
محمد شبیر کھٹانہ
تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان کے اندر صلاحیت، قابلیت، شعور، اخلاقی اقدار اور مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتا ہے بلکہ سماج، ملک اور قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔
جب کسی ملک کے تمام شہری معیاری تعلیم حاصل کریں گے تو ان میں مختلف صلاحیتیں پیدا ہوں گی اور ملک ترقی کرے گا۔ اگر کسی بچے کو تعلیم سے محروم رکھا جائے تو وہ اپنے ایک بنیادی حق سے محروم ہو جاتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں اور معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے مطابق تعلیمی نظام کو تمام طلبہ کے لئے مساوی اور معیاری تعلیم فراہم کرنی چاہیے۔ اس پالیسی کا مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، منطقی فیصلہ سازی، سائنسی مزاج، ہمدردی، مساوات، انصاف اور ذمہ داری جیسی اقدار پیدا کرنا ہے۔ یہ اقدار نہ صرف ایک اچھا طالب علم بلکہ ایک بہتر شہری بھی تشکیل دیتی ہیں۔
یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اساتذہ خود ان خوبیوں کے حامل ہوں۔ اگر اساتذہ کے اندر خدمت کا جذبہ، دیانت داری، انصاف پسندی اور احساسِ ذمہ داری موجود ہو تو وہ اپنے طلبہ کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کمزور طلبہ کی نشاندہی کرتے ہیں، ان کی مشکلات دور کرتے ہیں اور انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرتے ہیں۔
تعاون، ٹیم ورک، باہمی احترام اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا رجحان اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ تجربہ کار اساتذہ اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے ہیں، جس سے پورا تعلیمی نظام مضبوط اور مؤثر بنتا ہے۔
تعلیم کے نظام میں مثبت تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ہر استاد خود کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرے، نئی مہارتیں سیکھے اور اپنے پیشے کے ساتھ مکمل انصاف کرے۔ ایک کامیاب استاد وہ ہے جس کے طلبہ معاشرے کے مفید، باصلاحیت، باکردار اور ذمہ دار شہری بنیں۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے جو شخص زیادہ فائدہ مند ہو، وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ اس لئے تدریس کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا عظیم فریضہ سمجھنا چاہیے۔ یہی سوچ ایک استاد کو اپنے فرائض بہتر انداز میں انجام دینے کی ترغیب دیتی ہے۔
اساتذہ کو ایک اکیڈمک ڈاکٹر کی طرح کام کرنا چاہیے۔ جس طرح ڈاکٹر بیماری کی تشخیص کرتا ہے، اسی طرح استاد کو طلبہ کی تعلیمی کمزوریوں، نفسیاتی مسائل اور سیکھنے میں درپیش رکاوٹوں کو سمجھ کر ان کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ طلبہ میں سیکھنے کا شوق پیدا کر سکتے ہیں اور انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
بی ایڈ اور دیگر تربیتی پروگرام اساتذہ کو تعلیمی انتظام و انصرام اور تدریسی مہارتوں کی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ ان مہارتوں کو عملی زندگی میں استعمال کرنا ہی حقیقی پیشہ ورانہ کامیابی ہے۔ ایک تربیت یافتہ استاد اپنے طلبہ کی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے۔
ایک استاد کو حقیقی اطمینان اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے شاگرد زندگی میں کامیاب ہوں اور معاشرے کی خدمت کریں۔ اساتذہ کے کام کے جتنے زیادہ مثبت نتائج معاشرے کے سامنے آئیں گے، اتنا ہی ان کا وقار اور احترام بڑھے گا۔
تمام اساتذۂ کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، تجربے اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محنت، لگن، دیانت داری اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، تاکہ وہ نہ صرف اپنے پیشے کا حق ادا کر سکیں بلکہ قوم کی تعمیر و ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کریں۔ ایک مضبوط، باشعور اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہمیشہ اچھے اساتذہ اور معیاری تعلیم پر استوار ہوتی ہے۔


