غزل

 

ارشاد عاطفؔ

وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو چھڑا کے ہاتھ
ہر بار جس کو مانگا ہے ہم نے اٹھا کے ہاتھ
ملنا بھی جس سے دل کو گوارہ نہیں مرے
میں آؤں ایسے شخص سے اپنا ملا کے ہاتھ
اس سے کوئی سوال بھی کرنا نہیں مجھے
سونپا ہے اپنا مسئلہ اب یہ خدا کے ہاتھ
دل کے جو زخم تھے سبھی ناسور بن گئے
پہنچے نہیں ہیں پھر بھی تو مجھ تک شفا کے ہاتھ
تب سے وہ لاش بن کر گھر میں پڑا ہوا
بیٹا گیا ہے باپ پہ جب سے اٹھا کے ہاتھ
تم کیسے اپنی جیت کا دم بھر رہے ہو اب
تم نے رکھے ہیں پہلے ہی اپنے کٹا کے ہاتھ
ظالم کے حوصلے یونہی عاطفؔ بلند ہیں
اب روکتا نہیں کوئی جا کے جفا کے ہاتھ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

رافیہ رسول مغموم کا ناول ’’پہچان آنسو کی‘‘

    رئیس احمد کمار قاضی گنڈ، کشمیر رفیہ رسول مغموم اُن چند...

تازہ ترین خبریں

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

رافیہ رسول مغموم کا ناول ’’پہچان آنسو کی‘‘

    رئیس احمد کمار قاضی گنڈ، کشمیر رفیہ رسول مغموم اُن چند...

غزل

 

ارشاد عاطفؔ

وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو چھڑا کے ہاتھ
ہر بار جس کو مانگا ہے ہم نے اٹھا کے ہاتھ
ملنا بھی جس سے دل کو گوارہ نہیں مرے
میں آؤں ایسے شخص سے اپنا ملا کے ہاتھ
اس سے کوئی سوال بھی کرنا نہیں مجھے
سونپا ہے اپنا مسئلہ اب یہ خدا کے ہاتھ
دل کے جو زخم تھے سبھی ناسور بن گئے
پہنچے نہیں ہیں پھر بھی تو مجھ تک شفا کے ہاتھ
تب سے وہ لاش بن کر گھر میں پڑا ہوا
بیٹا گیا ہے باپ پہ جب سے اٹھا کے ہاتھ
تم کیسے اپنی جیت کا دم بھر رہے ہو اب
تم نے رکھے ہیں پہلے ہی اپنے کٹا کے ہاتھ
ظالم کے حوصلے یونہی عاطفؔ بلند ہیں
اب روکتا نہیں کوئی جا کے جفا کے ہاتھ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون