قریب قیامت سے پہلے کیا ہوگا

 

مؤلف: ماجد مجید، کشمیر یونیورسٹی
نگران: پروفیسر ظہور احمد ملک المدنی، اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ
معاون نگران: پروفیسر غلام محمدبٹ المدنی
(تجزیہ نگارانہ جائزہ)

مؤلف نے کتاب کے آغاز میں قیامت کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کی حقیقت اور قربِ قیامت سے پہلے پیش آنے والے حالات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق فلک بوس عمارتوں کی تعمیر، فحاشی و عریانی کا عام ہونا، قتل و غارت گری، جابر حکمرانوں کا دور، زلزلوں کی کثرت، اور یہودی منصوبے کے تحت چٹانِ داؤدی کا برطانیہ سے بیت المقدس لایا جانا قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں شامل ہیں۔
اسی طرح بیت المقدس کی تاریخ، الملحمۃ العظمیٰ (تیسری عظیم عالمی جنگ)، دجالی فتنے کی تمہید، لوٹ مار اور الفزع الاکبر کا تذکرہ بھی قیامت کی چھوٹی نشانیوں کے ضمن میں کیا گیا ہے۔
جبکہ خروجِ دجال، اس کی شعبدہ بازیاں، اور درختوں و پتھروں کا انسانوں سے ہم کلام ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ مزید برآں، امام مہدیؑ کا ظہور، حضرت عیسیٰؑ کا نزول، دابۃ الارض کا ظہور، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، کوہِ صفا کا پھٹنا، اس میں سے دابۃ الارض کا نکلنا اور انسانوں سے گفتگو کرنا بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں شامل ہیں۔
کتاب میں دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونے، یاجوج ماجوج کے خروج اور ان کی ہلاکت، جزیرہ العرب اور مشرق و مغرب میں زمین دھنسنے، یمن کی جانب سے آگ کے نکلنے اور لوگوں کو میدانِ حشر کی طرف ہانکنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
مزید برآں، بیت اللہ کی پامالی اور لوگوں کا قبروں سے غیر مختون اور برہنہ حالت میں اٹھایا جانا بھی کتاب کے موضوعات میں شامل ہے۔ آخر میں مؤلف نے امتِ محمدیہ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰؑ کے مابین مکالمے، میدانِ حشر میں امتِ محمدیہ ﷺ کی پہچان اور اس کے مقام و مرتبے، جنت کے بازار، اور اللہ تعالیٰ کی ہنسی سے متعلق روایات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

قریب قیامت سے پہلے کیا ہوگا

 

مؤلف: ماجد مجید، کشمیر یونیورسٹی
نگران: پروفیسر ظہور احمد ملک المدنی، اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ
معاون نگران: پروفیسر غلام محمدبٹ المدنی
(تجزیہ نگارانہ جائزہ)

مؤلف نے کتاب کے آغاز میں قیامت کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کی حقیقت اور قربِ قیامت سے پہلے پیش آنے والے حالات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق فلک بوس عمارتوں کی تعمیر، فحاشی و عریانی کا عام ہونا، قتل و غارت گری، جابر حکمرانوں کا دور، زلزلوں کی کثرت، اور یہودی منصوبے کے تحت چٹانِ داؤدی کا برطانیہ سے بیت المقدس لایا جانا قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں شامل ہیں۔
اسی طرح بیت المقدس کی تاریخ، الملحمۃ العظمیٰ (تیسری عظیم عالمی جنگ)، دجالی فتنے کی تمہید، لوٹ مار اور الفزع الاکبر کا تذکرہ بھی قیامت کی چھوٹی نشانیوں کے ضمن میں کیا گیا ہے۔
جبکہ خروجِ دجال، اس کی شعبدہ بازیاں، اور درختوں و پتھروں کا انسانوں سے ہم کلام ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ مزید برآں، امام مہدیؑ کا ظہور، حضرت عیسیٰؑ کا نزول، دابۃ الارض کا ظہور، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، کوہِ صفا کا پھٹنا، اس میں سے دابۃ الارض کا نکلنا اور انسانوں سے گفتگو کرنا بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں شامل ہیں۔
کتاب میں دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونے، یاجوج ماجوج کے خروج اور ان کی ہلاکت، جزیرہ العرب اور مشرق و مغرب میں زمین دھنسنے، یمن کی جانب سے آگ کے نکلنے اور لوگوں کو میدانِ حشر کی طرف ہانکنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
مزید برآں، بیت اللہ کی پامالی اور لوگوں کا قبروں سے غیر مختون اور برہنہ حالت میں اٹھایا جانا بھی کتاب کے موضوعات میں شامل ہے۔ آخر میں مؤلف نے امتِ محمدیہ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰؑ کے مابین مکالمے، میدانِ حشر میں امتِ محمدیہ ﷺ کی پہچان اور اس کے مقام و مرتبے، جنت کے بازار، اور اللہ تعالیٰ کی ہنسی سے متعلق روایات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں