ایران اور جنگ کے مستقل خاتمے کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات پیر کی صبح اختتام پذیر ہوگئے۔ فریقین نے طے کیا کہ ہفتے کے باقی دنوں میں نچلی سطح پر مزید بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق، ایران اور امریکہ نے لبنان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک "ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس سیل میں لبنانی حکومت بھی شریک ہوگی اور اس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا
ایران کے وزیر خارجہ نے پیر کی صبح سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پاکستان اور قطر کی ثالثی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے "بڑی پیش رفت کی”۔ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ بات لکھی۔
پاکستان، قطر اور ایران سبھی نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کو تسلیم کیا ہے۔ امریکہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اپنے پیغام میں، عراقچی نے کہا کہ طے پانے والے مفاہمت کا پہلا حقیقی امتحان اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کا طریقہ ہوگا۔
ایران نے مذاکرات میں کامیابی کو لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے سے جوڑ دیا ہے۔ جہاں اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین پر قبضہ جاری رکھے۔
ثالثوں نے پیر کے اوائل میں کہا کہ ایران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطحی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ باقی ہفتے تک وہاں تکنیکی بات چیت جاری رہے گی۔
امریکہ نے فوری طور پر اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ ایران نے وزارت خارجہ کے ترجمان کے ذریعے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔”
یہ بات چیت 60 دن کے عمل میں سفارت کاری کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ایران جنگ پر ایک مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن لبنان میں اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے درمیان جنگ سفارت کاری کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
وہیں، ایران نے اس نے ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔
اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ مباحثے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہوئے۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔ ایجنسی کے مطابق اجلاس 80 منٹ تک جاری رہا اور اسے "اندرونی مشاورت” کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق پہلے دور میں لبنان پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دوسرے دور میں آبنائے ہرمز پر بات چیت ہوگی۔ اس کے بعد جوہری معاملے پر تیسرا اجلاس ہوگا، اور اس کے بعد ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔


