
رشید پروینؔ
سوپور
3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی منصوبہ بندی بڑی رازداری کے ساتھ کی گئی تھی اور ایسا لگتا ہے کہ این سی کے ایم ایل ایز اور ممبرانِ پارلیمنٹ کو اس اجلاس کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع فراہم نہیں کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تمام لوگوں اور اہم شخصیات کو پہلے مرحلے میں گپکار روڈ پر واقع عمر عبداللہ کی اقامت گاہ پر جمع کیا گیا اور اس کے بعد انہیں خصوصی بسوں میں مشہور و معروف شکار گاہ، داچھی گام، لے جایا گیا۔
داچھی گام کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ ایک نہایت خوبصورت اور دلکش تفریح گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ جنگلی جانوروں کا مسکن بھی ہے۔ یہ ایک پُرفضا اور دلکش مقام ہے۔ یقینی طور پر ہر دور میں یہاں صاحبِ اقتدار اور مرکزی اہم شخصیات آتی رہی ہیں۔ اندرا گاندھی بھی یہاں کئی کئی دن گزارا کرتی تھیں اور ان سے پہلے مہاراجہ بہادر بھی سکون کی تلاش میں یہاں آیا کرتے تھے۔ اب عمر عبداللہ نے بھی اپنے اس اجلاس کے لئے اسی مقام کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ ایک سوال ہو سکتا ہے۔
ہر تجزیہ نگار کا اپنا انداز اور خیال ہوگا، لیکن سجاد غنی لون نے اس کی جو تشریح کی ہے، وہ دلچسپ بھی ہے اور قابلِ غور بھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ:
"داچھی گام نیشنل پارک دراصل اس حکومت کی طرزِ حکمرانی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جو الگ تھلگ، محدود رسائی کا حامل اور مخصوص پابندیوں کے تحت واقع ہے، اور یہی کیفیت موجودہ حکومت اور عوام کے ساتھ اس کے تعلقات کی عکاس ہے۔”
اب اس تبصرے پر کیا کہیے؟ عام فہم آدمی بھی اس پر تھوڑا سا غور کرکے اس توضیح کو سمجھ سکتا ہے۔
بہرحال، سیاسی پنڈت اس اجلاس کو، جسے خود عمر عبداللہ نے "آف سائٹ میٹنگ” کا نام دیا ہے، بڑی اہمیت کا حامل سمجھ رہے ہیں اور اس کے انعقاد کی ضرورت اور افادیت پر غور و فکر کو لازمی قرار دیتے ہیں۔
این سی کے ذرائع نے اس اجلاس کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ اجلاس گزشتہ 19 ماہ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لینے کے لئے بلایا گیا تھا تاکہ درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی کے لئے لائحۂ عمل مرتب کیا جا سکے۔ تاہم شاید کامیابیوں کے بجائے یہاں "ناکامیوں” کا لفظ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ابھی تک ان 19 مہینوں میں عمر سرکار کو کسی محاذ پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور اس کا ادراک عمر عبداللہ کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھیوں کو بھی ہے۔
یقینی طور پر عمر عبداللہ اس بات سے پریشان ہیں کہ وہ ابھی تک کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد واضح طور پر یہ بھی رہا ہوگا کہ این سی کا آئندہ طرزِ عمل کیا ہوگا، خصوصاً ریاستی درجے (Statehood) کے مسئلے پر وہ کس طرح پیش رفت کر سکتے ہیں۔ ان تمام اہم مسائل پر یقیناً گفتگو ہوئی ہوگی، لیکن ان تجاویز اور غور و فکر کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
اس ماحول میں، جب یہاں کے چیف منسٹر کی کسی چپراسی سے بھی زیادہ اہمیت نہیں، وہ کیسے اور کس طرح مؤثر کارکردگی دکھا سکتا ہے؟ وہ اپنے منشور میں درج کسی بھی وعدے کو اب تک پورا نہیں کر پائے ہیں، لیکن اس اجلاس کا اس سے کوئی براہِ راست تعلق بظاہر نظر نہیں آتا۔
گمان غالب ہے کہ یہ اجلاس اس تذبذب اور انتشار کا ردِعمل تھا جو گزشتہ ماہ قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما کے چند بیانات سے پیدا ہوا۔ عوام کے ساتھ ساتھ شاید عمر سرکار نے بھی اپنے وفاداروں اور سیاسی صف بندی کا جائزہ لینے کے لئے اس اجلاس کی رازداری کے ساتھ منصوبہ بندی کی تھی۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینئر لیڈر سنیل شرما نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ:
"این سی وینٹی لیٹر پر ہے۔”
بظاہر این سی کے اندرونِ خانہ کوئی غیر معمولی صورتحال نظر نہیں آتی، لیکن اس کے بعد انہوں نے ایک اور معنی خیز بیان دے کر سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کی۔ انہوں نے کہا:
"این سی ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے اور اسے کوئی ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا۔ این سی کے ارکان دل بدلی کے لئے بیتاب ہیں اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ سرکار اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی بلکہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔”
قائدِ حزبِ اختلاف کا یہ دعویٰ سیاسی نشانہ بازی بھی ہو سکتا ہے اور حکومت کے خاتمے یا عوامی اعتماد سے محرومی کی سیاسی پھلجھڑی بھی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن یقینی طور پر اس بیان نے عمر عبداللہ کی نیندیں اڑا دی ہوں گی۔
شاید اس اجلاس میں ان کی یہ خواہش بھی رہی ہوگی کہ آیا واقعی ان کے کچھ لوگ دوسرے گھونسلوں میں بسیرا کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں یا یہ سب محض سیاسی بیان بازی ہے۔ اس اجلاس کا رازداری کے ساتھ منعقد ہونا اسی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اس بات کا جائزہ بھی ضروری ہے کہ این سی، جو عوام کے بھاری مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی ہے، کیا کر رہی ہے؟ اور کیا واقعی یہ حکومت وینٹی لیٹر پر ہے؟
وینٹی لیٹر پر ہونے کا مطلب واضح ہے کہ مریض موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے۔
این سی گزشتہ انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے اور ذمہ داریاں سنبھالنے کے باوجود کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکی، یا یوں کہیے کہ عوام کی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پائی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ منشور میں کیے گئے وعدے پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ 200 یونٹ مفت بجلی، ریاستی درجے کی بحالی اور دیگر وعدے ابھی تک کاغذوں ہی میں موجود ہیں۔
اپوزیشن حکومت کو ہر معاملے میں موردِ الزام ٹھہراتی ہے اور ہر قدم پر اسے ناکام قرار دیتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمر سرکار اختیارات کے لحاظ سے پابند بھی ہے۔ خود عمر عبداللہ اپنی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کی زبان اور باڈی لینگویج سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔
اسی لئے وہ کئی بار واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ:
"عوام نے انہیں 5 سال کا مینڈیٹ دیا ہے، 5 دن یا 5 مہینوں کا نہیں۔”
ظاہر ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عوام اور اپوزیشن کو 5 سال تک انتظار کرنا چاہیے اور صبر کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ وہ اس مدت میں اپنے وعدوں میں سے کتنے پورے کرتے ہیں۔
باقی بحث اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمر عبداللہ خود انتخابات سے قبل یہ کہہ چکے تھے کہ نئے سیاسی حالات میں چیف منسٹر ایک چپراسی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی سیاسی بساط اور اختیارات کا پہلے ہی اندازہ تھا۔
ریاستی درجے کی عدم موجودگی میں ان کے اختیارات محدود ہیں۔ کئی مواقع پر وہ خود کہہ چکے ہیں کہ "ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں”۔
بی جے پی کا ریاستی درجے کے بارے میں موقف واضح ہے:
"ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے، لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔”
شاید وہ مناسب وقت تب آئے جب زمین بھی بی جے پی کی ہو، حکومت بھی انہی کی ہو اور سیاسی ماحول بھی انہی کے مطابق ہو۔
کشمیری عوام نے بی جے پی کے خلاف این سی کو ووٹ دیا۔ اس لئے نہیں کہ این سی نے ماضی میں عوام سے کیے گئے تمام وعدے نبھائے، بلکہ اس لئے کہ کوئی ایسا متبادل سیاسی قائد یا قیادت سامنے نہیں آ سکی جس پر عوام مکمل اعتماد کر سکتے۔
پی ڈی پی کو ایک وقت متبادل کے طور پر آگے لایا گیا تھا، لیکن محض اقتداری سیاست تک محدود رہنے کے باعث وہ یہ موقع گنوا بیٹھی۔
اس "آف سائٹ میٹنگ” سے عمر عبداللہ نے کیا نتائج اخذ کیے ہوں گے، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ البتہ حکومت بہرحال کانٹوں کی سیج پر بیٹھی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور شاید اس کے سوا انہیں کوئی دوسرا راستہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔
ادارہ سرینگر جنگ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔


