
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
سری نگر
قرآنِ حکیم، سورۂ توبہ سے ماخوذ
تمام انبیاء و رسل میں یہ فضیلت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا: (1) بعثتِ خصوصی، (2) بعثتِ عمومی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہر پیغمبر کو ایک خاص علاقے اور خاص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم بنو اسماعیل کی طرف بھی رسول بن کر آئے اور قیامت تک کے لئے پوری دنیا کے تمام انسانوں کی طرف بھی۔
(1) آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ خصوصی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی بعثت مشرکینِ عرب یا بنو اسماعیل کی طرف تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اندر رہ کر خود ان کی زبان میں اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا اور ان پر آخری حد تک اتمامِ حجت بھی کر دیا۔
اسی ضمن میں پھر مشرکینِ عرب پر اللہ کے اس قدیم قانون کا نفاذ بھی عمل میں آیا کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جائے اور وہ رسول اپنی دعوت کے سلسلے میں اس قوم پر اتمامِ حجت کر دے، پھر اگر وہ قوم اپنے رسول کی دعوت کو رد کر دے تو اس پر عذابِ استیصال مسلط کر دیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں مشرکینِ عرب پر عذابِ استیصال کی نوعیت، معروضی حالات کے پیشِ نظر، پہلی قوموں کے مقابلے میں مختلف نظر آتی ہے۔ اس عذاب کی پہلی قسط غزوۂ بدر میں مشرکینِ مکہ کی ہزیمت و شکست کی صورت میں سامنے آئی، جبکہ دوسری اور آخری قسط کا ذکر سورۂ توبہ کے آغاز میں کیا گیا ہے۔
اپنی بعثتِ خصوصی کے حوالے سے آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ نمائے عرب میں دین کو غالب کر دیا، اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں اقامتِ دین کا عملی نقشہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو گیا۔
(2) بعثتِ عمومی
آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ عمومی پوری انسانیت کی طرف قیامت تک کے لئے ہے۔ اس سلسلے میں دعوت کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلحِ حدیبیہ (6 ہجری) کے بعد فرمایا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مبلغ یا داعی عرب سے باہر نہیں بھیجا، بلکہ تب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری توجہ جزیرۂ نمائے عرب تک مرکوز رکھی اور اپنے تمام وسائل اسی خطے میں دین کو غالب کرنے کے لئے صرف کیے۔
جوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلے میں ٹھوس کامیابی ملی، یعنی قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ فریقِ ثانی تسلیم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثتِ عمومی کے تحت دعوت کا آغاز کرتے ہوئے عرب سے باہر مختلف سلاطین و امراء کی طرف خطوط بھیجنے شروع کر دیے۔
اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن فرمانرواؤں کو خطوط لکھے، ان میں قیصرِ روم، ایران کے بادشاہ کسریٰ، مصر کے بادشاہ مقوقس، اور حبشہ کے فرمانروا نجاشی کے نام شامل ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انہی خطوط کے ردِّ عمل کے طور پر سلطنتِ روما کے ساتھ مسلمانوں کے ٹکراؤ کا آغاز ہوا، جس کا نتیجہ آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہی میں جنگِ موتہ اور غزوۂ تبوک کی صورت میں نکلا۔
ان تمام حالات و واقعات کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ عمومی سے ہے، جس کی دعوت کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیِ مبارک ہی میں ہو گیا تھا، اور پھر خطبۂ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر یہ فریضہ امت کے ہر فرد کی طرف منتقل فرما دیا۔
چنانچہ اب تا قیامِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان دعوت و تبلیغ اور اقامتِ دین کے لئے محنت و کوشش کا مکلف ہے۔


