جنگ نیوز ڈیسک
تہران: ایران کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز ایسے مناظر کے ساتھ ہوا جنہوں نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔ تہران کی فضائیں آہوں، دعاؤں اور سسکیوں سے گونج اٹھیں، جبکہ لاکھوں مرد و خواتین اپنے رہنما کی ایک جھلک دیکھنے اور انہیں آخری سلام پیش کرنے کے لئے گرینڈ مصلیٰ کے باہر جمع ہو گئے۔ کئی افراد ہاتھوں میں قرآن تھامے اشک بار آنکھوں سے دعائیں مانگتے رہے اور بار بار یہی کہتے سنائی دیے کہ "آج ہم صرف ایک رہنما نہیں، اپنی تاریخ کے ایک عہد کو رخصت کر رہے ہیں۔”
آیت اللہ خامنہ ای، جنہوں نے 1989 سے ایران کی قیادت کی، فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میںاپنے اہل و عیال کے ساتھ شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئیں۔۔ ان کا تابوت ایرانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا اور اس پر ان کی سیاہ عمامہ رکھی گئی تھی۔ سوگوار خاموشی سے گزرتے، تابوت کو دیکھتے، آنسو بہاتے اور دعاؤں کے ساتھ اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔
تعزیتی تقریبات میں ایران کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ بھارت کی جانب سے مرکزی وزیرِ مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا، بہار کے گورنر سید عطاء حسنین، کانگریس رہنما سلمان خورشید ،جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ صدر محبوبہ مفتی، عمران رضا انصاری اور وادی سے تعلق رکھنے والے دیگر مذہبی رہنمائوں نے ایرانی قیادت سے تعزیت کی اور آخری رسومات میں شرکت کی۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف، فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما محمد درویش اور دیگر کئی ممالک کے وفود نے بھی تعزیت پیش کی۔
ایرانی حکومت نے چھ روزہ سوگ کی تقریبات کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو تہران، قم، عراق کے مقدس شیعہ شہروں اور آخر میں ان کے آبائی شہر مشہد لے جایا جائے گا، جہاں انہیں سپردِ لحد کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق لاکھوں افراد کی شرکت کے پیشِ نظر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔


