میں رکشہ والا

شبیر احمد میر

میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں کے درمیان کہیں کہیں پتھروں کے چولہے بنا دے گے تھے۔ جن کو چار چار، پانچ پانچ آدمی گھیرے ہوئے تھے ۔چولہوں پر بڑے بڑے پتیلے چڑھے ہوے تھے جس میں سے بھا پ نکل رہی تھی ۔کچھ عورتیں بھی تہیں۔ جو اپنے کنبوں کا کھانا الگ الگ پکا رہی تہیں ۔ ان میں سے ایک آدمی کی نظر ہم پر پڑی ۔اس نے جلدی سے ٹھنڈے پانی سے منہ دہو کر اپنے بالوں کو گیلا کیا۔ انگلیوںسے با لوں کو سنورا اور اپنا حلیہ درست کر کے ہماری طرف دوڑ پڑا ۔ اس کا رکشہ سڑک کے کنارے اس کا انتظارکر رہا تھا ۔رکشے کے پاس پہنچ کر۔ اس نے دبی ہوی آواز میں ہماری طرف دیکھ کر کہا ۔بابو جی ! کہا ں جانا ہے آپکو ؟
میں نے سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیا اور دایں ہاتھ کی انگلیوں سے چٹکی بجا کر اور پھر شہادت کی انگلی اٹھا کر ۔رکشے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے غصے میں کہا۔اے مسٹر کالی گاجر ! میری طرف دیکھ کے بات کر ۔ جب ہم نے ماں باپ ۔ساس سسر کو نہیں کہا ۔ہمیں کہاں جانا ہے۔ تو ہم تجھے کیوں بتایں ہمیں کہاں جانا ہے؟ نیے نویلے جوڑے کو کہتا ہے کہاں جانا ہے۔ بات کرنے کی تمیز نہیں ہے کیا ؟ کوئی کہیں بھی جاے ۔تجھے پوچھ کے جاتے ہیں کیا ؟ جی کرتا ہے تم جیسے بدتمیز کا منہ توڈ دوں ۔یہ کیا پہن رکھا ہے ۔ کالی میلی شلوار کے اوپر یہ رنگ برنگی کرتہ ۔اپنا حلیہ دیکھا ہے کبھی آئینے میں ۔بیہودہ انسان ۔بیڑی پہونک پہونک کر قبر کے دہانے پہنچ گیا ہے اور تجھے پتہ بھی نہیں ۔تیرے حصے کا کفن اس دنیا کے بازار میں کب کا آ چکا ہے ۔تم جیسے لوگوں کو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں ۔ زمانہ اخلاقیات کے لاکہوں سبق دہرانے کے بعد بھی کورے کے کورے رہ جاتے ہو ۔شام ہوتے ہی تم لوگوں کو جمایاں آنے لگتی ہیں ۔جب تک نہ دیسی تھرے کا ایک پورا پاوا حلق سے اتار نہ لوگے۔ تم لوگوں میں چستی نہیں آتی ۔بیمار مرغے کی طرح گردن لٹکاے رہتے ہو ۔جی کرتا ہے۔ کاٹ کے رکھ دوں تم جیسے مرغے کو ۔تجھے دیکھ کے جل تو جلال تو۔ پڑھنے کو دل کرتا ہے ۔ اب چست چوبند گدھے کی طرح میری بات غور سے سن ۔شکر میٹھی ہوتی ہے خواہ اس کو اندھیرے میں ہی کیوں نہ کھائیں ۔اسی طرح تم بھی اپنی باتوں میں مٹھاس پیدا کرو ۔کڑوا چیز مت بنو ۔ تجھے ہم سے اس طرح کہنا چاہیے تھا ۔ بابو جی ! میں آپ کو کہاں چہوڑوں ؟
اس کے مجروح جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور حسرت بھرے نگاہ سے ہم دونوں کو دیکھ ڈالا ۔مجھے ایسا لگا جیسے اس کی نگاہ پتھر میں بھی سوراخ کر سکتی ہے اور گہری سانس لیکر کہا ۔ محترمہ ! آپ نے اتنی کھری کھری مجھے سنائی جس کا مجھے ذرا بھر بھی افسوس نہیں ۔میں جو بھی ہوں ۔جیسا بھی ہوں ۔اپنے لئے ۔اپنے گھر والوں کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ۔جب تک دل دھڑکتا ہے۔ مجھے سواریوں کے آنے کی آہٹ سنائی دے گی اور جب تک ان سے امید بندھی ہے۔ میں اسی طرح آپ جیسے لوگوں کا انتظار کرتا رہوں گا ۔ہم مجبور ہوتے ہے۔ جہنم کا پیٹ بھر نے کے لئے۔ آپ جیسے شرفاہ کبھی کبھار آتے ہیں ۔ورنہ غلط لوگوں کا سامنا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے ۔جن سے ہماری روزی روٹی چلتی ہے ۔ ان لوگوں سے ہم کیا تمیز سیکہیں ۔ہم دنیا کے ان لوگوں میں سے ہیں ۔جو زندگی کے کھلے اور تنگ کرتے کو بغیر کسی شکایت کے اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں ۔زندگی کا کوئی بھی رنگ ۔کرتے کی طرح ہمیں راس آتا ہے ۔ضرورت کا کماتے ہیں اور ضرورت کا خرچ کرتے ہیں ۔دن بھر کی کمائی جب ہم اپنی بیوی کی ہتھلی پر رکھتے ہیں تو وہ اپنی ہی نظر وں میں بہت بڑی عزتدار بن جا تی ہے ۔کبھی کبھی ننھے بچوں کو ماں کی چھاتی سے ملنے والا دودھ بھی اس وقت تک نہیں ملتا ۔جب تک ماں کو روٹی نہ ملے ۔ماں بہوکی رہے تو ننھے بچے بھی بہوکے رہ جاتے ہیں ۔بچے پہول کی طرح نازک ہوتے ہیں ۔جس طرح پہول شا خ سے جدا ہو کرپتی پتی ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح غربت میں بچے ماں باپ اور گھر سے محروم ہوجائیں تو محرومیوں اور غموں کی دہوپ انہیں جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔تلاش روزی انساں کو مختلف کاموں پر آمادہ کرتی ہے اور ہمارا پیشہ بھی اس جذبے سے خالی نہیں ۔تعلیم پانے کا شوق ابھی تک میرے اندر تازہ ہے۔ اگر چہ مایوسی کی وہ فصلیں جو میرے ارد گرد کھڑی کر دی گئیں ہیں دن بہ دن اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی ہے۔آج تک میری فریاد سے نہ ہی آسمان پھٹا اور نہ ہی کہیں زلزلہ آیا ۔ہماری زندگیوں میں مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں۔ کہ اس کی وجہ سے ذہنی پریشانیوں نے ہمیں بری طرح جکڑ کے رکھا ہے اور کئی قسم کی بیماریاں جنم لینے لگی ہیں ۔ شکر ہے ہمارے حصے کا کفن بازار میں آچکا ہے ۔اس کو بھی ہمیں خود ہی خریدنا پڑیگا ۔بیماری میں بھی جب بہوک کے مارے ہمارا پیٹ زخم بن جاتا ہے تو کپڑے اتار کر راستے میں بیٹھ جاتے ہیں ۔بدقسمتی سے لوگ پیسہ دینے کے بجاے ننگے مردوں کو پتھر مارتے ہیں ۔پر ننگی عورتوں کو لوگ بستر دیتے ہیں اور روٹی بھی کھلاتے ہیں ۔شراب ہی ایک ایسی آگ ہے جو معدے میں اترتے ہی ۔ایسی باتیں سوچنے لگتی ہیں جو عقلمندوں کو سوجھ نہیں پاتیں ۔ ایک بات کہوں محترمہ ! ہمیں سمجھنے کے لئے ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ۔بلکہ زندگی کی اونچ نیچ سمجھنے کے لئے آپ کو ہماری ضرورت ہے۔میں بھی تو انسان ہوں۔ میں نہ آسمان سے اترا ہوں اور نہ ہی زمیں سے اگا ہوں ۔میری بھی کچھ خواہشیں ہیں ۔پر زندگی میں سوال بہت زیادہ ہیں اور جواب بہت ہی کم ۔نہ ہونے کے برابر ۔ لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ آس لے قبروں میں اترتے جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال کا جواب بھی حل نہیں کر پاتے ۔۔۔
بیڑی سلگانے کے بعد۔ پہونک مار کر شعلہ بجھا دیا اور دوبارہ کہنا شروع کیا ۔
اس دنیا میں جہاں آپ سانس لے رہی ہیں۔ ایک نہیں ہزاروں اور لاکہوں ابلیس موجود ہیں۔جو ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں ۔جو ہم جیسے غریبوں کا حق چہیں لیتے ہیں ۔اپنے ہی ملک کو کہوکھلا کر کے چہوڑ دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے مہنگائی اتنی بڑ ھ جاتی ہے۔ کہ ہماری کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔ یہ دنیا دو طرح کے انسانوں سے بھری پڑی ہے ۔ ایک شکار کرنے والے اور دوسرے شکار ہونے والے اور زندگی کا حاصل مسلسل بیکار ۔ان ہی لوگوں کی وجہ سے نہ ہم گھر کے رہے اور نہ ہی گھاٹ کے ۔دہوبی کے کتے کی طرح ادھر ادھر چیاوں ۔پیاوں اور بہوں بہوں کرتے نظر آتے ہیں ۔ انسان جب حیوان کا سا عمل کرتا ہے ۔اس وقت وہ حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں انسانیت کا خطرناک دشمن انسان ہی تو ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے ۔جب ہم کسی پر اندہوں کی طرح اعتماد کریں اور وہ ثابت کر دے ۔کہ ہم واقعی اندھے ہیں ۔اللہ کسی کے ساتھ برا نہیں کرتا ۔بلکہ ہم خود اپنی عقل و سمجھ کے ہاتہوں خود اپنے لے ایسا راستہ چن لیتے ہیں جس پر چل کر ہمارے پاوں زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ۔ ہماری روح بھی زخمی ہوجاتی ہے ۔ہمارے شہروں سے روز بہ روز غیرت ۔شرافت ۔مردانگی ۔نکوکاری و پرہیز گاری اٹھی جا رہی ہے ۔بے غیرتی ۔نامردی۔بزدلی ۔بد معاشی۔چوری ۔جعلسازی کا دور دورہ ہوتا جا رہا ہے ۔یہ اس لے ہو رہا ہے ۔ہر ایک کو روپیہ چاہے ۔عورتوں کو بھی روپیہ چاہے ۔ماوں باپوں کو بھی روپیہ چاہے۔مسجد کے امام اور مندر کے پجاری کو بھی روپیہ چاہے ۔یہ روپیہ حاصل کرتے کرتے زندگی کا بڑا حصہ گزر جاتا ہے ۔مگر کبھی کسی کو آرام و سکون نصیب نہیں ہوتا ۔کسی کی آنکہوں میں سمندر سمٹ جاتے ہیں ۔کسی کے ارمانوں کی چتا جل جاتی ہے ۔کسی کی امیدوں پر راکھ بکھر جاتی ہے ۔کسی کے خوابوں کی شاخ ٹوٹ جاتی ہے ۔روپے کی خاطر کوئی سرخ جوڑے میں جلا دی جاتی ہے ۔زندگی کی راہوں میں بالکل سناٹا ہے ۔کسی کو کچھ نہیں معلوم ۔زندگی کی منزل کدھر جا ری ہے ۔سب کے سب بے خبر ۔یہ ایک ایسا سیلاب ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آرہا ہے اور جب تک وہ ہموار سطح تک نہیں پہنچ جاتا۔ دنیا کی کوئی شے اس سیلاب کی روانی کو روک نہیں سکتا ۔اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر اور بیڑی کے ٹکڑے کو پھینک کر کہا ۔
ؑؑغور سے دیکھنے کے بعد آپ کو خود معلوم ہو جایگا۔ محنت کرنے والوں کے گھروں سے فاقہ کشی باہر سے ہی جھانکتی ہے۔میں نے سنا ہے ۔مظلموں کی چیخیں آسمان کو ہلا دیتی ہیں۔ لیکن آج کل شاید کوئی شیطانی طاقت ان چیخوں کو آسمان تک پہنچنے نہیں دیتی۔ راستے میں ہی روک لیتی ہیں ۔پھر بھی کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زندگی کی تلخ حقایق اور پریشان کن دن بھر الجھے رہنے کے بعد رات کو حسین خواب دیکھ کر ہی سکون اور خوشی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم جیسے تنہا لوگ دنیا میں خاموشی سے آتے ہیں اور چپ چاپ چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں ہم ایسے آتے ہیں جیسے کوئی خود رو پودا بغیر پانی ۔بغیر کھاد۔ زمیں پر اگ آتا ہے۔ کڑی دہوپ تیز بارش اس کے بڑھنے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتے اور پھر اچانک کسی دوپہر یہ پودا مرجھا کر دہوپ ہوا سے ناطہ توڑ کر مٹی میں منھ چھپا لیتا ہے ۔
رکشے والے کی باتوں سے مجھے ایسا محسوس ہوا ۔جیسے میرے دل کے اندر کوئی نازک سی چیز ٹوٹ گئی ہے ۔کوئی کانچ کی چیز اور میرا دل کانچ کے ان ٹکڑوں پر لوٹنے لگا ۔میری تو آنکہوں کے کنارے بھیگ گے ۔میری حالت دیکھ کر اس نے کہا ۔
محترمہ ! اس دنیا میں روتا تو ہر شخص ہے ۔سکھی کوئی نہیں ۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی دکھ ضرور ہے ۔پھر کیوں ؟ آپ اس قدر پریشان اور دکھی ہو رہی ہیں ۔دکھ تو انسان کا مقدر ہے اور مقدر اللہ لکھتا ہے ۔ ہم نہیں۔ زندگی تو ایک مسلسل غم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔پر دنیا کی سب سے مہنگی چیز خلوص ہے اور کسی کا خلوص جان دے کر بھی حاصل ہوجاے ۔تو یہ سودا مہنگا نہیں ۔ہم نفس ۔ہم درد دوست ،میسر آجاے تو انسان اطمینان سے مر سکتا ہے۔
اس کے چہرے کا رنگ۔ اس کے ہونٹوں کی پھڑپھڑاہٹ ۔اس کی آنکہوں کی اداسی بتا رہی تھی کہ یہ اس کے دل کی آواز ہے۔ میں نے محسوس کیا ۔بے بسی کے عالم میں اس کی آنکہیں پانی سے بھر گئیں اور کتنی دیر تک وہ بغیر آواز پیدا کیے روتا رہا ۔اس کے رونے سے بجلی کی لہریں میرے وجود میں سے ہوکر گزر رہی ہیں ۔میں اس کے قریب جا کر اسے رجھانے لگی اور وہ لاشعوری طور پر ذرا پرے کھسک گیا ۔ اس کی یہ ادا دیکھ کر میں نے اس کو کتنی ٹھیس پہنچائی ۔میں کبھی بھی اپنے آپ کو معاف نہیں کروں گی ۔میں دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا جو زمیں پر گر گیا جس نے زمیں کو بھی ایک زور دار جھٹکا دیا ۔ اب وہ ہمارے قریب آیا اور ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا۔دنیا کی باتیں بتا کر میں سچا دوست تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔مگر یہ ایک انسانی فطرت ہے۔ میں خود سچا دوست بننے کی کوشش نہیں کرتا ۔ آپ مجھے بے شک پیسوں کے لئے بیچ راستے میں زلیل و رسوا کریں ۔ میں آپ کو اس سے روکوں گا نہیں کیونکہ یہ میری ضرورت ہے اور مجبوری بھی ۔
دیکہو بھیا ! اگر آپ نے میرا موڑ مزید خراب کیا۔ تو میں اپنا سر پہوڑ لوں گی یا آپ کا سر توڑ دوں گی ۔اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
آپ کے دل میں ہماری زات کے لئے بے پناہ نفرت و حقارت کے تباہ کن جذبوں کے لئے بے انتہا ناگ جو پل رہے ہیں ان کو ایسے ہی رہنے دو ۔یہ آپ کا قصور نہیں ۔کیونکہ حق گوئی آج کے زمانے میں ایک بہت ہی مشکل کام بن گیا ۔مگر اس کے باوجود کچھ لوگ آج بھے ایسے موجود ہیں جن کے ضمیر کی آواز کوئی نہیں دبا سکتا ۔ان ہی کی بدولت سے ہماری روزی روٹی ابھی تک چل رہی ہے ۔اب آپ گھر چلے جایں ۔مسلسل رونے سے بے سکون انسان خود کو بھی تباہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی ۔آپ عزت والے اور میں ایک جاہل آدمی۔ بال کی کھال نکالنے والا ۔اتنا ہی نہیں بددماغی و بداخلاقی میری اضافی خوبیاں ہیں ۔
یہ سن کر ایک بڑا سوالیہ نشان میرے زہن پر کھڑا ہو گیا ۔خوف زدہ کرنے والا سوالیہ نشان ۔ میں سوچ رہی ہوں کہ دنیا میں اگر ہر شخص اصول و ضوابط کا اتنا ہی خیال رکھنا شروع کر دے جتنا میں کر رہی ہوں ۔کہاں جانا ہے ؟ آپ کو کہا ں چہوڑوں ؟ تو یہ دنیا بور ہونے لگے گی ۔میں اب کسی پر غصہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی کسی کے جذباتوں کو ٹھیس پہچھاونگی ۔میں وعدہ کرتی ہوں میں مجبوروں ۔مظلموں کی خدمت کرونگی ۔ایک نیا عزم اور ایک انوکھا جذبہ دوسروں کے لئے زندہ رہنے کا ہوصلہ ۔میرے دل میں رکشے والے نے جاگا ہے ۔واقعی اصلیت تو صرف ایک ہے ۔وہ ہے انسانی وجود ۔یہ پیشے ۔فرقے ۔طبقے۔تو معاشرے کی ہیں جھنہں انسان ٹھکرا دیتے ہیں ۔ان لوگوں کا سہارا صرف اللہ ہی ہوتا ۔ اب ہمیں کہیں بھی جانا ہو۔ بیشک ہم اپنے والدین سے یا ساس سسر سے چھپاییں۔ کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔ مگر ایک رکشے والے کو ضرور کہیں گے۔ ہمیں کہاں جانا ہے ۔کیونکہ ملایم زبان ہڈی توڑ دیتی ہے ۔
اس تحریر سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

PDP کے سیاسی تجربے نے جموں و کشمیرسب کچھ چھین لیا/ رمضان

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکنِ...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

PDP کے سیاسی تجربے نے جموں و کشمیرسب کچھ چھین لیا/ رمضان

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکنِ...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر

میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں کے درمیان کہیں کہیں پتھروں کے چولہے بنا دے گے تھے۔ جن کو چار چار، پانچ پانچ آدمی گھیرے ہوئے تھے ۔چولہوں پر بڑے بڑے پتیلے چڑھے ہوے تھے جس میں سے بھا پ نکل رہی تھی ۔کچھ عورتیں بھی تہیں۔ جو اپنے کنبوں کا کھانا الگ الگ پکا رہی تہیں ۔ ان میں سے ایک آدمی کی نظر ہم پر پڑی ۔اس نے جلدی سے ٹھنڈے پانی سے منہ دہو کر اپنے بالوں کو گیلا کیا۔ انگلیوںسے با لوں کو سنورا اور اپنا حلیہ درست کر کے ہماری طرف دوڑ پڑا ۔ اس کا رکشہ سڑک کے کنارے اس کا انتظارکر رہا تھا ۔رکشے کے پاس پہنچ کر۔ اس نے دبی ہوی آواز میں ہماری طرف دیکھ کر کہا ۔بابو جی ! کہا ں جانا ہے آپکو ؟
میں نے سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیا اور دایں ہاتھ کی انگلیوں سے چٹکی بجا کر اور پھر شہادت کی انگلی اٹھا کر ۔رکشے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے غصے میں کہا۔اے مسٹر کالی گاجر ! میری طرف دیکھ کے بات کر ۔ جب ہم نے ماں باپ ۔ساس سسر کو نہیں کہا ۔ہمیں کہاں جانا ہے۔ تو ہم تجھے کیوں بتایں ہمیں کہاں جانا ہے؟ نیے نویلے جوڑے کو کہتا ہے کہاں جانا ہے۔ بات کرنے کی تمیز نہیں ہے کیا ؟ کوئی کہیں بھی جاے ۔تجھے پوچھ کے جاتے ہیں کیا ؟ جی کرتا ہے تم جیسے بدتمیز کا منہ توڈ دوں ۔یہ کیا پہن رکھا ہے ۔ کالی میلی شلوار کے اوپر یہ رنگ برنگی کرتہ ۔اپنا حلیہ دیکھا ہے کبھی آئینے میں ۔بیہودہ انسان ۔بیڑی پہونک پہونک کر قبر کے دہانے پہنچ گیا ہے اور تجھے پتہ بھی نہیں ۔تیرے حصے کا کفن اس دنیا کے بازار میں کب کا آ چکا ہے ۔تم جیسے لوگوں کو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں ۔ زمانہ اخلاقیات کے لاکہوں سبق دہرانے کے بعد بھی کورے کے کورے رہ جاتے ہو ۔شام ہوتے ہی تم لوگوں کو جمایاں آنے لگتی ہیں ۔جب تک نہ دیسی تھرے کا ایک پورا پاوا حلق سے اتار نہ لوگے۔ تم لوگوں میں چستی نہیں آتی ۔بیمار مرغے کی طرح گردن لٹکاے رہتے ہو ۔جی کرتا ہے۔ کاٹ کے رکھ دوں تم جیسے مرغے کو ۔تجھے دیکھ کے جل تو جلال تو۔ پڑھنے کو دل کرتا ہے ۔ اب چست چوبند گدھے کی طرح میری بات غور سے سن ۔شکر میٹھی ہوتی ہے خواہ اس کو اندھیرے میں ہی کیوں نہ کھائیں ۔اسی طرح تم بھی اپنی باتوں میں مٹھاس پیدا کرو ۔کڑوا چیز مت بنو ۔ تجھے ہم سے اس طرح کہنا چاہیے تھا ۔ بابو جی ! میں آپ کو کہاں چہوڑوں ؟
اس کے مجروح جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور حسرت بھرے نگاہ سے ہم دونوں کو دیکھ ڈالا ۔مجھے ایسا لگا جیسے اس کی نگاہ پتھر میں بھی سوراخ کر سکتی ہے اور گہری سانس لیکر کہا ۔ محترمہ ! آپ نے اتنی کھری کھری مجھے سنائی جس کا مجھے ذرا بھر بھی افسوس نہیں ۔میں جو بھی ہوں ۔جیسا بھی ہوں ۔اپنے لئے ۔اپنے گھر والوں کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ۔جب تک دل دھڑکتا ہے۔ مجھے سواریوں کے آنے کی آہٹ سنائی دے گی اور جب تک ان سے امید بندھی ہے۔ میں اسی طرح آپ جیسے لوگوں کا انتظار کرتا رہوں گا ۔ہم مجبور ہوتے ہے۔ جہنم کا پیٹ بھر نے کے لئے۔ آپ جیسے شرفاہ کبھی کبھار آتے ہیں ۔ورنہ غلط لوگوں کا سامنا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے ۔جن سے ہماری روزی روٹی چلتی ہے ۔ ان لوگوں سے ہم کیا تمیز سیکہیں ۔ہم دنیا کے ان لوگوں میں سے ہیں ۔جو زندگی کے کھلے اور تنگ کرتے کو بغیر کسی شکایت کے اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں ۔زندگی کا کوئی بھی رنگ ۔کرتے کی طرح ہمیں راس آتا ہے ۔ضرورت کا کماتے ہیں اور ضرورت کا خرچ کرتے ہیں ۔دن بھر کی کمائی جب ہم اپنی بیوی کی ہتھلی پر رکھتے ہیں تو وہ اپنی ہی نظر وں میں بہت بڑی عزتدار بن جا تی ہے ۔کبھی کبھی ننھے بچوں کو ماں کی چھاتی سے ملنے والا دودھ بھی اس وقت تک نہیں ملتا ۔جب تک ماں کو روٹی نہ ملے ۔ماں بہوکی رہے تو ننھے بچے بھی بہوکے رہ جاتے ہیں ۔بچے پہول کی طرح نازک ہوتے ہیں ۔جس طرح پہول شا خ سے جدا ہو کرپتی پتی ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح غربت میں بچے ماں باپ اور گھر سے محروم ہوجائیں تو محرومیوں اور غموں کی دہوپ انہیں جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔تلاش روزی انساں کو مختلف کاموں پر آمادہ کرتی ہے اور ہمارا پیشہ بھی اس جذبے سے خالی نہیں ۔تعلیم پانے کا شوق ابھی تک میرے اندر تازہ ہے۔ اگر چہ مایوسی کی وہ فصلیں جو میرے ارد گرد کھڑی کر دی گئیں ہیں دن بہ دن اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی ہے۔آج تک میری فریاد سے نہ ہی آسمان پھٹا اور نہ ہی کہیں زلزلہ آیا ۔ہماری زندگیوں میں مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں۔ کہ اس کی وجہ سے ذہنی پریشانیوں نے ہمیں بری طرح جکڑ کے رکھا ہے اور کئی قسم کی بیماریاں جنم لینے لگی ہیں ۔ شکر ہے ہمارے حصے کا کفن بازار میں آچکا ہے ۔اس کو بھی ہمیں خود ہی خریدنا پڑیگا ۔بیماری میں بھی جب بہوک کے مارے ہمارا پیٹ زخم بن جاتا ہے تو کپڑے اتار کر راستے میں بیٹھ جاتے ہیں ۔بدقسمتی سے لوگ پیسہ دینے کے بجاے ننگے مردوں کو پتھر مارتے ہیں ۔پر ننگی عورتوں کو لوگ بستر دیتے ہیں اور روٹی بھی کھلاتے ہیں ۔شراب ہی ایک ایسی آگ ہے جو معدے میں اترتے ہی ۔ایسی باتیں سوچنے لگتی ہیں جو عقلمندوں کو سوجھ نہیں پاتیں ۔ ایک بات کہوں محترمہ ! ہمیں سمجھنے کے لئے ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ۔بلکہ زندگی کی اونچ نیچ سمجھنے کے لئے آپ کو ہماری ضرورت ہے۔میں بھی تو انسان ہوں۔ میں نہ آسمان سے اترا ہوں اور نہ ہی زمیں سے اگا ہوں ۔میری بھی کچھ خواہشیں ہیں ۔پر زندگی میں سوال بہت زیادہ ہیں اور جواب بہت ہی کم ۔نہ ہونے کے برابر ۔ لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ آس لے قبروں میں اترتے جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال کا جواب بھی حل نہیں کر پاتے ۔۔۔
بیڑی سلگانے کے بعد۔ پہونک مار کر شعلہ بجھا دیا اور دوبارہ کہنا شروع کیا ۔
اس دنیا میں جہاں آپ سانس لے رہی ہیں۔ ایک نہیں ہزاروں اور لاکہوں ابلیس موجود ہیں۔جو ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں ۔جو ہم جیسے غریبوں کا حق چہیں لیتے ہیں ۔اپنے ہی ملک کو کہوکھلا کر کے چہوڑ دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے مہنگائی اتنی بڑ ھ جاتی ہے۔ کہ ہماری کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔ یہ دنیا دو طرح کے انسانوں سے بھری پڑی ہے ۔ ایک شکار کرنے والے اور دوسرے شکار ہونے والے اور زندگی کا حاصل مسلسل بیکار ۔ان ہی لوگوں کی وجہ سے نہ ہم گھر کے رہے اور نہ ہی گھاٹ کے ۔دہوبی کے کتے کی طرح ادھر ادھر چیاوں ۔پیاوں اور بہوں بہوں کرتے نظر آتے ہیں ۔ انسان جب حیوان کا سا عمل کرتا ہے ۔اس وقت وہ حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں انسانیت کا خطرناک دشمن انسان ہی تو ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے ۔جب ہم کسی پر اندہوں کی طرح اعتماد کریں اور وہ ثابت کر دے ۔کہ ہم واقعی اندھے ہیں ۔اللہ کسی کے ساتھ برا نہیں کرتا ۔بلکہ ہم خود اپنی عقل و سمجھ کے ہاتہوں خود اپنے لے ایسا راستہ چن لیتے ہیں جس پر چل کر ہمارے پاوں زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ۔ ہماری روح بھی زخمی ہوجاتی ہے ۔ہمارے شہروں سے روز بہ روز غیرت ۔شرافت ۔مردانگی ۔نکوکاری و پرہیز گاری اٹھی جا رہی ہے ۔بے غیرتی ۔نامردی۔بزدلی ۔بد معاشی۔چوری ۔جعلسازی کا دور دورہ ہوتا جا رہا ہے ۔یہ اس لے ہو رہا ہے ۔ہر ایک کو روپیہ چاہے ۔عورتوں کو بھی روپیہ چاہے ۔ماوں باپوں کو بھی روپیہ چاہے۔مسجد کے امام اور مندر کے پجاری کو بھی روپیہ چاہے ۔یہ روپیہ حاصل کرتے کرتے زندگی کا بڑا حصہ گزر جاتا ہے ۔مگر کبھی کسی کو آرام و سکون نصیب نہیں ہوتا ۔کسی کی آنکہوں میں سمندر سمٹ جاتے ہیں ۔کسی کے ارمانوں کی چتا جل جاتی ہے ۔کسی کی امیدوں پر راکھ بکھر جاتی ہے ۔کسی کے خوابوں کی شاخ ٹوٹ جاتی ہے ۔روپے کی خاطر کوئی سرخ جوڑے میں جلا دی جاتی ہے ۔زندگی کی راہوں میں بالکل سناٹا ہے ۔کسی کو کچھ نہیں معلوم ۔زندگی کی منزل کدھر جا ری ہے ۔سب کے سب بے خبر ۔یہ ایک ایسا سیلاب ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آرہا ہے اور جب تک وہ ہموار سطح تک نہیں پہنچ جاتا۔ دنیا کی کوئی شے اس سیلاب کی روانی کو روک نہیں سکتا ۔اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر اور بیڑی کے ٹکڑے کو پھینک کر کہا ۔
ؑؑغور سے دیکھنے کے بعد آپ کو خود معلوم ہو جایگا۔ محنت کرنے والوں کے گھروں سے فاقہ کشی باہر سے ہی جھانکتی ہے۔میں نے سنا ہے ۔مظلموں کی چیخیں آسمان کو ہلا دیتی ہیں۔ لیکن آج کل شاید کوئی شیطانی طاقت ان چیخوں کو آسمان تک پہنچنے نہیں دیتی۔ راستے میں ہی روک لیتی ہیں ۔پھر بھی کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زندگی کی تلخ حقایق اور پریشان کن دن بھر الجھے رہنے کے بعد رات کو حسین خواب دیکھ کر ہی سکون اور خوشی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم جیسے تنہا لوگ دنیا میں خاموشی سے آتے ہیں اور چپ چاپ چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں ہم ایسے آتے ہیں جیسے کوئی خود رو پودا بغیر پانی ۔بغیر کھاد۔ زمیں پر اگ آتا ہے۔ کڑی دہوپ تیز بارش اس کے بڑھنے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتے اور پھر اچانک کسی دوپہر یہ پودا مرجھا کر دہوپ ہوا سے ناطہ توڑ کر مٹی میں منھ چھپا لیتا ہے ۔
رکشے والے کی باتوں سے مجھے ایسا محسوس ہوا ۔جیسے میرے دل کے اندر کوئی نازک سی چیز ٹوٹ گئی ہے ۔کوئی کانچ کی چیز اور میرا دل کانچ کے ان ٹکڑوں پر لوٹنے لگا ۔میری تو آنکہوں کے کنارے بھیگ گے ۔میری حالت دیکھ کر اس نے کہا ۔
محترمہ ! اس دنیا میں روتا تو ہر شخص ہے ۔سکھی کوئی نہیں ۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی دکھ ضرور ہے ۔پھر کیوں ؟ آپ اس قدر پریشان اور دکھی ہو رہی ہیں ۔دکھ تو انسان کا مقدر ہے اور مقدر اللہ لکھتا ہے ۔ ہم نہیں۔ زندگی تو ایک مسلسل غم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔پر دنیا کی سب سے مہنگی چیز خلوص ہے اور کسی کا خلوص جان دے کر بھی حاصل ہوجاے ۔تو یہ سودا مہنگا نہیں ۔ہم نفس ۔ہم درد دوست ،میسر آجاے تو انسان اطمینان سے مر سکتا ہے۔
اس کے چہرے کا رنگ۔ اس کے ہونٹوں کی پھڑپھڑاہٹ ۔اس کی آنکہوں کی اداسی بتا رہی تھی کہ یہ اس کے دل کی آواز ہے۔ میں نے محسوس کیا ۔بے بسی کے عالم میں اس کی آنکہیں پانی سے بھر گئیں اور کتنی دیر تک وہ بغیر آواز پیدا کیے روتا رہا ۔اس کے رونے سے بجلی کی لہریں میرے وجود میں سے ہوکر گزر رہی ہیں ۔میں اس کے قریب جا کر اسے رجھانے لگی اور وہ لاشعوری طور پر ذرا پرے کھسک گیا ۔ اس کی یہ ادا دیکھ کر میں نے اس کو کتنی ٹھیس پہنچائی ۔میں کبھی بھی اپنے آپ کو معاف نہیں کروں گی ۔میں دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا جو زمیں پر گر گیا جس نے زمیں کو بھی ایک زور دار جھٹکا دیا ۔ اب وہ ہمارے قریب آیا اور ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا۔دنیا کی باتیں بتا کر میں سچا دوست تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔مگر یہ ایک انسانی فطرت ہے۔ میں خود سچا دوست بننے کی کوشش نہیں کرتا ۔ آپ مجھے بے شک پیسوں کے لئے بیچ راستے میں زلیل و رسوا کریں ۔ میں آپ کو اس سے روکوں گا نہیں کیونکہ یہ میری ضرورت ہے اور مجبوری بھی ۔
دیکہو بھیا ! اگر آپ نے میرا موڑ مزید خراب کیا۔ تو میں اپنا سر پہوڑ لوں گی یا آپ کا سر توڑ دوں گی ۔اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
آپ کے دل میں ہماری زات کے لئے بے پناہ نفرت و حقارت کے تباہ کن جذبوں کے لئے بے انتہا ناگ جو پل رہے ہیں ان کو ایسے ہی رہنے دو ۔یہ آپ کا قصور نہیں ۔کیونکہ حق گوئی آج کے زمانے میں ایک بہت ہی مشکل کام بن گیا ۔مگر اس کے باوجود کچھ لوگ آج بھے ایسے موجود ہیں جن کے ضمیر کی آواز کوئی نہیں دبا سکتا ۔ان ہی کی بدولت سے ہماری روزی روٹی ابھی تک چل رہی ہے ۔اب آپ گھر چلے جایں ۔مسلسل رونے سے بے سکون انسان خود کو بھی تباہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی ۔آپ عزت والے اور میں ایک جاہل آدمی۔ بال کی کھال نکالنے والا ۔اتنا ہی نہیں بددماغی و بداخلاقی میری اضافی خوبیاں ہیں ۔
یہ سن کر ایک بڑا سوالیہ نشان میرے زہن پر کھڑا ہو گیا ۔خوف زدہ کرنے والا سوالیہ نشان ۔ میں سوچ رہی ہوں کہ دنیا میں اگر ہر شخص اصول و ضوابط کا اتنا ہی خیال رکھنا شروع کر دے جتنا میں کر رہی ہوں ۔کہاں جانا ہے ؟ آپ کو کہا ں چہوڑوں ؟ تو یہ دنیا بور ہونے لگے گی ۔میں اب کسی پر غصہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی کسی کے جذباتوں کو ٹھیس پہچھاونگی ۔میں وعدہ کرتی ہوں میں مجبوروں ۔مظلموں کی خدمت کرونگی ۔ایک نیا عزم اور ایک انوکھا جذبہ دوسروں کے لئے زندہ رہنے کا ہوصلہ ۔میرے دل میں رکشے والے نے جاگا ہے ۔واقعی اصلیت تو صرف ایک ہے ۔وہ ہے انسانی وجود ۔یہ پیشے ۔فرقے ۔طبقے۔تو معاشرے کی ہیں جھنہں انسان ٹھکرا دیتے ہیں ۔ان لوگوں کا سہارا صرف اللہ ہی ہوتا ۔ اب ہمیں کہیں بھی جانا ہو۔ بیشک ہم اپنے والدین سے یا ساس سسر سے چھپاییں۔ کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔ مگر ایک رکشے والے کو ضرور کہیں گے۔ ہمیں کہاں جانا ہے ۔کیونکہ ملایم زبان ہڈی توڑ دیتی ہے ۔
اس تحریر سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں