جنگ نیوز
سرینگر/سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پیش نظر جموں و کشمیر بھر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور سول انتظامیہ نے یاترا کے تمام روٹس، بیس کیمپوں، قیام گاہوں، ریلوے اسٹیشنوں اور حساس تنصیبات پر کثیر سطحی حفاظتی نظام نافذ کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق جنوبی کشمیر کے روایتی پہلگام روٹ پر اینٹی سبوتاژ چیکنگ، علاقے کی تلاشی اور سینیٹائزیشن مہمات جاری ہیں۔ بم ناکارہ بنانے والی ٹیمیں، سنفر ڈاگ اسکواڈز اور تکنیکی نگرانی کے نظام کو بھی متحرک رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی سخت چیکنگ اور جنگلاتی علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
یاترا سے وابستہ گھوڑا بانوں، مزدوروں اور دیگر سروس فراہم کنندگان کی شناخت اور نگرانی کے لئے کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیقی نظام متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ کسی بھی غیر مجاز فرد کی شمولیت کو روکا جا سکے۔
جموں کے سامبا ضلع میں چیچی ماتا مندر اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں فوج، سی آر پی ایف، بی ایس ایف، جموں و کشمیر پولیس، ایس او جی اور سول انتظامیہ کی مشترکہ مشقیں منعقد ہوئیں، جن میں دہشت گردانہ حملوں، حادثات، ہجوم کے دباؤ اور ہنگامی انخلا جیسے مختلف فرضی حالات کا جائزہ لیا گیا۔
ریلوے اسٹیشنوں، پلوں، ندی نالوں اور دیگر اہم تنصیبات کی سکیورٹی کا بھی ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر سرچ آپریشن اور سینیٹائزیشن مہمات جاری ہیں۔
یاترا کے دوران انتظامی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے مختلف محکموں کے 63 افسران کو عارضی طور پر تعینات کیا ہے، جو لاجسٹک انتظامات، زائرین کی سہولیات اور بین محکمہ جاتی رابطے کو یقینی بنائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے یاترا کو محفوظ، پُرامن اور سہل بنایا جا سکے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا لاوارث شے کی فوری اطلاع سکیورٹی اداروں کو دیں۔


