ایک نیا شِوالہ

ایم ۔یونس
 وہ دونوں بوڑھا بوڑھی کھلے اسٹیشن پر ایک پیڑ تلے بیٹھے ہوئے نہ جانے کب سے کسی میلے میں کھوئے ہوئے بچے کی طرح زارو قطار روئے جا رہے تھے۔ پلیٹ فارم پر آنے جانے والے مسافروں کی خود کی آپا دھاپی پڑئی ہوئی تھی۔ گزرتے ہوئے مسافروں کی نظر ان تکلیف زدہ بوڑھوں پر ضرور پڑتی تھی مگر وہ انہیں اپنے لئے مصیبت سمجھ کر چپکے سے آگے نکل جاتے تھے۔
وقت وقت پر ریل گاڑیاں اپنے اپنے پلیٹ فارم پر چیختی چلاتی آتیں تھیں۔ مسافروں کو لیتیں اور اپنی منزلوں کو روانہ ہو جاتی تھیں۔ یہ بوڑھے اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے اپنے بیٹے کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا گھر اسٹیشن سے سو دو سو گز کی دوری پر تھا۔ وہ کئی بار بیٹے اور بہو کی تلخ باتوں سے ناراض ہو کر کہیں دور انجان منزلوں کی طرف جانے کے ارادے سے نکل پڑتے تھے۔ مگر اسٹیشن پر گزرنے والی ریل گاڑیوں پر سوار ہونے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی تھی۔ انہیں اپنے اکلوتے بیٹے کی محبت پائوں میں بیڑیاں ڈال دیتی تھیں۔ وہ منھ بسورے اسٹیشن پر پڑے رہتے تھے۔ کبھی بیٹا اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے انہیں آکر منا کر گھر واپس لے جاتا تھا۔ کبھی بیٹے کے نہیں آنے پر ہار پچھتا کر خود ہی گھر لوٹ جاتے تھے۔ آج ان بوڑھوں کو بیٹے بہو کی باتیں دل کو چھید کر گئیں تھیں۔ انہوں نےاپنے دل میں ٹھان لیا تھا جب تک ان کا بیٹا آکر ان سے معافی نہیں مانگے گا وہ گھر واپس نہیں لوٹیں گے۔
اس بھیڑ بھاڑ اسٹیشن پر راہ چلتے ہوئے مسافروں کووہ دونوں ٹکٹکی باندھےہوئے دیکھتے رہتے تھے۔ مسافروں کو اپنی منزلو ں کی فکرتھی۔ کوئی ان کی طرف نگاہ ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ بیچارے یہ مایوس کن جوڑے، روتے روتےجب تھک جاتے تھے تواپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بیٹے کا  انتظار کرنے لگتے تھے۔ ان کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوئوں اور اداس چہروں کو دیکھ کر ایک نوجوان کا دل پسیج گیا۔ وہ اپنی سفر منزل کو بھول گیا۔  ان دکھیاری معمر جوڑے کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس نوجوان کو دیکھ کر ان کے آنسو تھمتے نہ تھے۔ وہ ضعیف اپنی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اس نوجوان کو دیکھا اور وفور جذبات میں آکر کہنے لگا”بیٹا ! تم آگئے ، میں جاننا تھا کہ تم ہم دونوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ضرو ر آئو گے، میں گنگا کو کئی بار سمجھا یا، اتنا مت رو، ہمارا بیٹا دل کا اتنا کٹھور نہیں ہے جو ہمیں اس طرح بے یارو مدگار اس اندھیری دنیا میں چھوڑ دے گا، بیٹا! تم آگئے ،ہمیں بہت سکون مل رہا ہے ، بیٹا ! ہم غصہ میں تم سے روٹھ کر تو چلے آئے مگر دل کو چین نہیں ملا، بیٹا ! در اصل ہم نے بڑی تکلیفیں اٹھا کر تمہیں پالا پوسا ہے، جب تم پیدا ہوئے اس وقت تم بالکل کمزور اور ناتواں تھے، ڈاکٹر نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا، اس بچہ کا بچنا بڑا ہی مشکل ہے، پیدا ہوتے ہی تمہیں ICUمیں رکھا گیا، فوری طور پر تمہیں آکسیجن دیا گیا، اس وقت میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی جو اسپتال کے اخراجات کو برداشت کر پاتا، میرے پاس کھیت جوتنے کے لئے دو بیل تھے، بڑے ہی بھولے بھالے اور پیارے تھے، دونوں بیچارے مجھے بہت چاہتے تھے، میں بھی انہیں اولاد کی طرح پیار کرتا تھا، میں نے سخت جان بن کر ان بیلوں کو اونے پونے دام میں بیچ دیا تاکہ تمہاری زندگی کسی طرح بچ جائے، تمہارے علاج میں پیسے خرچ ہوتے رہے، میں نے کھیت فروخت کر دیا،تمہاری ماں کے گہنے بک گئے، کچھ امیدیں بندھیں، ڈاکٹر نےکہا، میں کوشش کر رہا ہوں، زندگی دینے والا بھگوان ہے، آپ بھگوان سے پراتھنا کریں، بیٹا ! میں کبھی اسپتال میں تو کبھی مندر میں موجود ہوتا تھا، تمہاری زندگی کی بھیک بھگوان کے در پر مانگتا رہا، بیٹا! جب بھی ہم تم سے دور ہوتے ہیں تو تمہاری بچپن کی یادیں ہمیں درد بن کر رلاتی ہیں، میں جانتا تھا، جب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا تو تم ضرور ہمیں لینے آئو گے، تمہاری ماتا غصے میں کہہ رہی تھی، جب بیٹا بار بار ہمیں گھر سے بھگا دیتا ہے تو کیوں نا ہم کسی مندر یا آشرم میں ہمیشہ کے لئے آسرا ڈھونڈ لیتے ہیں!؟۔ دنیا میں بہت سارے بے سہارا لوگ’ بوڑھو ںکے گھر’ دھرم شالہ اور مٹھ وغیرہ میں جی رہے ہیں، میں نے تمہاری ماتا سے کہا، نہیں نہیں گنگا! میں اپنے بیٹے کو اتنا بڑا دکھ نہیں دے سکتا ہوں، وہ اس دنیا میں بدنام ہو جائے گا۔ آخر وہ ہمارا خون ہے، کیچڑ میں پائوں پڑ جانے سے پائوں گندہ تھوڑے ہی ہو جاتا ہے، اگر انسان کے دل میں اپنے کئے ہوئے پر ندامت کی دھاریں جاری ہو جائیں تو وہ خالص دودھ کی طرح شفاف بن جاتا ہے، بچہ ہے سدھر جائے گا، ایک دن وہ ضروراپنی غلطیوں پر نادم ہو کر ہم سے معافی مانگے گا، اس بار میں نے تمہاری ماتا کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ وہ بہو کے معاملات میں اڑچنیں نہ ڈالا کرے، اتنے میں گنگا نے ٹوکا لگایا” یہ بھی تو کہہ دو کہ وہ جو دو روٹیاں کھلاتا ہے ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہے، ہمیں بوجھ سمجھ کرہر وقت کوسا نہ کرے، گنگا ! چپ رہو، جھگڑے کو اورطول مت دو”۔ بیٹا! تم تو اپنی ماتا کی عادت سے اچھی طرح واقف ہو،وہ ایک جنونی عورت ، ان سب باتوں کو بھول جائو، چلو بیٹا !ہم سب گھر چلتے ہیں ،بھگوان نے چاہا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، بیٹا !ہم تمہارے آنے کا انتظار بڑی بے قراری سے کر رہے تھے جیسے یہ مسافر کئی کئی گھنٹوں سے پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے اپنی گاڑی کی آنے کی راہ تک رہے ہیں،بیٹا !ہم بوڑھے ناتواں ہو چکے ہیں اس لئے کبھی کبھی یہ سوچ کر ہمارا د ل بیٹھا جا رہا تھا کہ شاید تم نہیں آئو گے!!، پھر امیدیں جاگ اٹھتی تھیں ، ہمارا بیٹااتنا سنگ دل نہیں ہو سکتا ہے، وہ ہمیں لینے اسٹیشن پر ضرور آئے گا، بیٹا! ہماری امیدوں کو تم نے ایک نئی زندگی دی ہے، ہم دنیا میں سر اٹھا کر کہہ سکتے ہیں ہمارا دیپک ساری جگت کا اجالا ہے، سچ پوچھو بیٹا !ہماری زندگی کا متاع کل تم ہو، ہم تمہارے بغیر جی نہیں سکتے ہیں، ہم اس سائبان کے نیچے جینا چاہتے ہیں ، جہاں ہمارے ساتھ ہمیشہ تم رہو ، بیٹا! ہم اس بوڑھا پے میں تنہا زندگی کاٹنے کے لائق نہیں رہے۔ بیٹا !ہمیں اس وقت بہت بھوک لگ رہی ہے، صبح سے ہم کچھ کھائے پیئے نہیں ہیں، بیٹا ! تم سے وعدہ ہے اب ہم کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے جس سے تمہارا دل دکھے گا! ہمیں معاف کر دو، ہماری غلطیوں کو در گزر کر دو، بھگوان تمہیں ہمیشہ سُکھی رکھے گا۔”  بابا! میں آپ کی اولاد ہوں، معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں، آپ کا رونا میرے دل کو صدمہ پہنونچا رہا ہے، میں بھی صبح سے آپ دونوں کی تلاش میں کچھ کھایا پیا نہیں ہوں، میں ابھی کچھ کھانے کو لاتا ہوں، ہم تینوں ایک ساتھ جی بھر کر کھائیں گے، پھر گھر چلیں گے” ۔ اس اجنبی نوجوان نے بڑی نرمی سے کہا۔
سارا دن کے بھوکے پیاسے ان بوڑھے ماں باپ کو اس نوجوان نے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا، خود بھی ان کے لقموں میں شامل رہا۔ پیٹ میں دانہ جاتے ہی ان معمر جوڑے کے مرجھائے ہوئےچہرے پر تازگی آگئی ۔
نوجوان نےخوش ہو کر بوڑھے بابا سے مخاطب ہو کر کہابابا! اب گھر چلتے ہیں۔”
” ٹھہرو بیٹا! ذرا میں اپنا عینک تو لگالوں، صبح سے چشمہ نہیں لگایا ہے،بغیر چشمہ کے میری آنکھوں میں تکلیف ہو رہی ہے، مجھے دھندلا دھندلا سا دکھلائی دے رہا ہے، تمہاری ماتا کی تو دونوں آنکھیں بالکل خراب ہو چکی ہیں، بیچاری میری باہنہ پکڑ کر چلتی ہے، بیٹا ! اس بار ٹھنڈ کے موسم میں اس کی آنکھیں ضرو ر بنوا دینا” یہ کہتے ہوئے پریشان حال بوڑھا نے اپنےمیلے کرتا کی جیب سے ایک بوسیدہ چشمہ نکالا ، جس کی ایک جانب کی کنپٹی (Temple)سلامت تھی، دوسری طرف کان میں اٹکانے کے لئے ا یک سوتا کا ہالہ بنا ہوا تھا۔ بوڑھا باپ نے کسی طرح سےاپنی  آنکھوں پر چشمہ چڑھا لیا۔ اب اس ضعیف العمر کے سامنے ہرنا صاف دیکھائی دینے والی چیزیں بہت حدتک صاف دکھلائی دینے لگی تھیں۔بوڑھا باپ ایک اجنبی نوجوان کو اپنے پاس خدمت کرتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گیا۔یہ کیا ماجراہے!! اس نے اپنی گنگا کو بتایا۔ وہ بھی حیرت میں پڑ گئی۔یہ ایک عجیب کھیل کا میدان تھا۔ کھلاڑی وہی تھے مگر ریفری بدل چکا تھا۔
”بیٹا ! تم تو میرے رامو نہیں ہو!!، پھر تم نے ہمارے لئے اتنی دیرسے تکلیفیں کیوں اٹھارہے تھے !؟اس ضعیف نے روتے ہوئے اجنبی نوجوان سے سوال کیا۔ "بابا! میں چاہے بیٹا کسی کا ہوں!؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، میرا دل کسی ماں باپ کو روتا بلکتا دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے، بھگوان نے مجھے سب کچھ دیا ہے، گھر، دھن دولت اورسکون مگر دکھ اس بات کا ہے کہ میرے ماں باپ ایک ہوائی حادثہ میں گزر چکے ہیں، میں انات ہوں، میں چاہتا ہوں کہ آپ دونوں میرے ساتھ چلیں، آپ کے قدموں سے میرا سونا گھر روشن ہو جائے گا۔” اس نوجوان نے منت و سماجت کرتے ہوئےان بوڑھے ماں باپ سے کہا۔
دونوں ضعیف العمر ایک دوسرے کو اشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا درد آنسوئوں کا سیلاب بن کر چھلک رہا تھا۔ اتنے میں پلیٹ فارم پر ایک ریل گاڑی آکر رکی ۔ نوجوان نے بوڑھے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا” بابو جی!اپنی گاڑی آ چکی ہے” بوڑھے ماں باپ اپنی جگہ سے اُٹھ کر دھیرے دھیرے اس نوجوان کے ساتھ اپنی زندگی کے ایک نئے سنگ میل کی اُور چل پڑے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

وینزویلا میں 5.6 شدت کا تازہ زلزلہ

  5.6 کی شدت کے زلزلے نے اراگوا کے ساحل...

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

تازہ ترین خبریں

وینزویلا میں 5.6 شدت کا تازہ زلزلہ

  5.6 کی شدت کے زلزلے نے اراگوا کے ساحل...

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

ایک نیا شِوالہ

ایم ۔یونس
 وہ دونوں بوڑھا بوڑھی کھلے اسٹیشن پر ایک پیڑ تلے بیٹھے ہوئے نہ جانے کب سے کسی میلے میں کھوئے ہوئے بچے کی طرح زارو قطار روئے جا رہے تھے۔ پلیٹ فارم پر آنے جانے والے مسافروں کی خود کی آپا دھاپی پڑئی ہوئی تھی۔ گزرتے ہوئے مسافروں کی نظر ان تکلیف زدہ بوڑھوں پر ضرور پڑتی تھی مگر وہ انہیں اپنے لئے مصیبت سمجھ کر چپکے سے آگے نکل جاتے تھے۔
وقت وقت پر ریل گاڑیاں اپنے اپنے پلیٹ فارم پر چیختی چلاتی آتیں تھیں۔ مسافروں کو لیتیں اور اپنی منزلوں کو روانہ ہو جاتی تھیں۔ یہ بوڑھے اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے اپنے بیٹے کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا گھر اسٹیشن سے سو دو سو گز کی دوری پر تھا۔ وہ کئی بار بیٹے اور بہو کی تلخ باتوں سے ناراض ہو کر کہیں دور انجان منزلوں کی طرف جانے کے ارادے سے نکل پڑتے تھے۔ مگر اسٹیشن پر گزرنے والی ریل گاڑیوں پر سوار ہونے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی تھی۔ انہیں اپنے اکلوتے بیٹے کی محبت پائوں میں بیڑیاں ڈال دیتی تھیں۔ وہ منھ بسورے اسٹیشن پر پڑے رہتے تھے۔ کبھی بیٹا اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے انہیں آکر منا کر گھر واپس لے جاتا تھا۔ کبھی بیٹے کے نہیں آنے پر ہار پچھتا کر خود ہی گھر لوٹ جاتے تھے۔ آج ان بوڑھوں کو بیٹے بہو کی باتیں دل کو چھید کر گئیں تھیں۔ انہوں نےاپنے دل میں ٹھان لیا تھا جب تک ان کا بیٹا آکر ان سے معافی نہیں مانگے گا وہ گھر واپس نہیں لوٹیں گے۔
اس بھیڑ بھاڑ اسٹیشن پر راہ چلتے ہوئے مسافروں کووہ دونوں ٹکٹکی باندھےہوئے دیکھتے رہتے تھے۔ مسافروں کو اپنی منزلو ں کی فکرتھی۔ کوئی ان کی طرف نگاہ ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ بیچارے یہ مایوس کن جوڑے، روتے روتےجب تھک جاتے تھے تواپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بیٹے کا  انتظار کرنے لگتے تھے۔ ان کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوئوں اور اداس چہروں کو دیکھ کر ایک نوجوان کا دل پسیج گیا۔ وہ اپنی سفر منزل کو بھول گیا۔  ان دکھیاری معمر جوڑے کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس نوجوان کو دیکھ کر ان کے آنسو تھمتے نہ تھے۔ وہ ضعیف اپنی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اس نوجوان کو دیکھا اور وفور جذبات میں آکر کہنے لگا”بیٹا ! تم آگئے ، میں جاننا تھا کہ تم ہم دونوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ضرو ر آئو گے، میں گنگا کو کئی بار سمجھا یا، اتنا مت رو، ہمارا بیٹا دل کا اتنا کٹھور نہیں ہے جو ہمیں اس طرح بے یارو مدگار اس اندھیری دنیا میں چھوڑ دے گا، بیٹا! تم آگئے ،ہمیں بہت سکون مل رہا ہے ، بیٹا ! ہم غصہ میں تم سے روٹھ کر تو چلے آئے مگر دل کو چین نہیں ملا، بیٹا ! در اصل ہم نے بڑی تکلیفیں اٹھا کر تمہیں پالا پوسا ہے، جب تم پیدا ہوئے اس وقت تم بالکل کمزور اور ناتواں تھے، ڈاکٹر نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا، اس بچہ کا بچنا بڑا ہی مشکل ہے، پیدا ہوتے ہی تمہیں ICUمیں رکھا گیا، فوری طور پر تمہیں آکسیجن دیا گیا، اس وقت میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی جو اسپتال کے اخراجات کو برداشت کر پاتا، میرے پاس کھیت جوتنے کے لئے دو بیل تھے، بڑے ہی بھولے بھالے اور پیارے تھے، دونوں بیچارے مجھے بہت چاہتے تھے، میں بھی انہیں اولاد کی طرح پیار کرتا تھا، میں نے سخت جان بن کر ان بیلوں کو اونے پونے دام میں بیچ دیا تاکہ تمہاری زندگی کسی طرح بچ جائے، تمہارے علاج میں پیسے خرچ ہوتے رہے، میں نے کھیت فروخت کر دیا،تمہاری ماں کے گہنے بک گئے، کچھ امیدیں بندھیں، ڈاکٹر نےکہا، میں کوشش کر رہا ہوں، زندگی دینے والا بھگوان ہے، آپ بھگوان سے پراتھنا کریں، بیٹا ! میں کبھی اسپتال میں تو کبھی مندر میں موجود ہوتا تھا، تمہاری زندگی کی بھیک بھگوان کے در پر مانگتا رہا، بیٹا! جب بھی ہم تم سے دور ہوتے ہیں تو تمہاری بچپن کی یادیں ہمیں درد بن کر رلاتی ہیں، میں جانتا تھا، جب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا تو تم ضرور ہمیں لینے آئو گے، تمہاری ماتا غصے میں کہہ رہی تھی، جب بیٹا بار بار ہمیں گھر سے بھگا دیتا ہے تو کیوں نا ہم کسی مندر یا آشرم میں ہمیشہ کے لئے آسرا ڈھونڈ لیتے ہیں!؟۔ دنیا میں بہت سارے بے سہارا لوگ’ بوڑھو ںکے گھر’ دھرم شالہ اور مٹھ وغیرہ میں جی رہے ہیں، میں نے تمہاری ماتا سے کہا، نہیں نہیں گنگا! میں اپنے بیٹے کو اتنا بڑا دکھ نہیں دے سکتا ہوں، وہ اس دنیا میں بدنام ہو جائے گا۔ آخر وہ ہمارا خون ہے، کیچڑ میں پائوں پڑ جانے سے پائوں گندہ تھوڑے ہی ہو جاتا ہے، اگر انسان کے دل میں اپنے کئے ہوئے پر ندامت کی دھاریں جاری ہو جائیں تو وہ خالص دودھ کی طرح شفاف بن جاتا ہے، بچہ ہے سدھر جائے گا، ایک دن وہ ضروراپنی غلطیوں پر نادم ہو کر ہم سے معافی مانگے گا، اس بار میں نے تمہاری ماتا کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ وہ بہو کے معاملات میں اڑچنیں نہ ڈالا کرے، اتنے میں گنگا نے ٹوکا لگایا” یہ بھی تو کہہ دو کہ وہ جو دو روٹیاں کھلاتا ہے ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہے، ہمیں بوجھ سمجھ کرہر وقت کوسا نہ کرے، گنگا ! چپ رہو، جھگڑے کو اورطول مت دو”۔ بیٹا! تم تو اپنی ماتا کی عادت سے اچھی طرح واقف ہو،وہ ایک جنونی عورت ، ان سب باتوں کو بھول جائو، چلو بیٹا !ہم سب گھر چلتے ہیں ،بھگوان نے چاہا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، بیٹا !ہم تمہارے آنے کا انتظار بڑی بے قراری سے کر رہے تھے جیسے یہ مسافر کئی کئی گھنٹوں سے پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے اپنی گاڑی کی آنے کی راہ تک رہے ہیں،بیٹا !ہم بوڑھے ناتواں ہو چکے ہیں اس لئے کبھی کبھی یہ سوچ کر ہمارا د ل بیٹھا جا رہا تھا کہ شاید تم نہیں آئو گے!!، پھر امیدیں جاگ اٹھتی تھیں ، ہمارا بیٹااتنا سنگ دل نہیں ہو سکتا ہے، وہ ہمیں لینے اسٹیشن پر ضرور آئے گا، بیٹا! ہماری امیدوں کو تم نے ایک نئی زندگی دی ہے، ہم دنیا میں سر اٹھا کر کہہ سکتے ہیں ہمارا دیپک ساری جگت کا اجالا ہے، سچ پوچھو بیٹا !ہماری زندگی کا متاع کل تم ہو، ہم تمہارے بغیر جی نہیں سکتے ہیں، ہم اس سائبان کے نیچے جینا چاہتے ہیں ، جہاں ہمارے ساتھ ہمیشہ تم رہو ، بیٹا! ہم اس بوڑھا پے میں تنہا زندگی کاٹنے کے لائق نہیں رہے۔ بیٹا !ہمیں اس وقت بہت بھوک لگ رہی ہے، صبح سے ہم کچھ کھائے پیئے نہیں ہیں، بیٹا ! تم سے وعدہ ہے اب ہم کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے جس سے تمہارا دل دکھے گا! ہمیں معاف کر دو، ہماری غلطیوں کو در گزر کر دو، بھگوان تمہیں ہمیشہ سُکھی رکھے گا۔”  بابا! میں آپ کی اولاد ہوں، معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں، آپ کا رونا میرے دل کو صدمہ پہنونچا رہا ہے، میں بھی صبح سے آپ دونوں کی تلاش میں کچھ کھایا پیا نہیں ہوں، میں ابھی کچھ کھانے کو لاتا ہوں، ہم تینوں ایک ساتھ جی بھر کر کھائیں گے، پھر گھر چلیں گے” ۔ اس اجنبی نوجوان نے بڑی نرمی سے کہا۔
سارا دن کے بھوکے پیاسے ان بوڑھے ماں باپ کو اس نوجوان نے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا، خود بھی ان کے لقموں میں شامل رہا۔ پیٹ میں دانہ جاتے ہی ان معمر جوڑے کے مرجھائے ہوئےچہرے پر تازگی آگئی ۔
نوجوان نےخوش ہو کر بوڑھے بابا سے مخاطب ہو کر کہابابا! اب گھر چلتے ہیں۔”
” ٹھہرو بیٹا! ذرا میں اپنا عینک تو لگالوں، صبح سے چشمہ نہیں لگایا ہے،بغیر چشمہ کے میری آنکھوں میں تکلیف ہو رہی ہے، مجھے دھندلا دھندلا سا دکھلائی دے رہا ہے، تمہاری ماتا کی تو دونوں آنکھیں بالکل خراب ہو چکی ہیں، بیچاری میری باہنہ پکڑ کر چلتی ہے، بیٹا ! اس بار ٹھنڈ کے موسم میں اس کی آنکھیں ضرو ر بنوا دینا” یہ کہتے ہوئے پریشان حال بوڑھا نے اپنےمیلے کرتا کی جیب سے ایک بوسیدہ چشمہ نکالا ، جس کی ایک جانب کی کنپٹی (Temple)سلامت تھی، دوسری طرف کان میں اٹکانے کے لئے ا یک سوتا کا ہالہ بنا ہوا تھا۔ بوڑھا باپ نے کسی طرح سےاپنی  آنکھوں پر چشمہ چڑھا لیا۔ اب اس ضعیف العمر کے سامنے ہرنا صاف دیکھائی دینے والی چیزیں بہت حدتک صاف دکھلائی دینے لگی تھیں۔بوڑھا باپ ایک اجنبی نوجوان کو اپنے پاس خدمت کرتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گیا۔یہ کیا ماجراہے!! اس نے اپنی گنگا کو بتایا۔ وہ بھی حیرت میں پڑ گئی۔یہ ایک عجیب کھیل کا میدان تھا۔ کھلاڑی وہی تھے مگر ریفری بدل چکا تھا۔
”بیٹا ! تم تو میرے رامو نہیں ہو!!، پھر تم نے ہمارے لئے اتنی دیرسے تکلیفیں کیوں اٹھارہے تھے !؟اس ضعیف نے روتے ہوئے اجنبی نوجوان سے سوال کیا۔ "بابا! میں چاہے بیٹا کسی کا ہوں!؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، میرا دل کسی ماں باپ کو روتا بلکتا دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے، بھگوان نے مجھے سب کچھ دیا ہے، گھر، دھن دولت اورسکون مگر دکھ اس بات کا ہے کہ میرے ماں باپ ایک ہوائی حادثہ میں گزر چکے ہیں، میں انات ہوں، میں چاہتا ہوں کہ آپ دونوں میرے ساتھ چلیں، آپ کے قدموں سے میرا سونا گھر روشن ہو جائے گا۔” اس نوجوان نے منت و سماجت کرتے ہوئےان بوڑھے ماں باپ سے کہا۔
دونوں ضعیف العمر ایک دوسرے کو اشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا درد آنسوئوں کا سیلاب بن کر چھلک رہا تھا۔ اتنے میں پلیٹ فارم پر ایک ریل گاڑی آکر رکی ۔ نوجوان نے بوڑھے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا” بابو جی!اپنی گاڑی آ چکی ہے” بوڑھے ماں باپ اپنی جگہ سے اُٹھ کر دھیرے دھیرے اس نوجوان کے ساتھ اپنی زندگی کے ایک نئے سنگ میل کی اُور چل پڑے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں