بھارت-آسٹریلیا جوہری تعاون

بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دشمنی یا دائمی دوستی نہیں ہوتی، بلکہ قومی مفادات ہی ریاستوں کی خارجہ پالیسی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان یورینیم کی فراہمی سے متعلق حالیہ پیش رفت اسی حقیقت کا واضح اظہار ہے۔ ایک وقت تھا جب آسٹریلیا، بھارت کو یورینیم فروخت کرنے سے صاف انکار کرتا تھا، لیکن آج دونوں ممالک پرامن سول جوہری تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔2010 میں آسٹریلیا کی پالیسی یہ تھی کہ یورینیم صرف اُن ممالک کو برآمد کیا جائے گا جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (NPT) کے رکن ہوں۔ چونکہ بھارت اس معاہدے کا حصہ نہیں، اس لئے اس پر پابندی برقرار رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ عالمی سیاسی اور تزویراتی حالات تبدیل ہوئے، اور آسٹریلیا نے بھی اپنے مؤقف پر نظرثانی کی۔
اس تبدیلی کی بنیاد 2008 میں اس وقت پڑی جب نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) نے بھارت کو خصوصی رعایت دی، جس کے بعد اسے سول جوہری توانائی کے شعبے میں عالمی تعاون کی راہ میسر آئی۔ اگرچہ آسٹریلیا نے فوری طور پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی، لیکن 2011 میں اُس وقت کی لیبر حکومت نے بھارت کے ذمہ دارانہ جوہری ریکارڈ، سول اور عسکری جوہری پروگراموں کی علیحدگی اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے یورینیم برآمد کرنے کی پابندی ختم کر دی۔2014 میں دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون کا معاہدہ طے پایا، جس نے آسٹریلوی یورینیم کی بھارت کو فراہمی کے لئے قانونی بنیاد فراہم کی۔ اب وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران اس فریم ورک کو عملی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت آسٹریلیا سے درآمد کیا جانے والا یورینیم صرف بھارت کے سول جوہری توانائی پروگرام میں استعمال ہوگا اور بین الاقوامی حفاظتی ضوابط کے تابع رہے گا۔
یہ پیش رفت صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، اسٹریٹجک شراکت داری اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی توازن کی بھی عکاس ہے۔ آسٹریلیا دنیا کے سب سے بڑے یورینیم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ بھارت اپنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور صاف توانائی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے جوہری توانائی کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں یہ تعاون دونوں ممالک کے لئے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم اس معاہدے کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز رہیں گی۔ جوہری مواد کی فراہمی ہمیشہ حساس نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے، اس لئے شفافیت، بین الاقوامی نگرانی اور طے شدہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ یہ تعاون مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود رہے۔حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سفارت کاری میں اصولوں کے ساتھ ساتھ عملی ضرورتیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آسٹریلیا کی پالیسی میں تبدیلی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ بین الاقوامی اعتماد، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بدلتے ہوئے اسٹریٹجک تقاضے کئی برس پرانی پالیسیوں کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سول جوہری تعاون کا یہ نیا باب توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ اگر یہ تعاون مکمل شفافیت، بین الاقوامی ضوابط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے توانائی کے مستقبل کے لئے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

بھارت-آسٹریلیا جوہری تعاون

بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دشمنی یا دائمی دوستی نہیں ہوتی، بلکہ قومی مفادات ہی ریاستوں کی خارجہ پالیسی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان یورینیم کی فراہمی سے متعلق حالیہ پیش رفت اسی حقیقت کا واضح اظہار ہے۔ ایک وقت تھا جب آسٹریلیا، بھارت کو یورینیم فروخت کرنے سے صاف انکار کرتا تھا، لیکن آج دونوں ممالک پرامن سول جوہری تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔2010 میں آسٹریلیا کی پالیسی یہ تھی کہ یورینیم صرف اُن ممالک کو برآمد کیا جائے گا جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (NPT) کے رکن ہوں۔ چونکہ بھارت اس معاہدے کا حصہ نہیں، اس لئے اس پر پابندی برقرار رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ عالمی سیاسی اور تزویراتی حالات تبدیل ہوئے، اور آسٹریلیا نے بھی اپنے مؤقف پر نظرثانی کی۔
اس تبدیلی کی بنیاد 2008 میں اس وقت پڑی جب نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) نے بھارت کو خصوصی رعایت دی، جس کے بعد اسے سول جوہری توانائی کے شعبے میں عالمی تعاون کی راہ میسر آئی۔ اگرچہ آسٹریلیا نے فوری طور پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی، لیکن 2011 میں اُس وقت کی لیبر حکومت نے بھارت کے ذمہ دارانہ جوہری ریکارڈ، سول اور عسکری جوہری پروگراموں کی علیحدگی اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے یورینیم برآمد کرنے کی پابندی ختم کر دی۔2014 میں دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون کا معاہدہ طے پایا، جس نے آسٹریلوی یورینیم کی بھارت کو فراہمی کے لئے قانونی بنیاد فراہم کی۔ اب وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران اس فریم ورک کو عملی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت آسٹریلیا سے درآمد کیا جانے والا یورینیم صرف بھارت کے سول جوہری توانائی پروگرام میں استعمال ہوگا اور بین الاقوامی حفاظتی ضوابط کے تابع رہے گا۔
یہ پیش رفت صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، اسٹریٹجک شراکت داری اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی توازن کی بھی عکاس ہے۔ آسٹریلیا دنیا کے سب سے بڑے یورینیم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ بھارت اپنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور صاف توانائی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے جوہری توانائی کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں یہ تعاون دونوں ممالک کے لئے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم اس معاہدے کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز رہیں گی۔ جوہری مواد کی فراہمی ہمیشہ حساس نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے، اس لئے شفافیت، بین الاقوامی نگرانی اور طے شدہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ یہ تعاون مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود رہے۔حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سفارت کاری میں اصولوں کے ساتھ ساتھ عملی ضرورتیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آسٹریلیا کی پالیسی میں تبدیلی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ بین الاقوامی اعتماد، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بدلتے ہوئے اسٹریٹجک تقاضے کئی برس پرانی پالیسیوں کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سول جوہری تعاون کا یہ نیا باب توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ اگر یہ تعاون مکمل شفافیت، بین الاقوامی ضوابط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے توانائی کے مستقبل کے لئے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں