
ساحلؔ عرفان شفیع
کھاگ بڈگام، کشمیر
جینے کے لئے ہر حال قدم آگے بڑھانا ہے
نکلنا ہے کمر بستہ ہنر اپنا دکھانا ہے
نہ منزل کی مسافت سے کبھی ڈرنا کبھی رُکنا
ہزاروں خوب ہوں لیکن تمہیں چلتے ہی جانا ہے
کبھی چھائوں کی نرمی تو کبھی سورج کی گرمی میں
سفر جاری ہی رکھنا تم قدم نہ لڑ کھڑانا ہے
دل پر سوز کا بہتر عمل ہے غمگساری بس
یہی پیغام اُلفت ہے زمانے کو سنانا ہے
ذرا سی بات پہ آخر کیوں رشتے توڑ دیتے ہو
تمہیں ہوش و خرد سے ہر ا ک رشتہ نبھانا ہے
تمہیں ساحلؔ تو موجوں سے اُلجھنا ہے سلجھنا ہے
تیرے اندر تو ساگر ہے جسے تو نے چلانا ہے


