گودام کی چھت منہدم، درجنوں مزدور ملبے تلے دب گئے، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

کولکاتا:

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا کے علاقے تاراطلہ میں بدھ کی دوپہر ایک ہولناک حادثہ پیش آیا، جب زیرِ تعمیر ایک کثیر منزلہ گودام کی چھت اچانک منہدم ہوگئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں مزدور تعمیراتی کاموں میں مصروف تھے، جس کے باعث متعدد افراد ملبے تلے دب گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ کئی افراد کی ہلاکت کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ دوپہر تقریباً ایک بجے تاراطلہ بریس برج کے قریب واقع ٹرانسپورٹ ڈپو میں پیش آیا۔ زیرِ تعمیر تین منزلہ گودام چائے کی پتی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے تعمیر کیا جا رہا تھا اور اس وقت وہاں چھت کی ڈھلائی کا کام جاری تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 60 مزدور مختلف منزلوں پر کام کر رہے تھے کہ اچانک عمارت کا ایک بڑا حصہ زوردار دھماکے نما آواز کے ساتھ زمین بوس ہوگیا۔

 

مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد پورا علاقہ گرد و غبار سے بھر گیا اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ عینی شاہدین کے مطابق بھاری لوہے کے سلاخوں، کنکریٹ کے ڈھیروں اور تعمیراتی سامان کے نیچے کئی مزدور دب گئے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ آواز اتنی شدید تھی جیسے بجلی گرنے کی گرج سنائی دی ہو، اور چند لمحوں میں پوری عمارت تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔حادثہ کے فوراً بعد مقامی افراد نے امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں اور ملبے تلے پھنسے مزدوروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ مزدوروں کے نام پکارے گئے تو کئی افراد نے اندر سے جواب بھی دیا، جس سے ان کے زندہ ہونے کی امید برقرار رہی۔ امدادی کارکنوں نے ملبے کے اندر پانی بھی پہنچایا اور متاثرین کو حوصلہ دیتے رہے کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

 

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کولکاتا پولیس، کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اہلکار، ریاستی پولیس، فوج، این ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے گیس کٹر، آئرن کٹر اور دیگر جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری اس آپریشن میں اب تک کم از کم 13 مزدوروں کو زخمی حالت میں نکالا جا چکا ہے۔تمام زخمیوں کو فوری طور پر ایس ایس کے ایم اسپتال سمیت مختلف طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں درباشا مالم (56)، مانک چند کمار (22) اور شاہد کمار (26) کی شناخت ہو سکی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ فوج، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی ایمبولینسیں مسلسل امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

گودام کی چھت منہدم، درجنوں مزدور ملبے تلے دب گئے، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

کولکاتا:

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا کے علاقے تاراطلہ میں بدھ کی دوپہر ایک ہولناک حادثہ پیش آیا، جب زیرِ تعمیر ایک کثیر منزلہ گودام کی چھت اچانک منہدم ہوگئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں مزدور تعمیراتی کاموں میں مصروف تھے، جس کے باعث متعدد افراد ملبے تلے دب گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ کئی افراد کی ہلاکت کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ دوپہر تقریباً ایک بجے تاراطلہ بریس برج کے قریب واقع ٹرانسپورٹ ڈپو میں پیش آیا۔ زیرِ تعمیر تین منزلہ گودام چائے کی پتی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے تعمیر کیا جا رہا تھا اور اس وقت وہاں چھت کی ڈھلائی کا کام جاری تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 60 مزدور مختلف منزلوں پر کام کر رہے تھے کہ اچانک عمارت کا ایک بڑا حصہ زوردار دھماکے نما آواز کے ساتھ زمین بوس ہوگیا۔

 

مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد پورا علاقہ گرد و غبار سے بھر گیا اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ عینی شاہدین کے مطابق بھاری لوہے کے سلاخوں، کنکریٹ کے ڈھیروں اور تعمیراتی سامان کے نیچے کئی مزدور دب گئے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ آواز اتنی شدید تھی جیسے بجلی گرنے کی گرج سنائی دی ہو، اور چند لمحوں میں پوری عمارت تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔حادثہ کے فوراً بعد مقامی افراد نے امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں اور ملبے تلے پھنسے مزدوروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ مزدوروں کے نام پکارے گئے تو کئی افراد نے اندر سے جواب بھی دیا، جس سے ان کے زندہ ہونے کی امید برقرار رہی۔ امدادی کارکنوں نے ملبے کے اندر پانی بھی پہنچایا اور متاثرین کو حوصلہ دیتے رہے کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

 

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کولکاتا پولیس، کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اہلکار، ریاستی پولیس، فوج، این ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے گیس کٹر، آئرن کٹر اور دیگر جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری اس آپریشن میں اب تک کم از کم 13 مزدوروں کو زخمی حالت میں نکالا جا چکا ہے۔تمام زخمیوں کو فوری طور پر ایس ایس کے ایم اسپتال سمیت مختلف طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں درباشا مالم (56)، مانک چند کمار (22) اور شاہد کمار (26) کی شناخت ہو سکی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ فوج، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی ایمبولینسیں مسلسل امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں