
جاوید جمال الدین
مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان2020 میں ہونے والے "ابراہیمی معاہدوں” نے یہاں کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ان معاہدوں کو ایک جانب سفارتی کامیابی، علاقائی استحکام اور معاشی تعاون کی نئی راہ قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب عالمِ اسلام کے متعدد علماء، دینی اداروں اور فکری حلقوں نے اس کے بعض مذہبی اور نظریاتی مضمرات پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔
اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آیا یہ معاہدے صرف ریاستوں کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی تک محدود ہیں یا ان کے ساتھ ایک ایسا فکری و مذہبی تصور بھی وابستہ کیا جا رہا ہے جو اسلامی عقائد، بالخصوص ختمِ نبوت اور اسلام کی جامعیت کے تصور کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسلام کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم کے مطابق حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والا قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، قرآن مجید آخری اور محفوظ الٰہی کتاب ہے،
2020 کے ابراہیمی معاہدوں کو صرف ایک سیاسی اور سفارتی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ ان سے وابستہ بعض فکری اور مذہبی تصورات نے عالمِ اسلام میں ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔ مصنف کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ مسلم ممالک غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کہیں ان معاہدوں کے ذریعے "وحدتِ ادیان” یا تمام مذاہب کو عقیدے کے اعتبار سے یکساں حق قرار دینے کا تصور تو فروغ نہیں دیا جا رہا۔
اسلام بین المذاہب احترام، مکالمے، عدل اور پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی ختمِ نبوت، قرآن کی آخریت اور اسلام کی حتمیت کو اپنے بنیادی عقائد قرار دیتا ہے۔ مصنف کے مطابق اگر ابراہیمی معاہدے صرف سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون تک محدود رہیں تو ان پر بحث سیاسی و فقہی اجتہاد کے دائرے میں کی جا سکتی ہے، لیکن اگر ان کے ذریعے اسلام اور دیگر مذاہب کو عقیدے کے لحاظ سے برابر قرار دینے یا اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ اسلامی عقائد سے متصادم ہوگا۔
سیاسی سفارت کاری اور مذہبی نظریات کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جانا چاہیے۔ مسلمانوں کو بین المذاہب احترام اور امن کی حمایت کرتے ہوئے بھی ختمِ نبوت، اسلام کی جامعیت اور اپنے عقیدے کی انفرادیت پر غیر متزلزل رہنا چاہیے، اور کسی بھی ایسے فکری رجحان کا علمی و مدلل جواب دینا چاہیے جو ان بنیادی عقائد کو متاثر کرتا ہو۔
مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان2020 میں ہونے والے "ابراہیمی معاہدوں” نے یہاں کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ان معاہدوں کو ایک جانب سفارتی کامیابی، علاقائی استحکام اور معاشی تعاون کی نئی راہ قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب عالمِ اسلام کے متعدد علماء، دینی اداروں اور فکری حلقوں نے اس کے بعض مذہبی اور نظریاتی مضمرات پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔
اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آیا یہ معاہدے صرف ریاستوں کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی تک محدود ہیں یا ان کے ساتھ ایک ایسا فکری و مذہبی تصور بھی وابستہ کیا جا رہا ہے جو اسلامی عقائد، بالخصوص ختمِ نبوت اور اسلام کی جامعیت کے تصور کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسلام کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم کے مطابق حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والا قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، قرآن مجید آخری اور محفوظ الٰہی کتاب ہے، اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری اور کامل دین ہے، اور سابقہ آسمانی شریعتیں اپنی اصل میں حق ہونے کے باوجود اپنی عملی حیثیت میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے بعد منسوخ ہو چکی ہیں۔ یہی عقیدہ امتِ مسلمہ کے بنیادی اور متفقہ عقائد میں شمار ہوتا ہے۔
سیاسی اعتبار سے ابراہیمی معاہدے اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام اور تعاون کا معاہدہ ہیں، لیکن جب ان کے ساتھ "ابراہیمی فیملی ہاؤس”، "مشترکہ مذہبی شناخت” یا "وحدتِ ادیان” جیسے تصورات کو جوڑا جاتا ہے تو بہت سے علماء اس پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہیں۔ ان علماء کا مؤقف ہے کہ بین المذاہب احترام، حسنِ سلوک، عدل اور انصاف اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں، لیکن تمام مذاہب کو عقیدے کے اعتبار سے یکساں حق قرار دینا اسلامی عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء کے فتویٰ نمبر 19402 کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں "وحدتِ ادیان” کے تصور کو اسلامی عقائد سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسلام کی حتمیت، ختمِ نبوت اور قرآنِ مجید کی آخریت پر زور دیا گیا۔ اس فتویٰ میں واضح کیا گیا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے، حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں، قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے اور سابقہ شریعتیں اپنی شرعی حیثیت میں منسوخ ہو چکی ہیں۔ اسی بنیاد پر فتویٰ میں ایسے نظریات کی تائید سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہے جو اسلام اور دیگر ادیان کو عقیدے کے اعتبار سے ایک ہی درجے پر رکھیں۔
یہاں ایک اہم علمی فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسلامی تاریخ میں خود رسول اللہ ﷺ نے مختلف غیر مسلم قبائل اور ریاستوں کے ساتھ معاہدے کیے، سفارتی خطوط بھیجے، امن کے معاہدات کیے اور سیاسی روابط استوار فرمائے۔ اس لیے محض کسی غیر مسلم ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا لازماً اسلامی عقیدے کے منافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسلامی عقائد میں تبدیلی کی دعوت دی جائے، ختمِ نبوت کے عقیدے کو کمزور کیا جائے، اسلام کو دیگر ادیان کے برابر ایک متوازی راستہ قرار دیا جائے یا مسلمانوں سے اپنے منفرد دینی تشخص سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جائے۔ یہی وہ پہلو ہیں جن پر متعدد علماء نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ابوظہبی میں قائم ابراہیمی فیملی ہاؤس کو اس کے حامی بین المذاہب مکالمے، رواداری اور امن کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر اس قسم کے منصوبوں کو اس نظریے کی تبلیغ کے لیے استعمال کیا جائے کہ تمام ادیان عقیدے کے اعتبار سے یکساں حق ہیں تو یہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوگا۔ اسی لیے بہت سے علماء اس فرق پر زور دیتے ہیں کہ بین المذاہب احترام ایک الگ چیز ہے، جبکہ عقائد کا امتزاج یا وحدتِ ادیان ایک بالکل مختلف نظریہ ہے۔
ابراہیمی معاہدوں پر اعتراضات صرف مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر بھی سامنے آئے ہیں۔ فلسطینی قیادت اور عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ، ایک منصفانہ اور پائیدار حل، اور خطے میں انصاف پر مبنی امن ناگزیر ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب نے بھی مختلف مواقع پر دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کو معمول پر آنے والے تعلقات کے اہم عناصر میں شمار کیا ہے۔
اگر ابراہیمی معاہدوں کو صرف ریاستوں کے درمیان سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے تعاون تک محدود رکھا جائے تو انہیں ایک سیاسی اقدام سمجھا جا سکتا ہے، جس کا حکم اور جواز فقہی اور سیاسی اجتہاد کے دائرے میں زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ لیکن اگر ان معاہدوں یا ان سے وابستہ کسی فکری مہم کے ذریعے یہ تصور عام کیا جائے کہ تمام مذاہب یکساں طور پر حق ہیں، اسلام کی حتمیت باقی نہیں رہی، حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت کی کوئی خصوصی حیثیت نہیں یا قرآن دیگر مذہبی کتابوں کے برابر محض ایک مذہبی متن ہے، تو ایسا تصور اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں، خصوصاً ختمِ نبوت، ختمِ رسالت اور اسلام کی جامعیت کے منافی سمجھا جائے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی سمیت متعدد علماء نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس پوری بحث کا تقاضا یہ ہے کہ جذبات کے بجائے علمی دیانت اور اعتدال کے ساتھ معاملے کو سمجھا جائے۔ ایک طرف سیاسی سفارت کاری اور ریاستی مفادات ہیں، دوسری طرف اسلام کے بنیادی عقائد اور دینی تشخص کا سوال ہے۔ اسلام بین المذاہب عدل، حسنِ سلوک، مکالمے اور امن کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہ اپنی عقیداتی شناخت، ختمِ نبوت، قرآن کی آخریت اور حضرت محمد ﷺ کی منفرد اور آخری رسالت پر غیر متزلزل ایمان کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی معاہدوں اور مذہبی نظریات کے درمیان واضح فرق کو برقرار رکھا جائے، اور اگر کسی مقام پر اسلام کی بنیادی تعلیمات یا ختمِ نبوت کے عقیدے کو مجروح کرنے کی کوشش ہو تو اس پر علمی، دینی اور فکری سطح پر واضح اور مدلل مؤقف اختیار کیا جائے۔


