ریفارم ایکسپریس کے ذریعے انصاف تک رسائی مزید آسان ہو رہی ہے

 

 

ارجن رام میگھوال
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)
قانون و انصاف کے اور پارلیمانی امور

انصاف ہمیشہ سے انسانی تہذیب کا ایک نہایت اہم اور لازمی ستون رہا ہے۔ ہماری قدیم تہذیبی وراثت کی عظیم روایات اور ان کی پائیدار علامتیں اجتماعی طور پر اُن ادارہ جاتی نظاموں کی عکاسی کرتی ہیں جنہوں نے انسانی تمدن کے ارتقائی سفر کو درست سمت دی، اس کی رہنمائی کی اور اسے مسلسل آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔

انسانی تہذیب کی مسلسل ترقی کے نتیجے میں علم، سائنس اور ٹیکنالوجی سے آراستہ جدید معاشرے میں افراد اور برادریوں کے باہمی تعلقات بھی مختلف نظریات اور افکار کے باعث تبدیل ہوئے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی ترقی اور تکنیکی پیش رفت نے قومی سرحدوں سے ماورا خیالات کے آزادانہ تبادلے کو مزید آسان اور مؤثر بنا دیا ہے۔
ازل سے ایک فکر کی دوسری فکر پر برتری قائم کرنے کی جدوجہد علمِ قانون کی ترقی کی مضبوط بنیاد رہی ہے۔ صدیوں سے جاری افکار اور اقدار کے اس باہمی تصادم کے دوران عدالتی اداروں نے سچائی، غیر جانبداری اور قانون کی حکمرانی پر عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کی اہم ذمہ داری نبھائی ہے۔
ان اداروں نے ایک ایسے پل کا کردار ادا کیا ہے جو ہر متعلقہ فریق، حتیٰ کہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرنے والے افراد کو بھی انصاف اور اجتماعی فلاح کے وسیع تر عمل سے وابستگی، اعتماد اور شمولیت کا احساس دلاتا ہے۔

اسی پائیدار ادارہ جاتی عزم کے نتیجے میں ایک ایسا مضبوط نظام وجود میں آتا ہے جو نہ صرف انصاف تک رسائی کو یقینی بناتا ہے بلکہ ہر شہری کی زندگی کو آسان اور سہل بنانے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔
موجودہ دور کے تناظر میں بھارتی نظامِ قانون نے خود کو جدید چیلنجوں اور دستیاب مواقع کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ہماری آئینی وراثت ہمیں مجاہدینِ آزادی اور قوم کے معماروں کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے ایک مساوات پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لئے مسلسل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
آئین کے دیباچے میں شامل سیاسی، سماجی اور اقتصادی انصاف کے تصورات، نیز آزادی، مساوات اور اخوت کے اصول، اداروں اور افراد دونوں کے لئے ایک اخلاقی رہنما اور سمت نما کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آزاد بھارت کو آئین کی صورت میں ایک مثالی رہنما دستاویز حاصل ہوئی جس نے قوم کی ترقی کی سمت متعین کی۔ اگرچہ آزادی کے بعد ہم نے سیاسی خودمختاری حاصل کر لی تھی، تاہم گہری جڑیں رکھنے والی نوآبادیاتی ذہنیت بھارتی فکر اور اقدار کے لئے ایک فکری رکاوٹ بنی رہی۔
لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی، اس کے بعد بھارتی شہریوں کے لئے وضع کیے گئے تعزیری قوانین اور مختلف حکومتی پالیسیوں نے ضوابط کا ایک پیچیدہ جال بُن دیا جس نے عوام کی آزادی کو محدود کر دیا۔

انیسویں صدی کی سوچ اور بیسویں صدی کے قوانین اکیسویں صدی کی امنگوں اور تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے۔
ہمیں اپنی قومی کامیابیوں پر بے حد فخر ہے۔ تاہم جب ہم مودی حکومت کے گزشتہ بارہ برسوں کے ترقیاتی سفر کا جائزہ لیتے ہیں تو طرزِ حکمرانی میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی نظر آتی ہے، جس نے شہریوں کی زندگیوں کو مختلف سطحوں پر متاثر کیا ہے۔ سال 2014 کو ہمارے ملک کے جمہوری سفر کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی نوجوان آبادی (ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ) کو ترقی کے سب سے بڑے سرمایہ (ڈیولپمنٹ ڈیویڈنڈ) کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کرتے بھارت کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے پالیسی اقدامات کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا گیا۔
ملک کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت میں پورے حکومتی نظام نے ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ سے تحریک حاصل کرتے ہوئے ترقی کے عمل کو تیزی سے اپنایا اور عوامی بااختیاری کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ مختصراً اس سفر کو نچلی سطح پر ’’آسان طرزِ زندگی‘‘ (ایزآف لیونگ) کے فروغ اور اعلیٰ سطح پر ’’قوم پہلے‘‘ کے وژن کے نفاذ کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح بھارت میں عدالتی اصلاحات کا سفر بھی وسعت، جدت اور گہری سماجی و تہذیبی وابستگی کی ایک متاثر کن داستان ہے۔ یہ ایک جامع اور کثیر جہتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں قانون سازی کی جدیدکاری، ادارہ جاتی استحکام اور ڈیجیٹل اختراعات شامل ہیں۔

ہمارے لئے ’’ایز آف جسٹس‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ اصلاحات کا ایک بنیادی اصول ہے، جس میں انصاف کے متلاشی افراد کے لئے ’’آسان رسائی‘‘، وکلا اور جج صاحبان کے لئے ’’آسان طریقۂ کار‘‘ اور عام شہریوں کے لئے ’’آسان فہم نظام‘‘ شامل ہے۔
عدالتوں سے رجوع کرنے والے شہریوں کی سہولت کے لئے دشا (ڈی آئی ایس ایچ اے) اسکیم کے تحت ٹیلی لا، نیائے بندھو اور پرو بونو خدمات کے فروغ نے انصاف تک رسائی کو نہایت آسان اور کم خرچ بنا دیا ہے۔ کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چلائے جانے والے ٹیلی لا پروگرام کے تحت دیہی اور دور دراز علاقوں کے ایک کروڑ بارہ لاکھ سے زائد افراد کو عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے قبل مفت قانونی مشاورت حاصل ہوئی ہے۔
ای-فائلنگ اور ای-سیوا مراکز کی خدمات نے مقدمہ دائر کرنے والے افراد اور عدالتی نظام کے درمیان رابطے اور معلومات کے تبادلے کو مزید سہل بنا دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عوامی شمولیت کے امتزاج پر مبنی بھارت کا یہ منفرد ماڈل عالمی سطح پر ایک مثالی نمونے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
وکلا اور جج صاحبان کے لئے ’’ایز آف ورکنگ‘‘ کو ڈیجیٹل اور طبعی بنیادی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر توسیع کے ذریعے نمایاں طور پر مضبوط بنایا گیا ہے۔ چونکہ ضلعی اور ماتحت عدلیہ ملک کے بیشتر شہریوں کے لئے عدالتی نظام سے پہلا رابطہ ہوتی ہے، اس لئے اس کا استحکام ایک ناگزیر اور عملی ترجیح بنا ہوا ہے۔
اسی مقصد کے تحت مرکز کے زیرِ اہتمام اسکیم کے ذریعے عدالتی عمارتوں، وکلا کے کمروں، رہائشی یونٹوں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں عدالتی عمارتوں کی تعداد 2014 میں 15818 سے بڑھ کر 22712 ہو گئی ہے، جبکہ جدید مربوط عدالتی کمپلیکسوں کی ترقی کے لئے 2014 سے اب تک 9400.40 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ 7200 کروڑ روپے کے بجٹ سے شروع کیے گئے ای-کورٹس فیز III منصوبے کا مقصد عدالتوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، کاغذ سے پاک اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنا ہے۔ ویڈیو کانفرنسنگ، ورچوئل عدالتوں اور عدالتی کارروائی کی براہِ راست نشریات جیسی پہلوں نے عدلیہ کو عوام کے مزید قریب کر دیا ہے اور نظامِ انصاف کو زیادہ قابلِ رسائی، شفاف اور مؤثر بنایا ہے۔
بھارت جیسے لسانی تنوع رکھنے والے ملک میں شہریوں کے لئے ’’ایز آف انڈرسٹینڈنگ‘‘، ’’ایز آف جسٹس‘‘ کے وسیع تصور کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر سپریم کورٹ کا قانونی ترجمہ سافٹ ویئر ایس یو وی اے ایس اور بھاشِنی جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی قدرتی زبان پراسیسنگ کے آلات سپریم کورٹ کے فیصلوں اور احکامات کا 18 بھارتی زبانوں میں ترجمہ کر رہے ہیں، جس سے عام لوگوں کے لئے قانونی معلومات تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے۔
اس کوشش کو مزید مؤثر بنانے کے لئے نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی)، جو ایک شماریاتی اور تجزیاتی پلیٹ فارم ہے، 340 ملین سے زائد عدالتی احکامات اور متعلقہ معلومات کے تجزیے تک ایک کلک میں رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت ماہرینِ تعلیم کے تعاون سے سادہ اور قابلِ فہم قانون سازی کے مسودوں کو فروغ دے رہی ہے تاکہ قوانین کو مزید آسان اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
بھارت میں نوآبادیاتی تعزیری ضابطوں کی جگہ نئے فوجداری نظامِ انصاف کے نفاذ نے محض سزا پر مبنی نظام کے بجائے انصاف پر مبنی نظام کو فروغ دیا ہے۔ ای-کورٹ، ای-پراسیکیوشن، ای-پرزن اور ای-فارنزک کو کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز (سی سی ٹی این ایس) سے جوڑنا بھی ایک اہم انقلابی قدم ثابت ہوا ہے۔
’’نیائے شروتی‘‘ پلیٹ فارم نے ورچوئل حاضری اور گواہوں کے بیانات کے اندراج کے عمل کو اس قدر مؤثر بنا دیا ہے کہ جب کوئی عدالت کسی شہری کو ضمانت دیتی ہے تو ڈیجیٹل ضمانتی حکم فوراً جیل پورٹل تک پہنچ جاتا ہے، جس سے کاغذی کارروائی اور انتظامی تاخیر کا خاتمہ ہو جاتا ہے، جو ماضی میں بروقت رہائی میں رکاوٹ بنتی تھیں۔
یہ نظام حقیقی وقت میں مقدمات کے اعداد و شمار کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے اور ایک باہم مربوط فوجداری نظامِ انصاف (آئی سی جے ایس) کے قیام کی راہ ہموار کرتا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہائی کورٹوں میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 2014 میں 906 تھی جو بڑھ کر 1122 ہو گئی ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 31 تھی، جسے 2019 میں بڑھا کر 34 کر دیا گیا، جبکہ سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس 2026 کے ذریعے اس تعداد کو مزید بڑھا کر 38 کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک کی مختلف ہائی کورٹوں میں متنوع سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے 1175 ججوں اور سپریم کورٹ میں 77 ججوں کی تقرری اس بات کی عکاس ہے کہ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے انتظامیہ اور عدلیہ نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ غیر ضروری قوانین اور ضوابط کی پیچیدگی متعلقہ فریقوں پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔ 40 ہزار سے زائد غیر ضروری ضابطوں کے خاتمے اور نوآبادیاتی دور کے 1725 فرسودہ اور غیر مؤثر قوانین کی منسوخی سے مختلف شعبوں میں ایز آف ڈوئنگ بزنس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اسی کے ساتھ ثالثی سے متعلق قوانین کو مضبوط بنانا، انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر جیسے اداروں کا قیام اور میڈی ایشن ایکٹ 2023 کے ذریعے متبادل تنازعاتی حل(اے ڈی آر) کو فروغ دینا اس شعبے میں بھارت کی عالمی قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔

موجودہ دور میں جبکہ دنیا پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے، بھارت کی قانونی اور سفارتی قیادت نے 2026 میں برکس ممالک کے وزرائے قانون کے اجلاس کے دوران گاندھی نگر اعلامیہ کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اعلامیے کا مقصد ثالثی اور مصالحت کو تنازعات کے حل کے زیادہ مؤثر اور قابلِ رسائی ذرائع کے طور پر فروغ دینا ہے۔
اس نوعیت کے عالمی تعاون کا مقصد عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی لانا، تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے مستحکم اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرنا اور غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کو فروغ دینا ہے۔
یہ تمام اقدامات ایک مشترکہ وژن کی عکاسی کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انصاف کے متلاشی ہر فرد کو ایک جوابدہ، قابلِ رسائی اور معاون حکومتی نظام میسر ہو۔
جیسے جیسے ہمارا ملک وزیر اعظم کے تصور کردہ وکست بھارت @2047 کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ہم ایک ایسے مستقبل کے عدالتی نظام کے قیام کے لئے پُرعزم ہیں جو لچکدار، جدت پسند، جامع اور 140 کروڑ بھارتیوں کی اجتماعی امنگوں سے ہم آہنگ ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

ریفارم ایکسپریس کے ذریعے انصاف تک رسائی مزید آسان ہو رہی ہے

 

 

ارجن رام میگھوال
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)
قانون و انصاف کے اور پارلیمانی امور

انصاف ہمیشہ سے انسانی تہذیب کا ایک نہایت اہم اور لازمی ستون رہا ہے۔ ہماری قدیم تہذیبی وراثت کی عظیم روایات اور ان کی پائیدار علامتیں اجتماعی طور پر اُن ادارہ جاتی نظاموں کی عکاسی کرتی ہیں جنہوں نے انسانی تمدن کے ارتقائی سفر کو درست سمت دی، اس کی رہنمائی کی اور اسے مسلسل آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔

انسانی تہذیب کی مسلسل ترقی کے نتیجے میں علم، سائنس اور ٹیکنالوجی سے آراستہ جدید معاشرے میں افراد اور برادریوں کے باہمی تعلقات بھی مختلف نظریات اور افکار کے باعث تبدیل ہوئے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی ترقی اور تکنیکی پیش رفت نے قومی سرحدوں سے ماورا خیالات کے آزادانہ تبادلے کو مزید آسان اور مؤثر بنا دیا ہے۔
ازل سے ایک فکر کی دوسری فکر پر برتری قائم کرنے کی جدوجہد علمِ قانون کی ترقی کی مضبوط بنیاد رہی ہے۔ صدیوں سے جاری افکار اور اقدار کے اس باہمی تصادم کے دوران عدالتی اداروں نے سچائی، غیر جانبداری اور قانون کی حکمرانی پر عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کی اہم ذمہ داری نبھائی ہے۔
ان اداروں نے ایک ایسے پل کا کردار ادا کیا ہے جو ہر متعلقہ فریق، حتیٰ کہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرنے والے افراد کو بھی انصاف اور اجتماعی فلاح کے وسیع تر عمل سے وابستگی، اعتماد اور شمولیت کا احساس دلاتا ہے۔

اسی پائیدار ادارہ جاتی عزم کے نتیجے میں ایک ایسا مضبوط نظام وجود میں آتا ہے جو نہ صرف انصاف تک رسائی کو یقینی بناتا ہے بلکہ ہر شہری کی زندگی کو آسان اور سہل بنانے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔
موجودہ دور کے تناظر میں بھارتی نظامِ قانون نے خود کو جدید چیلنجوں اور دستیاب مواقع کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ہماری آئینی وراثت ہمیں مجاہدینِ آزادی اور قوم کے معماروں کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے ایک مساوات پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لئے مسلسل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
آئین کے دیباچے میں شامل سیاسی، سماجی اور اقتصادی انصاف کے تصورات، نیز آزادی، مساوات اور اخوت کے اصول، اداروں اور افراد دونوں کے لئے ایک اخلاقی رہنما اور سمت نما کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آزاد بھارت کو آئین کی صورت میں ایک مثالی رہنما دستاویز حاصل ہوئی جس نے قوم کی ترقی کی سمت متعین کی۔ اگرچہ آزادی کے بعد ہم نے سیاسی خودمختاری حاصل کر لی تھی، تاہم گہری جڑیں رکھنے والی نوآبادیاتی ذہنیت بھارتی فکر اور اقدار کے لئے ایک فکری رکاوٹ بنی رہی۔
لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی، اس کے بعد بھارتی شہریوں کے لئے وضع کیے گئے تعزیری قوانین اور مختلف حکومتی پالیسیوں نے ضوابط کا ایک پیچیدہ جال بُن دیا جس نے عوام کی آزادی کو محدود کر دیا۔

انیسویں صدی کی سوچ اور بیسویں صدی کے قوانین اکیسویں صدی کی امنگوں اور تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے۔
ہمیں اپنی قومی کامیابیوں پر بے حد فخر ہے۔ تاہم جب ہم مودی حکومت کے گزشتہ بارہ برسوں کے ترقیاتی سفر کا جائزہ لیتے ہیں تو طرزِ حکمرانی میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی نظر آتی ہے، جس نے شہریوں کی زندگیوں کو مختلف سطحوں پر متاثر کیا ہے۔ سال 2014 کو ہمارے ملک کے جمہوری سفر کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی نوجوان آبادی (ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ) کو ترقی کے سب سے بڑے سرمایہ (ڈیولپمنٹ ڈیویڈنڈ) کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کرتے بھارت کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے پالیسی اقدامات کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا گیا۔
ملک کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت میں پورے حکومتی نظام نے ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ سے تحریک حاصل کرتے ہوئے ترقی کے عمل کو تیزی سے اپنایا اور عوامی بااختیاری کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ مختصراً اس سفر کو نچلی سطح پر ’’آسان طرزِ زندگی‘‘ (ایزآف لیونگ) کے فروغ اور اعلیٰ سطح پر ’’قوم پہلے‘‘ کے وژن کے نفاذ کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح بھارت میں عدالتی اصلاحات کا سفر بھی وسعت، جدت اور گہری سماجی و تہذیبی وابستگی کی ایک متاثر کن داستان ہے۔ یہ ایک جامع اور کثیر جہتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں قانون سازی کی جدیدکاری، ادارہ جاتی استحکام اور ڈیجیٹل اختراعات شامل ہیں۔

ہمارے لئے ’’ایز آف جسٹس‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ اصلاحات کا ایک بنیادی اصول ہے، جس میں انصاف کے متلاشی افراد کے لئے ’’آسان رسائی‘‘، وکلا اور جج صاحبان کے لئے ’’آسان طریقۂ کار‘‘ اور عام شہریوں کے لئے ’’آسان فہم نظام‘‘ شامل ہے۔
عدالتوں سے رجوع کرنے والے شہریوں کی سہولت کے لئے دشا (ڈی آئی ایس ایچ اے) اسکیم کے تحت ٹیلی لا، نیائے بندھو اور پرو بونو خدمات کے فروغ نے انصاف تک رسائی کو نہایت آسان اور کم خرچ بنا دیا ہے۔ کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چلائے جانے والے ٹیلی لا پروگرام کے تحت دیہی اور دور دراز علاقوں کے ایک کروڑ بارہ لاکھ سے زائد افراد کو عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے قبل مفت قانونی مشاورت حاصل ہوئی ہے۔
ای-فائلنگ اور ای-سیوا مراکز کی خدمات نے مقدمہ دائر کرنے والے افراد اور عدالتی نظام کے درمیان رابطے اور معلومات کے تبادلے کو مزید سہل بنا دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عوامی شمولیت کے امتزاج پر مبنی بھارت کا یہ منفرد ماڈل عالمی سطح پر ایک مثالی نمونے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
وکلا اور جج صاحبان کے لئے ’’ایز آف ورکنگ‘‘ کو ڈیجیٹل اور طبعی بنیادی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر توسیع کے ذریعے نمایاں طور پر مضبوط بنایا گیا ہے۔ چونکہ ضلعی اور ماتحت عدلیہ ملک کے بیشتر شہریوں کے لئے عدالتی نظام سے پہلا رابطہ ہوتی ہے، اس لئے اس کا استحکام ایک ناگزیر اور عملی ترجیح بنا ہوا ہے۔
اسی مقصد کے تحت مرکز کے زیرِ اہتمام اسکیم کے ذریعے عدالتی عمارتوں، وکلا کے کمروں، رہائشی یونٹوں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں عدالتی عمارتوں کی تعداد 2014 میں 15818 سے بڑھ کر 22712 ہو گئی ہے، جبکہ جدید مربوط عدالتی کمپلیکسوں کی ترقی کے لئے 2014 سے اب تک 9400.40 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ 7200 کروڑ روپے کے بجٹ سے شروع کیے گئے ای-کورٹس فیز III منصوبے کا مقصد عدالتوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، کاغذ سے پاک اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنا ہے۔ ویڈیو کانفرنسنگ، ورچوئل عدالتوں اور عدالتی کارروائی کی براہِ راست نشریات جیسی پہلوں نے عدلیہ کو عوام کے مزید قریب کر دیا ہے اور نظامِ انصاف کو زیادہ قابلِ رسائی، شفاف اور مؤثر بنایا ہے۔
بھارت جیسے لسانی تنوع رکھنے والے ملک میں شہریوں کے لئے ’’ایز آف انڈرسٹینڈنگ‘‘، ’’ایز آف جسٹس‘‘ کے وسیع تصور کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر سپریم کورٹ کا قانونی ترجمہ سافٹ ویئر ایس یو وی اے ایس اور بھاشِنی جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی قدرتی زبان پراسیسنگ کے آلات سپریم کورٹ کے فیصلوں اور احکامات کا 18 بھارتی زبانوں میں ترجمہ کر رہے ہیں، جس سے عام لوگوں کے لئے قانونی معلومات تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے۔
اس کوشش کو مزید مؤثر بنانے کے لئے نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی)، جو ایک شماریاتی اور تجزیاتی پلیٹ فارم ہے، 340 ملین سے زائد عدالتی احکامات اور متعلقہ معلومات کے تجزیے تک ایک کلک میں رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت ماہرینِ تعلیم کے تعاون سے سادہ اور قابلِ فہم قانون سازی کے مسودوں کو فروغ دے رہی ہے تاکہ قوانین کو مزید آسان اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
بھارت میں نوآبادیاتی تعزیری ضابطوں کی جگہ نئے فوجداری نظامِ انصاف کے نفاذ نے محض سزا پر مبنی نظام کے بجائے انصاف پر مبنی نظام کو فروغ دیا ہے۔ ای-کورٹ، ای-پراسیکیوشن، ای-پرزن اور ای-فارنزک کو کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز (سی سی ٹی این ایس) سے جوڑنا بھی ایک اہم انقلابی قدم ثابت ہوا ہے۔
’’نیائے شروتی‘‘ پلیٹ فارم نے ورچوئل حاضری اور گواہوں کے بیانات کے اندراج کے عمل کو اس قدر مؤثر بنا دیا ہے کہ جب کوئی عدالت کسی شہری کو ضمانت دیتی ہے تو ڈیجیٹل ضمانتی حکم فوراً جیل پورٹل تک پہنچ جاتا ہے، جس سے کاغذی کارروائی اور انتظامی تاخیر کا خاتمہ ہو جاتا ہے، جو ماضی میں بروقت رہائی میں رکاوٹ بنتی تھیں۔
یہ نظام حقیقی وقت میں مقدمات کے اعداد و شمار کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے اور ایک باہم مربوط فوجداری نظامِ انصاف (آئی سی جے ایس) کے قیام کی راہ ہموار کرتا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہائی کورٹوں میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 2014 میں 906 تھی جو بڑھ کر 1122 ہو گئی ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 31 تھی، جسے 2019 میں بڑھا کر 34 کر دیا گیا، جبکہ سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس 2026 کے ذریعے اس تعداد کو مزید بڑھا کر 38 کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک کی مختلف ہائی کورٹوں میں متنوع سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے 1175 ججوں اور سپریم کورٹ میں 77 ججوں کی تقرری اس بات کی عکاس ہے کہ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے انتظامیہ اور عدلیہ نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ غیر ضروری قوانین اور ضوابط کی پیچیدگی متعلقہ فریقوں پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔ 40 ہزار سے زائد غیر ضروری ضابطوں کے خاتمے اور نوآبادیاتی دور کے 1725 فرسودہ اور غیر مؤثر قوانین کی منسوخی سے مختلف شعبوں میں ایز آف ڈوئنگ بزنس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اسی کے ساتھ ثالثی سے متعلق قوانین کو مضبوط بنانا، انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر جیسے اداروں کا قیام اور میڈی ایشن ایکٹ 2023 کے ذریعے متبادل تنازعاتی حل(اے ڈی آر) کو فروغ دینا اس شعبے میں بھارت کی عالمی قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔

موجودہ دور میں جبکہ دنیا پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے، بھارت کی قانونی اور سفارتی قیادت نے 2026 میں برکس ممالک کے وزرائے قانون کے اجلاس کے دوران گاندھی نگر اعلامیہ کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اعلامیے کا مقصد ثالثی اور مصالحت کو تنازعات کے حل کے زیادہ مؤثر اور قابلِ رسائی ذرائع کے طور پر فروغ دینا ہے۔
اس نوعیت کے عالمی تعاون کا مقصد عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی لانا، تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے مستحکم اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرنا اور غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کو فروغ دینا ہے۔
یہ تمام اقدامات ایک مشترکہ وژن کی عکاسی کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انصاف کے متلاشی ہر فرد کو ایک جوابدہ، قابلِ رسائی اور معاون حکومتی نظام میسر ہو۔
جیسے جیسے ہمارا ملک وزیر اعظم کے تصور کردہ وکست بھارت @2047 کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ہم ایک ایسے مستقبل کے عدالتی نظام کے قیام کے لئے پُرعزم ہیں جو لچکدار، جدت پسند، جامع اور 140 کروڑ بھارتیوں کی اجتماعی امنگوں سے ہم آہنگ ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں