شاعری

 

ساحلؔ عرفان شفیع

کھاگ بڈگام، کشمیر

جینے کے لئے ہر حال قدم آگے بڑھانا ہے
نکلنا ہے کمر بستہ ہنر اپنا دکھانا ہے
نہ منزل کی مسافت سے کبھی ڈرنا کبھی رُکنا
ہزاروں خوب ہوں لیکن تمہیں چلتے ہی جانا ہے
کبھی چھائوں کی نرمی تو کبھی سورج کی گرمی میں
سفر جاری ہی رکھنا تم قدم نہ لڑ کھڑانا ہے
دل پر سوز کا بہتر عمل ہے غمگساری بس
یہی پیغام اُلفت ہے زمانے کو سنانا ہے
ذرا سی بات پہ آخر کیوں رشتے توڑ دیتے ہو
تمہیں ہوش و خرد سے ہر ا ک رشتہ نبھانا ہے
تمہیں ساحلؔ تو موجوں سے اُلجھنا ہے سلجھنا ہے
تیرے اندر تو ساگر ہے جسے تو نے چلانا ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

مودی کے حق میں نعرے لگانا کشمیری نوجوانفہیم نذیر شاہ کو مہنگا پڑا، BJPکی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی: دہلی کے کناٹ پلیس میں اپوزیشن...

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

مودی کے حق میں نعرے لگانا کشمیری نوجوانفہیم نذیر شاہ کو مہنگا پڑا، BJPکی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی: دہلی کے کناٹ پلیس میں اپوزیشن...

شاعری

 

ساحلؔ عرفان شفیع

کھاگ بڈگام، کشمیر

جینے کے لئے ہر حال قدم آگے بڑھانا ہے
نکلنا ہے کمر بستہ ہنر اپنا دکھانا ہے
نہ منزل کی مسافت سے کبھی ڈرنا کبھی رُکنا
ہزاروں خوب ہوں لیکن تمہیں چلتے ہی جانا ہے
کبھی چھائوں کی نرمی تو کبھی سورج کی گرمی میں
سفر جاری ہی رکھنا تم قدم نہ لڑ کھڑانا ہے
دل پر سوز کا بہتر عمل ہے غمگساری بس
یہی پیغام اُلفت ہے زمانے کو سنانا ہے
ذرا سی بات پہ آخر کیوں رشتے توڑ دیتے ہو
تمہیں ہوش و خرد سے ہر ا ک رشتہ نبھانا ہے
تمہیں ساحلؔ تو موجوں سے اُلجھنا ہے سلجھنا ہے
تیرے اندر تو ساگر ہے جسے تو نے چلانا ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں