
افتخاراحمدقادری
ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کو سمیٹے تاریخ کے اوراق میں دفن ہونے والا ہے۔ ایک اور ہجری سال ختم ہو رہا ہے اور ایک نیا سال شروع ہونے جا رہا ہے لیکن کیا ہماری زندگی میں بھی کوئی نیا باب شروع ہو رہا ہے یا صرف کیلنڈر کا ایک عدد بدل رہا ہے؟ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جب عیسوی سال آتا ہے تو دنیا شور مچاتی ہے، بازار جگمگاتے ہیں، سوشل میڈیا مبارک بادوں سے بھر جاتا ہے، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور نئی شروعات کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر جب ہجری سال آتا ہے تو امت مسلمہ کی اکثریت کو خبر تک نہیں ہوتی کہ ان کا اپنا سال کب ختم ہوا اور کب شروع ہو گیا۔ جن لوگوں کی تاریخ مدینہ سے وابستہ ہے، جن کا تشخص ہجرتِ رسول ﷺ سے وابستہ ہے، جن کی تہذیب اور تمدن کی بنیاد ہجری کیلنڈر پر قائم ہوئی وہی لوگ آج اپنے سال سے بے خبر ہیں۔ یہ کیلنڈر کی بے خبری نہیں بلکہ اپنی شناخت سے دوری کی علامت اور اپنی تاریخ سے بے رغبتی کا اعلان ہے۔ یہ اس دردناک حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات بدل دی ہیں۔ ہماری گھڑیاں دوسروں کے وقت پر چل رہی ہیں، ہمارے خواب دوسروں کی فکر کے تابع ہیں اور ہمارے اہداف دوسروں کی تہذیب کے مطابق طے ہو رہے ہیں۔
محترم قارئین! 1448 ہجری کا آغاز صرف ایک نئے سال کا آغاز نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ہمارے ضمیر کی بیداری کا لمحہ ہونا چاہیے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ گزشتہ سال ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ ہماری نمازوں میں کیا اضافہ ہوا؟ ہمارے اخلاق میں کیا بہتری آئی؟ ہمارے علم میں کتنا اضافہ ہوا؟ ہم نے دین کے لیے کیا کیا؟ ہم نے امت کے مسائل کے لیے کتنا درد محسوس کیا؟ اگر سچائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ کتنے رمضان آئے اور گزر گئے، کتنی جمعے کی نمازیں ادا ہوئیں، کتنی دعائیں مانگی گئیں مگر ہماری زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کیوں پیدا نہ ہوسکی؟ وجہ صاف ہے کہ ہم عبادت کو رسم اور دین کو روایت بنا چکے ہیں۔ ہم نے اسلام کو زندگی کا نظام بنانے کے بجائے چند ظاہری اعمال تک محدود کر دیا ہے۔ یہ نیا ہجری سال ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا ازسرنو محاسبہ کریں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ وقت الله تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جو لمحہ گزر گیا وہ قیامت تک واپس نہیں آئے گا۔ جو دن بیت گیا وہ دو بارہ نہیں ملے گا۔ جو سال ختم ہوگیا وہ ہماری زندگی کے سرمایہ میں اضافہ نہیں بلکہ کمی کا اعلان ہے۔ ہماری عمر بڑھتی نہیں گھٹتی ہے۔ ہماری زندگی لمبی نہیں ہو رہی بلکہ مختصر ہو رہی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم موت کو دوسروں کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ جنازوں میں شریک ہوتے ہیں، قبروں پر جاتے ہیں، تعزیت کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک دن ہمارا جنازہ بھی اٹھے گا، ہمارے لیے بھی دعائیں کی جائیں گی اور ہمیں بھی قبر کے اندھیرے حوالے کر دیا جائے گا۔ پھر ہماری ڈگریاں، ہمارے عہدے، ہماری جائیدادیں، ہماری سیاسی وابستگیاں اور ہماری دنیاوی مصروفیات ہمارے کسی کام نہیں آئیں گی۔ صرف اعمال ساتھ جائیں گے۔ یاد رکھیں کہ 1448 ہجرت صرف مکہ سے مدینہ جانے کا نام نہیں تھا بلکہ باطل سے حق کی طرف سفر کا نام تھا۔ گناہوں سے اطاعت کی طرف سفر کا نام تھا۔ ظلمت سے نور کی طرف سفر کا نام تھا۔ اگر ہم واقعی نئے ہجری سال کا استقبال کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی زندگی میں ایک ہجرت کرنی ہوگی۔ گناہوں سے توبہ کی طرف ہجرت، غفلت سے بیداری کی طرف ہجرت، سستی سے عمل کی طرف ہجرت اور نفرت سے محبت کی طرف ہجرت۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ سال فضولیات میں ضائع نہیں کریں گے۔ موبائل کی اسکرینوں پر گھنٹوں برباد کرنے کے بجائے قرآن کے ساتھ تعلق مضبوط کریں گے۔ سوشل میڈیا کے جھگڑوں میں الجھنے کے بجائے علم حاصل کریں گے۔ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کریں گے۔ بے مقصد گفتگو کے بجائے ذکرِ الٰہی کو اختیار کریں گے۔ یہ سال ہمیں قرآن کے قریب لے جانے والا سال ہونا چاہیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس قرآن نہیں بلکہ یہ ہے کہ قرآن موجود ہونے کے باوجود وہ اس سے دور ہے۔ گھروں میں قرآن موجود ہے مگر دلوں میں نہیں۔ الماریوں میں قرآن موجود ہے مگر زندگیوں میں نہیں۔ تلاوت ہوتی ہے مگر عمل نہیں ہوتا۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں گے۔ روزانہ اس کی تلاوت کریں گے، اس کا ترجمہ پڑھیں گے، اس کے پیغام کو سمجھیں گے اور اسے اپنی زندگیوں پر نافذ کریں گے۔ اسی طرح یہ سال امت کے درد کو محسوس کرنے کا سال بھی ہونا چاہیے۔ فلسطین کے مظلوم بچے آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان مشکلات کا شکار ہیں۔ کہیں جنگ ہے، کہیں بھوک ہے، کہیں ظلم ہے اور کہیں بے بسی مگر ہماری اکثریت اپنی ذاتی دنیا میں اس قدر گم ہو چکی ہے کہ امت کے زخموں کی ٹیس بھی محسوس نہیں کرتی۔ ایک زندہ امت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اسے اپنے ہر فرد کا درد محسوس ہوتا ہے۔ اگر ہمارے دل امت کے مسائل پر بے حس ہو چکے ہیں تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر غور کرنا چاہیے۔
1448 ہجری نوجوانوں کے لیے بھی ایک پیغام لے کر آ رہی ہے۔ نوجوانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ افسوس کہ آج یہی سرمایہ فضول مشاغل، بے مقصد تفریحات اور وقتی لذتوں کی نذر ہو رہا ہے۔ امت کے نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیں تو وہ دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے انہیں اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ یہ سال علم حاصل کرنے کا سال ہونا چاہیے۔ کتابوں سے دوستی کا سال ہونا چاہیے۔ کردار سازی کا سال ہونا چاہیے۔ خود اعتمادی پیدا کرنے کا سال ہونا چاہیے۔ امت کی خدمت کا سال ہونا چاہیے۔ علماء، دانشوروں، اساتذہ، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو بھی اس سال اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ معاشرہ صرف تنقید سے نہیں بنتا بلکہ تعمیری جدوجہد سے بنتا ہے۔ صرف شکایتیں کرنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ قربانیاں دینے سے تبدیلی آتی ہے۔ اگر 1448 ہجری ہماری زندگی کا آخری سال ثابت ہو گیا تو کیا ہم اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو سکیں گے؟ کیا ہمارے اعمال نامے میں اتنی روشنی ہے کہ قبر کا اندھیرا دور کر سکے؟ کیا ہمارے پاس اتنا سرمایۂ عمل ہے کہ روزِ قیامت ہماری نجات کا ذریعہ بن سکے؟ یاد رکھیں کہ یہ سوالات خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیداری پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ کامیاب وہی ہے جو مرنے سے پہلے اپنی زندگی کا حساب لے لے۔ جو اپنی غلطیوں کو پہچان لے۔ جو اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ آج سال نو کی آمد ہمیں چیخ چیخ کر پکار رہی ہے کہ اے امتِ مسلمہ! ابھی وقت باقی ہے۔ ابھی دروازے بند نہیں ہوئے۔ ابھی توبہ کا راستہ کھلا ہے۔ ابھی اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ ابھی تم اپنی زندگی بدل سکتے ہو۔ ابھی تم اپنے رب کو راضی کر سکتے ہو۔ کوشش کیجیے کہ یہ سال محض مبارک بادوں کا سال نہ بنے بلکہ تبدیلی کا سال بنے۔ یہ سال صرف دعووں کا سال نہ بنے بلکہ عمل کا سال بنے۔ یہ سال صرف تمناؤں کا سال نہ بنے بلکہ جد وجہد کا سال بنے۔ یہ سال صرف منصوبوں کا سال نہ بنے بلکہ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا سال بنے۔ آئیے سال نو کے آغاز پر ہم اپنے رب کے حضور سر جھکا کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے وقت کی حفاظت کریں گے، اپنی نمازوں کی پابندی کریں گے، قرآن سے تعلق مضبوط کریں گے، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں گے، امت کے درد کو محسوس کریں گے، علم حاصل کریں گے، گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے اور اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں گے کہ جب اگلا ہجری سال آئے تو ہمیں یہ احساس ہو کہ ہم نے صرف ایک سال نہیں گزارا بلکہ اپنی آخرت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ جمع کیا ہے۔ کیونکہ سال بدلتے رہتے ہیں، مہینے گزرتے رہتے ہیں، تاریخ کے صفحات پلٹتے رہتے ہیں مگر کامیاب وہی ہوتا ہے جو وقت کے گزرنے سے پہلے خود کو بدل لیتا ہے۔ ورنہ ایک دن زندگی کی شام آ جاتی ہے، وقت کا چراغ بجھ جاتا ہے اور انسان حسرت کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کاش! میں نے اپنے رب کے لیے کچھ اور کر لیا ہوتا۔ 1448 ہجری کی آمد مبارک ہو مگر یاد رکھیے! کہ مبارک وہ سال نہیں جو شروع ہو جائے بلکہ مبارک وہ سال ہے جو ہمیں الله تعالیٰ کے قریب کر دے۔


