اگلا لفظ غلط پیش کرے۔ نظام اس غلطی کی پیمائش کرتا ہے، جسے عموماً “لاس” یا نقصان کہا جاتا ہے۔ تربیت کا مقصد اربوں مثالوں میں اس نقصان کو کم سے کم کرنا ہوتا ہے۔
اس مقصد کے لئے ماڈل “بیک پروپیگیشن” کا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ اس عمل میں حسابان کے زنجیری اصول کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ ہر پیرامیٹر نے مجموعی غلطی میں کتنا حصہ ڈالا۔ اس کے بعد ماڈل “گریڈینٹ ڈیسنٹ” نامی اصلاحی طریقے سے پیرامیٹرز کو اس سمت میں تبدیل کرتا ہے جہاں غلطی کم ہو سکے۔
اس کی مثال ایسے مسافر سے دی جا سکتی ہے جو دھند میں کسی پہاڑ سے وادی کی طرف اترنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اسے پورا منظر نظر نہیں آتا، لیکن وہ مقامی ڈھلوان محسوس کر سکتا ہے۔ وہ بار بار نیچے کی طرف قدم بڑھا کر نسبتاً پست مقام تک پہنچ جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا تیسرا بنیادی ستون احتمال ہے۔
مصنوعی ذہانت عام طور پر صرف ایک یقینی جواب پیدا نہیں کرتی، بلکہ ممکنہ اگلے الفاظ کو مختلف احتمالات دیتی ہے۔ مثال کے طور پر جملہ “مریض کو فوری طور پر…” کے بعد “ہسپتال” یا “کلینک” جیسے الفاظ کو زیادہ احتمال مل سکتا ہے، جبکہ غیر متعلق الفاظ کا امکان نہایت کم ہوگا۔ ماڈل اپنے ڈیزائن اور ترتیبات کے مطابق ان ممکنات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے۔
اس طرح مصنوعی ذہانت کی روانی دراصل ریاضیاتی اصلاح اور مسلسل احتمالی پیش گوئی سے پیدا ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت غلط اور من گھڑت معلومات کیوں دیتی ہے؟
جدید مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمزوری “ہیلوسینیشن” ہے، یعنی ایسی غلط، من گھڑت یا غیر مصدقہ معلومات پیش کرنا جو بظاہر نہایت اعتماد سے بیان کی گئی ہوں۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے ہمیں کثیر جہتی مکان کی ہندسی ساخت کو دیکھنا ہوگا۔
الفاظ اور تصورات کو “ایمبیڈنگ” کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایمبیڈنگ ہر لفظ، جملے یا خیال کو ایک کثیر جہتی ریاضیاتی مکان میں ایک نقطے کی صورت رکھتی ہے۔ جو تصورات ایک جیسے سیاق و سباق میں استعمال ہوتے ہیں، وہ اس مکان میں نسبتاً قریب رکھے جاتے ہیں۔ مثلاً “ڈاکٹر”، “ہسپتال”، “مریض” اور “دوا” ایک قریبی خطے میں ہو سکتے ہیں، جبکہ “سیارہ”، “کہکشاں” اور “دوربین” ایک دوسرے گروہ میں۔
یہ تعلقات لغت کی تعریفوں کی صورت محفوظ نہیں ہوتے، بلکہ ویکٹرز کے درمیان فاصلے، سمت، زاویے اور نمونوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ ہندسی نظام مصنوعی ذہانت کو مماثلت اور معنوی ربط سمجھنے کے قابل بناتا ہے، لیکن یہی چیز غلط فہمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ سینکڑوں یا ہزاروں جہتوں پر مشتمل مکان میں دو خیالات صرف اس وجہ سے قریب دکھائی دے سکتے ہیں کہ وہ مشابہ سیاق میں استعمال ہوئے ہوں، حالانکہ حقیقت میں وہ ایک دوسرے کے قائم مقام نہیں ہوتے۔
سوال کا جواب دیتے وقت ماڈل اسی ریاضیاتی مکان میں حرکت کرتا ہے اور ممکنہ طور پر موزوں جملے تیار کرتا ہے۔ وہ خود بخود ہر دعوے کو حقیقت سے نہیں ملاتا۔ اگر تربیتی مواد میں خلا، تضاد، کمزور ربط یا گمراہ کن معلومات موجود ہوں تو ماڈل ایک ایسا جواب تخلیق کر سکتا ہے جو سننے میں قابلِ یقین ہو، لیکن حقیقتاً غلط ہو۔
اس لئے ہیلوسینیشن کو جھوٹ کہنا درست نہیں۔ جھوٹ کے لئے ارادہ ضروری ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایسا ریاضیاتی طور پر ممکن جملہ پیدا کرتی ہے جو درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔
اسی وجہ سے مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی معلومات کو طب، قانون، مالیات، تعلیم، صحافت اور عوامی پالیسی جیسے حساس شعبوں میں ضرور جانچنا چاہیے۔
الگورتھمی تعصب: جب ریاضی ناانصافی کو دہراتی ہے
ریاضی کو عموماً غیر جانب دار سمجھا جاتا ہے، لیکن ماڈل انسان بناتے ہیں، انسانی ڈیٹا پر تربیت پاتے ہیں اور غیر مساوی معاشروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
اگر تاریخی ڈیٹا میں امتیاز موجود ہو تو مصنوعی ذہانت اس امتیاز کو ایک درست نمونہ سمجھ کر سیکھ سکتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی ملازمت فراہم کرنے والے ادارے نے ماضی میں تکنیکی عہدوں کے لئے زیادہ مردوں کو بھرتی کیا ہو تو پرانے ریکارڈ پر تربیت یافتہ الگورتھم یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ مرد امیدوار زیادہ موزوں ہیں۔ حتیٰ کہ صنف کو براہِ راست استعمال نہ کرنے کے باوجود ملازمت میں وقفہ، تعلیمی ادارے کا نام، رہائشی علاقہ یا زبان کا انداز بالواسطہ اشارے کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
اسی طرح قرض کی منظوری کا ماڈل آمدنی، رہائشی پتے، ملازمت کی تاریخ اور قرض کی واپسی کے ریکارڈ کو دیکھ کر خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ لیکن اگر بعض برادریاں طویل عرصے سے معاشی محرومی کا شکار رہی ہوں تو ماڈل اسی تاریخی ناانصافی کو “شماریاتی خطرہ” قرار دے کر آگے بڑھا سکتا ہے۔
پولیسنگ میں بھی پیش گوئی کرنے والے نظام پہلے سے زیادہ نگرانی والے علاقوں کو مزید مشکوک قرار دے سکتے ہیں۔ زیادہ نگرانی سے زیادہ واقعات درج ہوتے ہیں، اور زیادہ درج شدہ واقعات مزید نگرانی کو جائز ثابت کرتے ہیں۔ اس طرح ریاضی ناانصافی کا ایک مسلسل چکر پیدا کر سکتی ہے۔
مساوات بدنیتی پر مبنی نہیں ہوتیں، لیکن ڈیٹا، مقاصد، درجہ بندیاں اور مفروضے انسانی تعصبات کی عکاسی کر سکتے ہیں۔
انصاف کی تعریف خود ریاضیاتی طور پر پیچیدہ ہے۔ کیا ہر گروہ کے لئے ماڈل کی درستگی برابر ہونی چاہیے؟ کیا منظوری کی شرح یکساں ہو؟ کیا غلط مثبت نتائج کی شرح برابر ہو؟ یا ہر شخص کو یکساں موقع ملنا چاہیے؟ یہ تمام مقاصد بعض اوقات ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ کوئی ایک فارمولہ خود بخود انصاف پیدا نہیں کر سکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں شماریات، اخلاقیات اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
مشین کے پیچھے انسانی ذمہ داری
مصنوعی ذہانت کا انقلاب صرف تکنیکی نہیں، بلکہ ریاضیاتی اور اخلاقی انقلاب بھی ہے۔
خطی الجبرا مصنوعی ذہانت کو ساخت فراہم کرتا ہے۔ حسابان اسے بہتر ہونا سکھاتا ہے۔ احتمال اسے پیش گوئی کی قوت دیتا ہے۔ کثیر جہتی ہندسہ اسے معانی منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ شماریات اسے ڈیٹا سے سیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ معاشرے کے لئے کیا درست، منصفانہ اور قابلِ قدر ہے۔
یہ فیصلہ آج بھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔
ہمیں عوام کو صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنا نہیں، بلکہ اس سے سوال کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ اسکولوں اور جامعات میں مصنوعی ذہانت کی ریاضی کے ساتھ اس کے اخلاقی نتائج بھی پڑھائے جانے چاہییں۔ پالیسی سازوں کو شفافیت، جانچ اور جواب دہی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کمپنیوں کو اپنے ماڈلز میں تعصب اور غلطیوں کی باقاعدہ جانچ کرنی چاہیے، جبکہ صارفین کو روانی سے دیے گئے ہر جواب کو قطعی سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔
مستقبل صرف ان لوگوں کا نہیں ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے اوزار چلانا جانتے ہوں گے۔ مستقبل ان کا ہوگا جو اس کی منطق کو سمجھیں، اس کی حدود پہچانیں اور اسے ذمہ داری سے استعمال کریں۔
مشین حساب کر سکتی ہے، پیش گوئی کر سکتی ہے اور مواد تخلیق کر سکتی ہے، لیکن سچائی، انصاف اور انسانی وقار کی ذمہ داری اب بھی انسان ہی پر عائد ہوتی ہے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

کشمیر میں بجلی کے نقصانات ملک میں سب سے زیادہ

جنگ نیوز ڈیسک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی...

تازہ ترین خبریں

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

کشمیر میں بجلی کے نقصانات ملک میں سب سے زیادہ

جنگ نیوز ڈیسک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی...

مصنوعی ذہانت کا جادو ریاضی میں مضمر

 

ڈاکٹر ریاض احمد

مصنوعی ذہانت ہمارے عہد کی سب سے اہم اور فیصلہ کن ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ یہ مضامین لکھتی ہے، زبانوں کا ترجمہ کرتی ہے، طبی تصاویر میں بیماریوں کے آثار تلاش کرتی ہے، قرضوں کی منظوری میں مدد دیتی ہے، ملازمت کے امیدواروں کی جانچ کرتی ہے، صارفین کے رویّوں کی پیش گوئی کرتی ہے اور موسیقی و مصوری تک تخلیق کر رہی ہے۔ لیکن دنیا بھر میں کروڑوں لوگ روزانہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کے باوجود یہ نہیں جانتے کہ اس کے پس پردہ دراصل کیا کام کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت بظاہر جادو معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کی اصل بنیاد ریاضی ہے۔
ہر چیٹ بوٹ، سفارشی نظام، چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اور بڑے لسانی ماڈل کے پیچھے خطی الجبرا، حسابان، احتمال، شماریات، اصلاحی طریقوں اور ہندسۂ مکان کی ایک پیچیدہ دنیا موجود ہے۔ ان بنیادوں کو سمجھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اتنی طاقتور کیوں ہے، یہ کبھی کبھار من گھڑت معلومات کیوں پیش کرتی ہے، اور کس طرح بظاہر غیر جانب دار نظر آنے کے باوجود معاشرتی ناانصافی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
اعصابی نیٹ ورک کا نام نہاد “بلیک باکس” مکمل طور پر پراسرار نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک نہایت پیچیدہ ریاضیاتی مشین ہے۔
چیٹ جی پی ٹی “سیکھتا” کیسے ہے؟
چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے لسانی ماڈل کسی انسانی بچے کی طرح نہیں سیکھتے۔ ان کے پاس نہ شعور ہوتا ہے، نہ ذاتی تجربہ اور نہ انسانی مفہوم میں فہم و ادراک۔ اس کے بجائے انہیں بہت بڑے متنی ذخیرے میں موجود شماریاتی نمونوں کو پہچاننے اور یہ اندازہ لگانے کی تربیت دی جاتی ہے کہ کسی لفظ یا علامتی اکائی کے بعد کون سا لفظ آنے کا زیادہ امکان ہے۔
اس پورے عمل میں پہلا اہم ریاضیاتی ستون خطی الجبرا ہے۔
کمپیوٹر “انصاف”، “ڈاکٹر”، “غربت” یا “جمہوریت” جیسے الفاظ کو براہِ راست نہیں سمجھ سکتا۔ ان الفاظ کو پہلے عددی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے ویکٹر کہا جاتا ہے۔ ویکٹر اعداد کی ایک ترتیب وار فہرست ہوتا ہے۔ جدید مصنوعی ذہانت میں ہر لفظ یا علامتی اکائی کو سینکڑوں یا ہزاروں عددی مختصات کے ذریعے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
جب زبان کو ویکٹر میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تو ماڈل میٹرکس پر بہت بڑے پیمانے پر عملیات انجام دیتا ہے۔ میٹرکس اعداد کی مستطیل ترتیب ہوتی ہے، اور میٹرکس ضرب کی مدد سے ماڈل معلومات کو ایک اعصابی تہہ سے دوسری تہہ تک تبدیل، موازنہ، یکجا اور منتقل کرتا ہے۔
ایک جدید اعصابی نیٹ ورک میں اربوں قابلِ تبدیلی عددی پیرامیٹرز ہو سکتے ہیں، جو بڑے بڑے میٹرکس میں منظم ہوتے ہیں۔ تربیت کے دوران ماڈل انہیں بار بار تبدیل کرتا ہے تاکہ اس کی پیش گوئیاں زیادہ درست ہوتی جائیں۔

یہاں حسابان، یعنی کیلکولس، اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
فرض کریں ماڈل کو جملہ دیا جائے: “سورج مشرق سے…” اور وہ اگلا لفظ غلط پیش کرے۔ نظام اس غلطی کی پیمائش کرتا ہے، جسے عموماً “لاس” یا نقصان کہا جاتا ہے۔ تربیت کا مقصد اربوں مثالوں میں اس نقصان کو کم سے کم کرنا ہوتا ہے۔
اس مقصد کے لئے ماڈل “بیک پروپیگیشن” کا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ اس عمل میں حسابان کے زنجیری اصول کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ ہر پیرامیٹر نے مجموعی غلطی میں کتنا حصہ ڈالا۔ اس کے بعد ماڈل “گریڈینٹ ڈیسنٹ” نامی اصلاحی طریقے سے پیرامیٹرز کو اس سمت میں تبدیل کرتا ہے جہاں غلطی کم ہو سکے۔
اس کی مثال ایسے مسافر سے دی جا سکتی ہے جو دھند میں کسی پہاڑ سے وادی کی طرف اترنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اسے پورا منظر نظر نہیں آتا، لیکن وہ مقامی ڈھلوان محسوس کر سکتا ہے۔ وہ بار بار نیچے کی طرف قدم بڑھا کر نسبتاً پست مقام تک پہنچ جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا تیسرا بنیادی ستون احتمال ہے۔
مصنوعی ذہانت عام طور پر صرف ایک یقینی جواب پیدا نہیں کرتی، بلکہ ممکنہ اگلے الفاظ کو مختلف احتمالات دیتی ہے۔ مثال کے طور پر جملہ “مریض کو فوری طور پر…” کے بعد “ہسپتال” یا “کلینک” جیسے الفاظ کو زیادہ احتمال مل سکتا ہے، جبکہ غیر متعلق الفاظ کا امکان نہایت کم ہوگا۔ ماڈل اپنے ڈیزائن اور ترتیبات کے مطابق ان ممکنات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے۔
اس طرح مصنوعی ذہانت کی روانی دراصل ریاضیاتی اصلاح اور مسلسل احتمالی پیش گوئی سے پیدا ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت غلط اور من گھڑت معلومات کیوں دیتی ہے؟
جدید مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمزوری “ہیلوسینیشن” ہے، یعنی ایسی غلط، من گھڑت یا غیر مصدقہ معلومات پیش کرنا جو بظاہر نہایت اعتماد سے بیان کی گئی ہوں۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے ہمیں کثیر جہتی مکان کی ہندسی ساخت کو دیکھنا ہوگا۔
الفاظ اور تصورات کو “ایمبیڈنگ” کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایمبیڈنگ ہر لفظ، جملے یا خیال کو ایک کثیر جہتی ریاضیاتی مکان میں ایک نقطے کی صورت رکھتی ہے۔ جو تصورات ایک جیسے سیاق و سباق میں استعمال ہوتے ہیں، وہ اس مکان میں نسبتاً قریب رکھے جاتے ہیں۔ مثلاً “ڈاکٹر”، “ہسپتال”، “مریض” اور “دوا” ایک قریبی خطے میں ہو سکتے ہیں، جبکہ “سیارہ”، “کہکشاں” اور “دوربین” ایک دوسرے گروہ میں۔
یہ تعلقات لغت کی تعریفوں کی صورت محفوظ نہیں ہوتے، بلکہ ویکٹرز کے درمیان فاصلے، سمت، زاویے اور نمونوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ ہندسی نظام مصنوعی ذہانت کو مماثلت اور معنوی ربط سمجھنے کے قابل بناتا ہے، لیکن یہی چیز غلط فہمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ سینکڑوں یا ہزاروں جہتوں پر مشتمل مکان میں دو خیالات صرف اس وجہ سے قریب دکھائی دے سکتے ہیں کہ وہ مشابہ سیاق میں استعمال ہوئے ہوں، حالانکہ حقیقت میں وہ ایک دوسرے کے قائم مقام نہیں ہوتے۔
سوال کا جواب دیتے وقت ماڈل اسی ریاضیاتی مکان میں حرکت کرتا ہے اور ممکنہ طور پر موزوں جملے تیار کرتا ہے۔ وہ خود بخود ہر دعوے کو حقیقت سے نہیں ملاتا۔ اگر تربیتی مواد میں خلا، تضاد، کمزور ربط یا گمراہ کن معلومات موجود ہوں تو ماڈل ایک ایسا جواب تخلیق کر سکتا ہے جو سننے میں قابلِ یقین ہو، لیکن حقیقتاً غلط ہو۔
اس لئے ہیلوسینیشن کو جھوٹ کہنا درست نہیں۔ جھوٹ کے لئے ارادہ ضروری ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایسا ریاضیاتی طور پر ممکن جملہ پیدا کرتی ہے جو درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔
اسی وجہ سے مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی معلومات کو طب، قانون، مالیات، تعلیم، صحافت اور عوامی پالیسی جیسے حساس شعبوں میں ضرور جانچنا چاہیے۔
الگورتھمی تعصب: جب ریاضی ناانصافی کو دہراتی ہے
ریاضی کو عموماً غیر جانب دار سمجھا جاتا ہے، لیکن ماڈل انسان بناتے ہیں، انسانی ڈیٹا پر تربیت پاتے ہیں اور غیر مساوی معاشروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
اگر تاریخی ڈیٹا میں امتیاز موجود ہو تو مصنوعی ذہانت اس امتیاز کو ایک درست نمونہ سمجھ کر سیکھ سکتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی ملازمت فراہم کرنے والے ادارے نے ماضی میں تکنیکی عہدوں کے لئے زیادہ مردوں کو بھرتی کیا ہو تو پرانے ریکارڈ پر تربیت یافتہ الگورتھم یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ مرد امیدوار زیادہ موزوں ہیں۔ حتیٰ کہ صنف کو براہِ راست استعمال نہ کرنے کے باوجود ملازمت میں وقفہ، تعلیمی ادارے کا نام، رہائشی علاقہ یا زبان کا انداز بالواسطہ اشارے کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
اسی طرح قرض کی منظوری کا ماڈل آمدنی، رہائشی پتے، ملازمت کی تاریخ اور قرض کی واپسی کے ریکارڈ کو دیکھ کر خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ لیکن اگر بعض برادریاں طویل عرصے سے معاشی محرومی کا شکار رہی ہوں تو ماڈل اسی تاریخی ناانصافی کو “شماریاتی خطرہ” قرار دے کر آگے بڑھا سکتا ہے۔
پولیسنگ میں بھی پیش گوئی کرنے والے نظام پہلے سے زیادہ نگرانی والے علاقوں کو مزید مشکوک قرار دے سکتے ہیں۔ زیادہ نگرانی سے زیادہ واقعات درج ہوتے ہیں، اور زیادہ درج شدہ واقعات مزید نگرانی کو جائز ثابت کرتے ہیں۔ اس طرح ریاضی ناانصافی کا ایک مسلسل چکر پیدا کر سکتی ہے۔
مساوات بدنیتی پر مبنی نہیں ہوتیں، لیکن ڈیٹا، مقاصد، درجہ بندیاں اور مفروضے انسانی تعصبات کی عکاسی کر سکتے ہیں۔
انصاف کی تعریف خود ریاضیاتی طور پر پیچیدہ ہے۔ کیا ہر گروہ کے لئے ماڈل کی درستگی برابر ہونی چاہیے؟ کیا منظوری کی شرح یکساں ہو؟ کیا غلط مثبت نتائج کی شرح برابر ہو؟ یا ہر شخص کو یکساں موقع ملنا چاہیے؟ یہ تمام مقاصد بعض اوقات ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ کوئی ایک فارمولہ خود بخود انصاف پیدا نہیں کر سکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں شماریات، اخلاقیات اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
مشین کے پیچھے انسانی ذمہ داری
مصنوعی ذہانت کا انقلاب صرف تکنیکی نہیں، بلکہ ریاضیاتی اور اخلاقی انقلاب بھی ہے۔
خطی الجبرا مصنوعی ذہانت کو ساخت فراہم کرتا ہے۔ حسابان اسے بہتر ہونا سکھاتا ہے۔ احتمال اسے پیش گوئی کی قوت دیتا ہے۔ کثیر جہتی ہندسہ اسے معانی منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ شماریات اسے ڈیٹا سے سیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ معاشرے کے لئے کیا درست، منصفانہ اور قابلِ قدر ہے۔
یہ فیصلہ آج بھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔
ہمیں عوام کو صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنا نہیں، بلکہ اس سے سوال کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ اسکولوں اور جامعات میں مصنوعی ذہانت کی ریاضی کے ساتھ اس کے اخلاقی نتائج بھی پڑھائے جانے چاہییں۔ پالیسی سازوں کو شفافیت، جانچ اور جواب دہی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کمپنیوں کو اپنے ماڈلز میں تعصب اور غلطیوں کی باقاعدہ جانچ کرنی چاہیے، جبکہ صارفین کو روانی سے دیے گئے ہر جواب کو قطعی سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔
مستقبل صرف ان لوگوں کا نہیں ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے اوزار چلانا جانتے ہوں گے۔ مستقبل ان کا ہوگا جو اس کی منطق کو سمجھیں، اس کی حدود پہچانیں اور اسے ذمہ داری سے استعمال کریں۔
مشین حساب کر سکتی ہے، پیش گوئی کر سکتی ہے اور مواد تخلیق کر سکتی ہے، لیکن سچائی، انصاف اور انسانی وقار کی ذمہ داری اب بھی انسان ہی پر عائد ہوتی ہے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں