برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے ہر ہندوستانی کے لئےترقی کےبڑے مواقع

پیوش گوئل
مرکزی وزیر
تجارت و صنعت

آج سےانقلاب آفریں جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے (نافذ ہو رہا ہے،جس سے ہندوستان کی تقریباً تمام برآمدات کو برطانیہ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی ۔ اس معاہدے سے ملک کے چھوٹے کاروباروں، کسانوں، ماہی گیروں، اختراع کاروں، خواتین اور محنت کش صنعتوں کے لئے بے شمار بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ ہندوستان کا اب تک کا سب سے جامع آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)ہے، جو روزگار اور کاروبار کے وسیع مواقع پیدا کرکے خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی صنعت کاروں کو بتدریج صحت مند مسابقت کا موقع ملےگا، جس کے نتیجے میں عوام کو معیاری مصنوعات مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔ اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کے “وکست بھارت 2047’’کے وژن کو نمایاں تقویت ملے گی۔
کاروباری حلقوں میں اس معاہدے کے حوالے سے زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور برطانیہ کے لئے برآمداتی کھیپ روانہ کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ جواہرات اور زیورات کے برآمد کنندگان کو امید ہے کہ آئندہ تین برسوں میں برطانیہ کو ہندوستانی برآمدات 230 فیصد بڑھ کر5.2ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جبکہ انجینئرنگ مصنوعات کے برآمد کنندگان کو توقع ہے کہ اگلے چار سے پانچ برسوں میں ان کی برآمدات تقریباً دوگنی ہو کر 5.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

یہ باہمی مفاد کاانتہائی سود مند معاہدہ گزشتہ برس وزیر اعظم نریندر مودی اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی موجودگی میں طے پایا تھا۔ اس کے تحت تقریباً 99 فیصد ٹیرف کے زمروں میں درآمداتی محصولات فوری طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، جس کے دائرے میں تقریباً سو فیصد تجارتی مالیت کا احاطہ ہوتا ہے۔ اس پہل سے عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مسلسل بڑھتی ہوئی ہندوستانی برآمدات کے لئے بے شمار نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
نوجوانوں کی صلاحیت، عالمی مواقع
یہ عوام پر مرکوز آزاد تجارتی معاہدہ 15 جولائی سے نافذ ہوگا، جو ورلڈ یوتھ اسکلز ڈےبھی ہے۔ اسی روز 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسکل انڈیا مشن کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد نوجوانوں کو نہ صرف ہندوستان بھر میں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے، کردار ادا کرنے اور قیادت کے لئے تیار کرنا ہے۔
ہندوستانی نوجوانوں کے مفاد میں برطانیہ نے خدمات کے شعبے میں اپنی تاریخ کی جامع ترین رعایتوں میں سے ایک کاالتزام کیا ہے، جس کے تحت تمام بڑے خدماتی شعبوں اور ہندوستان کے برآمدات رخی137 ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی اور ضابطہ جاتی یقین دہانی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی سے متعلق خدمات، مالیاتی خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، صحت، تعلیم، انجینئرنگ، ٹیلی مواصلات اور مشاورتی خدمات فراہم کرنے والے ہندوستانی اداروں کو نمایاں فائدہ ہوگا۔

روزگار کے نئے مواقع
اس معاہدے سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ جواہرات و زیورات، ٹیکسٹائل، چمڑے اور جوتے سازی، نامیاتی کیمیکلز، پلاسٹک، آٹو پارٹس، دستکاری کی مصنوعات اور فوڈ پروسیسنگ جیسی محنت کش صنعتیں برآمداتی منڈیوں تک بہتر رسائی کے باعث اپنی سرگرمیوں کووسعت دیں گی۔
مجموعی طور پر،عالمی ویلیو چین تک رسائی اور مسابقتی صلاحیت میں اضافے کی بدولت سی ای ٹی اےسے ہندوستانی نوجوانوں کو وہ مہارتیں اور مواقع فراہم ہوں گے جن کی بدولت وہ بین الاقوامی منڈیوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اقتصادی ترقی کو آگے بڑھا سکیں گے۔
سی ای ٹی اے کا ایک اہم پہلو ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن بھی ہے۔ یہ تاریخی بندوبست، جو سی ای ٹی اے کے ساتھ ہی نافذ ہوگا، برطانیہ میں عارضی تقرری کے دوران ہندوستانی ملازمین اور ان کے آجروں کو دوہرے سماجی تحفظ (سوشل سکیورٹی) کی رقم ادا کرنے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔
اس سہولت سے 75 ہزار سے زائد ہندوستانی پیشہ ور افراد اور 900 سے زیادہ کمپنیاں مستفید ہوں گی، جبکہ بیرون ملک عارضی تعیناتی پر جانے والے ملازمین کو سماجی تحفظ کی سہولت بدستورحاصل رہے گی۔
مقامی پیداوار، عالمی فروخت
ہندوستانی کسانوں کو برطانیہ میں 37.5 ارب امریکی ڈالر مالیت کی زراعتی منڈی تک آسان رسائی حاصل ہوگی، جس سے دودھ اور دودھ کی مصنوعات، چائے، کافی، مصالحہ جات، پھل، سبزیاں، پھلوں کے رس، گوشت اور زراعتی پروسیس شدہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ برطانیہ کی تقریباً 95 فیصد زراعتی درآمدات ہندوستانی مصنوعات کے لئے ڈیوٹی فری دستیاب ہوں گی۔ تخمینہ ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اس بڑی منڈی کوہونے والی برآمدات میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہوگا، جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور زراعتی ویلیو چین میں وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں دودھ اور دودھ کی مصنوعات، سبزیاں، سیب، خوردنی تیل، جو، باجرہ، کوکنگ آئل اور دیگر حساس زراعتی مصنوعات کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ان اشیا کو حساس فہرست میں رکھا گیا ہے اور برطانیہ کو ان پر کسی بھی قسم کی چنگی کی رعایت نہیں دی گئی۔ اس فیصلے سے مودی حکومت کی اس حکمت عملی کی عکاسی ہوتی ہے جس میں خوراک تحفظ، اندرونی قیمتوں کے استحکام اور کمزور زراعت پیشہ برادریوں کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئےعالمی رسائی کی نئی راہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ سی ای ٹی اے میں اس شعبے کے لئے ایک الگ باب شامل کیا گیا ہے۔ مالی سال25-2024 میں ہندوستان کی مجموعی برآمدات میں ایس ایم ای کا حصہ8.45فیصد رہا تھا۔
اس معاہدے سےایس ایم ای کو تیز رفتار کسٹم کی کارروائی، ڈیجیٹل نظام اور کاغذ ی کارروائی سے پاک تجارت کے فروغ سمیت متعدد سہولتیں فراہم ہوں گی۔
ترجیحی منڈیوں تک رسائی کے علاوہ ایس ایم ای کو تجارت، تعلیم، مالیات، ڈیجیٹل مہارتوں، کاروباری بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم شعبوں میں بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور باہمی تال میل سے بھی فائدہ پہنچے گا۔
ماہی گیروں کے لئے اہم مواقع
سی ای ٹی اے ہندوستان کے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کے لئے بھی نہایت سودمند ثابت ہوگا، جو تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
منڈی تک بہتر رسائی اور برآمدات میں اضافے سے آندھرا پردیش، گجرات، کرناٹک، اڈیشہ اور مہاراشٹر کے ماہی گیروں کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ اس سے نہ صرف ہندوستان کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود، ان کے روزگار کے تحفظ اور ساحلی معیشت کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

خواتین کے لئے سنہری موقع
یہ تاریخی معاہدہ، جو روایتی آزاد تجارتی معاہدوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اس میں پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی میں خواتین کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے اور ان کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
دونوں ممالک نے منڈیوں اور ابھرتے ہوئے شعبوں تک خواتین کی رسائی بڑھانے، مالی شمولیت اور مالیاتی آگاہی کو فروغ دینے، کام کے مقامات پر مساوی مواقع یقینی بنانے اور ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں میں اضافہ کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
سی ای ٹی اے محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ہندوستان کی صلاحیتوں اور اس کے بلند عزائم پر اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ ایک ایسے نئے ہندوستان کاانعکاس ہے جو صرف عالمی تجارت میں شریک ہی نہیں بلکہ اس کی سمت متعین کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کسانوں، ماہی گیروں، مزدوروں، خواتین کاروباری شخصیات، خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کو بااختیار بنا کر یہ معاہدہ ملک کے ہر گوشے میں بسنے والے ہر ہندوستانی باشندے کے لئے ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے ہر ہندوستانی کے لئےترقی کےبڑے مواقع

پیوش گوئل
مرکزی وزیر
تجارت و صنعت

آج سےانقلاب آفریں جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے (نافذ ہو رہا ہے،جس سے ہندوستان کی تقریباً تمام برآمدات کو برطانیہ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی ۔ اس معاہدے سے ملک کے چھوٹے کاروباروں، کسانوں، ماہی گیروں، اختراع کاروں، خواتین اور محنت کش صنعتوں کے لئے بے شمار بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ ہندوستان کا اب تک کا سب سے جامع آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)ہے، جو روزگار اور کاروبار کے وسیع مواقع پیدا کرکے خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی صنعت کاروں کو بتدریج صحت مند مسابقت کا موقع ملےگا، جس کے نتیجے میں عوام کو معیاری مصنوعات مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔ اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کے “وکست بھارت 2047’’کے وژن کو نمایاں تقویت ملے گی۔
کاروباری حلقوں میں اس معاہدے کے حوالے سے زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور برطانیہ کے لئے برآمداتی کھیپ روانہ کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ جواہرات اور زیورات کے برآمد کنندگان کو امید ہے کہ آئندہ تین برسوں میں برطانیہ کو ہندوستانی برآمدات 230 فیصد بڑھ کر5.2ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جبکہ انجینئرنگ مصنوعات کے برآمد کنندگان کو توقع ہے کہ اگلے چار سے پانچ برسوں میں ان کی برآمدات تقریباً دوگنی ہو کر 5.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

یہ باہمی مفاد کاانتہائی سود مند معاہدہ گزشتہ برس وزیر اعظم نریندر مودی اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی موجودگی میں طے پایا تھا۔ اس کے تحت تقریباً 99 فیصد ٹیرف کے زمروں میں درآمداتی محصولات فوری طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، جس کے دائرے میں تقریباً سو فیصد تجارتی مالیت کا احاطہ ہوتا ہے۔ اس پہل سے عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مسلسل بڑھتی ہوئی ہندوستانی برآمدات کے لئے بے شمار نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
نوجوانوں کی صلاحیت، عالمی مواقع
یہ عوام پر مرکوز آزاد تجارتی معاہدہ 15 جولائی سے نافذ ہوگا، جو ورلڈ یوتھ اسکلز ڈےبھی ہے۔ اسی روز 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسکل انڈیا مشن کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد نوجوانوں کو نہ صرف ہندوستان بھر میں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے، کردار ادا کرنے اور قیادت کے لئے تیار کرنا ہے۔
ہندوستانی نوجوانوں کے مفاد میں برطانیہ نے خدمات کے شعبے میں اپنی تاریخ کی جامع ترین رعایتوں میں سے ایک کاالتزام کیا ہے، جس کے تحت تمام بڑے خدماتی شعبوں اور ہندوستان کے برآمدات رخی137 ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی اور ضابطہ جاتی یقین دہانی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی سے متعلق خدمات، مالیاتی خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، صحت، تعلیم، انجینئرنگ، ٹیلی مواصلات اور مشاورتی خدمات فراہم کرنے والے ہندوستانی اداروں کو نمایاں فائدہ ہوگا۔

روزگار کے نئے مواقع
اس معاہدے سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ جواہرات و زیورات، ٹیکسٹائل، چمڑے اور جوتے سازی، نامیاتی کیمیکلز، پلاسٹک، آٹو پارٹس، دستکاری کی مصنوعات اور فوڈ پروسیسنگ جیسی محنت کش صنعتیں برآمداتی منڈیوں تک بہتر رسائی کے باعث اپنی سرگرمیوں کووسعت دیں گی۔
مجموعی طور پر،عالمی ویلیو چین تک رسائی اور مسابقتی صلاحیت میں اضافے کی بدولت سی ای ٹی اےسے ہندوستانی نوجوانوں کو وہ مہارتیں اور مواقع فراہم ہوں گے جن کی بدولت وہ بین الاقوامی منڈیوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اقتصادی ترقی کو آگے بڑھا سکیں گے۔
سی ای ٹی اے کا ایک اہم پہلو ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن بھی ہے۔ یہ تاریخی بندوبست، جو سی ای ٹی اے کے ساتھ ہی نافذ ہوگا، برطانیہ میں عارضی تقرری کے دوران ہندوستانی ملازمین اور ان کے آجروں کو دوہرے سماجی تحفظ (سوشل سکیورٹی) کی رقم ادا کرنے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔
اس سہولت سے 75 ہزار سے زائد ہندوستانی پیشہ ور افراد اور 900 سے زیادہ کمپنیاں مستفید ہوں گی، جبکہ بیرون ملک عارضی تعیناتی پر جانے والے ملازمین کو سماجی تحفظ کی سہولت بدستورحاصل رہے گی۔
مقامی پیداوار، عالمی فروخت
ہندوستانی کسانوں کو برطانیہ میں 37.5 ارب امریکی ڈالر مالیت کی زراعتی منڈی تک آسان رسائی حاصل ہوگی، جس سے دودھ اور دودھ کی مصنوعات، چائے، کافی، مصالحہ جات، پھل، سبزیاں، پھلوں کے رس، گوشت اور زراعتی پروسیس شدہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ برطانیہ کی تقریباً 95 فیصد زراعتی درآمدات ہندوستانی مصنوعات کے لئے ڈیوٹی فری دستیاب ہوں گی۔ تخمینہ ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اس بڑی منڈی کوہونے والی برآمدات میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہوگا، جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور زراعتی ویلیو چین میں وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں دودھ اور دودھ کی مصنوعات، سبزیاں، سیب، خوردنی تیل، جو، باجرہ، کوکنگ آئل اور دیگر حساس زراعتی مصنوعات کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ان اشیا کو حساس فہرست میں رکھا گیا ہے اور برطانیہ کو ان پر کسی بھی قسم کی چنگی کی رعایت نہیں دی گئی۔ اس فیصلے سے مودی حکومت کی اس حکمت عملی کی عکاسی ہوتی ہے جس میں خوراک تحفظ، اندرونی قیمتوں کے استحکام اور کمزور زراعت پیشہ برادریوں کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئےعالمی رسائی کی نئی راہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ سی ای ٹی اے میں اس شعبے کے لئے ایک الگ باب شامل کیا گیا ہے۔ مالی سال25-2024 میں ہندوستان کی مجموعی برآمدات میں ایس ایم ای کا حصہ8.45فیصد رہا تھا۔
اس معاہدے سےایس ایم ای کو تیز رفتار کسٹم کی کارروائی، ڈیجیٹل نظام اور کاغذ ی کارروائی سے پاک تجارت کے فروغ سمیت متعدد سہولتیں فراہم ہوں گی۔
ترجیحی منڈیوں تک رسائی کے علاوہ ایس ایم ای کو تجارت، تعلیم، مالیات، ڈیجیٹل مہارتوں، کاروباری بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم شعبوں میں بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور باہمی تال میل سے بھی فائدہ پہنچے گا۔
ماہی گیروں کے لئے اہم مواقع
سی ای ٹی اے ہندوستان کے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کے لئے بھی نہایت سودمند ثابت ہوگا، جو تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
منڈی تک بہتر رسائی اور برآمدات میں اضافے سے آندھرا پردیش، گجرات، کرناٹک، اڈیشہ اور مہاراشٹر کے ماہی گیروں کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ اس سے نہ صرف ہندوستان کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود، ان کے روزگار کے تحفظ اور ساحلی معیشت کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

خواتین کے لئے سنہری موقع
یہ تاریخی معاہدہ، جو روایتی آزاد تجارتی معاہدوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اس میں پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی میں خواتین کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے اور ان کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
دونوں ممالک نے منڈیوں اور ابھرتے ہوئے شعبوں تک خواتین کی رسائی بڑھانے، مالی شمولیت اور مالیاتی آگاہی کو فروغ دینے، کام کے مقامات پر مساوی مواقع یقینی بنانے اور ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں میں اضافہ کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
سی ای ٹی اے محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ہندوستان کی صلاحیتوں اور اس کے بلند عزائم پر اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ ایک ایسے نئے ہندوستان کاانعکاس ہے جو صرف عالمی تجارت میں شریک ہی نہیں بلکہ اس کی سمت متعین کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کسانوں، ماہی گیروں، مزدوروں، خواتین کاروباری شخصیات، خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کو بااختیار بنا کر یہ معاہدہ ملک کے ہر گوشے میں بسنے والے ہر ہندوستانی باشندے کے لئے ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں