BRICS اور زرعی تجارت کا نیا جغرافیہ

ڈاکٹر ایم ایل جاٹ
ڈاکٹر سمیتا سیروہی

سال 2026 میں برکس کی صدارت بھارت ایسے وقت میں سنبھال رہا ہے جب زرعی تجارت کی تشکیلِ نو صرف محصولات اور منڈیوں تک رسائی سے آگے بڑھ چکی ہے۔ موسمیاتی جھٹکے، غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، کھاد کی فراہمی میں رکاوٹیں، پائیداری کے معیارات، ڈیجیٹل سراغ رسانی کی ضروریات اور بحرانوں کے دوران منڈیوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت اب تجارتی ایجنڈے کے مرکزی عناصر بن چکے ہیں۔
زراعت کیوں تزویراتی اہمیت رکھتی ہے؟
رکنیت میں توسیع کے بعد یہ گروپ اب دنیا کی تقریباً نصف آبادی، عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے لگ بھگ 40 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے حالیہ جائزے کے مطابق 2003 سے برکس ممالک کے درمیان اشیائے تجارت میں تیرہ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور 2024 میں اس کا حجم 1.17 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ زراعت گرچہ اس وسیع تجارتی منظرنامے کا صرف ایک حصہ ہے، لیکن یہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے سب سے زیادہ حساس شعبوں میں شامل ہے۔ جب خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں، کھاد کی فراہمی متاثر ہوتی ہے یا بحری نقل و حمل کے راستے غیریقینی صورتِ حال کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست کسانوں، صارفین اور حکومتوں پر پڑتے ہیں۔ اسی لئے زراعت بھارت کی برکس صدارت کے لئے سب سے اہم تزویراتی شعبوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

گروپ کے اندر زرعی شعبے میں باہمی تکمیلیت واضح طور پر موجود ہے۔ برازیل سویابین، گوشت اور چینی کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ روس اناج اور کھاد کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بھارت چاول، سمندری مصنوعات، مصالحہ جات، بھینس کے گوشت اور چھوٹے کسانوں کی پیداوارپر مبنی متعدد زرعی اجناس کے میدان میں نمایاں برتری رکھتا ہے۔ چین خوراک کا ایک بڑا درآمد کنندہ اور پروسیسنگ مرکز ہے۔ جنوبی افریقہ اس گروپ کو افریقہ کی اہم زرعی و غذائی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔ نئے رکن ممالک اس میں مزید جہتیں شامل کرتے ہیں: متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب لاجسٹکس، مالیات اور غذائی تحفظ میں سرمایہ کاری کے مفادات لاتے ہیں، مصر اور ایتھوپیا افریقہ میں غذائی نظام سے متعلق اہم خدشات کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ انڈونیشیا پام آئل، ماہی گیری اور استوائی زراعت کے شعبوں میں اپنی اہمیت کا اضافہ کرتا ہے۔

تکمیلیت سے عملی نظام تک
تاہم صرف وسعت اور باہمی تکمیلیت خودبخود ایک مضبوط اور پائیدار تجارتی نظام تشکیل نہیں دیتیں۔ برکس کے وزرائے زراعت کا آئندہ اجلاس بھارت کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ تعاون کو عملی اور مؤثر نظاموں کی جانب لے جائے، جن میں قابلِ اعتماد تجارتی بنیادی ڈھانچہ، مستحکم زرعی اِن پٹ سپلائی چینز، مارکیٹ انٹیلی جنس اور خواتین و نوجوانوں کو شامل کرنے والی چھوٹے کسانوں کی قدر افزا زنجیریں شامل ہیں۔

قابلِ اعتماد تجارتی بنیادی ڈھانچے کو ابتدائی ترجیح دی جانی چاہیے۔ زراعت میں تجارتی سہولت کاری سے متعلق 2024 کے برکس اصول پہلے ہی جدید زرعی تجارت کے بنیادی اجزا کو تسلیم کر چکے ہیں، جن میں سینیٹری اور فائٹو سینیٹری(ایس پی ایس) اور تکنیکی رکاوٹوں سے متعلق تجارت(ٹی بی ٹی) میں تعاون، مساوی معیار کی قبولیت، تجارتی لاگت میں کمی اور ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری شامل ہیں۔ بھارت اس ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے باہم مربوط ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس، قابلِ اعتماد سراغ رسانی کے نظام، ضابطہ جاتی رابطوں میں تیزی اور پیدا کنندگان و برآمد کنندگان کی صلاحیت سازی جیسے اقدامات کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری ترجیح مستحکم زرعی اِن پٹ سپلائی چینز ہونی چاہیے۔ غذائی تجارت کو کھاد، توانائی، مویشی خوراک، بیج، لاجسٹکس اور مالیاتی سہولیات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے لئے یہ کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں، کیونکہ اس کی نصف سے زیادہ کھاد اور توانائی کی درآمدات برکس ممالک سے آتی ہیں، جس کے باعث زرعی لچک کے لئے اِن پٹ سکیورٹی نہایت اہم ہے۔ مغربی ایشیا میں حالیہ بحرانوں نے ظاہر کیا ہے کہ خوراک کے منڈی تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے تعاون میں کھاد اور زرعی اِن پٹ کی منڈیوں کے لئے پیشگی انتباہی نظام، ذخائر اور قیمتوں سے متعلق شفاف معلومات اور ضروری زرعی اِن پٹس کی فراہمی میں اچانک رکاوٹوں کو کم کرنے کے طریقۂ کار شامل ہونے چاہئیں۔
تیسری ترجیح مارکیٹ انٹیلی جنس ہے۔ برکس گرین ایکسچینج کا تصور بہتر شفافیت، قیمتوں کے تعین اور غذائی تحفظ کی تیاری کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ بھارت اس خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے برکس زرعی تحقیقی پلیٹ فارم کے اندر زرعی مارکیٹ انٹیلی جنس کا ایک نظام قائم کرنے کی تجویز دے سکتا ہے، جسے پہلے ہی ’’علم سے عمل‘‘ کے مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ایسا نظام غذائی ذخائر، فصلوں کی صورتحال، ایس پی ایس انتباہات اور اجناس کے رجحانات پر نظر رکھ سکتا ہے، جس سے ممالک بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی مناسب اقدامات کر سکیں گے۔
تجارت کو کسان مرکز بنانا
چوتھی ترجیح خواتین اور نوجوانوں کو شامل کرنے والی چھوٹے کسانوں کی قدر افزا زنجیریں ہیں۔ اگر زرعی تجارت صرف بڑی اجناس کی نقل و حرکت تک محدود رہی تو اس کی ترقیاتی اہمیت محدود رہ جائے گی۔ 2026 میں زرعی و غذائی نظاموں میں خواتین کے عالمی کانفرنس(جی سی ڈبلیو اے ایس) سے سامنے آنے والا دہلی اعلامیہ ایک مفید بنیاد فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ زرعی و غذائی نظام میں تبدیلی کے مرکز میں خواتین کے اختیار اور قیادت کو رکھتا ہے۔ بھارت اسی جذبے کو زرعی تجارتی ایجنڈے میں شامل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ چھوٹے کسان، خصوصاً خواتین کسان اور دیہی نوجوان، صرف منڈی کے لئے پیداوار تک محدود نہ رہیں بلکہ قدر افزا زنجیروں میں مؤثر شراکت داری بھی کر سکیں۔
یہ ترجیحات کسی بند غذائی بلاک کی تشکیل کے لئے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک غیر یقینی دنیا میں زرعی تجارت غذائی تحفظ، کسانوں اور صارفین کے لئے زیادہ مؤثر ثابت ہو۔ بھارت اس ایجنڈے کی تشکیل کے لئے موزوں حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس غذائی تحفظ کے انتظام، چھوٹے کسانوں پر مبنی زراعت، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور زرعی تحقیق کا وسیع تجربہ موجود ہے۔
بھارت کی برکس صدارت اس ایجنڈے کو عملی شکل دینے کا بروقت موقع فراہم کرتی ہے۔ محدود مگر مؤثر انداز میں تیار کیا گیا تعاون زرعی تجارت کو بحرانوں کے دوران زیادہ قابلِ اعتماد، قواعد کے اعتبار سے زیادہ شفاف اور کسانوں کے لئے زیادہ قابلِ رسائی بنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے زرعی تجارتی نظام کی جانب اہم پیش رفت ہوگی جو زیادہ مضبوط، قابلِ اعتماد اور کسان مرکز ہو۔

مضمون میں اظہارِ خیال مصنفین کی ذاتی آراء پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سیکریٹری ہیں۔
ڈاکٹر سمیتا سیروہی، آئی سی اے آر کی نیشنل پروفیسر، ایم ایس سوامیناتھن چیئر اور سابق جوائنٹ سیکریٹری (جی-20/برکس)، محکمہ زراعت و کسان بہبود (ڈی اے ایف اینڈ ڈبلیو) ہیں۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تاریخی دورِ حکومت، انقلابی قیادت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر ہند 10 جون 2026 کو بھارت...

تازہ ترین خبریں

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تاریخی دورِ حکومت، انقلابی قیادت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر ہند 10 جون 2026 کو بھارت...

BRICS اور زرعی تجارت کا نیا جغرافیہ

ڈاکٹر ایم ایل جاٹ
ڈاکٹر سمیتا سیروہی

سال 2026 میں برکس کی صدارت بھارت ایسے وقت میں سنبھال رہا ہے جب زرعی تجارت کی تشکیلِ نو صرف محصولات اور منڈیوں تک رسائی سے آگے بڑھ چکی ہے۔ موسمیاتی جھٹکے، غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، کھاد کی فراہمی میں رکاوٹیں، پائیداری کے معیارات، ڈیجیٹل سراغ رسانی کی ضروریات اور بحرانوں کے دوران منڈیوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت اب تجارتی ایجنڈے کے مرکزی عناصر بن چکے ہیں۔
زراعت کیوں تزویراتی اہمیت رکھتی ہے؟
رکنیت میں توسیع کے بعد یہ گروپ اب دنیا کی تقریباً نصف آبادی، عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے لگ بھگ 40 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے حالیہ جائزے کے مطابق 2003 سے برکس ممالک کے درمیان اشیائے تجارت میں تیرہ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور 2024 میں اس کا حجم 1.17 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ زراعت گرچہ اس وسیع تجارتی منظرنامے کا صرف ایک حصہ ہے، لیکن یہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے سب سے زیادہ حساس شعبوں میں شامل ہے۔ جب خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں، کھاد کی فراہمی متاثر ہوتی ہے یا بحری نقل و حمل کے راستے غیریقینی صورتِ حال کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست کسانوں، صارفین اور حکومتوں پر پڑتے ہیں۔ اسی لئے زراعت بھارت کی برکس صدارت کے لئے سب سے اہم تزویراتی شعبوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

گروپ کے اندر زرعی شعبے میں باہمی تکمیلیت واضح طور پر موجود ہے۔ برازیل سویابین، گوشت اور چینی کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ روس اناج اور کھاد کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بھارت چاول، سمندری مصنوعات، مصالحہ جات، بھینس کے گوشت اور چھوٹے کسانوں کی پیداوارپر مبنی متعدد زرعی اجناس کے میدان میں نمایاں برتری رکھتا ہے۔ چین خوراک کا ایک بڑا درآمد کنندہ اور پروسیسنگ مرکز ہے۔ جنوبی افریقہ اس گروپ کو افریقہ کی اہم زرعی و غذائی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔ نئے رکن ممالک اس میں مزید جہتیں شامل کرتے ہیں: متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب لاجسٹکس، مالیات اور غذائی تحفظ میں سرمایہ کاری کے مفادات لاتے ہیں، مصر اور ایتھوپیا افریقہ میں غذائی نظام سے متعلق اہم خدشات کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ انڈونیشیا پام آئل، ماہی گیری اور استوائی زراعت کے شعبوں میں اپنی اہمیت کا اضافہ کرتا ہے۔

تکمیلیت سے عملی نظام تک
تاہم صرف وسعت اور باہمی تکمیلیت خودبخود ایک مضبوط اور پائیدار تجارتی نظام تشکیل نہیں دیتیں۔ برکس کے وزرائے زراعت کا آئندہ اجلاس بھارت کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ تعاون کو عملی اور مؤثر نظاموں کی جانب لے جائے، جن میں قابلِ اعتماد تجارتی بنیادی ڈھانچہ، مستحکم زرعی اِن پٹ سپلائی چینز، مارکیٹ انٹیلی جنس اور خواتین و نوجوانوں کو شامل کرنے والی چھوٹے کسانوں کی قدر افزا زنجیریں شامل ہیں۔

قابلِ اعتماد تجارتی بنیادی ڈھانچے کو ابتدائی ترجیح دی جانی چاہیے۔ زراعت میں تجارتی سہولت کاری سے متعلق 2024 کے برکس اصول پہلے ہی جدید زرعی تجارت کے بنیادی اجزا کو تسلیم کر چکے ہیں، جن میں سینیٹری اور فائٹو سینیٹری(ایس پی ایس) اور تکنیکی رکاوٹوں سے متعلق تجارت(ٹی بی ٹی) میں تعاون، مساوی معیار کی قبولیت، تجارتی لاگت میں کمی اور ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری شامل ہیں۔ بھارت اس ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے باہم مربوط ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس، قابلِ اعتماد سراغ رسانی کے نظام، ضابطہ جاتی رابطوں میں تیزی اور پیدا کنندگان و برآمد کنندگان کی صلاحیت سازی جیسے اقدامات کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری ترجیح مستحکم زرعی اِن پٹ سپلائی چینز ہونی چاہیے۔ غذائی تجارت کو کھاد، توانائی، مویشی خوراک، بیج، لاجسٹکس اور مالیاتی سہولیات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے لئے یہ کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں، کیونکہ اس کی نصف سے زیادہ کھاد اور توانائی کی درآمدات برکس ممالک سے آتی ہیں، جس کے باعث زرعی لچک کے لئے اِن پٹ سکیورٹی نہایت اہم ہے۔ مغربی ایشیا میں حالیہ بحرانوں نے ظاہر کیا ہے کہ خوراک کے منڈی تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے تعاون میں کھاد اور زرعی اِن پٹ کی منڈیوں کے لئے پیشگی انتباہی نظام، ذخائر اور قیمتوں سے متعلق شفاف معلومات اور ضروری زرعی اِن پٹس کی فراہمی میں اچانک رکاوٹوں کو کم کرنے کے طریقۂ کار شامل ہونے چاہئیں۔
تیسری ترجیح مارکیٹ انٹیلی جنس ہے۔ برکس گرین ایکسچینج کا تصور بہتر شفافیت، قیمتوں کے تعین اور غذائی تحفظ کی تیاری کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ بھارت اس خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے برکس زرعی تحقیقی پلیٹ فارم کے اندر زرعی مارکیٹ انٹیلی جنس کا ایک نظام قائم کرنے کی تجویز دے سکتا ہے، جسے پہلے ہی ’’علم سے عمل‘‘ کے مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ایسا نظام غذائی ذخائر، فصلوں کی صورتحال، ایس پی ایس انتباہات اور اجناس کے رجحانات پر نظر رکھ سکتا ہے، جس سے ممالک بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی مناسب اقدامات کر سکیں گے۔
تجارت کو کسان مرکز بنانا
چوتھی ترجیح خواتین اور نوجوانوں کو شامل کرنے والی چھوٹے کسانوں کی قدر افزا زنجیریں ہیں۔ اگر زرعی تجارت صرف بڑی اجناس کی نقل و حرکت تک محدود رہی تو اس کی ترقیاتی اہمیت محدود رہ جائے گی۔ 2026 میں زرعی و غذائی نظاموں میں خواتین کے عالمی کانفرنس(جی سی ڈبلیو اے ایس) سے سامنے آنے والا دہلی اعلامیہ ایک مفید بنیاد فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ زرعی و غذائی نظام میں تبدیلی کے مرکز میں خواتین کے اختیار اور قیادت کو رکھتا ہے۔ بھارت اسی جذبے کو زرعی تجارتی ایجنڈے میں شامل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ چھوٹے کسان، خصوصاً خواتین کسان اور دیہی نوجوان، صرف منڈی کے لئے پیداوار تک محدود نہ رہیں بلکہ قدر افزا زنجیروں میں مؤثر شراکت داری بھی کر سکیں۔
یہ ترجیحات کسی بند غذائی بلاک کی تشکیل کے لئے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک غیر یقینی دنیا میں زرعی تجارت غذائی تحفظ، کسانوں اور صارفین کے لئے زیادہ مؤثر ثابت ہو۔ بھارت اس ایجنڈے کی تشکیل کے لئے موزوں حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس غذائی تحفظ کے انتظام، چھوٹے کسانوں پر مبنی زراعت، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور زرعی تحقیق کا وسیع تجربہ موجود ہے۔
بھارت کی برکس صدارت اس ایجنڈے کو عملی شکل دینے کا بروقت موقع فراہم کرتی ہے۔ محدود مگر مؤثر انداز میں تیار کیا گیا تعاون زرعی تجارت کو بحرانوں کے دوران زیادہ قابلِ اعتماد، قواعد کے اعتبار سے زیادہ شفاف اور کسانوں کے لئے زیادہ قابلِ رسائی بنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے زرعی تجارتی نظام کی جانب اہم پیش رفت ہوگی جو زیادہ مضبوط، قابلِ اعتماد اور کسان مرکز ہو۔

مضمون میں اظہارِ خیال مصنفین کی ذاتی آراء پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سیکریٹری ہیں۔
ڈاکٹر سمیتا سیروہی، آئی سی اے آر کی نیشنل پروفیسر، ایم ایس سوامیناتھن چیئر اور سابق جوائنٹ سیکریٹری (جی-20/برکس)، محکمہ زراعت و کسان بہبود (ڈی اے ایف اینڈ ڈبلیو) ہیں۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں