سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق

آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات کے اعتبار سے تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں اختلافات کا ہونا فطری ہے، مگر اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہنا چاہیے۔ کسی کے عقیدے، نظریے یا پس منظر سے اختلاف رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی عزت کو پامال کیا جائے یا اسے حقیر سمجھا جائے۔
اسلام ہمیں نفرت، تعصب اور تضحیک جیسی برائیوں سے دور حکمت، رحمت اور حسنِ اخلاق کا راستہ دکھاتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب اختلافِ رائے اکثر دشمنی میں بدل جاتا ہے، اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی کو شور و وزاہت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی، کیونکہ وہ دلیل، حکمت اور اخلاق کے ساتھ اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو بہترین ہو۔”
(النحل: 125)
یہ آیت دعوتِ اسلام کے بنیادی اصولوں کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ سختی کا حکم دیا، نہ تحقیر کا، نہ آواز بلند کرنے کا اور نہ ہی لوگوں کو نیچا دکھانے کا۔ بلکہ حکمت، نرم گفتاری اور بہترین اندازِ گفتگو کو اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی دعوت کا مقصد بحث جیتنا نہیں بلکہ دلوں تک پہنچنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس تعلیم کا سب سے روشن نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ، مشرکینِ مکہ اور اپنے شدید ترین مخالفین تک کے ساتھ صبر، عدل اور وقار کا معاملہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے کبھی لوگوں کو ذلیل کر کے ان کے دل جیتنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کا اسلوب محبت، خیرخواہی اور حکمت پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ ﷺ کے کردار سے متاثر ہو کر اسلام کے قریب آئے۔
بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی بنا لیا جاتا ہے۔ طنز، تمسخر اور تلخ جملے دلیل کی جگہ لے لیتے ہیں۔ حالانکہ ایک مسلمان کی پہچان اس کا علم اور حسنِ اخلاق ہونا چاہیے۔ جب گفتگو کا مقصد اپنی انا کی تسکین بن جائے تو حق بات بھی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ دین کی دعوت صرف الفاظ کا نام نہیں؛ یہ کردار کا بھی نام ہے۔ بعض اوقات ایک اچھا اخلاق، ایک نرم لہجہ اور ایک مخلص رویہ وہ کام کر دیتا ہے جو طویل دلائل بھی نہیں کر پاتے۔ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنا آسان ہے، مگر محبت، اعتماد اور احترام پیدا کرنا حقیقی کامیابی ہے۔ جب بحث گرم ہو جائے، جب جذبات غالب آنے لگیں اور جب سامنے والا سخت لہجہ اختیار کرے، تب ایک مومن کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا مقصد لوگوں پر فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ ہم دلوں کے مالک نہیں، ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم حق بات کو بہترین انداز میں پہنچا دیں۔
آج امتِ مسلمہ کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اپنے علم کے ساتھ حکمت، اپنی دعوت کے ساتھ رحمت اور اپنی دینداری کے ساتھ اعلیٰ کردار کو بھی اپنائیں۔ کیونکہ اسلام کی سب سے مؤثر نمائندگی محض الفاظ سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔
یاد رکھیے: سچائی کو چیخنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ حکمت کے ساتھ کہی جائے تو دلوں میں اتر جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو علم کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ احترام، دعوت کے ساتھ حکمت اور زندگی کے ہر شعبے میں رحمت و حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

درس کربلا: عالم انسانیت اور امت مسلمہ کیلئے ابدی پیغام

سید عارف احمد بخاری (القادری)  واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا...

امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

جنگ نیوز سرینگر/سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پیش...

تازہ ترین خبریں

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

درس کربلا: عالم انسانیت اور امت مسلمہ کیلئے ابدی پیغام

سید عارف احمد بخاری (القادری)  واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا...

امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

جنگ نیوز سرینگر/سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پیش...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق

آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات کے اعتبار سے تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں اختلافات کا ہونا فطری ہے، مگر اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہنا چاہیے۔ کسی کے عقیدے، نظریے یا پس منظر سے اختلاف رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی عزت کو پامال کیا جائے یا اسے حقیر سمجھا جائے۔
اسلام ہمیں نفرت، تعصب اور تضحیک جیسی برائیوں سے دور حکمت، رحمت اور حسنِ اخلاق کا راستہ دکھاتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب اختلافِ رائے اکثر دشمنی میں بدل جاتا ہے، اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی کو شور و وزاہت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی، کیونکہ وہ دلیل، حکمت اور اخلاق کے ساتھ اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو بہترین ہو۔”
(النحل: 125)
یہ آیت دعوتِ اسلام کے بنیادی اصولوں کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ سختی کا حکم دیا، نہ تحقیر کا، نہ آواز بلند کرنے کا اور نہ ہی لوگوں کو نیچا دکھانے کا۔ بلکہ حکمت، نرم گفتاری اور بہترین اندازِ گفتگو کو اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی دعوت کا مقصد بحث جیتنا نہیں بلکہ دلوں تک پہنچنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس تعلیم کا سب سے روشن نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ، مشرکینِ مکہ اور اپنے شدید ترین مخالفین تک کے ساتھ صبر، عدل اور وقار کا معاملہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے کبھی لوگوں کو ذلیل کر کے ان کے دل جیتنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کا اسلوب محبت، خیرخواہی اور حکمت پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ ﷺ کے کردار سے متاثر ہو کر اسلام کے قریب آئے۔
بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی بنا لیا جاتا ہے۔ طنز، تمسخر اور تلخ جملے دلیل کی جگہ لے لیتے ہیں۔ حالانکہ ایک مسلمان کی پہچان اس کا علم اور حسنِ اخلاق ہونا چاہیے۔ جب گفتگو کا مقصد اپنی انا کی تسکین بن جائے تو حق بات بھی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ دین کی دعوت صرف الفاظ کا نام نہیں؛ یہ کردار کا بھی نام ہے۔ بعض اوقات ایک اچھا اخلاق، ایک نرم لہجہ اور ایک مخلص رویہ وہ کام کر دیتا ہے جو طویل دلائل بھی نہیں کر پاتے۔ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنا آسان ہے، مگر محبت، اعتماد اور احترام پیدا کرنا حقیقی کامیابی ہے۔ جب بحث گرم ہو جائے، جب جذبات غالب آنے لگیں اور جب سامنے والا سخت لہجہ اختیار کرے، تب ایک مومن کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا مقصد لوگوں پر فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ ہم دلوں کے مالک نہیں، ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم حق بات کو بہترین انداز میں پہنچا دیں۔
آج امتِ مسلمہ کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اپنے علم کے ساتھ حکمت، اپنی دعوت کے ساتھ رحمت اور اپنی دینداری کے ساتھ اعلیٰ کردار کو بھی اپنائیں۔ کیونکہ اسلام کی سب سے مؤثر نمائندگی محض الفاظ سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔
یاد رکھیے: سچائی کو چیخنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ حکمت کے ساتھ کہی جائے تو دلوں میں اتر جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو علم کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ احترام، دعوت کے ساتھ حکمت اور زندگی کے ہر شعبے میں رحمت و حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں