دہلی کا احتجاج اور کشمیر کی سیاسی حقیقت

رشید پروینؔ
سوپور کشمیر
حالیہ دنوں عمر عبداللہ نے بیگم اکبر جہاں کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ بی جے پی ہمارے ممبرانِ اسمبلی پر ڈورے ڈال رہی ہے اور انہیں بڑی بڑی رقموں اور دیگر مراعات کا وعدہ کرکے وفاداریاں تبدیل کرنے پر آمادہ کر رہی ہے۔ اس دعوے کے ان کے پاس کیا شواہد ہیں، یہ کسی کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟ تاہم، بی جے پی نے اس بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عمر عبداللہ پر پارٹی کی شبیہ مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا الزام لگایا، عدالتی چارہ جوئی کا سہارا لیا اور نوٹس جاری کیا کہ وہ سرِعام معافی مانگیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا جائے گا۔
دوسری اہم بات جو انہوں نے کہی، وہ یہ تھی کہ ’’ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جا رہا۔‘‘ جہاں تک ریاستی درجے کی بحالی کا تعلق ہے، یہ صرف نیشنل کانفرنس ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کا ایک اہم معاملہ ہے۔ اس لئے اس کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں ہو سکتا۔
موجودہ حالات جموں و کشمیر کی سیاسی اور فکری فضا کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ ہمارے سیاست دانوں نے اقتدار کے سوا شاید ہی کبھی کسی اور معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہو۔ 1947ء سے کشمیر کی سیاست اقتدار کے محور ہی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چہرے بدلتے رہے یا پارٹیاں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر دور میں تقریباً ہر جماعت اور ہر سیاسی شخصیت نے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے مرکزی حکومتوں کے سامنے کسی نہ کسی حد تک غیر مشروط سرِ تسلیم خم کیا اور رفتہ رفتہ اپنے سیاسی سرمائے کو خود ہی کمزور کیا۔ بالآخر وہ مرحلہ بھی آیا جب یہ سیاسی تھیلی خالی ہو گئی، اور آج ہم اسی سیاسی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
بہرحال، عمر عبداللہ نے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے لئے ایک پُرامن احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس احتجاج کے لئے بھی انہیں مرکزی حکومت سے اجازت درکار تھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اجازت نہ بھی ملی تو ہم 19 جولائی کو دہلی روانہ ہوں گے، وہاں اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیں گے، اجازت کا انتظار کریں گے، کیونکہ ’’ہم صبر کرنا جانتے ہیں۔‘‘
صبر، اقتدار کے لئے صبر، اور ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی خواہش—یہ وہ روایت ہے جو ان کے دادا سے لے کر تین نسلوں تک سیاسی مزاج کا حصہ رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق نے بھی یہی مؤقف دہرایا کہ اجازت ملے یا نہ ملے، ہم دہلی ضرور جائیں گے۔ البتہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھی احتجاج کریں گے۔ چنانچہ وہ 19 جولائی کو دہلی روانہ ہوئے۔ پہلے ہی سے واضح تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور بالکل ایسا ہی ہوا۔
بعد ازاں فاروق عبداللہ کی سربراہی میں ان لوگوں نے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس کی صدارت خود انہوں نے کی۔ ان کے بقول، اس اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے جنہوں نے ان کے موقف کی حمایت کی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرینگر سے دہلی کا سفر، اور یہ پہلے سے جانتے ہوئے بھی کہ احتجاج کی اجازت نہیں ملے گی، آخر کس مقصد کے لئے تھا؟ اس پروگرام کے حقیقی اہداف کیا تھے اور کیا ہو سکتے تھے؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کو ایک مخصوص تاثر دینا چاہتے تھے، اور یہ پوری مشق اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی کے لئے بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ماضی میں اقتدار کے حصول کے بدلے یہی اختیارات، یا ان کا بڑا حصہ، خود انہی کے سیاسی اسلاف نے مرکز کے حوالے کیے تھے، اور اس وقت کبھی زبان پر شکوہ یا شکایت نہیں آئی تھی۔
بہرحال، اس تمام صورتِ حال کے پس منظر میں صرف وہ ذہنی دباؤ دکھائی دیتا ہے جس سے وہ اس وقت گزر رہے ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے اس احتجاج میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اپنی پارٹی نے بھی اس میں شمولیت اختیار نہیں کی، جبکہ کشمیر کی دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس مشترکہ مقصد میں شریک نہ ہوئیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ 440 وولٹ کے کرنٹ کو چھونے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
کبھی یہ ایک مہاراجائی ریاست تھی، جس میں گلگت، بلتستان، مقبوضہ کشمیر اور موجودہ جموں و کشمیر شامل تھے، اور آج یہ صرف ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ (یو ٹی) ہے۔ بات اگر اس سے آگے بڑھی تو دور تک جائے گی، اس لئے فی الحال اتنا ہی کہنا کافی ہے:
’’کون کتنا گنہگار ہے، کہوں کہ نہ کہوں۔‘‘
پانچ اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے اسے دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت نے مختلف مواقع پر یہ یقین دہانی کرائی کہ ’’مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔‘‘ اس بات کا ذکر پارلیمنٹ میں بھی ہوا اور سپریم کورٹ میں بھی یہ عندیہ دیا گیا کہ حد بندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجے کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی، لیکن ایسا نہ ہوا، اور شاید ہونا بھی نہیں تھا، کیونکہ بظاہر مرکزی حکومت کی نظر میں ’’مناسب وقت‘‘ ابھی تک نہیں آیا۔
قائدِ حزبِ اختلاف کا اس حوالے سے ایک مختصر مگر معنی خیز بیان بھی قابلِ توجہ ہے:
’’این سی کو بادشاہت کے لئے اسٹیٹ ہُڈ نہیں دی جا سکتی۔‘‘
عمر عبداللہ کے ذاتی مشاہدات، جو انہیں بطور چیف منسٹر حاصل ہوئے، یقیناً نہایت کرب ناک اور مایوس کن رہے ہیں۔ تاہم، صرف وہی مایوس نہیں بلکہ وہ عوام بھی مایوسی کا شکار ہیں جنہوں نے ایک مخصوص سیاسی سوچ اور توقعات کے تحت انہیں ووٹ دیا تھا۔ آج ان میں سے بہت سے لوگ نہ صرف مایوس ہیں بلکہ اپنی سیاسی سوچ اور فیصلے پر بھی نظرِ ثانی کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
اب بہت سی تاویلات، تشریحات اور تاریخی حوالوں میں الجھنے کے بجائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ایک پرانی کشمیری لوک کہانی سنائی جائے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کہانی کو سمجھ لینے کے بعد آپ نہ صرف ہماری سیاسی تاریخ کے کئی پہلوؤں سے آشنا ہو جائیں گے بلکہ خود بھی یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ 5 اگست 2019ء کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما تھے۔
البتہ اس سے پہلے وزیرِ داخلہ امت شاہ کا وہ جملہ ضرور ذہن میں رکھیے، جب انہوں نے کہا تھا:
’’دفعہ 370 میں رکھا ہی کیا تھا؟ ہم نے تو صرف ملبہ صاف کیا ہے۔‘‘
کہتے ہیں کہ کبھی کشمیر میں چند معزز اور باعزت شودوں نے مل کر سوچا کہ بھیڑ کے سری پائے پکائے جائیں۔ چونکہ سبھی چرسی تھے، اس لئے خواہش یہ تھی کہ بڑے اہتمام سے سری پائے پکائے جائیں اور دو چار چلمیں پھونکنے کے بعد مزے لے لے کر کھائے جائیں۔
چندہ جمع ہوا، دیگ چولہے پر چڑھائی گئی، اور کافی دیر بعد جب سری پائے تقریباً تیار ہونے کو تھے تو ایک شودے کو خیال آیا کہ تمام مصالحے تو ڈال دیے گئے ہیں، لیکن مرچ ڈالنا رہ گیا ہے۔
اس وقت سبھی شودے دیگ کے گرد بیٹھے آخری انتظار کے لمحات گزار رہے تھے۔ چلمیں پہلے ہی ختم ہو چکی تھیں، اس لئے سب اپنی اپنی مستی میں دنیا و مافیہا سے بے خبر بیٹھے تھے۔ کسی نے بھی مرچ لانے کی ذمہ داری قبول نہ کی اور نہ ہی اپنی جگہ سے اٹھنے پر آمادہ ہوا۔
آخرکار سب سے بڑے شودے نے بڑی عقلمندی (!) سے فیصلہ سنایا:
"جو پہلے بولے گا، مرچ وہی لائے گا، اور ہر حال میں لائے گا۔”
بس، پھر کیا تھا! سب نے اپنی زبانوں پر تالے لگا لئے۔
آہستہ آہستہ چولہے کی آگ مدھم پڑ گئی۔ اسی دوران دو چار کتے بھی ادھر آ نکلے۔ جب کسی نے انہیں بھگانے کی کوشش نہ کی تو انہوں نے سمجھا کہ شاید مفت کا مال ہے۔ وہ احتیاط سے دیگ کے قریب آئے، دائیں بائیں دیکھا، کوئی حرکت نہ ہوئی، کوئی ڈنڈا نہ اٹھا، تو انہوں نے اطمینان سے دیگ پر دھاوا بول دیا۔
دیگ الٹ گئی۔
شودے خاموش بیٹھے تماشا دیکھتے رہے، کیونکہ ان کے ذہنوں پر صرف ایک ہی بات سوار تھی کہ "زبان کھولی تو مرچ واجب ہو جائے گی۔”
کسی نے حرکت نہ کی، اور کتے آرام سے سارے سری پائے کھا گئے۔
اتفاق سے اسی رات بادشاہ کے محل میں چوری ہو گئی۔ صبح سویرے پورے شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ بادشاہ کے محل میں چوری معمولی واقعہ تو تھا نہیں، اس لئے کوتوال اور سپاہی ہر طرف پھیل گئے، ناکے لگا دیے گئے۔
اسی دوران کسی نے اطلاع دی کہ شہر کے ایک نکڑ پر پانچ سات آدمیوں کی ٹولی خاموش بیٹھی ہے، شاید چوری کا مال تقسیم کر کے سکون سے بیٹھی ہو۔
کوتوال فوراً اپنے سپاہیوں سمیت وہاں پہنچا۔ پوچھ گچھ کی، مگر کسی نے زبان نہ کھولی۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہی چور ہیں۔ سب کو گرفتار کرکے بادشاہ کے دربار میں پیش کر دیا گیا۔
دربار میں سوال پر سوال ہوئے، مگر کسی نے جواب نہ دیا، کیونکہ ان کے ذہن میں اب بھی یہی شرط زندہ تھی کہ بولنے والا مرچ لائے گا۔
جب کسی نے کچھ نہ کہا تو بادشاہ نے انہیں پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا۔
پورے شہر میں منادی کرا دی گئی کہ شاہی چور پکڑے جا چکے ہیں اور انہیں سرِعام پھانسی دی جائے گی۔
لوگ جوق در جوق تماشا دیکھنے جمع ہو گئے۔
جب ایک شودے کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیا گیا اور صرف چند لمحے باقی رہ گئے تو اچانک اسے احساس ہوا کہ اب جان جانے والی ہے۔
وہ زور سے چیخ اٹھا:
"میں چور نہیں ہوں… میں چور نہیں ہوں!”
بس، اس کے زبان کھولتے ہی نیچے کھڑے باقی تمام شودے ایک ساتھ چیخ پڑے:
"مرچ لاؤ… مرچ لاؤ… تم نے زبان کھول دی ہے!”
یہ شور و غوغا سن کر بادشاہ سلامت، تمام درباری اور وہاں موجود لوگ حیران و ششدر رہ گئے کہ آخر یہ کیا کہہ رہے ہیں اور اب اچانک ان کی زبان کیوں کھل گئی؟
بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ شودے کے گلے سے پھانسی کا پھندا اتار دیا جائے اور پورا ماجرا دریافت کیا جائے۔
شودے نے نہایت ادب سے ساری داستان بیان کر دی کہ یہ ہماری آپس کی ایک شرط تھی۔ میں نے زبان کھول کر وہ شرط ہار دی ہے، اس لئے اب مرچ لانا مجھ پر واجب ہو گیا ہے۔
بادشاہ اور تمام درباری دم بخود رہ گئے۔ کچھ دیر بعد ایک وزیر نے پوچھا:
"بھائی، وہ سری پائے، جو پک رہے تھے، اب کہاں ہیں؟”
شودے نے نہایت معصومیت سے جواب دیا:
"وہ تو کتے پہلے ہی چٹ کر گئے۔”
وزیر نے حیرت سے پوچھا:
"پھر اب مرچ کی کیا ضرورت ہے؟”
یہ سوال آج بھی اس کشمیری لوک کہانی میں اسی طرح زندہ ہے، جس طرح شودوں کے زمانے میں تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہم آج تک خود بھی اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر سکے۔
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی اسی ٹولی کے شودے تھے، یا شاید اب بھی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دہلی کا احتجاج اور کشمیر کی سیاسی حقیقت

رشید پروینؔ
سوپور کشمیر
حالیہ دنوں عمر عبداللہ نے بیگم اکبر جہاں کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ بی جے پی ہمارے ممبرانِ اسمبلی پر ڈورے ڈال رہی ہے اور انہیں بڑی بڑی رقموں اور دیگر مراعات کا وعدہ کرکے وفاداریاں تبدیل کرنے پر آمادہ کر رہی ہے۔ اس دعوے کے ان کے پاس کیا شواہد ہیں، یہ کسی کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟ تاہم، بی جے پی نے اس بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عمر عبداللہ پر پارٹی کی شبیہ مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا الزام لگایا، عدالتی چارہ جوئی کا سہارا لیا اور نوٹس جاری کیا کہ وہ سرِعام معافی مانگیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا جائے گا۔
دوسری اہم بات جو انہوں نے کہی، وہ یہ تھی کہ ’’ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جا رہا۔‘‘ جہاں تک ریاستی درجے کی بحالی کا تعلق ہے، یہ صرف نیشنل کانفرنس ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کا ایک اہم معاملہ ہے۔ اس لئے اس کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں ہو سکتا۔
موجودہ حالات جموں و کشمیر کی سیاسی اور فکری فضا کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ ہمارے سیاست دانوں نے اقتدار کے سوا شاید ہی کبھی کسی اور معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہو۔ 1947ء سے کشمیر کی سیاست اقتدار کے محور ہی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چہرے بدلتے رہے یا پارٹیاں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر دور میں تقریباً ہر جماعت اور ہر سیاسی شخصیت نے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے مرکزی حکومتوں کے سامنے کسی نہ کسی حد تک غیر مشروط سرِ تسلیم خم کیا اور رفتہ رفتہ اپنے سیاسی سرمائے کو خود ہی کمزور کیا۔ بالآخر وہ مرحلہ بھی آیا جب یہ سیاسی تھیلی خالی ہو گئی، اور آج ہم اسی سیاسی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
بہرحال، عمر عبداللہ نے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے لئے ایک پُرامن احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس احتجاج کے لئے بھی انہیں مرکزی حکومت سے اجازت درکار تھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اجازت نہ بھی ملی تو ہم 19 جولائی کو دہلی روانہ ہوں گے، وہاں اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیں گے، اجازت کا انتظار کریں گے، کیونکہ ’’ہم صبر کرنا جانتے ہیں۔‘‘
صبر، اقتدار کے لئے صبر، اور ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی خواہش—یہ وہ روایت ہے جو ان کے دادا سے لے کر تین نسلوں تک سیاسی مزاج کا حصہ رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق نے بھی یہی مؤقف دہرایا کہ اجازت ملے یا نہ ملے، ہم دہلی ضرور جائیں گے۔ البتہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھی احتجاج کریں گے۔ چنانچہ وہ 19 جولائی کو دہلی روانہ ہوئے۔ پہلے ہی سے واضح تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور بالکل ایسا ہی ہوا۔
بعد ازاں فاروق عبداللہ کی سربراہی میں ان لوگوں نے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس کی صدارت خود انہوں نے کی۔ ان کے بقول، اس اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے جنہوں نے ان کے موقف کی حمایت کی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرینگر سے دہلی کا سفر، اور یہ پہلے سے جانتے ہوئے بھی کہ احتجاج کی اجازت نہیں ملے گی، آخر کس مقصد کے لئے تھا؟ اس پروگرام کے حقیقی اہداف کیا تھے اور کیا ہو سکتے تھے؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کو ایک مخصوص تاثر دینا چاہتے تھے، اور یہ پوری مشق اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی کے لئے بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ماضی میں اقتدار کے حصول کے بدلے یہی اختیارات، یا ان کا بڑا حصہ، خود انہی کے سیاسی اسلاف نے مرکز کے حوالے کیے تھے، اور اس وقت کبھی زبان پر شکوہ یا شکایت نہیں آئی تھی۔
بہرحال، اس تمام صورتِ حال کے پس منظر میں صرف وہ ذہنی دباؤ دکھائی دیتا ہے جس سے وہ اس وقت گزر رہے ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے اس احتجاج میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اپنی پارٹی نے بھی اس میں شمولیت اختیار نہیں کی، جبکہ کشمیر کی دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس مشترکہ مقصد میں شریک نہ ہوئیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ 440 وولٹ کے کرنٹ کو چھونے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
کبھی یہ ایک مہاراجائی ریاست تھی، جس میں گلگت، بلتستان، مقبوضہ کشمیر اور موجودہ جموں و کشمیر شامل تھے، اور آج یہ صرف ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ (یو ٹی) ہے۔ بات اگر اس سے آگے بڑھی تو دور تک جائے گی، اس لئے فی الحال اتنا ہی کہنا کافی ہے:
’’کون کتنا گنہگار ہے، کہوں کہ نہ کہوں۔‘‘
پانچ اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے اسے دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت نے مختلف مواقع پر یہ یقین دہانی کرائی کہ ’’مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔‘‘ اس بات کا ذکر پارلیمنٹ میں بھی ہوا اور سپریم کورٹ میں بھی یہ عندیہ دیا گیا کہ حد بندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجے کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی، لیکن ایسا نہ ہوا، اور شاید ہونا بھی نہیں تھا، کیونکہ بظاہر مرکزی حکومت کی نظر میں ’’مناسب وقت‘‘ ابھی تک نہیں آیا۔
قائدِ حزبِ اختلاف کا اس حوالے سے ایک مختصر مگر معنی خیز بیان بھی قابلِ توجہ ہے:
’’این سی کو بادشاہت کے لئے اسٹیٹ ہُڈ نہیں دی جا سکتی۔‘‘
عمر عبداللہ کے ذاتی مشاہدات، جو انہیں بطور چیف منسٹر حاصل ہوئے، یقیناً نہایت کرب ناک اور مایوس کن رہے ہیں۔ تاہم، صرف وہی مایوس نہیں بلکہ وہ عوام بھی مایوسی کا شکار ہیں جنہوں نے ایک مخصوص سیاسی سوچ اور توقعات کے تحت انہیں ووٹ دیا تھا۔ آج ان میں سے بہت سے لوگ نہ صرف مایوس ہیں بلکہ اپنی سیاسی سوچ اور فیصلے پر بھی نظرِ ثانی کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
اب بہت سی تاویلات، تشریحات اور تاریخی حوالوں میں الجھنے کے بجائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ایک پرانی کشمیری لوک کہانی سنائی جائے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کہانی کو سمجھ لینے کے بعد آپ نہ صرف ہماری سیاسی تاریخ کے کئی پہلوؤں سے آشنا ہو جائیں گے بلکہ خود بھی یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ 5 اگست 2019ء کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما تھے۔
البتہ اس سے پہلے وزیرِ داخلہ امت شاہ کا وہ جملہ ضرور ذہن میں رکھیے، جب انہوں نے کہا تھا:
’’دفعہ 370 میں رکھا ہی کیا تھا؟ ہم نے تو صرف ملبہ صاف کیا ہے۔‘‘
کہتے ہیں کہ کبھی کشمیر میں چند معزز اور باعزت شودوں نے مل کر سوچا کہ بھیڑ کے سری پائے پکائے جائیں۔ چونکہ سبھی چرسی تھے، اس لئے خواہش یہ تھی کہ بڑے اہتمام سے سری پائے پکائے جائیں اور دو چار چلمیں پھونکنے کے بعد مزے لے لے کر کھائے جائیں۔
چندہ جمع ہوا، دیگ چولہے پر چڑھائی گئی، اور کافی دیر بعد جب سری پائے تقریباً تیار ہونے کو تھے تو ایک شودے کو خیال آیا کہ تمام مصالحے تو ڈال دیے گئے ہیں، لیکن مرچ ڈالنا رہ گیا ہے۔
اس وقت سبھی شودے دیگ کے گرد بیٹھے آخری انتظار کے لمحات گزار رہے تھے۔ چلمیں پہلے ہی ختم ہو چکی تھیں، اس لئے سب اپنی اپنی مستی میں دنیا و مافیہا سے بے خبر بیٹھے تھے۔ کسی نے بھی مرچ لانے کی ذمہ داری قبول نہ کی اور نہ ہی اپنی جگہ سے اٹھنے پر آمادہ ہوا۔
آخرکار سب سے بڑے شودے نے بڑی عقلمندی (!) سے فیصلہ سنایا:
"جو پہلے بولے گا، مرچ وہی لائے گا، اور ہر حال میں لائے گا۔”
بس، پھر کیا تھا! سب نے اپنی زبانوں پر تالے لگا لئے۔
آہستہ آہستہ چولہے کی آگ مدھم پڑ گئی۔ اسی دوران دو چار کتے بھی ادھر آ نکلے۔ جب کسی نے انہیں بھگانے کی کوشش نہ کی تو انہوں نے سمجھا کہ شاید مفت کا مال ہے۔ وہ احتیاط سے دیگ کے قریب آئے، دائیں بائیں دیکھا، کوئی حرکت نہ ہوئی، کوئی ڈنڈا نہ اٹھا، تو انہوں نے اطمینان سے دیگ پر دھاوا بول دیا۔
دیگ الٹ گئی۔
شودے خاموش بیٹھے تماشا دیکھتے رہے، کیونکہ ان کے ذہنوں پر صرف ایک ہی بات سوار تھی کہ "زبان کھولی تو مرچ واجب ہو جائے گی۔”
کسی نے حرکت نہ کی، اور کتے آرام سے سارے سری پائے کھا گئے۔
اتفاق سے اسی رات بادشاہ کے محل میں چوری ہو گئی۔ صبح سویرے پورے شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ بادشاہ کے محل میں چوری معمولی واقعہ تو تھا نہیں، اس لئے کوتوال اور سپاہی ہر طرف پھیل گئے، ناکے لگا دیے گئے۔
اسی دوران کسی نے اطلاع دی کہ شہر کے ایک نکڑ پر پانچ سات آدمیوں کی ٹولی خاموش بیٹھی ہے، شاید چوری کا مال تقسیم کر کے سکون سے بیٹھی ہو۔
کوتوال فوراً اپنے سپاہیوں سمیت وہاں پہنچا۔ پوچھ گچھ کی، مگر کسی نے زبان نہ کھولی۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہی چور ہیں۔ سب کو گرفتار کرکے بادشاہ کے دربار میں پیش کر دیا گیا۔
دربار میں سوال پر سوال ہوئے، مگر کسی نے جواب نہ دیا، کیونکہ ان کے ذہن میں اب بھی یہی شرط زندہ تھی کہ بولنے والا مرچ لائے گا۔
جب کسی نے کچھ نہ کہا تو بادشاہ نے انہیں پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا۔
پورے شہر میں منادی کرا دی گئی کہ شاہی چور پکڑے جا چکے ہیں اور انہیں سرِعام پھانسی دی جائے گی۔
لوگ جوق در جوق تماشا دیکھنے جمع ہو گئے۔
جب ایک شودے کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیا گیا اور صرف چند لمحے باقی رہ گئے تو اچانک اسے احساس ہوا کہ اب جان جانے والی ہے۔
وہ زور سے چیخ اٹھا:
"میں چور نہیں ہوں… میں چور نہیں ہوں!”
بس، اس کے زبان کھولتے ہی نیچے کھڑے باقی تمام شودے ایک ساتھ چیخ پڑے:
"مرچ لاؤ… مرچ لاؤ… تم نے زبان کھول دی ہے!”
یہ شور و غوغا سن کر بادشاہ سلامت، تمام درباری اور وہاں موجود لوگ حیران و ششدر رہ گئے کہ آخر یہ کیا کہہ رہے ہیں اور اب اچانک ان کی زبان کیوں کھل گئی؟
بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ شودے کے گلے سے پھانسی کا پھندا اتار دیا جائے اور پورا ماجرا دریافت کیا جائے۔
شودے نے نہایت ادب سے ساری داستان بیان کر دی کہ یہ ہماری آپس کی ایک شرط تھی۔ میں نے زبان کھول کر وہ شرط ہار دی ہے، اس لئے اب مرچ لانا مجھ پر واجب ہو گیا ہے۔
بادشاہ اور تمام درباری دم بخود رہ گئے۔ کچھ دیر بعد ایک وزیر نے پوچھا:
"بھائی، وہ سری پائے، جو پک رہے تھے، اب کہاں ہیں؟”
شودے نے نہایت معصومیت سے جواب دیا:
"وہ تو کتے پہلے ہی چٹ کر گئے۔”
وزیر نے حیرت سے پوچھا:
"پھر اب مرچ کی کیا ضرورت ہے؟”
یہ سوال آج بھی اس کشمیری لوک کہانی میں اسی طرح زندہ ہے، جس طرح شودوں کے زمانے میں تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہم آج تک خود بھی اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر سکے۔
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی اسی ٹولی کے شودے تھے، یا شاید اب بھی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں