جموں و کشمیر کے 146 سرکاری اسکولوں میں ایک بھی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں

جنگ نیوز ڈیسک

مرکزی وزارتِ تعلیم کے مطابق جموں و کشمیر کے 146 سرکاری اسکولوں میں ایک بھی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں، جبکہ 1355 اسکول صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔ ان میں 141 پرائمری اور پانچ اپر پرائمری اسکول ایسے ہیں جہاں طلبہ کا اندراج صفر ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 1762 پرائمری اور 135 اپر پرائمری اسکولوں میں 15 سے کم طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ 5175 پرائمری اور 748 اپر پرائمری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 30 سے بھی کم ہے۔ وزارت نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ کو داخلوں میں اضافہ اور تعلیمی نظام کو مؤثر بنانے کے لئے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
رواں سال مارچ میں جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ گزشتہ چار برس کے دوران 3192 اسکولوں میں طلبہ کی تعداد دس سے کم یا صفر رہی، جبکہ ان اداروں میں 2518 اساتذہ تعینات تھے۔ اس سے قبل 2024 میں انتہائی کم یا صفر داخلوں کے باعث تقریباً 4400 سرکاری اسکولوں کو ضم یا بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد یونین ٹیریٹری میں سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ...

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

تازہ ترین خبریں

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ...

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

جموں و کشمیر کے 146 سرکاری اسکولوں میں ایک بھی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں

جنگ نیوز ڈیسک

مرکزی وزارتِ تعلیم کے مطابق جموں و کشمیر کے 146 سرکاری اسکولوں میں ایک بھی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں، جبکہ 1355 اسکول صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔ ان میں 141 پرائمری اور پانچ اپر پرائمری اسکول ایسے ہیں جہاں طلبہ کا اندراج صفر ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 1762 پرائمری اور 135 اپر پرائمری اسکولوں میں 15 سے کم طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ 5175 پرائمری اور 748 اپر پرائمری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 30 سے بھی کم ہے۔ وزارت نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ کو داخلوں میں اضافہ اور تعلیمی نظام کو مؤثر بنانے کے لئے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
رواں سال مارچ میں جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ گزشتہ چار برس کے دوران 3192 اسکولوں میں طلبہ کی تعداد دس سے کم یا صفر رہی، جبکہ ان اداروں میں 2518 اساتذہ تعینات تھے۔ اس سے قبل 2024 میں انتہائی کم یا صفر داخلوں کے باعث تقریباً 4400 سرکاری اسکولوں کو ضم یا بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد یونین ٹیریٹری میں سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں