گرمائی تعطیلات کا اعلان: مسئلہ یا عارضی حل؟

 

 

شیخ افلاق حسین سیمانی
سیموہ ترال پلوامہ

30 جون، منگل کی شام جب گرمائی تعطیلات کے حوالے سے خبریں گردش کرنے لگیں تو میڈیا پر ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ وزیرِ تعلیم آخر کہاں ہیں؟ کیا انہیں بچوں کی مشکلات کا احساس نہیں؟ وہ خود تو آرام دہ کمروں میں بیٹھی ہیں، وہ ہماری تکلیف کو کیسے سمجھ سکتی ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے کئی بیانات میڈیا کی زینت بنے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان بیانات کو کبھی اخلاقی نقطۂ نظر سے پرکھنے کی کوشش کی؟ ان جملوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہم اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بہتر سہولیات کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر اخلاقی تربیت کے میدان میں کہیں نہ کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر ہماری گفتگو میں احترام، شائستگی اور برداشت کا عنصر موجود ہوتا تو شاید ایسے الفاظ سننے کو نہ ملتے۔

بحیثیت معلم میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ شدید گرمی میں پڑھنا اور پڑھانا آسان کام نہیں۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کامیابی ہمیشہ انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

بقول شاعر:

منزل ملے گی بھٹک کر ہی سہی
گمراہ تو وہ ہیں جو گھر سے ہی نہیں نکلے

وادیٔ کشمیر میں شدید گرمی کا موسم عموماً جون اور جولائی میں ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات اگست میں بھی گرمی کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ اگر ہر بار گرمی کی شدت کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں تو کیا یہ مسئلے کا مستقل حل ہوگا؟ یقیناً نہیں۔

اور اگر گرمائی تعطیلات کا اعلان کر بھی دیا جائے تو کیا بچے ان دنوں میں صرف گھروں تک محدود رہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آئیں گے۔ تو پھر اصل سوال یہی ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ سردیوں کے آغاز پر بھی ہمارا یہی طرزِ عمل ہوتا ہے۔ نومبر میں سردی بڑھنے کی وجہ سے تعطیلات کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے اور اسی کے نتیجے میں یکم دسمبر سے تعطیلات کا اعلان کیا گیا، پھر حالات کے پیشِ نظر اسکول یکم مارچ کے بجائے 8 مارچ کو کھلے۔ اسی طرح 30 جون کی رات دیر گئے 6 جولائی سے پندرہ دنوں کی گرمائی تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہر مشکل کا حل صرف تعطیلات ہیں؟ اگر تعطیلات کے بعد بھی گرمی کی شدت برقرار رہی تو پھر کیا کیا جائے گا؟ کیا مزید تعطیلات ہی واحد راستہ ہوں گی؟

میں گرمائی تعطیلات کے خلاف نہیں ہوں، کیونکہ آرام اور وقفہ بھی تعلیم کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن میری ذاتی رائے میں پندرہ دنوں کے بجائے ایک ہفتے کی تعطیلات کافی ہو سکتی تھیں۔ اس کے بعد اسکول کے اوقات میں مناسب تبدیلی لا کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ روزانہ صرف آدھا گھنٹہ بھی مؤثر تدریس کے لئے مختص کیا جائے تو وہ طویل تعطیلات کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موسم بدل رہے ہیں اور آنے والے وقت میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس لئے ہمیں وقتی فیصلوں کے بجائے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

اس پوری بحث کا مقصد صرف اتنا ہے کہ حکومت کو ایک مستقل لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، کیونکہ تعطیلات کسی مسئلے کا مکمل علاج نہیں بلکہ ایک عارضی انتظام ہیں۔ ہمیں ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جس سے موجودہ نسل کی ضروریات بھی پوری ہوں اور آنے والی نسلوں کا تعلیمی مستقبل بھی محفوظ رہے۔

بہتر یہی ہوگا کہ ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے حکمت، منصوبہ بندی اور دور اندیشی سے کام لیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی یہ سیکھ سکیں کہ مشکل حالات میں مسائل سے بھاگنا نہیں بلکہ ان کا بہتر حل تلاش کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں حکومت اور والدین سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرمائی تعطیلات اور گرمائی تعطیلات کے بجائے ایک جامع منصوبہ لے کر آئے نہ کہ عارضی حل لے آئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

گرمائی تعطیلات کا اعلان: مسئلہ یا عارضی حل؟

 

 

شیخ افلاق حسین سیمانی
سیموہ ترال پلوامہ

30 جون، منگل کی شام جب گرمائی تعطیلات کے حوالے سے خبریں گردش کرنے لگیں تو میڈیا پر ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ وزیرِ تعلیم آخر کہاں ہیں؟ کیا انہیں بچوں کی مشکلات کا احساس نہیں؟ وہ خود تو آرام دہ کمروں میں بیٹھی ہیں، وہ ہماری تکلیف کو کیسے سمجھ سکتی ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے کئی بیانات میڈیا کی زینت بنے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان بیانات کو کبھی اخلاقی نقطۂ نظر سے پرکھنے کی کوشش کی؟ ان جملوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہم اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بہتر سہولیات کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر اخلاقی تربیت کے میدان میں کہیں نہ کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر ہماری گفتگو میں احترام، شائستگی اور برداشت کا عنصر موجود ہوتا تو شاید ایسے الفاظ سننے کو نہ ملتے۔

بحیثیت معلم میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ شدید گرمی میں پڑھنا اور پڑھانا آسان کام نہیں۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کامیابی ہمیشہ انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

بقول شاعر:

منزل ملے گی بھٹک کر ہی سہی
گمراہ تو وہ ہیں جو گھر سے ہی نہیں نکلے

وادیٔ کشمیر میں شدید گرمی کا موسم عموماً جون اور جولائی میں ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات اگست میں بھی گرمی کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ اگر ہر بار گرمی کی شدت کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں تو کیا یہ مسئلے کا مستقل حل ہوگا؟ یقیناً نہیں۔

اور اگر گرمائی تعطیلات کا اعلان کر بھی دیا جائے تو کیا بچے ان دنوں میں صرف گھروں تک محدود رہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آئیں گے۔ تو پھر اصل سوال یہی ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ سردیوں کے آغاز پر بھی ہمارا یہی طرزِ عمل ہوتا ہے۔ نومبر میں سردی بڑھنے کی وجہ سے تعطیلات کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے اور اسی کے نتیجے میں یکم دسمبر سے تعطیلات کا اعلان کیا گیا، پھر حالات کے پیشِ نظر اسکول یکم مارچ کے بجائے 8 مارچ کو کھلے۔ اسی طرح 30 جون کی رات دیر گئے 6 جولائی سے پندرہ دنوں کی گرمائی تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہر مشکل کا حل صرف تعطیلات ہیں؟ اگر تعطیلات کے بعد بھی گرمی کی شدت برقرار رہی تو پھر کیا کیا جائے گا؟ کیا مزید تعطیلات ہی واحد راستہ ہوں گی؟

میں گرمائی تعطیلات کے خلاف نہیں ہوں، کیونکہ آرام اور وقفہ بھی تعلیم کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن میری ذاتی رائے میں پندرہ دنوں کے بجائے ایک ہفتے کی تعطیلات کافی ہو سکتی تھیں۔ اس کے بعد اسکول کے اوقات میں مناسب تبدیلی لا کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ روزانہ صرف آدھا گھنٹہ بھی مؤثر تدریس کے لئے مختص کیا جائے تو وہ طویل تعطیلات کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موسم بدل رہے ہیں اور آنے والے وقت میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس لئے ہمیں وقتی فیصلوں کے بجائے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

اس پوری بحث کا مقصد صرف اتنا ہے کہ حکومت کو ایک مستقل لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، کیونکہ تعطیلات کسی مسئلے کا مکمل علاج نہیں بلکہ ایک عارضی انتظام ہیں۔ ہمیں ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جس سے موجودہ نسل کی ضروریات بھی پوری ہوں اور آنے والی نسلوں کا تعلیمی مستقبل بھی محفوظ رہے۔

بہتر یہی ہوگا کہ ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے حکمت، منصوبہ بندی اور دور اندیشی سے کام لیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی یہ سیکھ سکیں کہ مشکل حالات میں مسائل سے بھاگنا نہیں بلکہ ان کا بہتر حل تلاش کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں حکومت اور والدین سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرمائی تعطیلات اور گرمائی تعطیلات کے بجائے ایک جامع منصوبہ لے کر آئے نہ کہ عارضی حل لے آئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں