وِکست بھارت بااختیار شہریوں ، مؤثر اِداروں اور ذِمہ دار قیادت کاخواب/راتھر

نیوز ڈیسک
چندی گڑھ
سپیکر جموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ وِکست بھارت کا تصور دراصل بااختیار شہریوں، مؤثر اداروں اور ذمہ دار قیادت کا ویژن ہے جہاں ہر شہری قومی ترقی کا شراکت دار اور ہر قانون ساز مثبت تبدیلی کا علمبردار بنتا ہے۔
اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار منعقدہ سی پی اے اِنڈیا ریجن زوم دوم کی دو روزہ کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔
اِس موقعہ پر لوک سبھا سپیکر اوم برلا، ڈِپٹی چیئرمین راجیہ سبھا ہری ونش، ہریانہ اسمبلی کے سپیکر ہروِندر کلیان سمیت مختلف ریاستوں کے سپیکرروں اور قانون ساز موجود تھے۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے ’’مستقبل کے چیلنجوں اور وِکست بھارت 2047 کے ہدف کے حصول میں باشعور معاشرے اور قانون سازوں کے کردار‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وِکست بھارت کے ویژن کے تحت ملک اقتصادی ترقی، اختراع، بہتر طرزِ حکمرانی، دیرپائی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں عالمی قیادت کی جانب اعتماد کے ساتھ گامزن ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ کوئی بھی قومی ویژن صرف حکومتوں کے ذریعے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ترقی یافتہ قوم کے اصل معمار اس کے شہری ہوتے ہیں جبکہ جمہوری امنگوں کے حقیقی محافظ قانون ساز ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت تب پروان چڑھتی ہے جب شہری باخبر، مصروف عمل اور اپنے حقوق اور ذمہ داریوں دونوں سے آگاہ ہوں۔
سپیکر موصوف نے کہا کہ ایک باشعور معاشرہ صرف انتخابات میں حصہ لینے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ عوامی مباحثوں میں سرگرم کردار ادا کرتا ہے، آئینی اقدار کا احترام کرتا ہے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لئے بیدار رہتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بے مثال تکنیکی ترقی نے شہریوں کو بااختیار بنایا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات، پولرائزیشن اور اداروں پر اعتماد میں کمی جیسے نئے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے وقت کی ضرورت صرف معلومات تک رسائی نہیں بلکہ معتبر معلومات، تنقیدی سوچ اور شہری تعلیم تک رسائی ہے۔عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ قانون سازوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ جمہوری شعور کو فروغ دیں، شفافیت کو مضبوط بنائیں، حکمرانی کو زیادہ قابلِ رسائی اور جوابدہ بنائیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں شہری محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ باخبر شراکت دار ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہے، اس لئے نوجوان قانون سازوں کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قانون ساز اداروں میں توانائی، اِختراع، تکنیکی تفہیم اور عصری تناظر لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان قانون ساز ڈیجیٹل دور کی زبان، نئے کاروباری افراد کی خواہشات، طلبأ کے مسائل اور تیزی سے بدلتی دنیا کے چیلنجوں کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ وہ روایتی حکمرانی اور جدید معاشرتی توقعات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، نئی پالیسی تجاویز پیش کر سکتے ہیں، ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی شرکت کو فروغ دے سکتے ہیں اور جمہوری اداروں کو مزید جوابدہ اور جامع بنا سکتے ہیں۔
سپیکر موصوف نے کہا کہ بطور قانون ساز اور ایوانوں کے سربراہان ہماری خصوصی ذمہ داری ہے کہ ہم مستقبل کے قائدین کی تربیت کریں۔ نوجوان پارلیمان، قانون ساز انٹرن شپس، شہری شمولیت کے پروگرام اور منتخب نمائندوں کے ساتھ رابطے نوجوانوں کو عوامی زندگی میں بامقصد شرکت کے لئے ترغیب دے سکتے ہیں۔اُنہوں نے ملک کو درپیش اُبھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا جن میں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی دیرپائی، آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کا اخلاقی استعمال، روزگار کے مواقع، مستقبل میں ہنر کی ترقی، شہری آبادی میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ اور تیزی سے جڑتی ہوئی دنیا میں سماجی ہم آہنگی شامل ہیں۔سپیکرعبدالرحیم راتھر نے کہا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پیشگی حکمرانی ناگزیر ہے اور قانون سازوں کو مستقبل کے رُجحانات کا بروقت مطالعہ کرکے ایسی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں جو دیرپا اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
اُنہوںنے کہا کہ وِکست بھارت کے سفر کے لئے معیاری تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، اچھی حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی، اختراع، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، سماجی شمولیت اور مساوی ترقی جیسے بنیادی اصولوں سے اجتماعی وابستگی ضروری ہے اور قانون ساز کمیونٹی ان اہداف کے حصول میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
سپیکر نے کہا کہ مقننہ صرف قانون سازی کے مراکز نہیں بلکہ قومی گفتگو کی تشکیل، عوامی امنگوں کی ترجمانی اور جمہوری جوابدہی کو مضبوط بنانے والے اہم ادارے ہیں۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے اپنے خطاب کے اختتام پر شرکأ پر زور دیا کہ وہ جمہوری اِداروں کو مزید مضبوط بنانے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ایک باخبر و ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کریں تاکہ ہماری قانون ساز اسمبلیاں مکالمے، جوابدہی اور اختراع کے فعال مراکز بنی رہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

وِکست بھارت بااختیار شہریوں ، مؤثر اِداروں اور ذِمہ دار قیادت کاخواب/راتھر

نیوز ڈیسک
چندی گڑھ
سپیکر جموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ وِکست بھارت کا تصور دراصل بااختیار شہریوں، مؤثر اداروں اور ذمہ دار قیادت کا ویژن ہے جہاں ہر شہری قومی ترقی کا شراکت دار اور ہر قانون ساز مثبت تبدیلی کا علمبردار بنتا ہے۔
اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار منعقدہ سی پی اے اِنڈیا ریجن زوم دوم کی دو روزہ کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔
اِس موقعہ پر لوک سبھا سپیکر اوم برلا، ڈِپٹی چیئرمین راجیہ سبھا ہری ونش، ہریانہ اسمبلی کے سپیکر ہروِندر کلیان سمیت مختلف ریاستوں کے سپیکرروں اور قانون ساز موجود تھے۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے ’’مستقبل کے چیلنجوں اور وِکست بھارت 2047 کے ہدف کے حصول میں باشعور معاشرے اور قانون سازوں کے کردار‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وِکست بھارت کے ویژن کے تحت ملک اقتصادی ترقی، اختراع، بہتر طرزِ حکمرانی، دیرپائی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں عالمی قیادت کی جانب اعتماد کے ساتھ گامزن ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ کوئی بھی قومی ویژن صرف حکومتوں کے ذریعے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ترقی یافتہ قوم کے اصل معمار اس کے شہری ہوتے ہیں جبکہ جمہوری امنگوں کے حقیقی محافظ قانون ساز ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت تب پروان چڑھتی ہے جب شہری باخبر، مصروف عمل اور اپنے حقوق اور ذمہ داریوں دونوں سے آگاہ ہوں۔
سپیکر موصوف نے کہا کہ ایک باشعور معاشرہ صرف انتخابات میں حصہ لینے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ عوامی مباحثوں میں سرگرم کردار ادا کرتا ہے، آئینی اقدار کا احترام کرتا ہے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لئے بیدار رہتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بے مثال تکنیکی ترقی نے شہریوں کو بااختیار بنایا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات، پولرائزیشن اور اداروں پر اعتماد میں کمی جیسے نئے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے وقت کی ضرورت صرف معلومات تک رسائی نہیں بلکہ معتبر معلومات، تنقیدی سوچ اور شہری تعلیم تک رسائی ہے۔عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ قانون سازوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ جمہوری شعور کو فروغ دیں، شفافیت کو مضبوط بنائیں، حکمرانی کو زیادہ قابلِ رسائی اور جوابدہ بنائیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں شہری محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ باخبر شراکت دار ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہے، اس لئے نوجوان قانون سازوں کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قانون ساز اداروں میں توانائی، اِختراع، تکنیکی تفہیم اور عصری تناظر لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان قانون ساز ڈیجیٹل دور کی زبان، نئے کاروباری افراد کی خواہشات، طلبأ کے مسائل اور تیزی سے بدلتی دنیا کے چیلنجوں کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ وہ روایتی حکمرانی اور جدید معاشرتی توقعات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، نئی پالیسی تجاویز پیش کر سکتے ہیں، ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی شرکت کو فروغ دے سکتے ہیں اور جمہوری اداروں کو مزید جوابدہ اور جامع بنا سکتے ہیں۔
سپیکر موصوف نے کہا کہ بطور قانون ساز اور ایوانوں کے سربراہان ہماری خصوصی ذمہ داری ہے کہ ہم مستقبل کے قائدین کی تربیت کریں۔ نوجوان پارلیمان، قانون ساز انٹرن شپس، شہری شمولیت کے پروگرام اور منتخب نمائندوں کے ساتھ رابطے نوجوانوں کو عوامی زندگی میں بامقصد شرکت کے لئے ترغیب دے سکتے ہیں۔اُنہوں نے ملک کو درپیش اُبھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا جن میں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی دیرپائی، آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کا اخلاقی استعمال، روزگار کے مواقع، مستقبل میں ہنر کی ترقی، شہری آبادی میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ اور تیزی سے جڑتی ہوئی دنیا میں سماجی ہم آہنگی شامل ہیں۔سپیکرعبدالرحیم راتھر نے کہا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پیشگی حکمرانی ناگزیر ہے اور قانون سازوں کو مستقبل کے رُجحانات کا بروقت مطالعہ کرکے ایسی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں جو دیرپا اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
اُنہوںنے کہا کہ وِکست بھارت کے سفر کے لئے معیاری تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، اچھی حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی، اختراع، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، سماجی شمولیت اور مساوی ترقی جیسے بنیادی اصولوں سے اجتماعی وابستگی ضروری ہے اور قانون ساز کمیونٹی ان اہداف کے حصول میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
سپیکر نے کہا کہ مقننہ صرف قانون سازی کے مراکز نہیں بلکہ قومی گفتگو کی تشکیل، عوامی امنگوں کی ترجمانی اور جمہوری جوابدہی کو مضبوط بنانے والے اہم ادارے ہیں۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے اپنے خطاب کے اختتام پر شرکأ پر زور دیا کہ وہ جمہوری اِداروں کو مزید مضبوط بنانے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ایک باخبر و ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کریں تاکہ ہماری قانون ساز اسمبلیاں مکالمے، جوابدہی اور اختراع کے فعال مراکز بنی رہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں