جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو سری نگر میں انڈین امیونولوجی سوسائٹی کی سالانہ کانفرنس "امیونوکان 2026” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی علم کو عوامی صحت کے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ متعدی بیماریوں سے نمٹنے، ویکسین کی مؤثریت بڑھانے اور صحت خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ایس کے آئی ایم ایس کے ایڈوانسڈ سینٹر فار ہیومن جینیٹکس کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے سائنس دانوں پر تین اہم شعبوں پر توجہ دینے کی اپیل کی۔ ان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی "امیونو اے آئی فیوژن” نظام کی تیاری، "موسمیاتی مدافعت” پر تحقیق اور تجربہ گاہی دریافتوں کو عملی طبی خدمات تک پہنچانے کے عمل کو تیز کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں "پریسیژن میڈیسن” ایک بڑی تبدیلی ہے اور مختلف اداروں سے وابستہ ماہرین و محققین کو ایسے حل تلاش کرنے چاہئیں جو طبی سائنس میں انقلابی پیش رفت کا سبب بن سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عالمی امیونولوجی برادری کی انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس کانفرنس کا انعقاد خطے کی علمی اور سائنسی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔


