صفر پاور نے سپر پاور کو جھکنے پر مجبور کر دیا

 

 

عبدالغفار صدیقی

دنیا کی سیاسی تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جنہوں نے طاقت کے رائج تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔ بظاہر کمزور اور محدود وسائل رکھنے والی قوتیں بعض اوقات ایسی استقامت، ثابت قدمی اور عزمِ مصمم کا مظاہرہ کرتی ہیں کہ بڑی سے بڑی طاقت کو اپنے رویے، حکمتِ عملی اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتیں، جنہیں اپنے زمانے کی سپر پاورز سمجھا جاتا تھا، بالآخر ایک ایسی امت کے سامنے پسپا ہوئیں جس کے پاس وسائل کم تھے مگر ایمان، عزم اور مقصد کی قوت بے پناہ تھی۔ حالیہ ایران۔امریکہ معاہدے کو بھی بہت سے مبصرین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اگرچہ اس معاہدے کی مختلف تعبیرات کی جا رہی ہیں اور اس کے نتائج کے بارے میں آرا بھی مختلف ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ، معاشی محاصرے اور عسکری خطرات کا سامنا کرنے والا ایران آج بھی اپنی ریاستی شناخت، سیاسی نظام اور علاقائی اثر و رسوخ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ خود ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔ بہت سے ممالک اس سے کہیں کم دباؤ کے سامنے اپنی پالیسیوں اور ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے، لیکن ایران نے اپنے بنیادی مؤقف کو برقرار رکھا۔
ایران کی اس کامیابی کے پس منظر میں اس کا عزم، استقلال اور اپنے موقف پر ثابت قدمی بنیادی عوامل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ایران نے اپنے مؤقف کی بنیاد فلسطینی عوام کی حمایت، غزہ کے مظلوم باشندوں کی مدد اور اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت پر رکھی۔ اس کا استدلال یہ تھا کہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مزاحمت صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کا ساتھ دینے کی تلقین کرتی ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ غزہ میں طویل خونریزی، وسیع پیمانے پر تباہی اور بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود مسلم دنیا کی اکثریت مؤثر کردار ادا نہ کر سکی۔ بعض ممالک خاموش تماشائی بنے رہے اور بعض نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان قوتوں کی حمایت کی جن پر فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ اسلام کے عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا۔
ایران کا مؤقف حق، انصاف اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں مسلسل کشیدگی، آبادیوں کی بے دخلی، بستیوں کی توسیع، غزہ کی تباہی اور ہزاروں بے گناہ افراد کی ہلاکت نے دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بھی اس کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔
فلسطینی مزاحمتی تحریکوں، حزب اللہ لبنان اور یمن کے حوثیوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کو بھی بہت سے مبصرین اسی وسیع تر تنازعے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جائے، لیکن حالات بتدریج کشیدگی کی طرف بڑھتے گئے۔ اس تمام عرصے میں ایران نے شدید دباؤ کا سامنا کیا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہا۔یہ صورتِ حال ایک مرتبہ پھر قرآنِ مجید کی اس ابدی حقیقت کی یاد دلاتی ہے:’’کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘(البقرۃ:249)
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ عالمی سیاست کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تو اسے واحد سپر پاور سمجھا جانے لگا۔ اس کی فوجی قوت، معاشی اثر و رسوخ، عالمی مالیاتی اداروں پر گرفت اور بین الاقوامی اتحادوں کی طاقت نے یہ تاثر پیدا کر دیا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک زیادہ دیر تک اس کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا۔اس نے گزشتہ عشروں میں کئی مسلم ملکوں کو تاراج کیا اور اپنا غلام بنالیا ۔لیکن ایران کا معاملہ مختلف ثابت ہوا۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران مسلسل امریکی دباؤ کا سامنا کرتا رہا۔ اس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی، اس کی تیل کی برآمدات کو محدود کیا گیا اور مختلف مواقع پر عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس سب کے باوجود ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ اس نے اپنے علاقائی کردار کو بھی برقرار رکھا۔
حالیہ جنگ کے آغاز میں ایران کے مخالفین کے مقاصد میں اس کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا، اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا، ایران میں نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا اور اسے اپنی بنیادی پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا شامل تھا۔ لیکن جنگ کے نتائج ان مقاصد کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔اگرچہ ایران کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن نہ تو وہ اس حد تک کمزور ہوا کہ اس کے مخالفین اسے آسان شکار سمجھ لیتے اور نہ ہی اس کے سیاسی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس وہ اپنے حریفوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بن کر سامنے آیا۔ معاہدے کی بعض شقوں کے مطابق ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی بات کی گئی ہے۔ اسی طرح منجمد اثاثوں کی رہائی اور پابندیوں کے خاتمے کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
اسی بنیاد پر بہت سے مبصرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں ایران کو فتح اور امریکہ و اسرائیل کو شکست ہوئی ہے۔ ایران کے حامیوں کا استدلال ہے کہ مسلسل پابندیوں، اقتصادی مشکلات اور عسکری دباؤ کے باوجود ایرانی ریاست کا قائم رہنا خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ دنیا کی بہت سی حکومتیں اس سے کہیں کم دباؤ میں بکھر چکی ہیں۔
اس جنگ میں صرف ایران ہی نہیں بلکہ مزاحمتی تحریکوں کو بھی تقویت ملی ہے۔ حماس بدستور ایک مؤثر قوت کے طور پر موجود ہے۔ حزب اللہ لبنان میں اپنی سیاسی اور سماجی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے،آج اسرائیل اس سے بھی سیز فائر کرنے کو مجبور ہے ، جبکہ یمن کے حوثی بھی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ میں صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گریٹر اسرائیل کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔ اسرائیل کا خوف عرب ممالک پر کم ہوگیا ہے اور ابراہم معاہدات بھی ردی کی ٹوکری میں جاسکتے ہیں۔ کم از کم اس جنگ نے ان تمام منصوبوں اور تصورات کے بارے میں نئے سوالات ضرور پیدا کر دیے ہیں جنہیں چند برس پہلے ناقابلِ شکست سمجھا جا رہا تھا۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے بعد عالمی سیاست یک قطبی نظام سے بتدریج کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چین کی معاشی قوت، روس کی عسکری موجودگی اور مختلف علاقائی طاقتوں کے ابھار نے عالمی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ ایران کا معاملہ بھی اسی وسیع تر تبدیلی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔
اس معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کئی اہم تبدیلیوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مزاحمتی تحریکوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔ عرب دنیا میں سیاسی اصلاحات اور عوامی شرکت کے مطالبات دوبارہ زور پکڑ سکتے ہیں۔ خطے میں امریکہ کے روایتی اتحادی اپنی سلامتی کی حکمت عملی پر نظر ثانی کر سکتے ہیں جبکہ چین، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں، دولت اور فوجوں کا نام نہیں۔ اصل طاقت عزم، استقامت، نظریے، عوامی حمایت اور اپنے مقصد پر یقین میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ عناصر کسی قوم میں جمع ہو جائیں تو بظاہر ’’صفر پاور‘‘ بھی ایک ’’سپر پاور‘‘ کو اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
اہلِ ایمان کے لیے اس واقعے میں متعدد اسباق پوشیدہ ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین مضبوط ہوتا ہے۔ دین اسلام کی حقانیت پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ شیعہ اور سنی اختلافات اگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تو کم از کم بہت سے مقامات پر ان میں کمی ضرور آئی ہے۔ نئی نسل عالم اسلام کو ایک امت کے طور پر دیکھنے لگی ہے اور مسلمانوں میں باہمی اتحاد کی ضرورت کا احساس پہلے سے زیادہ پیدا ہوا ہے۔
بھارت کے ارباب اقتدار اور بھارتی مسلمانوں کے لیے بھی یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی، نفرت انگیز بیانات اور بعض حلقوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بعض سیاسی اور نظریاتی حلقے اسرائیل کے ساتھ غیر معمولی قربت رکھتے ہیں اور ان کے طرزِ فکر پر اسرائیلی پالیسیوں کے اثرات واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان تعلقات کا مقصد اگر صرف قومی مفاد ہوتا تو شاید اتنی تشویش نہ ہوتی، لیکن اکثر مواقع پر ان کا رخ مسلم مخالف سیاست کی طرف دکھائی دیتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ حالیہ جنگ کے نتائج سے ہندوستان کے ارباب اقتدار، ان کے حامی حلقوں اور ذرائع ابلاغ کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نفرت، تعصب اور کشیدگی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ گڑے مردے اکھاڑنے سے صرف بدبو میں اضافہ ہوتا ہے۔ مساجد و مدارس کو نشانہ بنانے سے کسی قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ ہجومی تشدد کے ذریعے کسی ملت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور چند افراد کے مذہب تبدیل کر لینے سے کوئی دین مٹ نہیں جاتا۔ ایسے واقعات بسا اوقات اہلِ ایمان کے عزم اور وابستگی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔
بقول شاعر:
تندئی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی قوم صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتی۔ عزت، وقار اور خودمختاری کے لیے تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، معاشی استحکام اور قومی اتحاد ناگزیر ہیں۔ جیسا کہ ایران نے گزشتہ چالیس برسوں میں کیا ۔انقلاب کے بعد ایران نے ہر میدان میں نمایا ترقی کی ۔اس کا مطلب ہے کہ اگربھارتی مسلمان علم و حکمت کے میدان میں آگے بڑھیں، تجارت میں دیانت داری کو فروغ دیں، معاشی خود کفالت حاصل کریں اور اپنے باہمی اختلافات کو اعتدال کے ساتھ سنبھالیں تو وہ وطن عزیز کی بقا اور تعمیر میں ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاریخ کا رخ محض جذبات سے نہیں بلکہ علم، کردار اور اجتماعی قوت سے بدلا جاتا ہے۔
1919ء میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد فاتح اتحادی طاقتوں، جن میں امریکہ بھی شامل تھا، نے جرمنی کو معاہدہ ورسائی پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ آج ایک صدی سے زائد عرصے کے بعد عالمی سیاست کا منظرنامہ بدل چکا ہے اور امریکہ خود ایسے حالات سے دوچار ہے جہاں اسے اپنے دیرینہ اور کمزورحریفوں کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ تاریخ کا پہیہ کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ جو قومیں اور قوتیں آج ناقابلِ تسخیر دکھائی دیتی ہیں، کل انہیں بھی اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (آل عمران:140)’’اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔‘‘یہی تاریخ کا اٹل قانون ہے۔ فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

وینزویلا میں 5.6 شدت کا تازہ زلزلہ

  5.6 کی شدت کے زلزلے نے اراگوا کے ساحل...

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

تازہ ترین خبریں

وینزویلا میں 5.6 شدت کا تازہ زلزلہ

  5.6 کی شدت کے زلزلے نے اراگوا کے ساحل...

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

صفر پاور نے سپر پاور کو جھکنے پر مجبور کر دیا

 

 

عبدالغفار صدیقی

دنیا کی سیاسی تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جنہوں نے طاقت کے رائج تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔ بظاہر کمزور اور محدود وسائل رکھنے والی قوتیں بعض اوقات ایسی استقامت، ثابت قدمی اور عزمِ مصمم کا مظاہرہ کرتی ہیں کہ بڑی سے بڑی طاقت کو اپنے رویے، حکمتِ عملی اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتیں، جنہیں اپنے زمانے کی سپر پاورز سمجھا جاتا تھا، بالآخر ایک ایسی امت کے سامنے پسپا ہوئیں جس کے پاس وسائل کم تھے مگر ایمان، عزم اور مقصد کی قوت بے پناہ تھی۔ حالیہ ایران۔امریکہ معاہدے کو بھی بہت سے مبصرین اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اگرچہ اس معاہدے کی مختلف تعبیرات کی جا رہی ہیں اور اس کے نتائج کے بارے میں آرا بھی مختلف ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ، معاشی محاصرے اور عسکری خطرات کا سامنا کرنے والا ایران آج بھی اپنی ریاستی شناخت، سیاسی نظام اور علاقائی اثر و رسوخ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ خود ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔ بہت سے ممالک اس سے کہیں کم دباؤ کے سامنے اپنی پالیسیوں اور ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے، لیکن ایران نے اپنے بنیادی مؤقف کو برقرار رکھا۔
ایران کی اس کامیابی کے پس منظر میں اس کا عزم، استقلال اور اپنے موقف پر ثابت قدمی بنیادی عوامل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ایران نے اپنے مؤقف کی بنیاد فلسطینی عوام کی حمایت، غزہ کے مظلوم باشندوں کی مدد اور اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت پر رکھی۔ اس کا استدلال یہ تھا کہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مزاحمت صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کا ساتھ دینے کی تلقین کرتی ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ غزہ میں طویل خونریزی، وسیع پیمانے پر تباہی اور بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود مسلم دنیا کی اکثریت مؤثر کردار ادا نہ کر سکی۔ بعض ممالک خاموش تماشائی بنے رہے اور بعض نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان قوتوں کی حمایت کی جن پر فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ اسلام کے عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا۔
ایران کا مؤقف حق، انصاف اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں مسلسل کشیدگی، آبادیوں کی بے دخلی، بستیوں کی توسیع، غزہ کی تباہی اور ہزاروں بے گناہ افراد کی ہلاکت نے دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بھی اس کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔
فلسطینی مزاحمتی تحریکوں، حزب اللہ لبنان اور یمن کے حوثیوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کو بھی بہت سے مبصرین اسی وسیع تر تنازعے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جائے، لیکن حالات بتدریج کشیدگی کی طرف بڑھتے گئے۔ اس تمام عرصے میں ایران نے شدید دباؤ کا سامنا کیا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہا۔یہ صورتِ حال ایک مرتبہ پھر قرآنِ مجید کی اس ابدی حقیقت کی یاد دلاتی ہے:’’کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘(البقرۃ:249)
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ عالمی سیاست کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تو اسے واحد سپر پاور سمجھا جانے لگا۔ اس کی فوجی قوت، معاشی اثر و رسوخ، عالمی مالیاتی اداروں پر گرفت اور بین الاقوامی اتحادوں کی طاقت نے یہ تاثر پیدا کر دیا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک زیادہ دیر تک اس کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا۔اس نے گزشتہ عشروں میں کئی مسلم ملکوں کو تاراج کیا اور اپنا غلام بنالیا ۔لیکن ایران کا معاملہ مختلف ثابت ہوا۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران مسلسل امریکی دباؤ کا سامنا کرتا رہا۔ اس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی، اس کی تیل کی برآمدات کو محدود کیا گیا اور مختلف مواقع پر عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس سب کے باوجود ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ اس نے اپنے علاقائی کردار کو بھی برقرار رکھا۔
حالیہ جنگ کے آغاز میں ایران کے مخالفین کے مقاصد میں اس کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا، اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا، ایران میں نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا اور اسے اپنی بنیادی پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا شامل تھا۔ لیکن جنگ کے نتائج ان مقاصد کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔اگرچہ ایران کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن نہ تو وہ اس حد تک کمزور ہوا کہ اس کے مخالفین اسے آسان شکار سمجھ لیتے اور نہ ہی اس کے سیاسی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس وہ اپنے حریفوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بن کر سامنے آیا۔ معاہدے کی بعض شقوں کے مطابق ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی بات کی گئی ہے۔ اسی طرح منجمد اثاثوں کی رہائی اور پابندیوں کے خاتمے کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
اسی بنیاد پر بہت سے مبصرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں ایران کو فتح اور امریکہ و اسرائیل کو شکست ہوئی ہے۔ ایران کے حامیوں کا استدلال ہے کہ مسلسل پابندیوں، اقتصادی مشکلات اور عسکری دباؤ کے باوجود ایرانی ریاست کا قائم رہنا خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ دنیا کی بہت سی حکومتیں اس سے کہیں کم دباؤ میں بکھر چکی ہیں۔
اس جنگ میں صرف ایران ہی نہیں بلکہ مزاحمتی تحریکوں کو بھی تقویت ملی ہے۔ حماس بدستور ایک مؤثر قوت کے طور پر موجود ہے۔ حزب اللہ لبنان میں اپنی سیاسی اور سماجی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے،آج اسرائیل اس سے بھی سیز فائر کرنے کو مجبور ہے ، جبکہ یمن کے حوثی بھی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ میں صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گریٹر اسرائیل کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔ اسرائیل کا خوف عرب ممالک پر کم ہوگیا ہے اور ابراہم معاہدات بھی ردی کی ٹوکری میں جاسکتے ہیں۔ کم از کم اس جنگ نے ان تمام منصوبوں اور تصورات کے بارے میں نئے سوالات ضرور پیدا کر دیے ہیں جنہیں چند برس پہلے ناقابلِ شکست سمجھا جا رہا تھا۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے بعد عالمی سیاست یک قطبی نظام سے بتدریج کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چین کی معاشی قوت، روس کی عسکری موجودگی اور مختلف علاقائی طاقتوں کے ابھار نے عالمی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ ایران کا معاملہ بھی اسی وسیع تر تبدیلی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔
اس معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کئی اہم تبدیلیوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مزاحمتی تحریکوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔ عرب دنیا میں سیاسی اصلاحات اور عوامی شرکت کے مطالبات دوبارہ زور پکڑ سکتے ہیں۔ خطے میں امریکہ کے روایتی اتحادی اپنی سلامتی کی حکمت عملی پر نظر ثانی کر سکتے ہیں جبکہ چین، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں، دولت اور فوجوں کا نام نہیں۔ اصل طاقت عزم، استقامت، نظریے، عوامی حمایت اور اپنے مقصد پر یقین میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ عناصر کسی قوم میں جمع ہو جائیں تو بظاہر ’’صفر پاور‘‘ بھی ایک ’’سپر پاور‘‘ کو اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
اہلِ ایمان کے لیے اس واقعے میں متعدد اسباق پوشیدہ ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین مضبوط ہوتا ہے۔ دین اسلام کی حقانیت پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ شیعہ اور سنی اختلافات اگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تو کم از کم بہت سے مقامات پر ان میں کمی ضرور آئی ہے۔ نئی نسل عالم اسلام کو ایک امت کے طور پر دیکھنے لگی ہے اور مسلمانوں میں باہمی اتحاد کی ضرورت کا احساس پہلے سے زیادہ پیدا ہوا ہے۔
بھارت کے ارباب اقتدار اور بھارتی مسلمانوں کے لیے بھی یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی، نفرت انگیز بیانات اور بعض حلقوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بعض سیاسی اور نظریاتی حلقے اسرائیل کے ساتھ غیر معمولی قربت رکھتے ہیں اور ان کے طرزِ فکر پر اسرائیلی پالیسیوں کے اثرات واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان تعلقات کا مقصد اگر صرف قومی مفاد ہوتا تو شاید اتنی تشویش نہ ہوتی، لیکن اکثر مواقع پر ان کا رخ مسلم مخالف سیاست کی طرف دکھائی دیتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ حالیہ جنگ کے نتائج سے ہندوستان کے ارباب اقتدار، ان کے حامی حلقوں اور ذرائع ابلاغ کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نفرت، تعصب اور کشیدگی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ گڑے مردے اکھاڑنے سے صرف بدبو میں اضافہ ہوتا ہے۔ مساجد و مدارس کو نشانہ بنانے سے کسی قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ ہجومی تشدد کے ذریعے کسی ملت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور چند افراد کے مذہب تبدیل کر لینے سے کوئی دین مٹ نہیں جاتا۔ ایسے واقعات بسا اوقات اہلِ ایمان کے عزم اور وابستگی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔
بقول شاعر:
تندئی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی قوم صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتی۔ عزت، وقار اور خودمختاری کے لیے تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، معاشی استحکام اور قومی اتحاد ناگزیر ہیں۔ جیسا کہ ایران نے گزشتہ چالیس برسوں میں کیا ۔انقلاب کے بعد ایران نے ہر میدان میں نمایا ترقی کی ۔اس کا مطلب ہے کہ اگربھارتی مسلمان علم و حکمت کے میدان میں آگے بڑھیں، تجارت میں دیانت داری کو فروغ دیں، معاشی خود کفالت حاصل کریں اور اپنے باہمی اختلافات کو اعتدال کے ساتھ سنبھالیں تو وہ وطن عزیز کی بقا اور تعمیر میں ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاریخ کا رخ محض جذبات سے نہیں بلکہ علم، کردار اور اجتماعی قوت سے بدلا جاتا ہے۔
1919ء میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد فاتح اتحادی طاقتوں، جن میں امریکہ بھی شامل تھا، نے جرمنی کو معاہدہ ورسائی پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ آج ایک صدی سے زائد عرصے کے بعد عالمی سیاست کا منظرنامہ بدل چکا ہے اور امریکہ خود ایسے حالات سے دوچار ہے جہاں اسے اپنے دیرینہ اور کمزورحریفوں کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ تاریخ کا پہیہ کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ جو قومیں اور قوتیں آج ناقابلِ تسخیر دکھائی دیتی ہیں، کل انہیں بھی اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (آل عمران:140)’’اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔‘‘یہی تاریخ کا اٹل قانون ہے۔ فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں