جادوئی صلاحیتوں کا حامل پینسل اسکیچ آرٹسٹ

زاہد بیگ

مصاحبہ کار

 ذوالفقار علی بخاری

انسان کی سوچ وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ شاعر اپنے خیالات کو شاعری کی صورت میں اور موسیقار انہیں دھنوں کے قالب میں پیش کرتا ہے، جبکہ مصور رنگوں کے امتزاج سے اپنے احساسات اور تصورات کو کینوس پر اُتارتا ہے۔ وہ کئی دنوں کی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کے بعد ایک شاہکار تخلیق کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

روزنامہ سرینگر جنگ اپنے قارئین کے لیے ایسے ہی باوقار اور باصلاحیت فن کار، زاہد بیگ، کا تعارف پیش کر رہا ہے، جنہیں قدرت نے غیر معمولی فنی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ وہ اپنے فن کو کمال مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ پیش کرکے نہ صرف داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں بلکہ فنونِ لطیفہ کے میدان میں اپنی منفرد شناخت بھی قائم کر چکے ہیں۔

پینسل اسکیچ آرٹسٹ زاہد بیگ کا تعلق بہاولپورسے ہے۔اِن کے بچپن کا شوق عمر اور وقت کے ساتھ بڑھتا رہااور آج پروفیشنلی پینسل اسکیچز بنا رہے ہیں اورنوجوانوں کو سکھانے میں بھی مگن ہیں۔اگرچہ زاہد بیگ نے فائن آرٹس کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اِن کا کام اِنھیں بہترین تخلیق کار ثابت کر تا ہے ۔ زاہد بیگ نے اپنی صلاحیتوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف نکھارا ہے بل کہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر پزیرائی بھی حاصل کی ہے۔

مبشر علی زیدی (مصنف، مدرس) فرماتے ہیں:

’’زاہد بیگ جادوگر ہیں۔ ایک درجہ نیچے ہوتے تو میں مصور کہتا لیکن ان کی ہاتھوں میں واقعی جادو بھرا ہے۔ انک سے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔اگر سب رنگ جاری ہوتا تو میں محترم شکیل عادل زادہ سے کہتا، انھیں زاہد بیگ کا کام دکھاتا۔ وہ ایسے فن کاروں کے سچے قدر دان تھے۔ اقبال مہدی اور انعام راجا جیسے صاحبان کمال سے انھوں نے کام کروایا۔ زاہد بیگ سے مل کر وہ بہت خوش ہوتے۔ بازی گر کی نئی قسطوں کے اسکیچ ان سے بنواتے۔زاہد بیگ کا تعلق بہاولپور سے ہے۔ وہ چھوٹا شہر تو نہیں، اس سے بڑے لوگ سامنے آئے ہیں۔ لیکن پھر بھی لاہور کراچی کی زیادہ چلتی ہے، زاہد وہاں ہوتے تو ان کا زیادہ ڈنکا بجتا۔‘‘

معروف ڈرامہ نگار فصیح باری خان کے بقول:

’’یہ تری انگلیوں کے جادو سے

جو خدوخال سے ابھرتے ہیں

کاغذی ایک بدن پر جیسے

سارے اعضاء میں لپٹی خاموشی

یک بیک بولنے سی لگتی ہے

زاہد بیگ کی انگلیوں میں ایسا ہی جادو ہے۔۔۔پرسکون بہاول پور کی زمین ایسی سوچ ایسے کام اور ایسی کاریگری کو جنم دے سکتی ہے۔نوجوان لڑکا اپنے بل بوتے پر ہر سیڑھی اعتماد سے چڑھ رہا ہے۔زاہد کا کام ہی اس کا تعارف ہے۔تصویریں بنا کے وہ کردار کو جیسے کہانی کی صورت سامنے لاتا ہے۔۔۔اس کی تصویر میں موجود ہر چہرہ ایک کہانی ہے۔۔۔تمہارے ہْنر کا یہ فْسوں سدا قائم رہے۔‘‘

٭=٭

سب سے پہلے تو یہ آگاہ کیجیے گا کہ پینسل آرٹ کے ذریعے اپنی ذات کو منوانے کا خیال کیسے آیا ؟

زاہد بیگ:چوںکہ مجھے بچپن سے ہی پینسل آرٹ میں دلچسپی تھی۔ اس لیے میری شروع سے خواہش تھی کہ میرا اس فِیلڈ میں ہی نام و مقام ہو، جو کہ ابھی تک کوشش جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر پینسل آرٹ میری زندگی سے نکال دیا جائے تو باقی میں نِیم مْردہ رہوں گا۔

کیا پینسل آرٹ میں دل چسپی کسی خاص وجہ سے ہوئی؟

زاہد بیگ:جی۔۔ میں بچپن میں بڑے بھائی مرزا نسیم بیگ کو پینسل سے کارٹونز بناتے ہوئے دیکھا کرتا تھا تب مجھے ڈھنگ سے پینسل پکڑنا بھی نہیں آتا تھا۔ بھائی کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھنا میرے دلچسپی کی پہلی وجہ بنی۔

٭=٭

کن احباب کی حوصلہ افزائی نے بطور تخلیق کار آگے بڑھنے پر مائل کیا ؟

زاہد بیگ:میرے بڑے بھائیوں نے مجھے ہمیشہ سراہا ۔ کچھ دوست احباب نے خاص طور پر دوست عدیل قریشی اور حسن جعفری۔ ان دونوں کی حوصلہ افزائی اور مثبت تنقید نے مدد کی۔ یہاں میں یونیورسٹی کے استاد جناب عظیم قریشی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جب میرے اسکیچز ٹوٹے پھوٹے تھے تب ان کی دی گئی تھپکی کام کر گئی اور میں مزید لگن سے کام کرنے لگا۔

٭=٭

ایک فن پارہ تخلیق کرنے کے لیے آپ کن مراحل سے گزرتے ہیں، یہ تجربہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟

زاہد بیگ:میں کوئی بھی پورٹریٹ بناتا ہوں تو پہلے اوریجنل تصویر کو اسٹڈی کرتا ہوں، اسٹڈی سے مراد اس چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، اس کے چہرے پر موجود تاثرات کیا کہہ رہے ہیں، پھر چہرے پر موجود شیڈز کو سمجھتا ہوں اور پھر کاغذ پر اتارنا شروع کرتا ہوں۔ یہ ایک خوبصورت احساس ہے کہ آپ کے سامنے موجود تصویر آپ سے باتیں کر رہی ہو جیسے۔

٭=٭

آپ کی پینسل آرٹ میں پسندیدہ صنف کون سی ہے؟ (پورٹریٹ، لینڈ اسکیپ، وائلڈ لائف وغیرہ)

زاہد بیگ:میری پسندیدہ صنف پورٹریٹ ہے اور میرا زیادہ کام اسی پر ہے۔

٭=٭

ایک جملے میں آرٹ کی تعریف کیجیے۔

زاہد بیگ: آرٹ ایک خاموش مگر پْر اثر اظہار ہے۔

٭=٭

آپ کا پسندیدہ آرٹسٹ کون ہے اور پسندیدگی کی کوئی خاص وجہ؟

زاہد بیگ:میرا پسندیدہ آرٹسٹ پاکستان میں وقاص شائق ہے جبکہ انٹرنیشنلی مجھے برطانیہ کے پینسل آرٹسٹKelvin okafor پسند ہیں۔ ان کا کام مجھے بے حد متاثر کرتا ہے، ان کی بنائی پینسل ڈرائنگ حقیقی معلوم ہوتی ہیں، اس وجہ سے پسند ہیں۔

٭=٭

ایک تصویر مکمل کرنے میں اوسطاً کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟

زاہد بیگ:یہ حوالہ تصویر پر منحصر ہے کہ اس میں کتنی باریکی ہے، بزرگ ،مرد و خواتین کا ڈیٹیل خاکہ مکمل کرنے پر پچیس سے تیس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

٭=٭

اب تک کتنے فن پارے منظر عام پر لا چکے ہیں اور کن مشہور شخصیات کے اسکچز بنانے کا موقع ملا ہے۔

زاہد بیگ:سچ کہوں تو مجھے تعداد یاد نہیں، بہت زیادہ کام کر چکا ہوں پروفیشنلی۔ مشہور شخصیات میں دبئی کے موجودہ کراؤن پرنس کا بنا چکا ہوں، کرکٹر شاہد آفریدی ، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور آج کل مشہور گلوکارہ حدیقہ کیانی کا پورٹریٹ بنا رہا ہوں۔

٭=٭

پینسل آرٹ کے لیے کس نوعیت کی پینسلیں اور دیگر سامان استعمال کرتے ہیں؟

زاہد بیگ:میں ایک مشہور برینڈ Staedtler کی پینسلز استعمال کرتا ہوں، باقی سامان میں سافٹ برش، مکینیل پینسل، بلینڈنگ اسٹمپس چارکول پاؤڈر وغیرہ شامل ہے۔

٭=٭

آرٹ آپ کے لیے شوق ہے، پیشہ ہے یا وقت گزاری ؟

زاہد بیگ:شوق تھا کبھی ابھی جنون ہے اور پیشہ بھی۔

٭=٭

نئے تخلیق کاروں کے لیے کون سی بنیادی تکنیکیں سیکھنا اور سمجھنا ضروری ہیں؟

زاہد بیگ:، روشنی اور سائے کی سمجھ پرسپیکٹِو،کسی بھی پیچیدہ شکل کو پہلے سادہ دائروں، مثلث اور مستطیل میں دیکھنا سیکھیں اور یہ سمجھنا کہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے اور وہ چیزوں کے سائے کہاں بنائے گی۔

٭=٭

کیا آپ نے کسی سے تربیت حاصل کی ہے یا خود سیکھ کر نام بنا رہے ہیں؟

زاہد بیگ:نہیں۔ میں نے کسی استاد سے نہیں سیکھا، ہاں مگر وقت میرا سب سے بڑا استاد ہے۔

٭=٭

بطور تخلیق کار کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ؟

زاہد بیگ:ہمارے معاشرے میں آرٹ کو اکثر ایک شوق یا فالتو وقت کا کام سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ایک باقاعدہ پیشہ۔ایسے میں اپنی شناخت منوانا اور لوگوں کو اپنے فن کی گہرائی سمجھانا ایک مستقل جنگ ہے۔بنیادی تکنیکوں کو خود سے دریافت کرنا اور تجربات کے ذریعے غلطیاں سدھارنا ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔اعلیٰ معیار کے فن پارے بنانے کے لیے درکار لوازمات اور ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔

٭=٭

آپ کا یادگار فن پارہ کون سا ہے اور کیوں؟

زاہد بیگ:میں نے اپنی مرحومہ والدہ کا پورٹریٹ بنایا تھا جو کہ میرے لیے جذباتی وابستگی کے باعث ایک مشکل کام تھا، اس دوران کئی بار رویا بھی، مگر مکمل کر لیا۔ میرے کمرے میں دیوار پر آویزاں ہے وہ اب۔

٭=٭

اگر آپ کسی مشہور شخصیت کا پورٹریٹ بنانا چاہیں تو وہ کون ہوگی؟

زاہد بیگ:پاکستان سے اداکار جمال شاہ صاحب اور انٹرنیشنلی ہالی ووڈ ایکٹر جیسن سٹیتھم۔

٭=٭

بطور تخلیق کار تنقید کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

زاہد بیگ:میرے نزدیک تنقید میرے کام کو مزید نکھارنے کا باعث بنی ہے، میرے نزدیک یہ ضروری ہے تنقید برائے اصلاح ہو۔

٭=٭

آپ کس کو ترجیح دیتے ہیں؟پینسل آرٹ یا ڈیجیٹل آرٹ۔

زاہد بیگ:میں پینسل آرٹ کو ترجیح دیتا ہوں کہ یہ آرٹ سے زیادہ آرٹسٹ کے وقت اور جذبات کا عکاس بھی ہوتا ہے۔

٭=٭

مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رکھا ہے؟

زاہد بیگ:پاکستان کا نامور ہائپر رئیلسٹک پینسل پورٹریٹ آرٹسٹ بننا۔

٭=٭

آپ کی نگاہ میں ایک کامیاب آرٹسٹ کی سب سے اہم خوبی کیا ہے؟

زاہد بیگ:گہرا مشاہدہ، مستقل مزاجی اور صبر۔

٭=٭

تخلیق کار کے نزدیک کامیابی ، محبت اور نفرت کے جذبات کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ؟

زاہد بیگ:ایک فنکار کے لیے محبت اسے نرمی اور خوبصورتی عطا کرتی ہے، جبکہ نفرت یا غصہ اس کے کام میں گہرائی اور سچائی لاتا ہے،جبکہ نفرت یا غصہ اس کے کام میں سچائی لاتا ہے۔

٭=٭

قارئین کے لیے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ؟

زاہد بیگ:فن کی قدر کریں، کسی بھی فن پارے کو بنانے کے پیچھے بہت محنت، بے پناہ جذبات شامل

ہوتے ہیں فنکار کے، فن پارے کو صرف دیکھیں مت، محسوس کرنے کی کوشش بھی کریں۔

۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

درس کربلا: عالم انسانیت اور امت مسلمہ کیلئے ابدی پیغام

سید عارف احمد بخاری (القادری)  واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا...

تازہ ترین خبریں

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

درس کربلا: عالم انسانیت اور امت مسلمہ کیلئے ابدی پیغام

سید عارف احمد بخاری (القادری)  واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا...

جادوئی صلاحیتوں کا حامل پینسل اسکیچ آرٹسٹ

زاہد بیگ

مصاحبہ کار

 ذوالفقار علی بخاری

انسان کی سوچ وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ شاعر اپنے خیالات کو شاعری کی صورت میں اور موسیقار انہیں دھنوں کے قالب میں پیش کرتا ہے، جبکہ مصور رنگوں کے امتزاج سے اپنے احساسات اور تصورات کو کینوس پر اُتارتا ہے۔ وہ کئی دنوں کی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کے بعد ایک شاہکار تخلیق کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

روزنامہ سرینگر جنگ اپنے قارئین کے لیے ایسے ہی باوقار اور باصلاحیت فن کار، زاہد بیگ، کا تعارف پیش کر رہا ہے، جنہیں قدرت نے غیر معمولی فنی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ وہ اپنے فن کو کمال مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ پیش کرکے نہ صرف داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں بلکہ فنونِ لطیفہ کے میدان میں اپنی منفرد شناخت بھی قائم کر چکے ہیں۔

پینسل اسکیچ آرٹسٹ زاہد بیگ کا تعلق بہاولپورسے ہے۔اِن کے بچپن کا شوق عمر اور وقت کے ساتھ بڑھتا رہااور آج پروفیشنلی پینسل اسکیچز بنا رہے ہیں اورنوجوانوں کو سکھانے میں بھی مگن ہیں۔اگرچہ زاہد بیگ نے فائن آرٹس کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اِن کا کام اِنھیں بہترین تخلیق کار ثابت کر تا ہے ۔ زاہد بیگ نے اپنی صلاحیتوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف نکھارا ہے بل کہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر پزیرائی بھی حاصل کی ہے۔

مبشر علی زیدی (مصنف، مدرس) فرماتے ہیں:

’’زاہد بیگ جادوگر ہیں۔ ایک درجہ نیچے ہوتے تو میں مصور کہتا لیکن ان کی ہاتھوں میں واقعی جادو بھرا ہے۔ انک سے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔اگر سب رنگ جاری ہوتا تو میں محترم شکیل عادل زادہ سے کہتا، انھیں زاہد بیگ کا کام دکھاتا۔ وہ ایسے فن کاروں کے سچے قدر دان تھے۔ اقبال مہدی اور انعام راجا جیسے صاحبان کمال سے انھوں نے کام کروایا۔ زاہد بیگ سے مل کر وہ بہت خوش ہوتے۔ بازی گر کی نئی قسطوں کے اسکیچ ان سے بنواتے۔زاہد بیگ کا تعلق بہاولپور سے ہے۔ وہ چھوٹا شہر تو نہیں، اس سے بڑے لوگ سامنے آئے ہیں۔ لیکن پھر بھی لاہور کراچی کی زیادہ چلتی ہے، زاہد وہاں ہوتے تو ان کا زیادہ ڈنکا بجتا۔‘‘

معروف ڈرامہ نگار فصیح باری خان کے بقول:

’’یہ تری انگلیوں کے جادو سے

جو خدوخال سے ابھرتے ہیں

کاغذی ایک بدن پر جیسے

سارے اعضاء میں لپٹی خاموشی

یک بیک بولنے سی لگتی ہے

زاہد بیگ کی انگلیوں میں ایسا ہی جادو ہے۔۔۔پرسکون بہاول پور کی زمین ایسی سوچ ایسے کام اور ایسی کاریگری کو جنم دے سکتی ہے۔نوجوان لڑکا اپنے بل بوتے پر ہر سیڑھی اعتماد سے چڑھ رہا ہے۔زاہد کا کام ہی اس کا تعارف ہے۔تصویریں بنا کے وہ کردار کو جیسے کہانی کی صورت سامنے لاتا ہے۔۔۔اس کی تصویر میں موجود ہر چہرہ ایک کہانی ہے۔۔۔تمہارے ہْنر کا یہ فْسوں سدا قائم رہے۔‘‘

٭=٭

سب سے پہلے تو یہ آگاہ کیجیے گا کہ پینسل آرٹ کے ذریعے اپنی ذات کو منوانے کا خیال کیسے آیا ؟

زاہد بیگ:چوںکہ مجھے بچپن سے ہی پینسل آرٹ میں دلچسپی تھی۔ اس لیے میری شروع سے خواہش تھی کہ میرا اس فِیلڈ میں ہی نام و مقام ہو، جو کہ ابھی تک کوشش جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر پینسل آرٹ میری زندگی سے نکال دیا جائے تو باقی میں نِیم مْردہ رہوں گا۔

کیا پینسل آرٹ میں دل چسپی کسی خاص وجہ سے ہوئی؟

زاہد بیگ:جی۔۔ میں بچپن میں بڑے بھائی مرزا نسیم بیگ کو پینسل سے کارٹونز بناتے ہوئے دیکھا کرتا تھا تب مجھے ڈھنگ سے پینسل پکڑنا بھی نہیں آتا تھا۔ بھائی کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھنا میرے دلچسپی کی پہلی وجہ بنی۔

٭=٭

کن احباب کی حوصلہ افزائی نے بطور تخلیق کار آگے بڑھنے پر مائل کیا ؟

زاہد بیگ:میرے بڑے بھائیوں نے مجھے ہمیشہ سراہا ۔ کچھ دوست احباب نے خاص طور پر دوست عدیل قریشی اور حسن جعفری۔ ان دونوں کی حوصلہ افزائی اور مثبت تنقید نے مدد کی۔ یہاں میں یونیورسٹی کے استاد جناب عظیم قریشی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جب میرے اسکیچز ٹوٹے پھوٹے تھے تب ان کی دی گئی تھپکی کام کر گئی اور میں مزید لگن سے کام کرنے لگا۔

٭=٭

ایک فن پارہ تخلیق کرنے کے لیے آپ کن مراحل سے گزرتے ہیں، یہ تجربہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟

زاہد بیگ:میں کوئی بھی پورٹریٹ بناتا ہوں تو پہلے اوریجنل تصویر کو اسٹڈی کرتا ہوں، اسٹڈی سے مراد اس چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، اس کے چہرے پر موجود تاثرات کیا کہہ رہے ہیں، پھر چہرے پر موجود شیڈز کو سمجھتا ہوں اور پھر کاغذ پر اتارنا شروع کرتا ہوں۔ یہ ایک خوبصورت احساس ہے کہ آپ کے سامنے موجود تصویر آپ سے باتیں کر رہی ہو جیسے۔

٭=٭

آپ کی پینسل آرٹ میں پسندیدہ صنف کون سی ہے؟ (پورٹریٹ، لینڈ اسکیپ، وائلڈ لائف وغیرہ)

زاہد بیگ:میری پسندیدہ صنف پورٹریٹ ہے اور میرا زیادہ کام اسی پر ہے۔

٭=٭

ایک جملے میں آرٹ کی تعریف کیجیے۔

زاہد بیگ: آرٹ ایک خاموش مگر پْر اثر اظہار ہے۔

٭=٭

آپ کا پسندیدہ آرٹسٹ کون ہے اور پسندیدگی کی کوئی خاص وجہ؟

زاہد بیگ:میرا پسندیدہ آرٹسٹ پاکستان میں وقاص شائق ہے جبکہ انٹرنیشنلی مجھے برطانیہ کے پینسل آرٹسٹKelvin okafor پسند ہیں۔ ان کا کام مجھے بے حد متاثر کرتا ہے، ان کی بنائی پینسل ڈرائنگ حقیقی معلوم ہوتی ہیں، اس وجہ سے پسند ہیں۔

٭=٭

ایک تصویر مکمل کرنے میں اوسطاً کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟

زاہد بیگ:یہ حوالہ تصویر پر منحصر ہے کہ اس میں کتنی باریکی ہے، بزرگ ،مرد و خواتین کا ڈیٹیل خاکہ مکمل کرنے پر پچیس سے تیس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

٭=٭

اب تک کتنے فن پارے منظر عام پر لا چکے ہیں اور کن مشہور شخصیات کے اسکچز بنانے کا موقع ملا ہے۔

زاہد بیگ:سچ کہوں تو مجھے تعداد یاد نہیں، بہت زیادہ کام کر چکا ہوں پروفیشنلی۔ مشہور شخصیات میں دبئی کے موجودہ کراؤن پرنس کا بنا چکا ہوں، کرکٹر شاہد آفریدی ، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور آج کل مشہور گلوکارہ حدیقہ کیانی کا پورٹریٹ بنا رہا ہوں۔

٭=٭

پینسل آرٹ کے لیے کس نوعیت کی پینسلیں اور دیگر سامان استعمال کرتے ہیں؟

زاہد بیگ:میں ایک مشہور برینڈ Staedtler کی پینسلز استعمال کرتا ہوں، باقی سامان میں سافٹ برش، مکینیل پینسل، بلینڈنگ اسٹمپس چارکول پاؤڈر وغیرہ شامل ہے۔

٭=٭

آرٹ آپ کے لیے شوق ہے، پیشہ ہے یا وقت گزاری ؟

زاہد بیگ:شوق تھا کبھی ابھی جنون ہے اور پیشہ بھی۔

٭=٭

نئے تخلیق کاروں کے لیے کون سی بنیادی تکنیکیں سیکھنا اور سمجھنا ضروری ہیں؟

زاہد بیگ:، روشنی اور سائے کی سمجھ پرسپیکٹِو،کسی بھی پیچیدہ شکل کو پہلے سادہ دائروں، مثلث اور مستطیل میں دیکھنا سیکھیں اور یہ سمجھنا کہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے اور وہ چیزوں کے سائے کہاں بنائے گی۔

٭=٭

کیا آپ نے کسی سے تربیت حاصل کی ہے یا خود سیکھ کر نام بنا رہے ہیں؟

زاہد بیگ:نہیں۔ میں نے کسی استاد سے نہیں سیکھا، ہاں مگر وقت میرا سب سے بڑا استاد ہے۔

٭=٭

بطور تخلیق کار کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ؟

زاہد بیگ:ہمارے معاشرے میں آرٹ کو اکثر ایک شوق یا فالتو وقت کا کام سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ایک باقاعدہ پیشہ۔ایسے میں اپنی شناخت منوانا اور لوگوں کو اپنے فن کی گہرائی سمجھانا ایک مستقل جنگ ہے۔بنیادی تکنیکوں کو خود سے دریافت کرنا اور تجربات کے ذریعے غلطیاں سدھارنا ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔اعلیٰ معیار کے فن پارے بنانے کے لیے درکار لوازمات اور ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔

٭=٭

آپ کا یادگار فن پارہ کون سا ہے اور کیوں؟

زاہد بیگ:میں نے اپنی مرحومہ والدہ کا پورٹریٹ بنایا تھا جو کہ میرے لیے جذباتی وابستگی کے باعث ایک مشکل کام تھا، اس دوران کئی بار رویا بھی، مگر مکمل کر لیا۔ میرے کمرے میں دیوار پر آویزاں ہے وہ اب۔

٭=٭

اگر آپ کسی مشہور شخصیت کا پورٹریٹ بنانا چاہیں تو وہ کون ہوگی؟

زاہد بیگ:پاکستان سے اداکار جمال شاہ صاحب اور انٹرنیشنلی ہالی ووڈ ایکٹر جیسن سٹیتھم۔

٭=٭

بطور تخلیق کار تنقید کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

زاہد بیگ:میرے نزدیک تنقید میرے کام کو مزید نکھارنے کا باعث بنی ہے، میرے نزدیک یہ ضروری ہے تنقید برائے اصلاح ہو۔

٭=٭

آپ کس کو ترجیح دیتے ہیں؟پینسل آرٹ یا ڈیجیٹل آرٹ۔

زاہد بیگ:میں پینسل آرٹ کو ترجیح دیتا ہوں کہ یہ آرٹ سے زیادہ آرٹسٹ کے وقت اور جذبات کا عکاس بھی ہوتا ہے۔

٭=٭

مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رکھا ہے؟

زاہد بیگ:پاکستان کا نامور ہائپر رئیلسٹک پینسل پورٹریٹ آرٹسٹ بننا۔

٭=٭

آپ کی نگاہ میں ایک کامیاب آرٹسٹ کی سب سے اہم خوبی کیا ہے؟

زاہد بیگ:گہرا مشاہدہ، مستقل مزاجی اور صبر۔

٭=٭

تخلیق کار کے نزدیک کامیابی ، محبت اور نفرت کے جذبات کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ؟

زاہد بیگ:ایک فنکار کے لیے محبت اسے نرمی اور خوبصورتی عطا کرتی ہے، جبکہ نفرت یا غصہ اس کے کام میں گہرائی اور سچائی لاتا ہے،جبکہ نفرت یا غصہ اس کے کام میں سچائی لاتا ہے۔

٭=٭

قارئین کے لیے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ؟

زاہد بیگ:فن کی قدر کریں، کسی بھی فن پارے کو بنانے کے پیچھے بہت محنت، بے پناہ جذبات شامل

ہوتے ہیں فنکار کے، فن پارے کو صرف دیکھیں مت، محسوس کرنے کی کوشش بھی کریں۔

۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں