اردو میڈیا: زبان کا بحران نہیں، ضمیر کا سوال

 

 

قاری اسحاق گورا

قلم جب خاموش ہو جائے تو لفظ زندہ رہ کر بھی بے معنی ہو جاتے ہیں، اور جب لفظ اپنا وزن کھو دیں تو قومیں صرف خبریں پڑھتی ہیں، تاریخ نہیں بناتیں۔”کئی روز سے دل کے اندر ایک بے نام سی بے چینی جنم لے رہی تھی۔ روزانہ اخبارات کے صفحات پلٹے، ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر نظریں دوڑائیں، ڈیجیٹل میڈیا کی رفتار کو دیکھا، سوشل میڈیا کے شور میں سچائی کی آواز تلاش کی، تو یوں محسوس ہوا جیسے خبر کی پیشانی پر سوالیہ نشان بڑھتے جا رہے ہیں اور صحافت کے چہرے سے وہ وقار آہستہ آہستہ رخصت ہوتا جا رہا ہے جو کبھی اس کا سب سے قیمتی زیور تھا۔ یہ مضمون کسی ادارے، کسی صحافی یا کسی زبان کو ہدف بنا کر نہیں لکھا جا رہا، بلکہ ایک دردِ دل کی ترجمانی ہے۔ اس درد کی بنیاد نفرت نہیں، خیر خواہی ہے؛ مخالفت نہیں، اصلاح کی تمنا ہے۔ جب انسان کسی شے سے محبت کرتا ہے تو اس کی خاموشی بھی اس کے حق میں ظلم بن جاتی ہے۔ شاید اسی احساس نے قلم کو مجبور کیا کہ وہ چند تلخ مگر ضروری حقیقتوں کو کاغذ پر منتقل کرے۔
آج ہندوستان کا میڈیا ایک ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں خبر سے زیادہ خبر کی نمائش اہم ہو گئی ہے۔ کبھی صحافت کا مقصد سچائی کو عوام تک پہنچانا تھا، آج اکثر جگہ سچائی کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سنسنی میں تبدیل ہو جائے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا الیکٹرانک میڈیا یا پوری ہندی صحافت اپنی عظمت کھو چکی ہے، کیونکہ آج بھی بہت سے دیانت دار صحافی اور معتبر ادارے موجود ہیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ایک بڑا حصہ ریٹنگ، اشتہارات، سیاسی وابستگی اور فوری شہرت کی دوڑ میں صحافتی اصولوں سے دور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ جب خبر کا معیار مارکیٹ طے کرنے لگے تو قلم کی آزادی خود بخود محدود ہو جاتی ہے۔خبر کا سب سے بڑا حسن اس کی غیر جانبداری ہے۔ اگر خبر لکھنے والا پہلے فیصلہ کر لے اور بعد میں دلیل تلاش کرے تو وہ صحافت نہیں، وکالت بن جاتی ہے۔ اگر اینکر عدالت کا کردار ادا کرنے لگے، اور اسکرین انصاف کی جگہ تماشا بن جائے، تو پھر عوام کے اعتماد کا چراغ مدھم ہونا لازمی ہے۔
افسوس کی بات یہ نہیں کہ میڈیا پر سوال اٹھ رہے ہیں؛ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کا اعتماد سوال بن گیا ہے۔ اعتماد ایک ایسا سرمایہ ہے جو برسوں میں بنتا ہے اور لمحوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں اردو میڈیا کی طرف نگاہ جاتی ہے تو دل کو کچھ اطمینان ضرور ملتا ہے۔ آج بھی اردو اخبارات اور رسائل میں سنجیدگی، تہذیب، شائستگی اور فکری وقار کی جھلک باقی ہے۔ زبان کا ادب، الفاظ کی نزاکت اور اندازِ بیان کی متانت اردو صحافت کی ایسی میراث ہے جس پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔لیکن محبت کا تقاضا صرف تعریف نہیں، احتساب بھی ہے۔
اردو میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ اجتماعی حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ اردو پڑھنے والے لاکھوں ہیں، اردو سے محبت کرنے والے کروڑوں ہیں، مگر اردو کے لئے مستقل اور منظم کام کرنے والے بہت کم ہیں۔ ہم زبان سے عشق کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر اس کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ کم ڈالتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی نسل موبائل پر زیادہ پڑھتی ہے، کاغذ پر کم۔ وہ مختصر ویڈیو دیکھتی ہے، طویل مضمون کم پڑھتی ہے۔ وہ پوڈکاسٹ سنتی ہے، لیکچر کم سنتی ہے۔ دنیا کے مزاج بدل چکے ہیں، مگر ہم نے اپنی پیشکش کے انداز کو اسی رفتار سے نہیں بدلا۔
زبانیں صرف ماضی کے سہارے زندہ نہیں رہتیں؛ وہ ہر دور میں خود کو نئے سانچے میں ڈھالتی ہیں۔ اگر اردو اپنی اصل برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صحافت، تحقیقی صحافت، ویڈیو جرنلزم اور عالمی ابلاغ کے میدان میں بھرپور قدم نہیں رکھے گی تو اس کی مٹھاس برقرار رہے گی، مگر اس کی رسائی محدود ہو جائے گی۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ زبان کا اصل دشمن دوسری زبان نہیں ہوتی، بلکہ اپنے لوگوں کی بے عملی ہوتی ہے۔ دشمن زبان کو باہر سے کمزور کرتا ہے، لیکن غفلت اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اردو کی سب سے بڑی طاقت اس کی مٹھاس نہیں، اس کا مزاج ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے اختلاف کو بھی ادب کے دائرے میں رکھا، اور تنقید کو بھی تہذیب کا لباس پہنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت نے ہمیشہ خبر کے ساتھ فکر بھی دی، اور اطلاع کے ساتھ تربیت بھی۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس ماضی پر فخر کرتے رہنا کافی ہے؟
ہرگز نہیں۔
دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے۔ صحافت اب صرف اخبار کے چند صفحات یا ٹیلی ویژن کے چند گھنٹوں تک محدود نہیں رہی۔ آج ایک موبائل فون پورا نیوز روم بن چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خبر لکھ رہی ہے، الگورتھم یہ طے کر رہے ہیں کہ کون سی خبر کس شخص تک پہنچے گی، اور سوشل میڈیا چند لمحوں میں ایک معمولی واقعے کو عالمی بحث بنا دیتا ہے۔ایسے دور میں اگر اردو میڈیا صرف ماضی کی یادوں میں محو رہے گا تو یہ زبان کی خدمت نہیں، اس سے ناانصافی ہوگی۔ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر اردو کو وہ مقام کیوں نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھی؟
کیا اس کی وجہ صرف وسائل کی کمی ہے؟
نہیں۔
کیا اس کی وجہ صرف حکومتیں ہیں؟
نہیں۔
کیا اس کی وجہ صرف دوسری زبانوں کا فروغ ہے؟
ہرگز نہیں۔
اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے محبت زیادہ کی، منصوبہ بندی کم کی؛ جذبات زیادہ دکھائے، جدوجہد کم کی؛ زبان پر فخر زیادہ کیا، زبان کے لئے عملی سرمایہ کاری کم کی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی بے شمار لوگ اردو سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، مگر معیاری اردو اخبار خریدنے، کسی اردو رسالے کی سالانہ رکنیت لینے، اردو صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنے یا نئی نسل کو اردو لکھنے پڑھنے کی ترغیب دینے میں وہ جوش نظر نہیں آتا۔
یاد رکھیے!
زبانیں نعروں سے نہیں، قاری سے زندہ رہتی ہیں۔ادارے تقریروں سے نہیں، تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔اور صحافت صرف صحافیوں کی ذمہ داری نہیں، قارئین کی امانت بھی ہوتی ہے۔
آج اردو میڈیا کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔
صرف مذہبی خبروں تک محدود رہنا کافی نہیں، بلکہ معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی،عدلیہ، ماحولیات، بین الاقوامی سیاست، تعلیم، نوجوانوں کے مسائل اور روزگار جیسے موضوعات پر بھی مضبوط اور معیاری صحافت کرنی ہوگی۔اردو اخبار اگر صرف ماضی کی تاریخ سنائے گا تو نئی نسل اسے احترام سے ضرور دیکھے گی، لیکن اپنی ضرورت نہیں سمجھے گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اپنے ماضی کی خوشبو کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کی زبان بھی بنے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بعض اردو اداروں میں پیشہ ورانہ تربیت، جدید صحافتی مہارت اور ڈیجیٹل حکمت عملی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں اس کمی کو شکایت نہیں، ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اردو میڈیا نئی نسل کو صرف قاری نہ بنائے، بلکہ لکھنے والا، تحقیق کرنے والا، ویڈیو جرنلسٹ، ڈیجیٹل ایڈیٹر اور عالمی معیار کا صحافی بھی تیار کرے۔

کیونکہ جو زبان تحقیق سے دور ہو جاتی ہے، وہ صرف روایت بن کر رہ جاتی ہے۔
اور جو زبان تحقیق کے ساتھ چلتی ہے، وہ تہذیب کی رہنما بن جاتی ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنی ہوگی۔
اگر آج کسی نوجوان کو اردو میں روشن مستقبل نظر نہیں آتا تو اس میں صرف اس نوجوان کا قصور نہیں، بلکہ ہمارے اداروں، ہماری منصوبہ بندی اور ہماری اجتماعی بے توجہی کا بھی حصہ ہے۔
ہمیں ایسے پلیٹ فارم بنانے ہوں گے جہاں اردو صرف ادب کی زبان نہ رہے، بلکہ علم، معیشت، تحقیق، میڈیا، قانون، تجارت اور ٹیکنالوجی کی زبان بھی بنے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں اپنے حالات کے مطابق خود کو ایمانداری کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
اپنی شناخت کھوئے بغیر جدید بننا ہی اصل کامیابی ہے۔
اگر دنیا مصنوعی ذہانت استعمال کر رہی ہے تو اردو بھی کرے، مگر سچائی کے ساتھ۔
اگر دنیا ڈیجیٹل صحافت کی طرف جا رہی ہے تو اردو بھی جائے، مگر اپنی تہذیب کے ساتھ۔
اگر دنیا رفتار چاہتی ہے تو اردو بھی رفتار اختیار کرے، مگر تحقیق کی قیمت پر نہیں۔
کیونکہ خبر جلدی پہنچ جانا کامیابی نہیں، درست پہنچنا کامیابی ہے۔
آخر میں صرف ایک بات…
اردو کسی رحم کی محتاج نہیں۔
اردو کسی سفارش کی طالب نہیں۔
اردو کو صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اس سے محبت کے دعوے ہی نہ کریں، بلکہ اس محبت کی قیمت بھی ادا کریں۔
قلم خریدیں، اخبار خریدیں، کتاب پڑھیں، نئی نسل کو اردو سکھائیں، جدید میڈیا میں اردو کو جگہ دیں، اور ہر اس کوشش کا ساتھ دیں جو اس زبان کو آنے والی نسلوں تک وقار کے ساتھ پہنچا سکے۔
یاد رکھیے…
زبانیں اس دن نہیں مرتیں جب لوگ انہیں بولنا چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ اس دن کمزور پڑ جاتی ہیں جب اہلِ زبان ان کے لئے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری کو محسوس کر لیا، تو اردو صرف ایک زبان نہیں رہے گی، بلکہ آنے والے ہندوستان کی فکری، تہذیبی اور صحافتی شناخت بن کر ابھرے گی۔اور اگر ہم نے آج بھی وقت کی آواز نہ سنی، تو آنے والی نسلیں شاید اردو سے محبت تو کریں گی، مگر اسے اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکیں گی۔یہی وہ احساس ہے جس نے قلم کو خاموش رہنے نہیں دیا۔
اور شاید یہی احساس اردو کے روشن مستقبل کی پہلی کرن بھی ثابت ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

اردو میڈیا: زبان کا بحران نہیں، ضمیر کا سوال

 

 

قاری اسحاق گورا

قلم جب خاموش ہو جائے تو لفظ زندہ رہ کر بھی بے معنی ہو جاتے ہیں، اور جب لفظ اپنا وزن کھو دیں تو قومیں صرف خبریں پڑھتی ہیں، تاریخ نہیں بناتیں۔”کئی روز سے دل کے اندر ایک بے نام سی بے چینی جنم لے رہی تھی۔ روزانہ اخبارات کے صفحات پلٹے، ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر نظریں دوڑائیں، ڈیجیٹل میڈیا کی رفتار کو دیکھا، سوشل میڈیا کے شور میں سچائی کی آواز تلاش کی، تو یوں محسوس ہوا جیسے خبر کی پیشانی پر سوالیہ نشان بڑھتے جا رہے ہیں اور صحافت کے چہرے سے وہ وقار آہستہ آہستہ رخصت ہوتا جا رہا ہے جو کبھی اس کا سب سے قیمتی زیور تھا۔ یہ مضمون کسی ادارے، کسی صحافی یا کسی زبان کو ہدف بنا کر نہیں لکھا جا رہا، بلکہ ایک دردِ دل کی ترجمانی ہے۔ اس درد کی بنیاد نفرت نہیں، خیر خواہی ہے؛ مخالفت نہیں، اصلاح کی تمنا ہے۔ جب انسان کسی شے سے محبت کرتا ہے تو اس کی خاموشی بھی اس کے حق میں ظلم بن جاتی ہے۔ شاید اسی احساس نے قلم کو مجبور کیا کہ وہ چند تلخ مگر ضروری حقیقتوں کو کاغذ پر منتقل کرے۔
آج ہندوستان کا میڈیا ایک ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں خبر سے زیادہ خبر کی نمائش اہم ہو گئی ہے۔ کبھی صحافت کا مقصد سچائی کو عوام تک پہنچانا تھا، آج اکثر جگہ سچائی کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سنسنی میں تبدیل ہو جائے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا الیکٹرانک میڈیا یا پوری ہندی صحافت اپنی عظمت کھو چکی ہے، کیونکہ آج بھی بہت سے دیانت دار صحافی اور معتبر ادارے موجود ہیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ایک بڑا حصہ ریٹنگ، اشتہارات، سیاسی وابستگی اور فوری شہرت کی دوڑ میں صحافتی اصولوں سے دور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ جب خبر کا معیار مارکیٹ طے کرنے لگے تو قلم کی آزادی خود بخود محدود ہو جاتی ہے۔خبر کا سب سے بڑا حسن اس کی غیر جانبداری ہے۔ اگر خبر لکھنے والا پہلے فیصلہ کر لے اور بعد میں دلیل تلاش کرے تو وہ صحافت نہیں، وکالت بن جاتی ہے۔ اگر اینکر عدالت کا کردار ادا کرنے لگے، اور اسکرین انصاف کی جگہ تماشا بن جائے، تو پھر عوام کے اعتماد کا چراغ مدھم ہونا لازمی ہے۔
افسوس کی بات یہ نہیں کہ میڈیا پر سوال اٹھ رہے ہیں؛ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کا اعتماد سوال بن گیا ہے۔ اعتماد ایک ایسا سرمایہ ہے جو برسوں میں بنتا ہے اور لمحوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں اردو میڈیا کی طرف نگاہ جاتی ہے تو دل کو کچھ اطمینان ضرور ملتا ہے۔ آج بھی اردو اخبارات اور رسائل میں سنجیدگی، تہذیب، شائستگی اور فکری وقار کی جھلک باقی ہے۔ زبان کا ادب، الفاظ کی نزاکت اور اندازِ بیان کی متانت اردو صحافت کی ایسی میراث ہے جس پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔لیکن محبت کا تقاضا صرف تعریف نہیں، احتساب بھی ہے۔
اردو میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ اجتماعی حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ اردو پڑھنے والے لاکھوں ہیں، اردو سے محبت کرنے والے کروڑوں ہیں، مگر اردو کے لئے مستقل اور منظم کام کرنے والے بہت کم ہیں۔ ہم زبان سے عشق کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر اس کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ کم ڈالتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی نسل موبائل پر زیادہ پڑھتی ہے، کاغذ پر کم۔ وہ مختصر ویڈیو دیکھتی ہے، طویل مضمون کم پڑھتی ہے۔ وہ پوڈکاسٹ سنتی ہے، لیکچر کم سنتی ہے۔ دنیا کے مزاج بدل چکے ہیں، مگر ہم نے اپنی پیشکش کے انداز کو اسی رفتار سے نہیں بدلا۔
زبانیں صرف ماضی کے سہارے زندہ نہیں رہتیں؛ وہ ہر دور میں خود کو نئے سانچے میں ڈھالتی ہیں۔ اگر اردو اپنی اصل برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صحافت، تحقیقی صحافت، ویڈیو جرنلزم اور عالمی ابلاغ کے میدان میں بھرپور قدم نہیں رکھے گی تو اس کی مٹھاس برقرار رہے گی، مگر اس کی رسائی محدود ہو جائے گی۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ زبان کا اصل دشمن دوسری زبان نہیں ہوتی، بلکہ اپنے لوگوں کی بے عملی ہوتی ہے۔ دشمن زبان کو باہر سے کمزور کرتا ہے، لیکن غفلت اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اردو کی سب سے بڑی طاقت اس کی مٹھاس نہیں، اس کا مزاج ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے اختلاف کو بھی ادب کے دائرے میں رکھا، اور تنقید کو بھی تہذیب کا لباس پہنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت نے ہمیشہ خبر کے ساتھ فکر بھی دی، اور اطلاع کے ساتھ تربیت بھی۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس ماضی پر فخر کرتے رہنا کافی ہے؟
ہرگز نہیں۔
دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے۔ صحافت اب صرف اخبار کے چند صفحات یا ٹیلی ویژن کے چند گھنٹوں تک محدود نہیں رہی۔ آج ایک موبائل فون پورا نیوز روم بن چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خبر لکھ رہی ہے، الگورتھم یہ طے کر رہے ہیں کہ کون سی خبر کس شخص تک پہنچے گی، اور سوشل میڈیا چند لمحوں میں ایک معمولی واقعے کو عالمی بحث بنا دیتا ہے۔ایسے دور میں اگر اردو میڈیا صرف ماضی کی یادوں میں محو رہے گا تو یہ زبان کی خدمت نہیں، اس سے ناانصافی ہوگی۔ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر اردو کو وہ مقام کیوں نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھی؟
کیا اس کی وجہ صرف وسائل کی کمی ہے؟
نہیں۔
کیا اس کی وجہ صرف حکومتیں ہیں؟
نہیں۔
کیا اس کی وجہ صرف دوسری زبانوں کا فروغ ہے؟
ہرگز نہیں۔
اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے محبت زیادہ کی، منصوبہ بندی کم کی؛ جذبات زیادہ دکھائے، جدوجہد کم کی؛ زبان پر فخر زیادہ کیا، زبان کے لئے عملی سرمایہ کاری کم کی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی بے شمار لوگ اردو سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، مگر معیاری اردو اخبار خریدنے، کسی اردو رسالے کی سالانہ رکنیت لینے، اردو صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنے یا نئی نسل کو اردو لکھنے پڑھنے کی ترغیب دینے میں وہ جوش نظر نہیں آتا۔
یاد رکھیے!
زبانیں نعروں سے نہیں، قاری سے زندہ رہتی ہیں۔ادارے تقریروں سے نہیں، تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔اور صحافت صرف صحافیوں کی ذمہ داری نہیں، قارئین کی امانت بھی ہوتی ہے۔
آج اردو میڈیا کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔
صرف مذہبی خبروں تک محدود رہنا کافی نہیں، بلکہ معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی،عدلیہ، ماحولیات، بین الاقوامی سیاست، تعلیم، نوجوانوں کے مسائل اور روزگار جیسے موضوعات پر بھی مضبوط اور معیاری صحافت کرنی ہوگی۔اردو اخبار اگر صرف ماضی کی تاریخ سنائے گا تو نئی نسل اسے احترام سے ضرور دیکھے گی، لیکن اپنی ضرورت نہیں سمجھے گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اپنے ماضی کی خوشبو کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کی زبان بھی بنے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بعض اردو اداروں میں پیشہ ورانہ تربیت، جدید صحافتی مہارت اور ڈیجیٹل حکمت عملی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں اس کمی کو شکایت نہیں، ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اردو میڈیا نئی نسل کو صرف قاری نہ بنائے، بلکہ لکھنے والا، تحقیق کرنے والا، ویڈیو جرنلسٹ، ڈیجیٹل ایڈیٹر اور عالمی معیار کا صحافی بھی تیار کرے۔

کیونکہ جو زبان تحقیق سے دور ہو جاتی ہے، وہ صرف روایت بن کر رہ جاتی ہے۔
اور جو زبان تحقیق کے ساتھ چلتی ہے، وہ تہذیب کی رہنما بن جاتی ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنی ہوگی۔
اگر آج کسی نوجوان کو اردو میں روشن مستقبل نظر نہیں آتا تو اس میں صرف اس نوجوان کا قصور نہیں، بلکہ ہمارے اداروں، ہماری منصوبہ بندی اور ہماری اجتماعی بے توجہی کا بھی حصہ ہے۔
ہمیں ایسے پلیٹ فارم بنانے ہوں گے جہاں اردو صرف ادب کی زبان نہ رہے، بلکہ علم، معیشت، تحقیق، میڈیا، قانون، تجارت اور ٹیکنالوجی کی زبان بھی بنے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں اپنے حالات کے مطابق خود کو ایمانداری کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
اپنی شناخت کھوئے بغیر جدید بننا ہی اصل کامیابی ہے۔
اگر دنیا مصنوعی ذہانت استعمال کر رہی ہے تو اردو بھی کرے، مگر سچائی کے ساتھ۔
اگر دنیا ڈیجیٹل صحافت کی طرف جا رہی ہے تو اردو بھی جائے، مگر اپنی تہذیب کے ساتھ۔
اگر دنیا رفتار چاہتی ہے تو اردو بھی رفتار اختیار کرے، مگر تحقیق کی قیمت پر نہیں۔
کیونکہ خبر جلدی پہنچ جانا کامیابی نہیں، درست پہنچنا کامیابی ہے۔
آخر میں صرف ایک بات…
اردو کسی رحم کی محتاج نہیں۔
اردو کسی سفارش کی طالب نہیں۔
اردو کو صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اس سے محبت کے دعوے ہی نہ کریں، بلکہ اس محبت کی قیمت بھی ادا کریں۔
قلم خریدیں، اخبار خریدیں، کتاب پڑھیں، نئی نسل کو اردو سکھائیں، جدید میڈیا میں اردو کو جگہ دیں، اور ہر اس کوشش کا ساتھ دیں جو اس زبان کو آنے والی نسلوں تک وقار کے ساتھ پہنچا سکے۔
یاد رکھیے…
زبانیں اس دن نہیں مرتیں جب لوگ انہیں بولنا چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ اس دن کمزور پڑ جاتی ہیں جب اہلِ زبان ان کے لئے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری کو محسوس کر لیا، تو اردو صرف ایک زبان نہیں رہے گی، بلکہ آنے والے ہندوستان کی فکری، تہذیبی اور صحافتی شناخت بن کر ابھرے گی۔اور اگر ہم نے آج بھی وقت کی آواز نہ سنی، تو آنے والی نسلیں شاید اردو سے محبت تو کریں گی، مگر اسے اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکیں گی۔یہی وہ احساس ہے جس نے قلم کو خاموش رہنے نہیں دیا۔
اور شاید یہی احساس اردو کے روشن مستقبل کی پہلی کرن بھی ثابت ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں