
ڈاکٹر شیخ غلام رسول
"حیا وہ نور ہے جو انسان کے دل کو گناہ سے، کردار کو برائی سے اور معاشرے کو اخلاقی زوال سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب حیا زندہ رہتی ہے تو ایمان مضبوط رہتا ہے، اور جب حیا رخصت ہو جاتی ہے تو برائیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔”
آج کا انسان سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہا ہے، مگر اخلاقی اعتبار سے شدید بحران کا شکار ہے۔ منشیات، فحاشی، آن لائن عریانی، جوا، تشدد، خودکشی، ذہنی دباؤ اور خاندانی نظام کی کمزوری ہمارے معاشرے کے سنگین مسائل بن چکے ہیں۔ اگر ان تمام برائیوں کی جڑ تلاش کی جائے تو ایک حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ انسان کے دل سے حیا اور احساسِ جواب دہی کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
اسلام نے چودہ سو برس پہلے ہی اس خطرے کی نشاندہی کر دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔” (صحیح بخاری)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جب انسان کے دل سے اللہ تعالیٰ کا خوف، شرم اور اخلاقی احساس ختم ہو جائے تو پھر اسے گناہ اور ظلم سے روکنے والی کوئی طاقت باقی نہیں رہتی۔
حیا کا حقیقی مفہوم
عربی زبان میں حیا کا تعلق حیات سے ہے، گویا حیا دل کی زندگی ہے۔ اسلام میں حیا صرف لباس یا ظاہری پردے کا نام نہیں بلکہ نگاہ، زبان، سوچ، معاملات، عبادات اور کردار سمیت پوری زندگی کا عنوان ہے۔
حیا انسان کو حق بات کہنے سے نہیں روکتی، بلکہ ہر اس عمل سے روکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنے۔
قرآنِ مجید کا پیغام
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔” (سورۃ النور: 30)
اس کے بعد مومن خواتین کو بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے پاکیزگی کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں بلکہ مرد پر بھی یکساں عائد کی ہے۔
قرآنِ مجید نے سب سے پہلے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ اکثر گناہوں کی ابتدا بے قابو نگاہ سے ہوتی ہے۔ آج سوشل میڈیا اور فحش مواد کی آسان دستیابی نے اس آزمائش کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن کی یہ تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
حضرت یوسفؑ: نوجوانوں کے لئے بہترین نمونہ
قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی نوجوانوں کے لئے پاکیزگی، استقامت اور حیا کا روشن نمونہ ہے۔
جب انہیں گناہ کی دعوت دی گئی تو انہوں نے فرمایا:
"میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔” (سورۃ یوسف: 23)
انہوں نے وقتی خواہش کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دی۔ یہی وہ کردار ہے جو آج کے نوجوان کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے دور میں ہر لمحہ نئی آزمائشیں سامنے آتی ہیں، مگر اصل کامیابی خواہشات کے پیچھے چلنے میں نہیں بلکہ ان پر قابو پانے میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حیا
حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں:
"رسول اللہ ﷺ پردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس کے باوجود آپ ﷺ حق کے معاملے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حیا کمزوری نہیں بلکہ ایمان، وقار اور مضبوط کردار کی علامت ہے۔
حیا اور منشیات کا تعلق
اکثر لوگ منشیات کو صرف طبی یا قانونی مسئلہ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایک اخلاقی اور روحانی بحران بھی ہے۔
نوجوان اس وقت برائیوں کی طرف مائل ہوتا ہے جب اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور ہو جائے، حلال و حرام کا احساس ماند پڑ جائے، بری صحبت غالب آ جائے اور زندگی کا مقصد نگاہوں سے اوجھل ہو جائے۔
حیا انسان کے اندر ایک ایسی باطنی قوت پیدا کرتی ہے جو ہر قدم پر اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ:
"یہ عمل میرے رب کو پسند نہیں، اس لئے میں یہ نہیں کروں گا۔”
یہی احساس انسان کو منشیات، زنا، جوا، دھوکہ دہی اور دیگر اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھنے کا مضبوط ترین حصار بنتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حیا سراسر خیر ہے۔” (صحیح مسلم)
گویا جہاں حیا ہوگی وہاں خیر، سکون اور پاکیزگی ہوگی، اور جہاں بے حیائی ہوگی وہاں بے چینی، فساد اور تباہی جنم لے گی۔
حضرت عثمانؓ: حیا کی عملی تصویر
اگر اسلام میں حیا کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو حضرت عثمان بن عفانؓ کی مبارک زندگی بہترین مثال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟” (صحیح مسلم)
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حیا انسان کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند مقام عطا کرتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کی زندگی دیانت، سخاوت، انکساری، عدل اور خوفِ خدا کا حسین امتزاج تھی۔ آج کا نوجوان اگر ان کے کردار سے سبق حاصل کرے تو وہ زندگی کے بہت سے فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
حیا، تقویٰ اور کردار
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور تقویٰ کا لباس ہی سب سے بہترین لباس ہے۔” (سورۃ الأعراف: 26)
اسلام ظاہری صفائی، نفاست اور اچھے لباس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، لیکن انسان کی اصل زینت اس کا تقویٰ، حسنِ اخلاق اور حیا ہے۔ یہی اوصاف ایک فرد کو باکردار اور ایک معاشرے کو مہذب بناتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس لئے جہاں ایمان مضبوط ہوگا وہاں حیا بھی ہوگی، اور جہاں حیا باقی رہے گی وہاں برائیوں کے پنپنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
سوشل میڈیا: نعمت بھی، آزمائش بھی
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ علم، دعوت اور خیر کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بھی ہے، لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہی اخلاقی زوال کا سبب بن سکتا ہے۔
جھوٹ، غیبت، کردار کشی، فحش مواد، نفرت انگیز تبصرے اور جعلی خبروں کی اشاعت ایسے اعمال ہیں جن کے بارے میں ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وہ کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران لکھنے والا موجود ہوتا ہے۔” (سورۃ ق: 18)
آج ہماری تحریریں، تبصرے، تصاویر اور ویڈیوز بھی ہمارے اعمال نامے کا حصہ بن رہے ہیں، اس لئے ڈیجیٹل دنیا میں بھی حیا، دیانت اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
منشیات: آزادی نہیں، تباہی
کچھ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ نشہ ذہنی سکون یا جدید طرزِ زندگی کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ منشیات انسان کا ایمان، عقل، صحت، عزت، خاندان اور مستقبل سب کچھ تباہ کر دیتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔” (صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:
"جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔” (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد)
اسلام ہر اس چیز سے روکتا ہے جو انسان کی عقل کو مفلوج کرے اور اسے اپنے رب سے دور کر دے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری
نوجوانوں کی اصلاح صرف نصیحت سے ممکن نہیں بلکہ عملی تربیت سے ہوتی ہے۔
والدین اپنی اولاد کو محبت، اعتماد اور دینی تربیت فراہم کریں، ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں اور ان کی مصروفیات پر مثبت نگرانی رکھیں۔
اساتذہ صرف نصاب کی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کی کردار سازی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
علمائے کرام، سماجی کارکن، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے بااثر افراد بھی اخلاقی اقدار، حیا اور منشیات سے پاک زندگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے، نوجوانوں کے لئے معیاری تعلیم، روزگار، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرے، تاکہ وہ مایوسی اور بے راہ روی کا شکار نہ ہوں۔
نوجوانوں کے نام پیغام
علامہ محمد اقبالؒ نے نوجوانوں کو ایمان، خودداری اور بلند کردار کی تلقین کی، کیونکہ قوموں کی تعمیر صرف علم سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔
اے نوجوان!
تم اس قوم کا سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہو۔ اپنی جوانی کو منشیات، بے حیائی اور بے مقصد مشاغل کی نذر نہ کرو۔ اپنے دل کو ایمان، اپنی نگاہ کو حیا، اپنی زبان کو سچائی اور اپنے کردار کو دیانت سے آراستہ کرو۔ یہی دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہر دین کا ایک نمایاں وصف ہوتا ہے، اور اسلام کا نمایاں وصف حیا ہے۔” (سنن ابن ماجہ)
آج اگر ہم منشیات، بے حیائی اور اخلاقی زوال سے محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں حیا، تقویٰ اور خوفِ خدا کو فروغ دینا ہوگا۔ ایک مضبوط قوم صرف معاشی ترقی سے نہیں بنتی بلکہ اس کی اصل طاقت باکردار نوجوان، مضبوط خاندان اور اعلیٰ اخلاق ہوتے ہیں۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنی زندگیوں میں حیا، سچائی، دیانت اور خدا خوفی کو اپنائیں گے، اپنی نئی نسل کو منشیات اور ہر قسم کی اخلاقی برائی سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ایمان، کردار اور انسانیت ایک دوسرے کے معاون ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی حیا، مضبوط ایمان، صالح کردار اور منشیات سمیت ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
مضمون نگار جناب ڈاکٹر شیخ غلام رسول صاحب ماہرِ ماحولیات کے علاوہ ایک ممتاز سماجی کارکن اور جے اینڈ کے آر ٹی آئی موومنٹ اور مؤسس توسہ میدان بچاؤ فرنٹ کے بانی ہیں۔
ززز


