وجدان و عرفان کا شاعر: نجم صدیقی

Oplus_131072

پروفیسر زیب النساء زیبی

جناب نجم الاسلام نجم انٹر نیشنل فاؤنڈیشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ نجم الاسلام نجم صاحب کا مجموعۂ کلام "عشقِ خدا” میرے سامنے ہے۔

عالم بالا پہ جب جاتا ہوں میں
دو جہاں کا شاہ کہلاتا ہوں میں
عشق کی آغوش میں ہو کر فنا
خود جمالِ یار بن جاتا ہوں میں
عاشقوں کی زندگی کا راز ہوں
عشق کی جان نغمۂ شیراز ہوں
لا مکاں تک مائلِ پرواز ہوں
شعر کی دنیا میں بھی ممتاز ہوں

بے شک نجم صاحب میں جہاں نثر نگاری کے عمدہ جوہر موجود ہیں، وہیں ان میں شعری صلاحیتوں کے وصف بھی اعلیٰ و ارفع خیال و فکر کی پاکیزگی کے ساتھ ملتے ہیں۔ اور ان کی یہ فکری پرواز لامکانی کی وسعتوں کو چھوتی ہے۔ اس میں تصوف بھی ہے، عشقِ مجازی بھی، عشقِ حقیقی بھی، زندگی کے متنوع رنگ بھی ہیں اور تجربات و مشاہدات کی قوس و قزح بھی ہے۔
کتاب اللہ دل میں بس گئی ہے
خرد پر نجم غالب ہو گیا ہوں
نمازِ عشق کی لذت میں ہو گیا گم صم
نہ رات ہوتی ہے میری نہ دن نکلتا ہے
جب جنونِ عشق، عشقِ اللہ میں ڈھل جائے، اور انسان خرد پر غالب آ جائے تو اس کے ارد گرد کی دنیا اس کی انگلیوں کے پوروں پر رقص کرتی ہے۔ اس کے تجربات و مشاہدات چند مخصوص واقعات تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ کائنات کا مطالعہ شروع کر دیتا ہے، اور اس کے قلم سے آفاقی شہ پارے تخلیق ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
وہ کون سی جگہ ہے جہاں پر نہیں ہوں میں
عشقِ نبی کے زور پر عرشِ بریں ہوں میں
ہو جائیں ختم آ کے جہاں پر ضرورتیں
ٹھکرا کے تخت و تاج وہاں پر مکیں ہوں میں
شب بھر قلم دوات رہے محوِ گفتگو
ایک ہو ردیف رقص میں اور گائے قافیہ
آپ کے کلام میں آپ کے مزاج کی سادگی کی طرح روانی، سلاست، سچائی اور کردار کی بلندی کے وصف موجود ہیں۔ آپ ایک کہنہ مشق شاعر کی طرح غزل کے تمام لوازمات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ لفظوں کی جادوگری اور فکر کا حسن ان کے مندرجہ بالا شعر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ شب بھر قلم اور روشنائی کی آب میں گفت و شنید اور لفظوں، حرفوں اور فکر کے بڑے پرندوں کو غزل کے تیور میں ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ شعروں کی صاف اوزان و بحور کا خیال رکھنا، آرائش، چستی اور بندش پر توجہ، رمزیت، ایمائیت، ترنم و موسیقیت کے ساتھ ساتھ ابلاغ کا پورا پورا دھیان رکھنا کوئی کھیل نہیں، مگر لہو کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر ایک شعر کی تخلیق ہوتی ہے۔ ان تمام مراحل کو کس خوبصورتی سے زبان دی ہے۔ تبھی ردیف رقص کرتی ہے اور قافیہ گنگناتا ہے۔ تب کہیں جا کر ایک شاعر اپنے جذبات و احساسات، تجربات و مشاہدات اور ارد گرد کے واقعات و حادثات کو تحریری شکل میں ڈھالتا ہے۔
نجم صاحب کہتے ہیں۔۔۔
جو اہلِ حق ہیں مست ہیں ذکرِ اللہ میں
بے کیف ذائقہ ہے شراب و کباب کا
میں بھٹک نہیں سکوں گا تیری رہ گزر سے پہلے
مرے دل کا رہنما ہے یہ قرآنِ پاک تیرا
مرا حسنِ جہاں ہے میرا دلبر
کہ ہاں لطفِ سماں ہے میرا دلبر
مرا محبوب ہی سایہ ہے میرا
حریمِ لامکاں ہے میرا دلبر
جمالِ دلربا ہے سامنے میرے
چراغِ رہنما ہے سامنے میرے
مرا محبوب ہی جنت ہے میری
کہ محبوبِ خدا ہے سامنے میرے
جو دیکھا نجم نے جنت میں جا کر
تو پایا جانا پہچانا سا گھر ہے
اٹھا کے دیکھا الف لام میم کا پردہ
تو ہر طرف مجھے کعبہ دکھائی دیتا ہے
سمندر سی میں فطرت دے رہا ہوں
میں ذروں کو بھی عزت دے رہا ہوں
کرو محسوس تم میری سخاوت
جہاں بھر کو ضرورت دے رہا ہوں
اس حسنِ کائنات کی دنیا ہے منفرد
دلکش حسین چہرہ ہے، جلوہ ہے منفرد
میری نمازِ عشق، دو عالم کی مستیاں
میرے خلوص و لطف کا سجدہ ہے منفرد
مری اذاں ہے و نعرۂ مستانہ دوستو
مسجد بنا رہا ہے جو میخانہ دوستو
آنکھوں میں سج رہا ہے پری خانہ دوستو
میری نماز جلوۂ جانانہ دوستو
آپ کی پسندیدہ شعری صنف غزل ہے، جس میں آپ نے تصوف اور عشقِ حقیقی کے احساسات و جذبات کو نہایت عقیدت سے سمویا ہے۔
ہاں تصوف کا آئینہ ہوں میں
روحِ اعظم کا ہی پتہ ہوں میں
کعبۂ دل کا راز مجھ میں ہے
ہر سخنور کا مدعا ہوں میں
نگاہوں میں میری نظامِ محبت
بنا نجم ہے اب امامِ محبت
نہیں نجم تم سا جہاں میں سخنور
کلامِ محبت، پیامِ محبت
جس سے ترے گناہ بھی سب پاک ہو سکیں
ایسا کوئی حیات میں نکتہ تلاش کر
قائم جہان میں ہی تری زندگی رہے
جو موت سے بچائے وہ سجدہ تلاش کر
واعظ قریب آ، تجھے میکش بناؤں گا
جامِ شہادت، مئے وحدت پلاؤں گا
آدابِ میکدہ سے بھی واقف نہیں ہو تم
پلکوں سے سجدہ کرنا بھی تم کو سکھاؤں گا
مسجد نشیں بھی عشق کی محفل میں آ گیا
کعبہ بنا ہوا ہے یہ میخانہ آج تو
زاہد شرابِ عشق کو پی کر تو دیکھیے
خلدِ بریں سے آیا ہے پیمانہ آج تو
آپ کی غزل میں انسانیت سے محبت اور ظلم سے نفرت کا ایک واضح پیغام ملتا ہے۔ آپ الفاظ اور سچائی کے علمبردار ہیں۔ شرافت اور صداقت آپ کی فکر کی بنیادی اساس ہے۔
اشعار ملاحظہ۔۔۔
پاکیزہ محبت کا اک ایسا فسانہ ہے
یہ حسنِ محبت بھی جنت کا خزانہ ہے
تیرے چہرے کی تلاوت ہے نمازِ الفت
تیری پاکیزہ محبت ہے کتابِ دل میں
چہرہ ہے یا چمکتا ہوا ماہتاب ہے
یا پھر ابھی کھلا ہوا تازہ گلاب ہے
حسنِ گلاب بھی ہو، جمالِ جہاں ہو تم
بزمِ جہانِ شوق کی روحِ رواں ہو تم
دل میں یہ میرے کعبۂ ہستی کا نور ہے
میرے تصورات میں نورِ زماں ہو تم
اس مہ جبیں نے چہرے پہ ڈالا نقاب ہے
لیکن حیا میں ڈوبا ہوا ماہتاب ہے
خوش شکل اس کے جیسا تو دیکھا نہیں کہیں
سارے جہاں میں ایک وہی لاجواب ہے
غزل کے جسم کی خوشبو چمن سے آئے گی
ہوا بھی بن کے وفا گل بدن سے آئے گی
حسن تیرا عبادت کے لیے
ہے فنا ہونا شہادت کے لیے
مر گیا ہوں تری چاہت میں صنم
زندگی چاہیے الفت کے لیے
محبتوں سے نوازا ہے ساری دنیا کو
خلوص لہجہ میں ہم بے حساب رکھتے ہیں
آپ عصرِ حاضر کے تمام مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مذہبی تفرقہ بندی ہو، لسانی یا مسلکی تعصبات، دہشت گردی ہو یا بھوک، افلاس یا انسانی اقدار کی زبوں حالی، غمِ دوراں ہو، غمِ جاناں یا گردشِ حالات، آپ نے زندگی کے گوناگوں موضوعات کو شعری پیرہن عطا کیا ہے۔ آپ سماج میں پھیلی ہوئی بدامنی، نفسا نفسی، خود غرضی اور مادیت پرستی کے سبب انسانیت کی بے حرمتی پر کڑھتے ہیں، اور ایسے عوامل کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر قلمی محاذ پر سربکف نظر آتے ہیں۔
کہاں میں غرق ہوں اللہ جانے
عجب سا اک مزہ زیرِ قلم ہے
میں رودادِ محبت لکھ رہا ہوں
تمہاری انتہا زیرِ قلم ہے
نجم ہر لفظ ہے مصروفِ عبادت میرا
میرے ہر شعر میں رحمان غزل ہے یارو
تو مجھ میں آ بسا ہے پھر بھی پردہ
تری مجھ میں صدا ہے، میں نہیں ہوں
نہیں اپنے سوا دیکھا کسی کو
یہ رازِ انتہا ہے، میں نہیں ہوں
خود نور سے اپنے ہی احمد کو بنایا ہے
خود اپنا تماشا یوں دنیا کو دکھایا ہے
احمد کو کیا ظاہر اور خود کو چھپایا ہے
یہ میم کا پردہ بھی خود تو نے گرایا ہے
جہاں سے میرا جلوہ ہو گیا ہے
وہیں سے نور برپا ہو گیا ہے
نہیں میرے علاوہ اور کوئی
مرا آپا ہی رسوا ہو گیا ہے
نظر جب آ گیا محبوب اپنا
تو دل کعبہ کا کعبہ ہو گیا ہے
جو اس موجِ تلاطم کے مقابل ہوتا جاتا ہے
وہی اس لطف کے دریا میں بسمل ہوتا جاتا ہے
یہ درگاہِ محبت ہے، یہاں سے فیض ہے جاری
یہاں پر عشق میں ہر شخص کامل ہوتا جاتا ہے
میں عشق کا خدا ہوں، محبت ہے میری جان
ہر دل کی انجمن میں ہوں، پہچان لیجیے
ہر شعر میں اثر ہے عطائے عظیم کا
فطرت کا شعر گو ہوں، مجھے جان لیجیے
سارا جہان نجم کو مردہ کہے مگر
اس کے سوا کسی کو بھی زندہ دکھائیے
آپ کے کلام میں وارداتِ قلبی بھی ہے اور عصری واقعات کا احاطہ بھی۔ آپ ایک خاص دل کے ساتھ اپنے سچے اور کھرے جذبوں کو شعر کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ آپ کے کلام کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ میں مثبت سوچ اور تعمیری رویے نظر آتے ہیں۔
چراغِ زیست ہوں، جلتا رہوں گا میں ہر دم
تمام عالمِ امکاں میں روشنی ہوگی
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

وجدان و عرفان کا شاعر: نجم صدیقی

Oplus_131072

پروفیسر زیب النساء زیبی

جناب نجم الاسلام نجم انٹر نیشنل فاؤنڈیشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ نجم الاسلام نجم صاحب کا مجموعۂ کلام "عشقِ خدا” میرے سامنے ہے۔

عالم بالا پہ جب جاتا ہوں میں
دو جہاں کا شاہ کہلاتا ہوں میں
عشق کی آغوش میں ہو کر فنا
خود جمالِ یار بن جاتا ہوں میں
عاشقوں کی زندگی کا راز ہوں
عشق کی جان نغمۂ شیراز ہوں
لا مکاں تک مائلِ پرواز ہوں
شعر کی دنیا میں بھی ممتاز ہوں

بے شک نجم صاحب میں جہاں نثر نگاری کے عمدہ جوہر موجود ہیں، وہیں ان میں شعری صلاحیتوں کے وصف بھی اعلیٰ و ارفع خیال و فکر کی پاکیزگی کے ساتھ ملتے ہیں۔ اور ان کی یہ فکری پرواز لامکانی کی وسعتوں کو چھوتی ہے۔ اس میں تصوف بھی ہے، عشقِ مجازی بھی، عشقِ حقیقی بھی، زندگی کے متنوع رنگ بھی ہیں اور تجربات و مشاہدات کی قوس و قزح بھی ہے۔
کتاب اللہ دل میں بس گئی ہے
خرد پر نجم غالب ہو گیا ہوں
نمازِ عشق کی لذت میں ہو گیا گم صم
نہ رات ہوتی ہے میری نہ دن نکلتا ہے
جب جنونِ عشق، عشقِ اللہ میں ڈھل جائے، اور انسان خرد پر غالب آ جائے تو اس کے ارد گرد کی دنیا اس کی انگلیوں کے پوروں پر رقص کرتی ہے۔ اس کے تجربات و مشاہدات چند مخصوص واقعات تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ کائنات کا مطالعہ شروع کر دیتا ہے، اور اس کے قلم سے آفاقی شہ پارے تخلیق ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
وہ کون سی جگہ ہے جہاں پر نہیں ہوں میں
عشقِ نبی کے زور پر عرشِ بریں ہوں میں
ہو جائیں ختم آ کے جہاں پر ضرورتیں
ٹھکرا کے تخت و تاج وہاں پر مکیں ہوں میں
شب بھر قلم دوات رہے محوِ گفتگو
ایک ہو ردیف رقص میں اور گائے قافیہ
آپ کے کلام میں آپ کے مزاج کی سادگی کی طرح روانی، سلاست، سچائی اور کردار کی بلندی کے وصف موجود ہیں۔ آپ ایک کہنہ مشق شاعر کی طرح غزل کے تمام لوازمات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ لفظوں کی جادوگری اور فکر کا حسن ان کے مندرجہ بالا شعر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ شب بھر قلم اور روشنائی کی آب میں گفت و شنید اور لفظوں، حرفوں اور فکر کے بڑے پرندوں کو غزل کے تیور میں ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ شعروں کی صاف اوزان و بحور کا خیال رکھنا، آرائش، چستی اور بندش پر توجہ، رمزیت، ایمائیت، ترنم و موسیقیت کے ساتھ ساتھ ابلاغ کا پورا پورا دھیان رکھنا کوئی کھیل نہیں، مگر لہو کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر ایک شعر کی تخلیق ہوتی ہے۔ ان تمام مراحل کو کس خوبصورتی سے زبان دی ہے۔ تبھی ردیف رقص کرتی ہے اور قافیہ گنگناتا ہے۔ تب کہیں جا کر ایک شاعر اپنے جذبات و احساسات، تجربات و مشاہدات اور ارد گرد کے واقعات و حادثات کو تحریری شکل میں ڈھالتا ہے۔
نجم صاحب کہتے ہیں۔۔۔
جو اہلِ حق ہیں مست ہیں ذکرِ اللہ میں
بے کیف ذائقہ ہے شراب و کباب کا
میں بھٹک نہیں سکوں گا تیری رہ گزر سے پہلے
مرے دل کا رہنما ہے یہ قرآنِ پاک تیرا
مرا حسنِ جہاں ہے میرا دلبر
کہ ہاں لطفِ سماں ہے میرا دلبر
مرا محبوب ہی سایہ ہے میرا
حریمِ لامکاں ہے میرا دلبر
جمالِ دلربا ہے سامنے میرے
چراغِ رہنما ہے سامنے میرے
مرا محبوب ہی جنت ہے میری
کہ محبوبِ خدا ہے سامنے میرے
جو دیکھا نجم نے جنت میں جا کر
تو پایا جانا پہچانا سا گھر ہے
اٹھا کے دیکھا الف لام میم کا پردہ
تو ہر طرف مجھے کعبہ دکھائی دیتا ہے
سمندر سی میں فطرت دے رہا ہوں
میں ذروں کو بھی عزت دے رہا ہوں
کرو محسوس تم میری سخاوت
جہاں بھر کو ضرورت دے رہا ہوں
اس حسنِ کائنات کی دنیا ہے منفرد
دلکش حسین چہرہ ہے، جلوہ ہے منفرد
میری نمازِ عشق، دو عالم کی مستیاں
میرے خلوص و لطف کا سجدہ ہے منفرد
مری اذاں ہے و نعرۂ مستانہ دوستو
مسجد بنا رہا ہے جو میخانہ دوستو
آنکھوں میں سج رہا ہے پری خانہ دوستو
میری نماز جلوۂ جانانہ دوستو
آپ کی پسندیدہ شعری صنف غزل ہے، جس میں آپ نے تصوف اور عشقِ حقیقی کے احساسات و جذبات کو نہایت عقیدت سے سمویا ہے۔
ہاں تصوف کا آئینہ ہوں میں
روحِ اعظم کا ہی پتہ ہوں میں
کعبۂ دل کا راز مجھ میں ہے
ہر سخنور کا مدعا ہوں میں
نگاہوں میں میری نظامِ محبت
بنا نجم ہے اب امامِ محبت
نہیں نجم تم سا جہاں میں سخنور
کلامِ محبت، پیامِ محبت
جس سے ترے گناہ بھی سب پاک ہو سکیں
ایسا کوئی حیات میں نکتہ تلاش کر
قائم جہان میں ہی تری زندگی رہے
جو موت سے بچائے وہ سجدہ تلاش کر
واعظ قریب آ، تجھے میکش بناؤں گا
جامِ شہادت، مئے وحدت پلاؤں گا
آدابِ میکدہ سے بھی واقف نہیں ہو تم
پلکوں سے سجدہ کرنا بھی تم کو سکھاؤں گا
مسجد نشیں بھی عشق کی محفل میں آ گیا
کعبہ بنا ہوا ہے یہ میخانہ آج تو
زاہد شرابِ عشق کو پی کر تو دیکھیے
خلدِ بریں سے آیا ہے پیمانہ آج تو
آپ کی غزل میں انسانیت سے محبت اور ظلم سے نفرت کا ایک واضح پیغام ملتا ہے۔ آپ الفاظ اور سچائی کے علمبردار ہیں۔ شرافت اور صداقت آپ کی فکر کی بنیادی اساس ہے۔
اشعار ملاحظہ۔۔۔
پاکیزہ محبت کا اک ایسا فسانہ ہے
یہ حسنِ محبت بھی جنت کا خزانہ ہے
تیرے چہرے کی تلاوت ہے نمازِ الفت
تیری پاکیزہ محبت ہے کتابِ دل میں
چہرہ ہے یا چمکتا ہوا ماہتاب ہے
یا پھر ابھی کھلا ہوا تازہ گلاب ہے
حسنِ گلاب بھی ہو، جمالِ جہاں ہو تم
بزمِ جہانِ شوق کی روحِ رواں ہو تم
دل میں یہ میرے کعبۂ ہستی کا نور ہے
میرے تصورات میں نورِ زماں ہو تم
اس مہ جبیں نے چہرے پہ ڈالا نقاب ہے
لیکن حیا میں ڈوبا ہوا ماہتاب ہے
خوش شکل اس کے جیسا تو دیکھا نہیں کہیں
سارے جہاں میں ایک وہی لاجواب ہے
غزل کے جسم کی خوشبو چمن سے آئے گی
ہوا بھی بن کے وفا گل بدن سے آئے گی
حسن تیرا عبادت کے لیے
ہے فنا ہونا شہادت کے لیے
مر گیا ہوں تری چاہت میں صنم
زندگی چاہیے الفت کے لیے
محبتوں سے نوازا ہے ساری دنیا کو
خلوص لہجہ میں ہم بے حساب رکھتے ہیں
آپ عصرِ حاضر کے تمام مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مذہبی تفرقہ بندی ہو، لسانی یا مسلکی تعصبات، دہشت گردی ہو یا بھوک، افلاس یا انسانی اقدار کی زبوں حالی، غمِ دوراں ہو، غمِ جاناں یا گردشِ حالات، آپ نے زندگی کے گوناگوں موضوعات کو شعری پیرہن عطا کیا ہے۔ آپ سماج میں پھیلی ہوئی بدامنی، نفسا نفسی، خود غرضی اور مادیت پرستی کے سبب انسانیت کی بے حرمتی پر کڑھتے ہیں، اور ایسے عوامل کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر قلمی محاذ پر سربکف نظر آتے ہیں۔
کہاں میں غرق ہوں اللہ جانے
عجب سا اک مزہ زیرِ قلم ہے
میں رودادِ محبت لکھ رہا ہوں
تمہاری انتہا زیرِ قلم ہے
نجم ہر لفظ ہے مصروفِ عبادت میرا
میرے ہر شعر میں رحمان غزل ہے یارو
تو مجھ میں آ بسا ہے پھر بھی پردہ
تری مجھ میں صدا ہے، میں نہیں ہوں
نہیں اپنے سوا دیکھا کسی کو
یہ رازِ انتہا ہے، میں نہیں ہوں
خود نور سے اپنے ہی احمد کو بنایا ہے
خود اپنا تماشا یوں دنیا کو دکھایا ہے
احمد کو کیا ظاہر اور خود کو چھپایا ہے
یہ میم کا پردہ بھی خود تو نے گرایا ہے
جہاں سے میرا جلوہ ہو گیا ہے
وہیں سے نور برپا ہو گیا ہے
نہیں میرے علاوہ اور کوئی
مرا آپا ہی رسوا ہو گیا ہے
نظر جب آ گیا محبوب اپنا
تو دل کعبہ کا کعبہ ہو گیا ہے
جو اس موجِ تلاطم کے مقابل ہوتا جاتا ہے
وہی اس لطف کے دریا میں بسمل ہوتا جاتا ہے
یہ درگاہِ محبت ہے، یہاں سے فیض ہے جاری
یہاں پر عشق میں ہر شخص کامل ہوتا جاتا ہے
میں عشق کا خدا ہوں، محبت ہے میری جان
ہر دل کی انجمن میں ہوں، پہچان لیجیے
ہر شعر میں اثر ہے عطائے عظیم کا
فطرت کا شعر گو ہوں، مجھے جان لیجیے
سارا جہان نجم کو مردہ کہے مگر
اس کے سوا کسی کو بھی زندہ دکھائیے
آپ کے کلام میں وارداتِ قلبی بھی ہے اور عصری واقعات کا احاطہ بھی۔ آپ ایک خاص دل کے ساتھ اپنے سچے اور کھرے جذبوں کو شعر کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ آپ کے کلام کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ میں مثبت سوچ اور تعمیری رویے نظر آتے ہیں۔
چراغِ زیست ہوں، جلتا رہوں گا میں ہر دم
تمام عالمِ امکاں میں روشنی ہوگی
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں