جنگ نیوز
فرانس میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گرمجوش مصافحہ اور مختصر گفتگو عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔ تقریباً سولہ ماہ بعد ہونے والی اس بالمشافہ ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دوستانہ انداز میں تبادلہ خیال ہوا، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق دوطرفہ تعاون، تجارت، دفاع اور علاقائی سلامتی جیسے امور پر بھی بات چیت متوقع تھی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جی 7 آؤٹ ریچ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امداد دینے اور لینے والے ممالک کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر مساوات، اعتماد اور یکجہتی پر مبنی شراکت داری کو فروغ دے۔مودی نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اس لئے عالمی چیلنجوں کا مقابلہ مشترکہ کوششوں اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور عالمی استحکام کے لئے ایسے تعاون کی ضرورت ہے جو تمام ممالک کو برابر کا شریک سمجھے۔


