ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی:

ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ ہونے والے ابتدائی سمجھوتے کے مطابق اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں، تاہم اسرائیل اس شرط کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، جبکہ مختلف حکام نے وقتاً فوقتاً اس کی شرائط کے بارے میں مختلف بیانات دیے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا براہِ راست حصہ نہیں، لیکن وہ تنازعے میں شامل ایک اہم فریق ہے۔ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کی حمایت کی تھی اور اس کے بعد سے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جو ملک کے وسیع علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

اسرائیلی فوج مقبوضہ علاقوں سے واپس چلی جائے

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ ان کے مطابق تنازع اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا جب تک اسرائیل دورانِ جنگ اپنے زیرِ قبضہ آنے والے تمام علاقوں سے انخلا نہیں کر لیتا۔

ایک امریکی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، معاہدے کے فریم ورک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اسرائیلی انخلا کی کوئی واضح شرط شامل نہیں تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی افواج لبنان میں "جب تک ضروری ہوا” موجود رہیں گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی:

ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ ہونے والے ابتدائی سمجھوتے کے مطابق اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں، تاہم اسرائیل اس شرط کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، جبکہ مختلف حکام نے وقتاً فوقتاً اس کی شرائط کے بارے میں مختلف بیانات دیے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا براہِ راست حصہ نہیں، لیکن وہ تنازعے میں شامل ایک اہم فریق ہے۔ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کی حمایت کی تھی اور اس کے بعد سے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جو ملک کے وسیع علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

اسرائیلی فوج مقبوضہ علاقوں سے واپس چلی جائے

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ ان کے مطابق تنازع اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا جب تک اسرائیل دورانِ جنگ اپنے زیرِ قبضہ آنے والے تمام علاقوں سے انخلا نہیں کر لیتا۔

ایک امریکی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، معاہدے کے فریم ورک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اسرائیلی انخلا کی کوئی واضح شرط شامل نہیں تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی افواج لبنان میں "جب تک ضروری ہوا” موجود رہیں گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں